Full text of "QH"
۲٢٢٢٢٢ تا. ۰:٤٤۸ ا۶[0 1.1
07
انل اف الخ ای
7 ےی
ے کے
نوراہ ا تن روڈ
گللِعان 10ڈائن-
کاپ رائٹ رجٹ مین نر
تام : شأیل !شرف عحال دارالاشاع تک اتی
بات :لام یل ٹم کراند
ا کنا جم جو ق مکی ت کمن ش کی دارالاشاح ت کرای حفوط ہںں -
بیت ال کن ارردباز رک رای ارار5الیارف چامعہ وار الو مک اپ
بیت ااعوم26- بھ روڑلا ہور ارار زاسلامیات۱۹۰۔ ابا رک یلاہور _
می پڑ یہ یفیوٹ زار نعل آپار کت سیدامشمیدارروپازارلاہور
کت خاترشیدے رید ار کیٹ راج یا زاررلوپپنڈی . کت ابدادی ٹلی یتال روڈدین
اور 2 بی تر بازار اور گت رجانے۸ ا-اررویازارلا ہور
ٰ ٹس ایر ہغ ْ
حر ا مر
ہر رر ہے پجو رد ٰ
تق نان یکاءے اانعام وکرم ےک ایک دی بعہ خوائشل کے مطای نکنزاب ” نضصص اور یت “مار
ب وک رآپ کے پا کھوں یل ے۔ احقر جب پھونا را ذو المد ماجد جناب الا مر ر شی عثالی صاحب نے
دزن نوام کا اظمار مہرے سا ملف خخرات ہے کی ین موضوج رو ی تمیف
ہوا ے جک ”لفصص القرآ نے لیکن ےکا اس وفت نہ ہو اہ پھر خوو یس ا س کا خواہشنر
7ض ےکآ ات تی ا لو
زل ریا اتال" سے ذک رکر کے ددخواس تک یکہ ذ تر وعد بیث سے اس مواو کے خااوم تشی جو و تاب
ہو کے کین الن واقا تکونلور تی ےکرانپھكا کے تصغی کر نا مناسب نہ ہوگااس لے جوواقیات ہوں
اور اس میں جو سب یا عبرت و نشسحت کا پسلو ہو وو وآ رخ نو جا کہ ا سس حدبیثے کے مقص کو پان ےکی
و یک ےی انت ا ان گ۔
ابد تھا ی جزاۓ یر دو ےک انھوں نے نہ صصرف ٹور ی کم مدکی خ وی ےکر ےکا ار اوہ
ار وو کے سوک ہھ یسور رت دی رس
مر و وسر وہ ماشاء ارد مصنف نہ تصرف حافظط اور عائم وین مس
0
امیرے اتکی ان کم کاپ ال یکر یں گے +د ما ےکہ اللہ تی کے پان ہے؛ د ناو
آضرت میں مقبول ہو ۔آ بین ۱
ار
مین زٹرن
ہے 0ا29
عرش
گزار شس احوال دای
مرمہ
ط حصہ اول پچ انان کے واقات
حضرت 1د مکی مو تکاواتر
یں صاع علیہ السلام
این دک یکی دو تو بر سیں۔ھاج ڈواس مل
حضر تاب را مم وساروادر جابر پادشاہ
انیاءلزب میت ہر خلا متعموم ہو تے ہیں
مرج لوا عطے یہ السلا مکاواقعہ
حضرتے آوئم و حقرت موکی کا ہا بھی مباحڈ
عوسی علیہ السلام کے پچ رکاواتنہ
عوسی علیہ السلاماور کک اوت
تی اص رات لکی بڑھیا
سام رکی..... جنر ےکا پچاری
جب سرن رگ جاتاے دہ
وفاتِ سیر تاداوّر علے السلام
یر بی ہے جا نفی رای
نصناد یصلہ
صرف ایک ےو تج یکیوں عکمیں ؟
کون ے جو اانکاس امن |اکرے ؟
مر ی١ ان بھوٹد یما
طحصیدوم اللہ تا یکی ندر تکاملہ کے جیب واقعات
ھی رز قی کا نظام
اور روز نرہ گیا
نصف ءال ندرک نزر
گا اور بگیفر ےکاانسان سے م کلم
تو مولودپیہ تجھونے میں انتک کر جاے
1
٠۳[
۳۴
٢>
١۵۱
۵
۵
١ا
صسایریعا۔
2
۹و۲
مشاہ
ہہ ای _ ,کس لد سس تع ہت ا تاس سے یس سٹشسہ ئ
اد وم ائھالی صن ہکادمیاوکی برکات اکر 7 ۱
مد تکاغار
رعمت تسس بہان ہاج بد
ول بھی ےکم ال یکابابند
وہ نار وخمد اکا حروب سے جو 7-
کت نوازی مایک بے نکی
اک مین لی 00۶ -
کرو مہ بای از نود
اما نکااد یدرد -- الیم مواشرت
تیم جال
2ئ مو لو
لص جہہار م )یمان یل اضاف ہک نے واے واقعات ٣۲۵|
دای مز کے لے نحی یرہ
موی نکی حبیت اس کک :نکیل سے ہر سے
سون کا کاو راس سے نے ھی
جم الحاب......ما لکی بددعا
کے ع زی می ر کی نشی سے
اىابا(أخر ود ..... آن کک خندرفیں
اپتی تویق کو بھولو
ارک اصلا ایک نا تن سے
طاحصء چیم پچ خلطکار وی کے عبہرت ت ایروا تات
وپ
بش
۲
۲۳۴۴۳
۹
۲۳
تس ال 7 ٰ ۱ ۱ ہے ےت سے ۹
س0 7
۴.0 9 توال وا ۲
تام تت یں اس رب ذوا یلال کے لے ہیں جس کے علم نے ہر حاضر و ان بکااحا کر
رکھاہے اور نے اپ بنقدوں کے تقو بکو قرآلن ود بیث کے علوم سے منور فمایا۔ ۱
ہر مکادرودو سلام ہو اس ات اشرف انل مك جس نے علوم وت اور افوار تی
کے ذد لہ خیب کے معقا لفن کے بیالنا کے سا تحھ سرا تج نمیا سا یئن اور امم ماضیہ کے عالات واحوال
سے بردے گے اجھااۓ_۔
اىابحر !
انسای فطرت یش شرو سے یہ شجدرقی ےکن دہ تہب ز ین سو جانے والی ق مم تہزیوں
اور تی بی م کر ماک ہو جانے والی قوضول کے عالات سے آگائی ھا لکرے۔ وولوگ جریم
تن یو کے ائین اور لف انسا لی ان ارورویات کے حائل تے “بی فطری تج صھی یی نے عم آخار
می کووجوددیاا در ال کی تر ثیکاذد یہ تھا ماہرین ہار فر یہ طول عرص سے“ تو امو تو رووور
یش مد ون تز یوں مم اشن امو اور اک فناکی لبیٹ ٹل آ جانے وا ا وام کے عاا تکو جا نے ان
کی تہ جب دشقافت اور ز ن دی کے طور ط رفپیقوں ەر جن ۲ن اور پان و طرز محاش جات کے لے
ہمہ دفت شی دریر یش مروف ہن_ ۱ ٰ
٣ مین اس یقت کے باوج دک ماہرین جار قد بی ہکی تحقیقات نے انی کسی تر معلورات
ضرور دیں مہ بھی اک وا جح یقت ہ ےکہ اگی سار تحقیقات 'ر سر درک اور ہوالع *اصل
تضیقو ںکو ال واح نر 'کریاہے وو نیس نکی وجہ سے النااقوا مکو نت او تقات ا سمائی آذزا تا
سرا ہنا کرت ایا ار صی مشکلات ے دو جار ہوا بڑا۔ بھی ا نکو صفہ تی سے می مزا امیا بھی 1
یں 2 گرری ا سور اور بنرر بنادر ہے یئ .1 کہ دورچریر کے سا نر الع انان
یی اصل 7 ثراررۓ اور نظرے ار تام کو کو نر وٹ ٰ
و وکیا شمیقیقس میں ؟ ان ماک کو آثار لد یہ کے اہ بین ایت یکععر ائدی کے ذر لج بیالت :گی
-
ٹس ار بیغ
نی ں کر سکت نہ اکیں ماہ رن ارضیات (۱01061519)اۓ آلات کے لوہ تلاۓے ے قادر
ہس 'صرف وی ای بی وہ عم ے جوان تما لی بر سے بر دواٹھاجا سے مصلم آار قد بیمہ کے اندر اس بات
کی ا۔تطادعت نی سکہ ودرا یکی اتھامگبرائیوں میس ید ون قہ مم اقوام کے ان حاما تک کول کے جو ان
کی ابی کے اسباب بی ماب ربکا 2ے تر ےب کے ہر من کین ؛بودوبائش رز مداشثرت
بر نکی فدد روشنی ڈال نے ہیں یکن معلوم کرباکہ ان افوام کے اخلاتی کیا تھے؟الن
ک دن کیا کھا؟و 7 محاشر ی الا اور رنب ی جترائم اور ہر الب ٢۶ 2 رو
- 7 0 0200 تا آخار ری کل مین میں ھ729
ت ان کے عمرہ تن تی رت تی کے ذر یہ بی معلو مکیا
کے 'وو وی ای جو ایک ال نخزانہ سے جم سک یکوکی قرت معکن نہیں “جو شاف طریقوں ے مان
ا روف لوان تم و خر ہت یکی جا سے ضزل عم سے جس پ
زین و سان کاکوٹ یگوشہ او رکا نیا جو وج جو نے میں بے رازوں اور
زاوے لگا وکی خیاخ ل کک ے وانف ے۔یعلم خائنۃ لأعین وما تخفی افشسقری اد
اس ے حا صل ہو نے وا نے علوم ایی | 1 یقن انان کو مہ اکر تے ہیں جے سامح د جیا کے
رارے تما اور سارے و نیاوی علوم بے مقییقت میں ٰ
نام بجی کے ذربہ جن اتی تک ہن انان ئیہو گی دہ رزادا ور حر را
انسالی عقلو ںکو جا نکر رہے ہیں_ دور حاضر ٤ 95 وت وڈ ںا
تین اور یر کے نام ردنا کے سامنے شی کیا ار ہے" صراںل مز ر گکہ وگی ڈھی ان سمارے
اك یکو زبان ضدوت کے ذریہ قران وحد یت یش لا ہی سے اور آ کی جد یہ سای ححقیقات
ور یقت اتی تتفیقت ںکی تد لق و جات دکمررمی ہیں۔ ْ
گویاحجرید سا تنس وی لی کے حابعح سے تن ہکہ وعی ابی ساس جد یہ کے مطاٰق می اصل
وی اگٹھی سے جم بپکہ سا تنس جدید صحض ا لک مور ومصیل۔ ۱
یعس ار باب کر ول خرن و حدیث کے علو مکو سا ٹس کے ما ہنا ۶ء ت
کرت ہیں وہ پالگل پمل ہ ےکی دکلہ دید سای تحقیقات الن ابی اور اٹل حا کو پدرے طور یہ
ابس گر بی ہیں جو ت رآ ان وحعد بث نے جو دہ صعدیال جٹنتر بیالن کے ہیں-
وی ال یکی دوشمسیں میں فعلو یٹ حم نکر مم خی تلولای دو رسول لے پل
دونوں طر کی و گی کے ذر تہ اقوام سابقہ اور امم ماضیہ کے اجوال بیان کے گیئے ہس خ رآ نکر مم نے
الن د اتا کو ”)ن١ “کہا اور بہت کی پر اثراندازمیں بھی وو کے عبرت اگیٹر وا تا
مبالفہ آرای کے ار مقاصد سنہ کے جو لکیل جیان کے“ چنا نہ الپ ایمان اود ارباب روہ
الاب دائٹی کے لئے الناواقعات شی موعظت وعر تک اسسامالنا ہے۔ار شاد بار کی نالی ے :
لقد کان فی قصحھم عبرة لاّولی لان تو0
لا شبہ النا کے داقیات می عبر تدےاد باب دائشی کے لے ےر
چنا نچ آلنکریح میس بی اسرائیل ے عالات' وم عاوٴ قوم مود برائی صاغ'قم
جیب 'امحاب الہ 'اسحا کہ ف ذوالتر ین واقتہ وسف علیہ ااسلام ' وم ین جالوت ور ے۔
عالات دداقعات ملف مقامات پ ھککیل الاو رکیں تخعیخ ان کے گے ہیں۔ ٰ
کن چو کہ قرآل نکر ات کے ایر کول دا ات او رح کی کا نہیں ےر
بی ا کا مقصمدد سپ تع سان ہے بللہ ہی کاب برایت ون َ ہے جو واشحعات مہ کو عہررت اور
سو لت کی یا نکی ہے ہنا ہکورہقرام واقات کے صرف وبی سے ش ما نکر میں میان کے
ْ تال تل کے لے با عبرت ہی ادر وق کی معلقہجنیات :لات جو رت ۲ مرز تس
می اننیس خارع از متقصید ہون ےکی و پیا ینکر مم نے مان یں کیا ناخ اس حر و
ای تم کیاادرحرت وس ف ظا سلام کے واقیاٹ می میں - ٰ
مر سول اللہ کہ ق رآ نکر مکی تقر ہے ابذراان داتا کی تفعمیل , تقر
رو اش وھ نے میان فر گی مزید جھآلمابیہکہ ایےے یہت سے دجگر واتواے متا شی رسول اللہ ٰ
نے استاکی ت میت کے لے عالن فا جنیس ق رآ نکر نے بیان نہی کی ۱
ٰ اردوزیان یں لم لاریم کے کش اور وا ات کے متلق فو مدکی جورم جن می
رت مو لاناعلامہ حفظ الکن سیوبار و کی ”لص ال ربنم رف رات سے لیکن خدسٹی ضس ,
داقعات ے مصعلق ام کوک متنداور نل کراب اردوزبان میں موہور یں تی نس پر استزاد کے 7
اخعمارے ا کیا چا اور دہز بالنادبیان کے اقبار سے بھی سھیس در ایل م واداب کے ذو
کے ما ای ہو ای کسی سار مت دکما بک ضرورت شرت سے موسر 027
جقاب سیل اششرف تعلای صاحب( ناک دار ٹا ء۔ راپ کو اللہ تھالی نے ہہ ج ہہ عطاقریل
ےکم دہ اتچھوتے صو ضوحات پہ امکیاعت نیکس نکیا ایت داستنادری حیثیت مجر ہو ایل عم ,
لے کمن ٰ ۱
ای کن می انوں نے مرن کے ایک سز سے دای پراعرسےاس مو ضوع سفشارے
وو رسژ_شسٹیشریں _ _ و چہچہہہ .2
ہو ئے ع ری کی کپ ا اك او رکباکہاگرائکااردو تر جمہ ہو جا فواردودالن عوام کے لے
اک تقایل فد رکام ہو جا تۓگا۔ ٰ
نر نے ا نکامطالع ہیا تو یہ رۓ ہوئ کہ جلاشیہ ىہ کنائیں ای موضوخ پر بڑکی قابل
۰رر ہیں مین بن یل ےکس یم کا تج قے بوجوہ من نیس ارت ای الو بکوسانے 7ی
کیا تاس کے او ر تب امادےیث میس تھمرے ہوے انا جیب درب واتا کو کیا حاستا ےک رجہ
مرن دنول ایک دوسرے ام کا سس مشنول تھا مین موضوع سے ابی دی اورضرورت کَ
نظ ر انتقرنے ارکو ہک را یاکیہ اک ام کا آغازکردیا جائۓ لنکتب کے مزیدمطالعہ کے بععددول یس خیللآیاکہ
مکور مک میں وا قعلت حد بی ثکاایگ رح بی شائ لکیاکیاے جب کہ ذ تی رواعادبیث بی بہت سے اس سے
وا تا تبھھی پ جو بڑے مو رر ت انی راورو سپ ہیں رو ننیکب میں شال شھیں۔ لن امت کی را بجی
ہوگ یکیہ ع رک یکی نمکور کنب کے ہسلو کو سا نے رک ھکر می واقعا تکوش حر کے ایک جمویعہ تی کیا
جائ دہ نام خدای 2 سکام شرو ںع کرد ایال
ُ رہ ای کی وی مسصس لکاوش کے بعد واقوات حری ثکاىہ خواصورت تموعہ تیار ہ کی
فلالحمد ولہالشکر۔انس تما بکیاتر جیب ہہ ہے کہ ایت ایس مر قح کا مشھ رتعارف ” بی ر“
کے عنوان سے با نکرد ےجس میں ز من رداق ای من بھی خرایا کر دیاگیاہے۔
91 کفز یر تک اض عمارت مب حوالہ جات اور ا یکا امعاورو تر جمہ یڑ یکر د ایا
سے علاودانز یں ال لم و علاء کے لئے حر بی الیر یت“ کے عنواانع سے اس حدیث کے خام عالہ۔
جات بھی تقعبل بیال نگمرد ہے یا۔
س کے بعد ”شر اعد یٹ“ کے عنوانا سے عحد بیث مس بیالنا و
اوراس سے متوالقہ اعادیث وروایا تک لف لکیایا سے جن ے انشْاء الیل تلق 7 ھ٭*؟8تھ
ٰ آ سان ہو چجایتا - ٰ
ای میس ”فوار الیر بی“ کے عنواع سے ز سے نت عد یت مبا دک یس پان کررہ واتعہ
سے اتححانح وت وا رک لوا اور عبرت وش حت کے پہلو و ںکو بھی تر تیب وار ال نکیا کیا ے
نس سے ا مد بل ہکا بک افادیت میں اضافہ ہ ھگیا- ٰ
راکنا می ایک مقر بھی جز تاب بای سے جس میں مض سک ریف اھ
اہمیت وفوائ صن انسای پاگے وری اورومرپاشرات اور ق رآ وحدحٹی قعنو ںکی افاد یی تہکواجمالا
یا نگیاگیاے۔
خ۳
مم الید یٹ
اس رح ا سکم بکو ابی فو عیت کے اختبار سے پر رح جائمع اور مفید بنان ےکی ہر کن
انمائی ہیک یکئی ہے لیکن جموعہ خطا لوم ول انسا نکاکو فی کام نف سے باک اور عیب سے کو یا ٣
نہیں ہوج اہ یہ صرف رٹ الحا ان گی صفت سے ہنا ا سکام میں بھی اس قلوم وہہول مر 1 فی
سے مصی'ادل فی تفیبرات یق ہوئی ہو ںکی ال علم سے عاجزانہ نس ہو ںکہ افلا ط ےار
کو ملع امیس جاک ہ ای اصلاں کی جا گے۔ واج کم اڈ
الله تعالیا لکلب :کو صاحب عدیث ىُ ارم علیہ الصلوات واتسلیرات کے ٹیل کارہمر تب اور
اس کے والدین اور ناش اوران کے ایل خمانہ کے لج ذخیر رت بنا اویل اخلائص کے سا تد دجی
و ۳۲- عرمات 1 وی عط ثرمااۓے اور نان کو ار ٣ رام کے لے مفیدرو مو بنا ۓ آمین۔ ْ
وما توفیقی الا بالله عليه توکلت واليه انی ۱
ث۳ محمد زکریا اقبال
گن اتال مک رای
عای دس یج
رج
ضا _-سسحےلسع- ش-للش٣س٣۔سسس تم
مق رمہ
ال مترمہ میں ” سر 7 لیف ایت دوائر تق رآلی وحر “کی میں کے ٹوا ند وخوائش
ان کے جائیں گے۔ اف ےصص معز بن کالفا تقاف کے زم کے سا تھ۔ جو قح کیج ے
اور عم راز بالن شی قص کہا جاتاے النارولیات شُداخبا رکو جن یس ماضی سو م۳۴00 ۱
رکا یلو ہیالنکیاگیا د۔ چنا نچہ فرمایاکہ :
كذالك نَققصٰ عليك من آنباء ما قد ستبق۔ (ط:/۹٥)
71 رع کر ران کرت ہیں رت ہ٤ ات 1 گی۔
لاد ثیا: تَحنْ فص عَليكَ أحستن الْقصص (یوسن,۴)
یم ماناک حتے میں آپ سے مرن تھے
اع عرب کے ہاں شحوم سے مراذ سابقد ادوار اور امتول میں پش آبدہ تق وا تی تک
و می تھی اور ہم دو ری مر اس زمانہ ٹل بھی داقعا کو مبالقہ می زکیکارنگ چڑھایا جات ۳
یکن ما نکر مم نے ان تفص سکونہ صرف کہ بالصل تھی انداز نی پلای رنگ آمیزی اور مال ٰ
کے با نکیا پلک فص و بر ائے قص جیا نکر نے کے ہجاے عبرت وفیجحت پان فیا
یل عر ب کت قدم پہ چے اود قافہ نا یکیاے ”لنضسص ما لوط استعا لکرتنے ےکن
ف٠
ھا
یافہ شال اس مع کے ق موں کے نعانات پر جلے تے ج سک خر اص لکر ہو تی
کہ ال کے قد موں کے نثانات پر تل چ لکراس شح سکودریافن تک مراکر تج جے۔ ۱
دکایات دواقعات کے لئ ”تنس “کا لففداس بت سے بولگیا۔ ےک ھکمہ قص گو تنس ان
ول کے مطابقی چنا ہے ج واقعہ میں ٹیل آئی یس اور واقت کواس کے تق الفاظط وستائی کے مطا ات
ان کر تا ہے۔ ناخ لم نکر میمش قرم پر لے سے مع میس لفظ نقصت “ استعال ہوا ے_
حضرت م وکیا اور بے ٹن بن خولن کے بارے میں ار ادف ہا: "
”فار تدا علیٰ اثارهما قٌَصَصاً۔(گہں,٥1)
۱ دودو ڈول اپنے فد مول کے نشانات پر وائیں لے _ ۱
کی کے جم می تاج یکو قائ میس نت یکیا جا تاہے۔ ما اہی سے الا ےکیۃبکہ تما می
قا ئگ کے تم تع یکا ا نک جال ہے یلام اس نے دوسرے کسا تد کیااک ساتھ
نے
سرن
بھی دا ہی کیاجا ے۔
قص 2ون اک فک میم ادلی ٹن سے جودور ال سے لے ےک مد 20-07 جارکی سے اور نون
ادبیہ یں قص گول سر بای ایا +٭ گی اور ھن انسالی اکو ات رکم ن ےکی صلاعت کے
اخقبار سے مضردو متاز متا مکی حائل ے' ا ا ا مارںنخ بھی اق ی
ا یی ودرے ول یی ۔
ثصہ کا سب کے اہم فاندہ ہہ ہوم بیلہ اکے ذریعہ ایک رف وس نکی زہنی کین
وی ے'دوص ری ضرف اکا ار زول ردان جرھت سے اورانسان کے اندر 1ڈ مات مر اور مر الراز
یس دوسروں کک ا ھیازکا سایق موا وت 0 7 یر6 2 نطری
تنکین ہوٹی سے “معلوبات میں اضافہ ہو نا ےکور کے ور یل عون ضخن
ہولی ےکیتنی دل میں زیادہ یکن اور راغ ہوئی سے جلدی بج میں آئی نی ٰ
ان خمام نواَر اھ عایاوہ ایک بہت بڑا قائدہ ہہ گیا لہ اکے ذ رجہ دی نی گی د وت اور 3و ٰ'
یام زیادد مث اور مغ اندقر مج سکیا جاسکتتا ےکی وجہ بسیکہ تق رآ نکر کا ایک بدا حصہ بلہ تقر یک
کی ح تس اورواتقعات “بر ببنی سے اور ای نل خ ران نے انی ں تعی رت 'موعظہ او رت کی ر“مقرریا
ہے چنانچہ ایک مقام پر ارشاد غرم
قد کان فی قَصَصهم عبرة لأولی الأَلباب(یوستف)
ما شہ ان واقعات میں خخل والوں کل کر ےپ
اور 7 متام پے رما
وجاءَ كَ فی ھذہ الحق ومّوعظةوذکریٰ للمؤمنین(یونس)
ار آڑسے اس تاب )|سآ کے پاس جح اور تحت مومین کیل
اک طرںٗ صدمث یب س99 کا ایک بڑاذغیرہ میں ماما سےگور اڑا
مقصدد بی باہش انداز یش اسلا مکی دعحوت لکول کک بٹیائی جائے_
ب ہ ریف امہ ایک تقیقت میکہ قص ہگوئی ایک بہت موم قوت اودا بلاغ کا ذدٹجہ سے جس سے
صااج معاشر ہکاککام مر اندز سے لیا جاسکا سے بش رطیلہ اسیس مبالفہ آرائی گر نکیا جائے۔
ٰ اص اول چ٤
اخمیاء و چّکروں
کے یمان اٹروزوافیا تع
۱۷۷۷۷۷۷۰۱۹٢٢۷۲ ۹۱۷۵۱۰۰ ۱۴۹.61
ضس اور ےۓغ
الا ہی
رت آرط کے انار اور
کول کا جیب ضص
بت
مر
اح آ ریہ ا دورٛ گشت تی اود عپد رف گ ام کے عالات ادا نکی طرزز گر
یکر ور آد مکی موجودہ ل اہ اد ادا دک ز نکی اوران کے طور طرنیقو ںکو معلوم ٰ
گر کے لکن باوجوداگے کہ ا نکی تحیقات اور ریرج نے انی اس بارے می کسی حدرتک معلویاے شور ۱
پچپالی یں ایک :ایل تدید عقیقت ہےکہ عم آجد قر یہ ایک تی علم ہے جی تین می نہیں اور
یقت حا لکو واج اور خی ین تال اعلادہ ایی دہ لن ار آسالی علوم کک رسائی سے حردم سے
جس تک انی دگی ال کی رہمائی کے انم نکی رسائی اکن ے۔
وا دوداعد رام ہے جو مد رق ھکی عقوم کے عالا کول طور مق لقن سے
ہا تھ اسان کے سساتئے یی کی سے وی ای کی ساد وگ تی طور پٹ تی در یقت اک ای لم تر
“کی طرف سے بازل ہونے والاعلم ہے جکی نظرسے ز من وآ سا ن کوٹ یکوشہ اور تی نہیں ے۔
ہت زئ نظرصدیے رسول اللہ ننس ھی با ف انا نکی بای توم شک یگئی سے یہ حد یٹ یک
رف ابوالایا نان آدم علیہ السلام اور ان کی جبقت و خلت کے متعلق روشنی ڈالتی ہے اور ا نکی ضس
تصوصیا تک ملا ی ے جو بعد یل انسان کے اجر ھ مودوثی در بر پنیرا ہک اوروؤمم کی طرف عدمے میں نل
ش راع اور آسالیدساتمر حیا تکا بھی زکرے جو دم علیہ اسلامار پان اکیاذر بی تکیلے لازم قرادیاے۔
مس ایر ۓ : ۱
روی الژمذي ںی سنن عَن اي حَرَیْرَةَ: قَالَ قَالَ رَسُول الد و (نما لق
اذ آقَمٌ مَسَحٌ رف فَسَقط مِن ظھرو کل نَسمَة هر عَالفھا سن رید إآ موم
لقَیامةِ وَحَکَل بین عَیَيٰ کل اسان منهُمْ وَبیصا من نورں, تم عَرَسهُمْعَلَی امم
فان 2 رب 7ھ قال: ٠ رك
ق8 حرئر از حے
فقالَ: 0ھ ِنْ ذَريكك لآ یدام ب٤ کم
خر حور ج-
ای می و ٠ سيتینَ سلةہ قَال: ایت زن مِنْ ری اَم سَة فَلَمًا
رر ےت | | ٤
قضیيٰ عُمْر امم حَامَ مَلَك المَرّتی نقال: تق مِنْ عُدْري اون سن ؟
قال: اَم : تعْطِھَا ابَك دَاوُدَ ؟ قال: فَحَحَد آَدَمْ فَحَحدت ذرَیٔه وَنَسٌی آَدَمُ
فتسیتٗ ذریت وط دم فخطحت ذرَینهُ ) .
َال آُو عیستی: َذا حَدِیث حَسَنْ صّحیحٌء وق رُوِیَ مِنْ غَْر وَحُع عَنْ ہي
شرترة َو لک
وروی الترمذي أیضا عَنْ أبي حرَيْرَةَ قال: َال یں
الل آدمٍ ونفخ ة الرٰوحٌ طس فقال : الحَمْد لِله مَحَید اللق باذنوء فَقَالَ که
يرَحَمَك ال یا دم اذحَبٰ لی أرَِك الْمَلابَكَتِ کی نا وی تل
۳ 7 الرا: َعل - ور ےے رك إلٰی تر ِنّ
َقَال اذ و یو مقوطتان: اختر أَيَهُمَا شعت؛ ا قال: اخترٴتُ يَيِينَ رَبی؛
وکلتا بَديٰ رٍي َيَِ مبَارَكة تم يسطھَا اذا فیا اد وَذریه فَفَال: اي رب
مَا مَولاء ؟ فقَال: مَلاءِ ذریىكٌ ا كَلُ اسان مَکتوب عُمْرَ ین عَییْه فإذا
هم رَحْلْ أَضْرَزْحْمْ أوْ بن أَسْرَِھہُ َال یَبٌ مَْخَذا فَال: مَذا ايك
مو ور پا ڈیم و وا سی
عے یں -
ھ ظ مب
وَذاك, ٰ
ا ل: تم أَسْکن الْحَنة م ما شَاءَ ال تم احْبط مِنھاء فكان آَدَمُ يَمْدٌ لَفيك. قَال:
فأَتاہُ 88000 ۳٦ لمات یوقت تر لی
می ا ین پرمیذ الکتاب والثود۔
قالَ الرمذی و ہذا لد میں بج الوْحٰوء وَقد رُويٰ مِنْ غیْر
چو 007 ية ید بن الم عَنْ ابی صّالِح, عَنْ
"سا
ام مم نے انی سن میس محر ت ابو ہر می سے رداحی تکیا ےکہ تی مل نے ف مایا :
حر مسسوتیمڑڈ لے :.
جب الل تتعالی نے حر تآدم علیہ السلا مک پیل اف مایا نوا نکیشت پر ہا تھ گیب اننس کے
ٹیچہ جس دو تام انسالی جا یں جنیں اللہ تھائی نے قام ت کک پید اکر نا مقر فرملیا ھا کل یں اور ہر
انسا نکی گول کے سائۓ رو کیااک الہ ماک ی تی بچلرائن قمام انسائی جانوں کو اید تتعالی نے
آدم علیہ السلام کے سساتے شی یکیا۔ا ہوک انے فرملیاکہ اے ممہرے رب !مہ س بکولن یں ؟ اللہ تال
نے شرمایاکہ :بی سب تہاد کادلاد ہں- : ٰ
خر تآدم علیہ السلام نے النامٹ سے ایک اد یکودبیکھاکمہ ا لکی آامکھوں کے در مین
یی نک رج عی جس نے انیس تقب میس ڈال دبااور رمیا اے میہرے درب !ی ہکولنا سے؟ ایر
تعائی نے فرایاکہ :مہ تہارک اولاد ہش سے دہف ہے جو آخخرکیاامتو مج سے ہوگا اسے دائؤ دی
جا گا آدم علیہ السلام نے فرمایاککہ اے میرے درب ! آپ نے ا لکی ع رکھتی مین فراڈے؟
ادشاد بد کہ سانٹھ بر مں۔ ا لک عمریس ایس بر لکااضافہ می رک عمر سےکرد ہے (لٹنی می ری
عھرل سے چس بر لک مک کے اسے دے دس )۔ ٰ
_چمرجب آدم علیہ الا مکی ال آ تپی تو مک المدت ا نکی روح تین کرنے تی
لائے۔۔ آدم علیہ السلام نے پچ بچھاکہ :کیا می رکا عھرکے مالس بر ابھی باقی نمی ہیں ؟ ملک اوت
نے فرمایاک ہکیادہ آپ نے اپپنے بے دو دکو کیل دے و تے جھے؟ جواب میں آوم علیہ الام نے اس
سے انکر شر مایا ہم س کا پر بد کہ النکا انا النگی ری اولاد شس ہناور دہ بھی مر ہو کی اور وم
علیہ السلا مکو یہ بات بھلاد یئ بس کے نیہ یس نسیاانکا مرح ا نکی او لاوش شی پر اہ وا اور نوم
علیہ السلام نے لغش لکھاٹی وا نکی اولادنے بھی لغخرشمی ںکیں.۔(دام تہ نے ا کو ٢سن نروے)۔
اکی رہم قانے ححضرت ابد ہر یٹابیاے مہ روایت بھی نف کی ےکہ رسول اللہ چکے
ےار شاد شرمیا: ٣ ۱ - ْ
”جب اللہ جل شانہ نے آدم علیہ اللا مکو پیرا فرمایااورالن یش روح پھ وی تو وہ چیک
ٰ پڈے اود فرایاکہ مد لہ ااورالش کے علم سے تاھد کہا د بک نے الن کے جواب می قرل
مک : اے آدم !اش عم پر فرمائے۔ جا دہ لا مک کی اہک ججماعت بھی سے وبا چاو اور حا اکر ہو السلام
سم (چنا چا نپوںنے ب یکھا)ف شقول نے جواب مج سبھاکہ :و علیگم السلام و رح الد حعن ت وم
علیہ السلام ایل اپنے رب کے پا تش ریف لائے فو اللہ تھالی نے فا یاکہ :مہ تہارااور تہارک اود
آ ہیں میں سلامے “۔ ٰ ٰ
را تائی نے اتی دونوں بند مو ںکی طرف اشار وک کے حضرتہ آدم علیہ السلا سے
بایان دووں مس سے بے چاو اخقا رک رلو۔ آدم علیہ العلام نے فربایاکہ : یسل ئے این مر کا
سن رر
دایاں ما تجھ اختیا رکیااور بیہرے اورب کے دوفوں ما تجھ دائی بی خیں “مر الپ تی ے نی میں
چھیاا یں ان میس وم علیہ السلام اور ا نکی اولاد ھی او نے ہو چھاکہ اے میرے رب ام کیا
سے ؟ ھرمایاکہ سی ہا کیااولاد ہے لن ےکا نک فک پان ری ہوئی ے' ان
سے اک گنر کی رفظ سے تاور ار گارے۔ 1غا ضر ہے
۔کوان ے؟؟خ ریا کہ تمہارابناداؤ سے می نے ا کی ع رالاس بر سمکھی ہے۔ آ دم علیہ اصلام نے
فرما اک اے مر ے رب !ا نکی عم ریس سانش سا لکااضافہ میب رک عمرییش کرد تجچتے فرمایاکہ مم جاند۔
بچھ راید نتھالگی نے فمرمایاک/ہ تم جنت میں رہوج بتک الد جاہے۔ پچ رانند نے | 092
زی نکی طرف اترا۔(ز ین بر ات نے کے بعد)آ دم علیہ العلام اپی حر کے سال شا کرت تھے ۔ بجر
و ور ارں ۓ ے7 ہوم علیہ السلام نے فرمااککہ مم نے نے میس جمد یکی میری حر
راز برس مقر یگئی ے۔ کلک الموت ن ےکہاکہ بای لکیوں نیس ال آپ نے اپیے یی دا دکو
انی مرج سے سانٹھ رس دے د بے تھھے۔ آوم علیہ السلام نے الگا ال جات سے انثا رکیا
ت3ا کک نے نے ڑا کہا نکی آولاد نے مھ اکا ری ریت اینائی وہ بھول گے فو نسیائن ا نکی او لاد یل
بھی ہوااوراسی دن سے عم ہو اک (مخا لا کو نک لیاجاے او رگواو مقر کر لیے ایس ( اہ بعد یل
اکا رکی نوبتان ہآۓے)۔ .
خر الر یش
روہ التز ری زاب انی رباب مین امرف ۳/ھ بب من سور؟ وق / مر
تر ار یٹ
حضرت آوم علیہ السلا مکو ال تعالٰ نے کال اور درست طرویقہ سے تقلیقی ترما اییا
یں سے جے اہ نت لوگو ں کا نظرسہ ےکہ انسالی ادتقا کی سفرہ ےکر تے کرت اس موجودومر علہ
7سس کہ رس شل میں نہیں تج کہ اض مفرپی دانشوروں خلاڈارون خی رہکی می
راے سےکہ صلے انسان ابق ھآبند رکی شکل میں تھا ہت تیم فی گنی رتا
ا تقا کاسف نل ےکر کرت اب موجودوانسالی شحل بک پیا ہے۔ مہ ریہ راس ٹیر اسلائ اور ٰ
ے حقیقت کے خلاف اور تا مآ ۱ ساٹ یش ال کی نحلدات سے متصادم ے۔
ال تھالی نے ابترامی ےانا نک گل 7 اگ شور کے وت نک وید
یس تین کر نے والا اور ہ مکی جانے والی با تکو جکنے والا اور دریاضت طلب با ت کا منا سب ج اب
دۓ والابتایا ے۔
جب اللہ تھا ی نے آ 2 کو بنابااور الن مل روح گی تذ اس کے ےہ میں ا نیس چیک ؟۵۔
2
م۴خ۲۳ّ
تحص ار رۓ . 0 909000(
جس پان ہو ںائے ال کا شر دیاش قالے نر :ےآ وم! شر تیرب یرں داللّر
تالی فمار ہے میں لین چوک آ لیم مقصود ہے اہنرایییں میں فرمایاکہ : ٹیس م بر رع مکمروں بللہ بطور
ملیم کے ار شاد فربایاکہ للدم پر قم فمرمائے۔ سک 7٦ تندہ کے لے ہر جچھنکنے دانے کے ا مد اد کے ٰ
جواب می کچی جمل ہکہاجاے) بچلرالنا ہ ےکہاککہ دو ملا مہ کے ایک اجقا کی طرف جس آدم علیہ
السلام نے ملا کہ کے می عکو سلا مکیا لوا پوی نے اس سے زیادہ مر جو اب دیا۔ آدم علیہ السلام لت
پچھرتے' سلت او رکتنگ دکرتے جج ینک وغ مر یھی ج بش ری ضروریات ٹیل سے ے ا کڑیں آئی می
عالان ہلا مکرتے اور ہر با تکوا بھی طرح کھتے تے۔
ال عد یٹ یل جو بات قائل ور وہہ یہ ال تھالیٰ نے ای بندے 1م کے سراۃ کی
رعایت فرمائ کہ جب آدعنے چلیگے کے بعد ال کہا تال تھائی نے قر۷۷: نا ےآوم 202
فنررماۓے “اور جس بر ا کارب درگ فرمادے فو اسے ا سکی جفاطت ا سکی گر مم اورر عابیت حاصل
وگئی او راوشد تعالی اپ نےگناوگار بندہکی فق کو قول رما تاہے ج بکہ دو کی طرف پھر جا اور ال -
گییحاف انار تھے زی فضرتف :کو محاف فرمائ اور می ا یمان و نشین پ0 ثوٹ
خطارماۓ_ آ آ مین اور جمارےد من خبطان)کو: پھم سے دود فرما ۓآ مین
دیو سی جس ردے ہیر ریت
رای الہ جب چچجینک آے ای کی تھی فکرتے ہو ئے الد ول رکڑیں اور جب مین والا الئمد اد سے
او ےن والا ھی ککرے میا شک یناور اذ وت کے لے با چی یل لاپ
گید عا ننسلا م “مقر فرمایا۔
اعد یش جارنےدسول نے میں با اک جارے رب نے رت کی ٰ
پت پہاتھ ( جیما یا کی شان کے لال ہے) پیر تو ا نکی شت یس سے ال نکی قام اود جھ
قیاص تکک پبدا ہو نے والی سے نکل پڑگی اور الد رٹ للا لیشن نے اس سار کی فو ما ٹکو واکیں سشھی
بن کر لیاادر ارت الا ین کے دوخولا ہی پ ھ دائیں ہیں سید
مس آوم علیہ السلاماورا نکی قام آنے دای اولا یں
جب خر تآدمنے ان بعد پیداہو نے والی لوق کور گے وا 7 ای 7گھوںے -
در میا ناک ور(رو تیی اک کن سی کہ الناکی پیششائحد ب ا نکی گھم مر ر9 ھی نل رکالء اوران ٰ
مس سے ایک 2 کود یکھا امہ ا لکانور بت بی اما ہے۔انہوں نے اس کے ملق می مھا نے بتڈا اگ یا
وہ گی ال نکیا لاد ٹس سے ایک ہیں جو آخ کی امت سے ہو گے اوران کا نام دا ڑے اورا نکی عمر
پ ہے تد سشھ
ص ایر رۓغ أ٦يىيىسسصيىىسىسيىًصضہّ سے ۲۴۳۴
تم غوی یم کیاکمہ ال نکی عم رٹل اضافہ فرماعیل ار نے فا مار ی
طرف ۔ جو ع ر مقر رکرد یگئی ے ودی ہوگی اس میں اضافہ نیس ہو سکنا ےآ وحم نے اپٹی عمریں
۱ سے چالییس برس داؤدکو ہہ کرد قئے جاکہ ال ناک عم ر کے سو ہر ںمعمل ہو جایں۔حد یٹ سے یہ بات
بھی اہر ہوٹی ہ ےک ال تی نے 1د مکوا نکی مقر حر جللادی تع یک دہ راد بر سز مردر یں
گے۔ چنا نیہ جب ان نکی عم کے فو سوساطھھ 8۹۰ بر لگند گے فو ملک امت ال نکی روح شیج شک نے
آے۔ حر ت آدخمنے ان کے او بر امترات شکیااور اپٹی مقررہ عر پا "ہر پچ
گواریککاالبار فیا اس سے اہر ہو تا ےکلہ حقرت آدمم انی عھر کے ادہال ا رج تم
جب ان وی نے انس بر اعتر ا شکیا فو ملک الم وت نے انی یادد ما کہ آپ نے ای عصرش سے جامس
بر و ای ٹج دا دکو ہبہ کرد ئے جے ان آدخم نے ا سکاانکار کیاکیہ ا نپوا نے انی عحر کے جا 2
بر کس یکو ہبہ سے تھے اور آدم علیہ السلام ول لے تھے اوران انار نسیاغ ھا عصیاء یں تھا چنا یہ
وم علیہ السا مکی اس یھو لکا فو ری اثر ا نکی ذدیت پر بھی پڈااور نسیان تی آد مکا نبرا نآ
انساکوں نے اس باپ کی مر ایا رکیااور شس ط رح دہ ول سے اسی ط رما نسان بھی دنیاجس
کم الہ کے عدی کو و یما .سی وجہ ےکم الد علشان ے پر معاطہ کے وقت ا ے لییھن او رگواہ
بنا لیے کو لا زم پ رمایاتا الہ انکا رر ے والو ںکااڑکاراور بھو لئ والو ںکی ول کودو رکیا تا گے ٰ
تبرت وصا
)۱( عد بیث سے سب سے بہ لا فا :نرہ اصع ہو اک انا نکی تخلیق کے ملق ج غی ماسلائی
اور یر فطری نظریات مفرلی داْشو رو لک جات سے لوگوں کے ذجتوں مم ٹھا ۓگ ےکمہ انسال نکی
کے ل27 '“ لق ری نی تعھی جیے اب ے بلہ ابد اعوانسالن ایک جانود تس- ص02
کا۔ چھرر فتزرفتہ ال نے ار تقاکی سفر ٹ ےکیااور تب جب کے ملف مراعل ےگ رک اتی اس موجودہ
شل یں ہیا ڈاروٹی نظر کو جو ایک بے دن "تپ گی انی ذ می اخر اکا مہ سے “کمچ ایل
مخرب نے بہت زیادوف روغ دی ےک یکو شش کی اور بہت سے ایا وانے مسلمالناذ جنول نے بھی اس
کو قبو لکیا لیکن عقیقت واقعہ فوادشررب العا لین جو خالقی ہیں انسان کے اورانسا نکواشرف افو جا تک
شرف عطافرمانے والے ہیں وہ چو دہ صدیاں غنل بی لا گے ہیں یکر مم پش کی ز بان اس تحیق تکا
ٰ ہار فرمادراکہ انسالناروزاڈل نی ےعمل جح صورت میں 32 انی تمام تر جسالی وذ ہنی و
افلائی صفات کے سا تھ مل چیداکیاگیا۔ اور اضا نک " خلیقی جھمی ابت رای تھی دی انا میں بھی ہوگی
اور یھی اضچائی ہہ گی دپی اینترائیس بھی گی
ححخرت آوم علیہ العلا مکو اللہ ای نے لبق کے اختبار سےکائل فرمایا تھا ان میں خانقت
ضس ار رۓے ٰ 2 410100 ب01 80ب۔-ب+ب-. یی ۹ْھ
کے انقبار س ےکوئی نف نہ تھانہذ ہنی نہ جسمائی بلک ا نک یکمال خلق تک علم ىہ تھاکہ ا نک تر ساٹ
۱ ذراع(گز) تھا اوران کے بعد سے حے بھی انسان آتے رے النا کے قد امت میں رر 0 ھی ٦ گی 11
بہاں ت ککہ موجودہ قد و قاصت پہ کم انسا ناف ٹہ گیا اور قیامت کے روز الہ علنشانہ'ترام ال
ٰ جن کو نت میں ضر آوم علیہ السلا مکی صورت میں داخ لک ری گے لی سب کا فی ححضرت ہوم
علیہ السلام بتتاہوگا۔ ٰ حےحء مم تے ےم
چنانجہ جع بخاری اور سکم یں ایک مر یٹ م٠ لک کیا ےکہ در حول اللہ ول نے ار شاد
مایا ”اللہ تھالی نے آدم علیہ السلا مکو پیداف مایا :ا نکافد ساھ ذ راک لگ ز) تھا ران سے ف ماک حا
الن طا مک کو سلا مکرد اور جھ جراب دمسں اے مور سے سنوکہ وبی ہار ااور تہارک اولادکا ما بی سلام
ہے۔ آدم علیہ السلام نے جاک رکھا:السلام لم توف رشتول نے جواب مج ںکہا: الام علیک ور حمتہ ال
او نے رحمتہ الد کے الفاظ زیادہ سے اور جنت میں جو منص بھی داخل ہوگا وہ آدم علیہ السلام کی
صورت ( نقامصت) پر داشل ہوگاادر الن کے بعد سے ا ب کک مل انسالن کے مامت سی ہو تی
ریا ۔(بخار ام -٣ “لم ۳ر ۲۱۸۳) ٰ ٰ
یہالناىہ بات مگ دا رس کہ ححضرت آوم علیہ السلا مکی تخلیق مرعلہ وار ننیں تیب
ایک می مر علہ ی کائل تلق کی تھی لین بن کے انسانو ںکی تقلیق 1ی کم تررجگی مر عل ے
کی دارم مادر ٹس نطق ہی صورت ہولی ہے اور پھر حلقہ نر مضہ“ پھر ڈیوں ےگوشت
چجڑھانے کے ممراعل سے گنذ رک اروپ ل(جالن نے کے عم لے کے بعد)ا نیا نکی تغلیق ری ہوئی
۱ ہے پش راید نت یا در تکالہ سے اس دتیادی وجور( مم )عطافرماتے ہیں۔ ٰ
() حصحثبالا سے دوصرىی بات معلوم ہوٹ یکہ ازنمالی خصوصیات خواودہ مر ادگی ہوںیا جسرالی
ٰ ذ :انس بک لعلق موروٹی طور پر خر تآوم علیہ السلام ے می ے۔ متا نان اوراکار و ,7 ہاور
اپنے فانندوکے لج با تکوردکرد ینا جیے ححفرت آدم علیہ السلام نے ع رکی تل کے لئ ابنی ہی کی
ہوک عمرکاانکا کیااک چہ انکایہانکار مصیا جاور ف مال جنی یں توابلہ ا میں و گیا تھا
بر یف انسمائی خو اص ومز ا مر ت آدم علیہ السلام بی سے موروثی طور یر نل ہو ار اے۔
() تس ری بات یہ معلوم ہوک یکہ باب مل ما جات کے وقت سلا مک جھیکے بر مد کہا
اور ا یکاجواب ےتھک ال ہکہناد خی رای بایں ہیں جو اسلام کے سا تد خصص وص نی بلہ تمام اویان و
شر الع میں من ک نی کی کہ مہ ہمادے پاپ آدم علیہ السلا مک مب راٹ یل سے ے_
م)( حد بیث سے ”ا یمالنابالقدر“ گی خابت ہو ٣ ےکہ اللہ میم و خر سے ہرذیی دو نکی عم مقرر
فرمادگی ہے ازرا ئل او رکو لاںرے ڈائدز نی نہیں سکتا۔ ٰ ٰ
تو نے
(ہ) 7 لو ا ا ا و ا ا
کے دای ماج ہکا کر ہے۔ لین الع لنشانہکا یہ اعضاءازسانول اور د یکر شنلو قات کے اعضا کی طرح
7 سا ا ان۱ رو کس وو مور ے اور فو راعمرائ میں سے سے
۶۱۶۱ ل ووہوت ہیں جنہھیں جس مکی حاجت میں ہوٹی ان تا و کن یں از پر
کسے ہیں ؟ نوکوگی نھیں جاضزاکہ وہکیسے ہیں ا سکماطتلن رشان (جیسے ا لک شاان عالی کے مناسب بہوں)
رین رکناضروریدے۔
الات داٹماعۃکا خقیرو بجی ج کہ اعد یٹ آ ار جہا ںی ال لخجلالہ ہے اعضاء
ملا ات ائؤں'انیول وی وکا نکر سے فواان سے ماک اعضاء م راد میں میں دواعضاء اش کی شمان کے
عطالقح ہو گی ج نک یکیفیت مکی تک وکوئی نہیں حجاتتا نیہ ان کا الا کر سائے_ جیسے لن ل وگکوں
ے النااحاد بی کا نی ازکار کرد اوران حییف (الڈد کے احضا کی اہر ی صصورت سا نکر نا) جات ے
نی تتطیل کہ انا حاد ی ٹکومتنقل انا جاۓ اور الن بر شقن نہ رکھاجاۓے)
لیس کمثله شیئی وھو السمیع البصیر۔
)٦( اہی رح الشر کے نی داد علیہ السا مکی حظحم تکا بھی عدیت سے اظ بہار ج7 سے اور الع کے
یمان کے میم ہونےکا بھی جس پرا نکی الیکا قوی او روا ور د لال تک جا ہے۔
ر(ے) اس کے علاووحد بیث ے ایک فاد یہ حاصل ہوک عمرکے سال اور صاب شا رکم نا جات سے
کی یکلہ حطر تآدم علیہ الام نے اپئی عرکے سالو کا سا بک رکھا تھا
۲
رہ۸( 0 تن تر راو رگواب یکااہترام بھی حر یت ما رکہ سے خابہت سے مھ رکون
کر مم یں بھی ا سکواہتمام سے بیال نک ایا ے ' نات ش ریت اسلام کا عم بجی ےکہ باب تار عات
اور ناگوارہی سے :ک کیل مکی معارلہ کے وفتت 7ت راو روا ہو کا تما مک ناجاگے.
انسالی فطرت وججقت میں پسیان (بھولنا) اور اڈکا کر ناشائل سے جس میں ہش کی قمام او لاد
مت رک ے اور اسلا ھی خر بجعت کے اس ع مک و رید نیائ نہ صرف ہ کہ ےک
رگید نیایش ای ر مل ہور ہے گر جہ سا نس اور شیمزالو گی کے اس تر یافتہ دور مس آد مک او لاد
نے دھوکہ دی ۶ نل سازی' اورلوٹ مار کے نت لے طریقہ ایی دکر لے ہیں لکن معاللات مم
سی سی سے
٢ ے
لص ایر ےۓغ
دو ماقصۃ (+4
الد کے نی ححضرت آدم علیہ السلا مکی
ٰ مو تکاواقے ٰ
ہیر
000 ہے عفد سی سو ٠
زان نبدت سے بیالنجھ “می ہی لا جا کہ انسان ال کی ٹیو سن انسان کے پا تھوں نی ہہ ور ی لوق ٰ
فدبیوں کے پا کھوں ہوک اور انسای تکو کی مر حبہ ٹر گن اور فی نکیادوسماو یی طر یق لا گیا ایت
کے اترام اور آد می تکی عزیت دنق رکا سب سے باعظمت طط روقہ سے 'بحد ٹس انسایت نے مرد کو ٹھکانے
لگانے کے نے لر نے انا ئے مج لاکر را کر نے سے لیر سوٹف لوٹ ۔ نال شع فا نک نے یوتف ۱
آدمیت کے ات را ماورازمانی تگی حم تکورو مد نے وا نے میں 5 یت مقدم تر دو لکوا تا رام دی ہو"
ز نو ںکاکیایھ اترام ال نے نہ تتایاہوگا_ ٰ
لی الد یش :
عَنْ عَتي' قَالَ ریت شیْخا بالمدینة یکلم فا اح عَلئہ قَُرا: هذا آي لَ
کعب فقال: اث آدََ اطإت نما حَضر ام تُء قالَ لٍَِیه: أي بی آني أسْتھي
ِن یمَارِ الْحَنة فدمَبُو َطَلبْونَ لَهُ فَاستباهُمُ الْمَلابكة کو ا کی
وَمَعَهُمْ الْفَوُوس وَالْمَسَاجی, وَلْمَکَابَل ٠ 4“
َقَالرا لم - نی أ٥ ما تریڈُوں و تطلَبَون؟ اک یْڈون؟ ون
نیہ َالوا: آ تا مَریضٌء َاثْهّی مِنْ بِمَار الْحَنة لوا لهُمْ ارّْحِمرا قد قضیي
قَضَاءُ أَبِيكم.
فحَامُوا لم رای واءُ ره فلاذتٗ - فقَال: يك ؛ الیم نی انی ٰ
نما أُوتیت مِن قبَلكء عَلي : اضٍي ین مَلایکة ربي تار وَتعَالٰی سس 7
وَغَسلُومُ ' وکفنوفٰ وَحَنطوهُ وَحَفرُوالَه دو لَهُ وَصلو لی ٹم دلو
قبرُ ُء فَوَضَحُوہُ شی بر وَوَضَمُوا عَليْه اللينّ ا مٌ حرَخُوا م من القبْرٍ نم حٹوا عَلَيْهِ
لتراب؛ تُمٌ قَالوا: ای ا حو کٹ 7۲
(1ھفر ان شر السعدي ۔
ہے رو ×ت
> ض رین
ترحمت ار یث ٰ
کت شر سید قکنے کہ شنے یی موی یک شا وق کرو ہو ے ٰ
رکا نان کے متتحلق لو جج واکہ ى کون ہیں ؟ وگول نے با کہ ىہ اب “ہب (مشپور صمالی ) ہیں"
نپوا نے شرمایاکہ :
۱ تحضر ت آوم علیہ اسلا مکی مو تکاجب وقت ہوا قوانہوں نے ایت میں سے ٹم رما اکلہ :
تے اور جنت کے کچل میو ےکھاتے تے و موت کے وقت انچ یکی خوابئش ہہوکی) بے جنت کے
لو ںکی طلب وجلاش میں لے تذراستہ میں ا نہیں فرشت لے _۔ملاگلہ کے پان ںآ دم علیہ اسلا مکاکف نع“
و شمبو مل ایال“ عگوار اور یزے بھی تے۔ فرشتول نے الن سے ہپ پچھاکہ اے دم کے ہیا مس
کی طلب و خلا میں ہو ؟ خ مکیاحاہتجے ہو ؟ او رکہا جار ہے ہو ؟ اض پو لان ےکہاکہ ہمارے والر (آدم
علیہ السلامپ با یں اورالنکادل جنت کے پچ ليکھان ےکوجاورہاے_ ٰ
فرشتوں نےکر وائیں طلے چو چہھیپجوق 0
ارد یر ا رر رر 09220
آے ہیں ) تو آدم علیہ السلام سے لی کسی 'آ آدم علیہ السلام نے شرمایاکہ دور ہو چاو گے ے دور
ہو جا تہاری جانب سے نو یہ اس سے ہل دعوکہ ہو چکا ےا میرے اود میرے ردب کے
رشتوں کے در میالنع سے راستہ چچھوڑدو۔ چنا یہ اضپول نے آوم علیہ السلا مکی روں غیخ کر لی انی
سل ویائکفن پہنا یا “خھ شمبو لگاکی' پھر ان کے لئے قب رکھودی اور پیر (سرید ھی قر) بناگی۔ تچھر لن بر نماز
بھی پھر ا نکی تیر میں داشل ہوکر ا کمیں قبر میں رکھا بعد از ال 'ال نکی خر بر اشٹیں مرک کر بندہکر دیا تیر
سے نگ لآ ے اور الس بر می ڈالی بعد ازال نے گے : اےآدم کے بیٹوا تہارایچی طریقہ ہوگال(مردوں
کی مٹین ومن ک)۔
خ زع اللریث:
زوائدالمسند/رواہ 01117 الإمام ا + ۵۰ /١۳۔
قال ابن کٹیر؛''اسنادصحیح اليه“۔البدايه والنہایةا/۹۸.
قال کے انال سس فطاع ضر ورظاااشیع ال ائتہ /81:
تق مار یش
اس حر یت میں حضرت آوم علیہ العلا مکی و فا تکاداقعہ بیالنکیاگیا سے جب ال نکیا مو تکا
وقت ہو اتا نکادل جا پاکہ جنت کے کی لکھاکیں جن ز ن دک یکی ابتراء میں جشت کے کپچلو ںک وکا تے
۴۸
سال سر 0---4-ف+ف-----01ب0ب404بب0--- 90 ۹
رہے اذ ن گی کے افقتام پر دی چاہاکہ نت کے بل میدے استوا لکریں اس سے حضرت ہوم
ٰ لے | اسلا مکی نت 1 تصحب تکاا رازہ جاے او رکیو اث ہو ریخب سے ائا ین اما نو ھے مہوت
کے پائی بے جن تکی تو لکونہ صرف د یچھابلہ بر تا جھی ان سے ایک عر ص کک فائدہ بھی این
جو جن تکیپائبزواور خوبصورت ز ن دگی سے لطف اٹھا پک ہودوکسے جنت ے نا نل ہو سلناے ؟ ٰ
خر انہوں نے پہ خوائشل اپینے بیٹوں ےکی ڈوو اس خوابش کی یل سے ےےل
گھڑے ہو راو یل انڑیں فرشتوں کی لیک جماعت تی جو انسائی صور قوں می تھے اور الن کے پا ہر
دہ یز موجود گی جح سک ای ایک می تکوضرورت ہوسکتیٰ ےکی وکہ اس سے تل موتکاواق انس ال
ز نکی جس بی غنیں آیا تھا انز موت کے بعد میت کے سا تھ کیا بج کیا جاے ؟ کس طر کی
جائے؟ ا سکی میم دیے کے لے اللہ جل جلالہ نے فمشتو کی ارک ججراعت کوا سای صورے میں -
یا تودہ قام ضروریات تھینٹر و عفن اور جر فین دو ےکر ہے مل اکغن “خو شب قب مکھودنے کے لئے
ٰ ای دی ود ےکآ ے۔ یہ رکیف جب حفخرت آوم علیہ السلام کے بیٹی سے فرشتو کی ملا جات
ہو گی وا بویا نے ۷و جم اہ مکہاں اور کس مقصر کے لے جارے ہو؟۱ کہولانے جلادیاکہ جمارے والد
گیاىیہ خوائش ےک جنت کے بھ لکھائہیں نوف شتوں ن ےکہاکہ ا نکی اعل مق رد ہآ کی سے اور اب وہ
ٰ دنید یز ن دگی ےکوئی وا دو حا۹ل ںکر یت میک اکمدوت جب خر ت آوم علیہ السلام کے یا
تو جواء عل االسلام نے ا یس پیا نالیاکہ ی مدت کے ففر نے ہیں اور آرم علے السلام گاروح ٹب
کھر نے کے ہیں“ چنا یگ راہٹ کے مادے بے انار دہ آدم علیہ الام سے چم ٹفکیں' آدم علیہ
السلام نے ا نکوڈی فک فرمایاکہ :دور ہو جا ھ سے دور ہو جا تہاریاوجہ سے بے اس سے قبل بھی
معیببت گی گی سے 'اس سے اشادہ خھااس با تکی طر فک مت میس مج رتو کے کھان کی وحہ
بھی حضرت جواء علاالسلام ہی یں ابا نول نے ڈپ کر فرباناکہ جھ سے دود ہو چاواور میہرے ْ
اور یم 0ر رغشوں کے در میالن حا تل تہ ہو دہ بے مر ہے دب سے طا کے ے اذ رجہ یا
ْ خ رخ اس کے بعد فر شتوں نے آدم علیہ السلا مکی روں فی کی اورا نکی تھی رجف نکی ٠
آدم علیہ السلام کے یٹ ىہ سار امنفظر دک ر ہے تھ 'ف رتو نے ٹسل دیاکفن پہنایاخو شبولگائی کپ رق
کھودی جو یر ۴ ووطر کی ب۱ٹ سے ایک و ردومر یىی یہی اکواردومیں ئل تی رکھاجاتاے
عام ور سے جو قب ر ںکھودی عائی ہیں وہ ”کید“ ہو می یں ج بک ہ بس بل جہاں حتازشن ھا
تچھود نے اور با ووں کے لئے مین یت ہی تو بھددی جاتی سے جس گی شعحل یہ ہوٹی ےکہ ق بھودکر
را کی بائیں طر فک دیداد ایک دوس راگڑھامی تک لمبائی ا ھودا جانا ہے جس جس میت ٰ
انی ما کے 'اسے شفیی گیا قب رکہاجاجے۔
تس الیر برغ ٰ ہہ
ریف !ا نکی ق رکھو دکر نماز جنازو یڑ ھی بعد ازاں انی ق میں رکھاگیا بر قب میس اش ہیں
رک ھکر اسے بن دہکیااور اس بر می ڈا لک قبر بنادگی پچ رآ دم علیہ السلام کے یٹول سے خاطب ہدک کہا
و ہے کی آدم! این مردوں کے لئ الد نے تمارے واس بی عر بیقہ ند مرمیا سے 'چناضیہ خمام
اور لکش راف میس رشن اموا تکا می طر پقہ ار اے اورای کے علادۃچھ بی ط رو گی
توم یانخھ ہب نے ابنایادہاشر کے ججائۓے ہو ئئ ظمر پقہ کے خلاف اورانساغبیت کے اترام کے منا لی سے۔
ہنرو لکی ط رح جلانا تا نساشیت اور مردہکی حد سے زیادہ مل اور تع یب ے۔ اور بجی
وجہ ےک تمام آسالیٰ اہب کے پیردکار ول یس خوادوہ یسائی ہو یا یبودکی می دش نک مرایقہ ران ے
رجہ ان کے ہا لکغن کے باۓ می تکو لے لا ۓ بت رین سوٹ میس نل را کفکیاجاتا ہے جھ ظاہر
۱ سے ش ریعست اسلا می کے خلاف ہے۔
ٰ اسی ط رب ور مز پانوں ٹیس فراحنہ ممصر کے بیہال ا نے مر دو لکوو ش کر نے کے با بلند
مین عخقات میں جنہیں ت اہ رام مسکا نام گیا تو کرد ینااور ان کے سا تح النا کے قمام جواجرات اور
ال ودول کو بھی مخو کرد ینان کے ل ےکھانے بی ےکو داز مات میا رکھنا مہ سب خلاف انساعہت
رن اور فطرت و عحل کیم کے خلاف بای ہینی۔ ٴ
تس اقوام میں ہہ روا تھاکہ مر دو ںکولکڑی یا چھر کے تاد وں میں ین رکم کے دریا میں
برارتۓ تے ا نہیں بھی محفو ھکر دیا جات تھا ظاہر ےکہ مہ بات تصرف یہ کہ اضسالی خمت و اترام
آدمیت کے منافی سے بلمہ انساپی حنت اور دول تاغل ط اتال بھی ہے۔ ٰ ْ
مس من می اش رت العزت نے جو طر قد متلایادہایما ےکہ دنا کے ہرانسان کے لے
تقر مار حالت یس اف رک یتتکلیف کے اور اغی رکوئی مال وزر خر کے اس پ عل سان ہے اہر ہے
7۲ شس کے لے جککڑ یکیاج بت ہنو انا گیا عید ول یاس مسلوانا یا بلند مات ہنوانایا دو لکی ط رب مردو کو
با نے کے _ل ےگھی تتیل اور خو شبویات وکلڑیاں ش عکرن کن نیس ہے۔اس کے ۹ ۶۶یو
ہکڑوں می سکف کر مٹی میں دف نکرناہربچکہ اور ج رشح کے لن مسا آسالن اود کبی ہے۔ سن
ام افسوس ےکہ آرج کے مسلرافول نے ش رع کی عطاکردہ جو لت اور سا کور سوم ور وا کی
قیر میس جک کر ایا مشکل او رتنکایف وہ بنادراکہ اب مردو ںکی نشین وٹین سر ہنرااروں یں لاکھوں
خر یئ میاتے میں اور انی تین قاب اور یت کے مم میس ببہت مارک مچھا جات سے۔
رج مسلمانوں کے قبر سان میں جائیں فو ہر طرف بلند مزارات' ند عتقیمرات نید والی
مارات او ری شال و خوکت سےکیڑی نظ رآ ی ہیں 'ئھتی چجمروں بر نتش و گا کر نےکو ایت رکبھ
گکیاے 'بلند سے جلنداور عالی شمان من ارات شی کر ن کو م رد ہی عظمت و تفر لی کا معیاربنالیاگ ا ہے
ضس ال ےۓغ 7۲ ۳۱
ترازو رو رس مو ک2ا را تکام رک جن گے ہیں۔ بی ری دتیامس لہ ہو نے
وکھو ںکی تداو میس مزارات 'ا نکی یم عمار یں اور شا ندار سر شگو گنر“ انی گے ہو تق
پھر جو ام را تاور سونے ما دی کے ہنکلہ ج کی بھی صاحب قب رکو ایک لی برابر نا دہ یاٹیانے پر قادر ٰ
یں میا مدان کے ش ر کک بھی علامت ننیس کرای می شاو یکا ار ہو باا ہر رکاداتاوربپار"
سو لناہیں لال شہاز گند رکید رگاہ ہو ما بنٹ شاونٹل با یکاھزار 'اجھی ریس خواجہ مین الد بح چیا بی َ
کی خانقاہ ہو یا پورے بر صخیر کے طول و عرض میں یہ ہوک لاکھو لگمدتال' سبادے' خانقا ہیں
ارات جو دن وثر لعت کے بجاے جم ک وبد ععت اور تخرافات ور صومات کے اڑے بناد لج لئے )+0
کا ان یل ہو نے والے مش کیا نرافعال داعمال کے پاوجود مسلرمان مسلرا نکہلا نے کے تقایل سے ؟ کیا یہ
وی فراص مصر والا رز گل نیل ؟ مہ بات اشت اسلامیہ کے ہر لے مو او علاےد یناور
ما ملین علوم ضر تکیاع تصوص] تقایل غور ہے_ 7۲
چنرعرت ولصاخ
ٴ ْ عد بث ے تو ٹوا تد حاصل ہو ئۓ دہ منلردجہذ یگ ہیں 1
ا۔ یی کے تی کرت ْ
ر2 مر ے ملق رف مار بآ ارام ناک شر مگ
٣ے آدم علیہ السلام کے بیو کو فرشتتوں کے زر یہ علی معلیل دب یگئی_
ات اس طریقہ تن و عٹین کے تام دوصرے ط رلیقو ںکا الد کے مک سے متحرف ہو :اور خلاف
انا نیت وغلاف فطرت ہونا_
۵- صد بیث ے فرشتو ں کاا انی شحل وصورت م ں مل ہون بھی جابت ہو جاے۔ ْ
ھ2 سب ے ہڑائٹا مج حدیے سے عاصمل بواوویہ ےکہاگرانسا نکواپنے اعقارب اور تر < و
رش دارو کی وجہ سے دی ک ےکی معاللہ می پاعک مال یکی تفیل یس رکاوٹ در یش ہو فان قرجی
عم زی ول سے اود الن گیا بات سے اتا بک ناضرورىی ہے جیے ححقرت آدم علیہ السلا مکو یی آیاکہ
زا علیہ السلام فرشختو ںکو دی ھکر آدم سے لپ فکئیں اور چا اہ ہرم علیہ السلام فرشتو ںکو وائییں
ر0 لاتقات سے و حضرت آوم علیہ السلامم نے
ایل فور اڈ فکردو رک دیا کی وکمہ انسالنا کے بیو کیا چجے بی انسالنا کے دن دا یمان کے لے سب سے
بے فقنہ ہہ تے ہیں۔ ای لئے اح لتشاتہ نے تح رآ نکر مم میں ار اد فر مایا ےک :
7
سر رع
یایُھا الین امنُوا إِنٌ مِن أزواجکُم وأولادِكُم عدوَا لکُم فاحْذرُھُم (التامن:۴٠)
اے ایمان والو ہلا شیہ تہارک لن ازوا جاور تار کی لن اولارمیں تہارےل(دی نکی )من ہیں ۔ لیفر ام ان سے
ہو شیارر +و(اورالن کے ایلے اع رپ و ور رت نجوائ کی )
ایک اور مقام پر ار شاد شیا :
”نما أموالْكُم وأولاكگوفتنة (لاتقال)
ے شیک ہار ےاموال اور او لاد ین ہیں۔
مقحید ىہ ےکہ انسالن کے اموال اور از واج واوزادازْساانع کے لئے عھوبا فقتہ کاذرلجہ
ہیں اور بہت ے د بی تق ضوں عم لمرنے مس مانع نے ہیں 'انسان کے اندر کنل اور بزدلی کج
یں لپ یت الام می بدا یرت دی کہ عم کی کیل می اگ دوراوٹ من رہے ہوں و ٰ
انا سے دور رز با جاےۓ اور 2 بی لکیاجائے۔
٣۳٣۳۴
یک بکرم سردرددتا ہزور ود حطرت صا لی الام کا توم کے و شر تق
ہوا ال تتالی نے نک فرایول ادس می کے سب طذاب سے دچا کیا اجب اہول نے ' مار“
یڑ لیا ں کاٹ ڈال ت٠یں۔
ر ول ال کپ دہال پر ینہ دسر قیام سوا نا شی مکی پی تھی ؛ سجرے اور
حول کرامکوصارئغ لہ الام کے وا کے ارے شش تلالد کہ اہ عق کمارےآئی تیاور شاف
وایش لوٹ جائی یا اور مقعردرسول )علیہ السلا مکامہتھاکہ محابہ ہو تہ فریائیں کہ ودایباکوی مل نہ
کسی ججیاصارغ علیہ السا مکی قوم نکیا تا" ض صا کا مل با تھا جو اکے لگ پاصق عذاپ من
گیا؟۔ سطورذ یل یں ای داتع کی ںآ فیلات ز پان نبوت نے بیالن فر بای ہیں۔
قرارۓ: ٰ
روی الامام ا مد ٹی مسندہ عَنْ ابر قال: ( ما مر رَسول اللغ پل بالحجِر
قَال: الا تس لوا الایات وَقَد ا قوم سی نکانئ: ترد بن مٰذا الج
ََصْدُرُ مِنْ ہَذا افج فتوٰا عَنْ أئر رَبْهم فعَقرَوهَا کانت تش ب مَاعِہم یوما
گج ہو
وَمَشربْونَ لھا يوْمَاء عقرُومَا فَأحذتهُمْ ص صحة آعمد تن مَنْ تحت ایم
مہبم إلا رَحُلا وَاچتا کان فی حَر لغ ۶ہل من مو یا رسول اللش ؟
1١ أ۔ھ
َالَ: هُو ابو ال فلمَا خرَجٌ مِنَ ِنْ الْحَرَمٍ کی و کک
تار مث
ہو یہی کی سے 070)
اد یلگ متام تنج رج قو متمودکی 2 میا سے گڈرے زار شاو ۷:
” جزا تکا مطالہہ مم تک راک رو صا علیہ السلام کی وم نے مجر وطل بکیا تھا تذ(لطور سر ۱
جھاو شی ا نکودی یا دہ شاف (اشارہ ف اکر )سے والیں عات می اور اس شاف ے آلی
ق مئمددنے اپنے رب کے مل مکی ناف ما یک اوراو شھ کی ڑکیا ںکاٹ ڈایں 'اور صعمول رہ تال
ایگ روزوواو نان کے کو 0 گیا اوردو سر نے روز ہب تی دانے اسکادودھ تن
کے اض پوکانے الگ رر دک اور جن پر نو نے اس او کی پنیا کاٹ ڈالیش قو اللہ عز سوہ لکی
م۳
0 ٰ
رف سے ایک ز بردست چیا نے ا نکو ا هکر ڈالا اور آسمان کے نے ال نکی تو مکا ہر فرد لاک گیا
سواۓ ایک تخس کے جو مکعبہ یل تھا آپ سے لہ بچھاگ کہ یاد ول اود اد ہکولن سے ؟ قربایاکنہ ال
کانام ور ٴالی ے اور جیسے جیا دہ مم سے با رپا ڑا سے بھی ای عذراب سے ددعار ہو نا باج نے ال
کی توم کو جامی سے دوچار کیا خرس سس رع بوری قوم مھود کو صفہ ۶ رر
بہت ونالور گردیا گیا)۔
کک مال یث:
۱ رواہ احمد فی مسئدم ۲۹۹۶/۳۔ ۱
و ابن کثیر فی البدايه والنہايه وقال : ھٰذا الحدیث علی شرط مسلم (اے )٣۳
وقال الہیٹمی: رواہ البزار والطبرانی فی الأوسط' مجمع الزوائد (۱۹1۸)
اپ
ش مار مث
اس عدیت یش حضور ن یک مس ردردوعالم مگ نے اد کے نی حضرت صا علیہ الا مکی
ٰ قوم ”مور“ پر ہونے وانے عذر اب کے متعلق لن اچم بافیں بین فرمائی ہیں۔
تفریت نا علیہ السلام اور ا نکی قوم تمور من کرم نی مقاءات ہیں اچمالا اور
ہیں تفعیل با نکیاے ج کہ ہمارامو ضوع نضع الید یٹ ہے اپاہم ق رآ نکر مم کے بیا نکر دو تم
سے صرف نظ رکرتے ہو ئۓے بیہاںاااس واقع ہکا نظ رأخلاصہ بیال نکر کے صد بی بالا ٹیش بیالن یئ مین
ام فا کی دضاشت بیالنآہ می گے_
او ھن یکو منتصان بایان کاواقر :
ٰ ش رآل نک میم کے پیا نکردو قص ہکا خلاصہ ہہ ے کہ :
”ارت الترت نے حخرت صاع علیالسلا مکوقوم تمود یشے ”نھادخاشیہ “گج کہا جانا ےکی
رف ممحوۓغ فا تھا ٴتمام انمیا می رح حضرت صا علیہ السلام بھی قو مکی ہرایت اود ایا نکسلئ
د حوتدتے اور یکو میس گے رتے۔ ٰ
ایک باد ا نکی قوم نے الن سے ایک مز طل بکیادہ کہ اے صا رجاگ تم ایک مخت اور
شھ وس نان کے اندر سے ایک حالہ او می پکال کر دکھا نو بھم می ایماان لے آئیں کے اور میں ال کا
یر گے
لعل ان انے اپئی ف رت کامطہ سے حعخرت صا علیہ السلا مکی دعا سے قوم کے سسانے
بی ایک نال سے عالمہ او شی نکال دی۔ اس رای مج زہکا مشاہ ءہکرنے کے پاوجود قوم ایان ننیں
لئ بلہ یہ سے زیاد ہکن ی بجر ن ےگی۔ ٰ
۴۵۵
ری
سقت ال( تھا یکا ضائیل کی ےک ج بکوگی قوم فرما فی مجزوطل بک تی سے ان کے
ٰ کی دعاسے اللد تعاٹی دہ ججزہ عطا فرماد یی ہیں لنکن اس کے باوجود اکر وہ قوم ا یمان نی لا کی تو بچھر ٰ
اس پرعخذ اب نازل ہو نے میس زیاددوت نی ںا ۱
رض تودنے مفزو سے کے باجزد خخرت صا علیہ ملا مکی بگی۔ دولو نی
لہ غیر معمولی طور بر پیراہو گی شی لپنراا کا عم اور قرو تقامت بھی خر مممولی بڑا تھا خہایت ر ۱
تم تی :ور جس جشل می ج تی شی تذوا ں کے جانورڈ رک جٹگل سے بہواگ جات تے۔
قوم ک ےکنوبی پرپای ین آلی تو ساراکنواں خا کرد بت عقوم نے جب دیکھاکہ دوا نک
مارایالی وغی رہ تم رکرد یی سے فا نہوں نے ال کا تصہ ماک رن ےکا تصوبہ بنایا الد تا ہی نے نضرت
صا علیہ الام کے ز وہ انی عم دی کہ اس اد نٹ کو نقصال نہ پچ یائیں بک ا کی ری مکرمیی
لکن ودنہ مان اور )لا تر ورار بن سالف نا ی جس نے ایک روڑا بی او کی نلیا کاٹ ڈا وت
او شی م رگئی۔ اس کے بعداسی بہ نہکیاچگہ خودححخرت صاغ علیہ السلا مکو بھی ق کر ن ےکا منصوب
بنانے گے۔| ۱
لعل جلالہ نے ا کے مخ یں ان پہ ایا جخحت عطر اب نانزل فرمایاکہ ار یگیل ری توم
وروی ے مین کی اور بلاے کی کذیبکرنے' جخزات نی کا افکا رکمرنے اور جج سے
ہک را ا یہ می ہواے۔
ٰ بث مر دس کر یچ سے قرم مود ےکن ریچ نر کائیانالود ای سے
ھن میں 1 حفضرت پچ کے بیا نکر دہ تض کات جو قوم تمودپآنے وانے عز اب سے متفلق مم
زر رکٹ ہیں۔ ۱
عفر میس میں ٦ تحضرت بش کا اگلزر نار مو “سر ہوا نزو تجو کک مر تھا راو یل دبار
مود ج نک ق لی نام تہج ر“ سے رب گر ہوا نے صعاہ کرام و ضموالن اللہ شیہم این نے وہال پٹ اڑالا۔
یح صعابہ نے ال نکنووں سے پانی بھی پیاجن سے قوم تمود کے لوگ تے تاور اس پاٹی سے آ ا
گو نا سال ن ہے جب رسول لہج نے د ھا عم فرایاکہ اتی پنیا اٹ دی او رآ ا
ںو سان می ا فو ریا ا ا ا وی رج
جلدی جلدی وہاں ے پیل جا مم سکیوککہ ہی دو تقام تھا جہاں پہ عذاپ ال :ازل ہواتھااور عذاب"الڑی
ۓفرخبرے از رگ اک رگرناجامیۓ لہ ہیں و یزاب اک بھی ہآ بڑے۔
ٰ چنانیہ عد یت لآ" ےکہ آب جال نے صا گم فاکہ ا ام سے ردتے ہدے
اوراستتفارکرتےگزر سی جم سکی علت جیا بی بیائن فرما یکہ :
ےق رر
حر
“إنّی أخشیٰ أن یَصیبکم ما أصابھم (ہخاری'م)
”ےڑ رے - ہیں 7 می ددی ع اب نآ جاۓ جرانء( ر(توم موی )آیا تھا
خر جب رسول اللہ مل ا سکنیں پر یچ جہاں سے دواد شی والی ؟ تی ھی تو1 ات
صحا کو لا یاکنہ وداوش کہا ںی سے انی ما ؟ اور راس سے اٹ یی مر جا یٰ تھی ؟ اوراس واقعہ کے
اق ینس ضبن میں
ٰ اس سے یہ بات بھی معلوم ہو یکہ آتحضرت پل اہر مضیات می سے اور کاب چ
ران شال بھی تج ےکی وکلہ انسٰی فطرت سےکہ نب دوکسی ال مقام با کہ >ہ ہو جا سے جہاں چجطہ
زہانوں می سکوئی اہم واقعہ یاحادغہ ہواہو جاے نذوواس کے مت جانزاحجابتاے۔ اس کے اندر جس
او رکر بی ہو ٹی ے۔ 7 حضرت کل نے صا ےکی اس فطری وکا خیال فرمایااور ا کیل اس واقتنہ کے
ملق جایک وواو کی 7 و و00
ایک سم اور دای ای ال رکا منصب یی ہو ما ےک دہ ہر ای یب ھکوڈ عون جا سے جوا سکی
دعحوت کے لے فا تو نل زی او خی سے آ1 حضرت عاپنکھ نے سا۔
کی ایک فطرىی جتق کا فیا طکرتے ہو نے ا نپھیں اس واقع کی لتحض باتیں چا گی اور اس مو جکو استتال
گرتے ہو نے چندا؟ جھم ہرلیات گیا شاد فرمادبیی جج نکا یم کے 2ک کر گے۔
ق رآ نکر مم نے یہ بات تتلا گی ہمیکہ اس :ت2 “(ا نی کا تقانل ت وم تمو کا سب سے بد بت
فیس یں چنانرارشادم مایا:
(إإزِائیکث أشفھا٭فقال لهُم رَسُوْل اللَهِناقَةًاللَهەوَ سُفٔیاهاء
فکذبوه فَعَقَرُوھاگ4(الشمس)
جب ام ھکھٹرا ہو االن مش کا بڑابد بت کی رکہاالن 1 2 وا
ا شی اور اس کے پیٹ ےکی باد کی سے ران ہوں نے اسکو تجثلایاادراو عی کے پا لاٹ ڈالے “۔
ا ے معلوم ہوا الہ قوم نمو دا سے بد بت تنس وہ تما نس نے او شی کے پا کاے۔
ایک روایت ٹل لا گیا ےکہ ال کا نام درا بن سالف تھا۔
ایک دوس ری عدیث می آ ٦فضرت کان نے اس تخس کے پارے میں ا شاد فرمایا ے۔
چنا خی یک پا رآ حضرت کل نے حضرت ع جن ای طا لب اور حما جن ار سے فرمااککہ :
نمیں وت زار 00 پھتوں کے پارے میں ت جا ول ؟۱ کول نے خر 1
ٰ کیایار سول ااشد اض رور تما یے۔ شرمایاکہ :ایک و قوم تمودکا وس رخ فنص ناج نے او" ٹی کے پانوں
کاٹ ڈانے تاور دوس وو شش ہوگااے مک جھ تھا یل ضرب للا ےگاجس س ےکہ تہارک
ضس ال ےۓ
ڈاڑ ھی (خ نا سے 7ر) ہو جا ۓےکی۔(مندا. +ر ۴۷۳) ۲
ایک دوس رم حد یٹ ٹل ار شادہ کہ وأ انی تو مکاسردار تھا ایت بی تیر خو خیرٹ
اورمفسد تھا_ (ہفاری وم لم) ُ ٰ
جب اس تی نے او شی کے پا کاٹ ڈانے تذ صاع علیہ العلام نے ان سے ہاکہ اب تم
ال کے خذرا بکاا ظا کر وشن دلن کے بعد تم پہ راب آ نے گا۔ چنا نچ اہول نے ف ماناک :
”تمثْعُوا فی دارِكم ثلاث أام ذالك وعد غیر مکڈوب )4(ءوء۵٦)
" ٹم اپٹے گروں میں ین دلن اتک ڈا مھا گن آر و ایباوءردے جو کھوع ہیں ے“۔
خر نیسرے روز الن چہ عذاب آیااود ایک ز بردست اور ہو لتاک ٹن نے ان کے کیانوں
کے بردے بھاڑد گے اور ووا صرمہ سے مر لئے چنا یہی ری 7 1 مود کی مھ اب ے با اک ہو 2
عرہث پاا مس ر سو ل کر یم الگ نے جنڈا امہ قوم تمو کا ایک سرن ۓ وقت ۴7
کعبہ می تھا دوعذاب سے ستفوظ الین ج ٹھی دہ ر مکعبہ سے باہ رآیا ق اس بھی ای عخذاب سے ۱
دوار ہوناپڑاتھا۔ اس شش کاام ابد ر ال تھا تر مکعبہ چ کیہ ادڈ ع لی لالہ میرحت لکامذ رد وعبط :
ہے اذا اناپ رکا پر عذاب کی تی دجہ کہاگ رکوئی قا تل عر مم پنادنے نے تے کی
یل ففی خی سکیا جا ۓگابکلہ اسے حم سے نب جو کیا جا ےگا ََّف"
ای رح عدث بالا ہش دسول اللہ لگ نے صا کو جات سے مطالبہ سے تح خر
اور بی راہ سکی کب ا جائے قذاس پر عذاب نازل ہو تاے۔ _
2 ت ولصار
۳٣٢ے
عدحہٹِ بالاشل میا نکر دداتعہ سے درخ ذ بل فوائکد جال ہو ٗے .
ا۔ مجحزات کے طل بک کی عما نت
٢ الل کے انفقاماذدراس کے عفراب د چکڑ سے انسا نکوڈر نا چا ےکہ ال لکی پکڑ بہت مخت ے_
ظاِن بطش ربگك لشسدیدہ4(البردن/* ×ا بے شک آپ کےر بک ہز بہت خت ے)۔ ۱
و ال تھی نے ححضرت صا علیہ السلام پکوجولو یبور مج زدد یکئی تی ددابتی غاقت' مم و ققاصت'
صورت اور ارات کے اققنیار سے جم معموںل تھیالوراس کے اندریائی جانے وی ۳۴ صمعمرل تصوصیلع دو سے
فونوں فورو ضطیوں میس یس 'ائی جات گیا برا وور تور ال بات > ولاللت رح الہ وہ زی اور عام
عالات گی پور میں سے لہ تصوصی عالات یں لطور مجر کے اش تعالی نے اسے پیداکیا ے۔
ثصص ار ےۓ رس
- دی سے النامقاات او جگپوں پر چانے ار ا مکی مشردعیت خابت وی ہے چاں اللہ
تال یکا عزاب نازل ہواہو جاکہ عرت و موعنظت حاص٥ لکیا جاۓ “جلاک رسول الہ مھ نے قوم
مود ک ےکنوی پر قیام اور وہاں نی نے وانے واقعہ کے متلق صا کو لا کہ اس سے عبرت
حاصل ہواور نو واستغفا رکی طرف لوچہ ہو۔ ٰ
جناغیہ الشر رٹ العاین نے خود ق رک نک رم میں اس متقصد کے گے لسیروا فی
ٰ اڈ مضہ (زعین س چلو مرو کا مگم ف لیے جا
ظفانظز کَیْفَ کان عاقبةً الکڈ بین4
(جٹاا نے اور گنر ےب کر نے والو کا اضوام د ین )
انان کے مرے ض کے ےتا تما تی شور کی ےورس اورر وہ
ارت کم می مکی مربفت حاص لکرے۔
۸۵- حعریث سے آ تحضرت تل ھکی دق عل مکا گاب بن چتما ےک آپ نے صھا کو بے تلادیاکہ
اون یکس راد سے کاو رم یکاپ ے جا تھی؟اوراس می ںکوئی حر تک بات خی ںکیوکہ ر سول
الد ہک علم د ہی اور دق ال سے اص لکردوہے اور اس میم وخمی بت یکی عطلاہے جس کے علم نے
مارکا اتتات کے ف مو جد یدکااحاط رگ رکھاہےں
آۓ ضر مکع ہکا ہر شس کے لے جا پناہہہونا بھی حعدیث سے خابت ہا سے خواہاس مل پناہ
نے والا لم ہو یا ایل تر مککعبہ می کس یکو سس اي سی
زاب" لی سے مھ تفوباربتاے_
ظاوَمَنْ دَخَله' کان 'امناہچ (ال ۶گران)
و جوا یں دا ہوگیا امن مس ہے۔
چنا تہ ای اک ن کا چیہ وا الہ اور نال چو توم عمودکا فرد تھا م میں ہو نے اوج سے عزاب
سے بییار اور ض م سے نکی برعخراب :ازل ہوگیا۔
الد ای تام مسلمافو ںکوہ رط رع کے عفر اب سے تفوظط فرماے ۔آ مین
کی رع
حالص(
ص٥
عفر را یل لالم اوران ے سم ہنی ۲
اارایمالن اف روز ہیں الع کے فرز مر صا سیہ ؤال اسا یل علیہ الصلواوالسلام دن بنا ہو جانے اپ
یم دالد کے نف قد پر تھے اور باب نے کی ا ہے فی ائیت ار قربالی ویر نے دومشال جاک
ر تید اتک انساخیت ا لک مال می کر نے سے عاجزرے گی۔ ۰
زا شی والدہ خخرت پ|بر؛ٴ سای مغ یں اور جب طول
عر ص کک الناسے اولادنہ ہوک ڑا نوک نے اپئی پان کی ححفرت اب ای موی کرد کی شابید اس کے ذ رجہ اللہ تعالٰ
ادلاد عطافراۓے۔ او رکاحسی تقر سے نے اسیا بان گا کے ذ دہ انساضی تکو اییارو ق ال نات دے ننس یکاہ یکر
عطاکیا ھے بارگاوالھی سے ”زع الر کا قب ملااور یجے صاحب لوک 'فر انمایت نس کا مات 72 ۲
]ا خیاء حرۃ للع لین بر سولہ و انگنام ہدن ےکی سوادت حا صلی ہوئی۔
مس سس روا :شیک
بیان خر مایاے۔ ٰ
نس ایر ہۓ:
روی البخاري ٹی صحیحه: ا ن سعید بن جبیر قال: َال ان شس او تَا
اتد النسَاء المنطق أُُ اِسماعِیل اتعَذّت 9 لتعفی ھا َا عَلٰى 00 ٹم جساء
ضر سے ال مر
ا اسماعیل وجي .- سے یہ رم ذوح
مُْالكَ رع دش ہووت قَام يد اث سی رخ تق
تیگ ۔٭ھ
ہے یت ِسْمَاعِیل فقالتٰ: یا إبْرَاحِيم این تَذحَب نتر کتا ھا اواِي الذِي لیس
خر
1
فی اس ولا شَيٰء؟ فقالت لهُ ذلِك براراء وَحَعَل لا ات إِلَيْھَاء فَعَالَت له: ال
سک ود ٗے- ٭
اي أَمَمَكَ بھّدا ؟ قَال: ۳1 قالتٗ إذن لا يِضیعناء : ٹم رجحعت.
نہیں یں +ھسسی ھا سی
ری ہاو غمر دی ززع جند لیت الہ و پا شی یو کرو
[ابراھیم: ۳۷]. ْ
صص ار ےۓغ ٰ ۰
وَحَعَلتْ اَم اِسمَاعیل تر٘ضیعٌ اِسمّاعِیل وَتَشرَب مِنْ ذَلِكَ المّاع ختی تی إِذا نفد
تا فی السّقَاء عَطشتء وَعَطِش ابتهاء وَحَعلت تَنظر ! موی از فان کن
مات نی تو سی سی س7 نس ار ض یلیھاء
یت" "ےی ۰۸-.
نَا خی انب لو و ص ا جرضتا معوسمت
تا کت سس ٹتی جحاوزتِ ال“ وادی 1 تم لہا ٠ 9 011 00" فنظل تٗ مل
1 ء٤ ۔ سس راو کو مل و وی ےو و
ٰ تری اچدا فلم تر احدا ففعلت اك سبح مراتو.
قال ابْنْ غباس: خال لی پا سر تس
27 اطْرَفت عَلہ 02 .. تفعت ۳ 0ھ ات صه؛ تریڈ کہ کت
ٌ س و سس كَ ت ٤ٌ, ٭ حرھ
تسمعت یْضّاء فقالت: قد اُسمعت إن کان عِندَأك وّثء فإذا شی ؛ بالمَلكُ عند
سح ق۔ سے وا خر ھی ےرم ا پر فر
پمیر یا َال: اد :ور یں سا
دو جو جک ال خر سے
بی
0 اْنْ عبباس: َال پل : یرحم الله أُ اِسمّاعیلء لو ت کت زَمْرَمَ او
لم تفرف مِنَ المَا لکانت رَمَرمُ عَينا مَوینا.
سس ھ
'قال فشربَتٰء ا وَأَرَضَعَت وَلَدمَاء فَقَالَ لھا الْمَلك: لا تخافوا الضَیْعة فان کا
ال تی مَذا لفاحم وو اڈ لق لا ضاطل کان اليْ مُرتهما
اض کر چرم سذ خن تس نل
یلین مِنْ طریق کُذام فَزلُوا و ہی اٹل نک آرازا و دوہ تاراب ِنٌ مذا
لطاور لَیڈُور عَلَى ماب لْعَیدُنا بھٰذا الوَادِي رس وا سوا جریا ا ا رن
اس
فإذا هُمْ ”الما خر ا رك الما اکر دم ِسْمَاعِیل عِند الْمَاء
20 اپ ےر پژہسو سے او موی یں
انی رد رای لی اخیی گرا تع خی بَا کان بھا أمل ات
ِنهمُ قات َتعلم الرییْة مِنهُمٌ وَأََفْسهُمْ وَأَعَحيَهْمْ 08ھ
۱
نمس ار یرۓ
أذرَك زوخوه امرأۃ ینهُم.
ات ام ِسُماعیل فَجاءَ ایم بَهْدمَا تزوج اِسُماعِیل الع رِ ت رکته فلمْ
یجد اسماعیلء سال امْرَأنهُ عَند فقالت: رج تی لناء تُمْ لها عَنْ عَیْيِہم
َحیِهِمُ فقالت: نحْنْ بشر نخْنْ في ضیق وَشِلق فشکت إَيْهٍ قال: فإذا جاء
زَرْحُكِ فاقرئي عَلَیْهِ السلای قولی َء ک". ابو ات يٛاِستاعِيل کا
اس شَیثاء فقَالَ: ھَل کک من أُحَ؟ قالتٗ: نَم ۔ جَاءًنا شیخ غٴ کنا وکذا
سنا عَكء فََحيته وَسَالني: کیٔف عَیْعا؟ فَأَخَيْرَتَهُ آنا فی جھّدِ وَشِد
قالَ: فهَل أَوْصَاغِ بشّئٰء؟ قالت: کے نی ان ار خی معز ون
غَْر عتیة ايك قال: ذاك اي 5 أَرتي ان أَفَارفَكٍ الحَقِي ؛ بأحْلك؛ فَطَلقَفؤ
1
تو
َتزَوَج مِنهُمْ ری
لٹ عَنهْمإَْاحِيم ما شَاء ال تم انامُمْ بعد فلميَحِدهُ ک0
َسَالَھا عَنهُ فقالت: خرج فی لتا. قَال: یف ام وسَألْهَا عَنْ یف
مه فقالت: نحْنْ بخیٔر وَسَعَق یت عَلی الله فقَال: مَا طَعَامُكَمُ َال
اللحم. قالَ: فِمًا شَرَبَک؟ قالت: المَاء. قَالَ: الله بارك لهُمْ فی اللَحْم ۲ المَاء.
قَالَ النبی چہڑ: 7ئ اخب وَلو الوم د عَا لَهُمْ فیے. قَال:
َهُمَا لا بِخلو َلَيْهھمَا أَحَد بقیر مَكَة الا لَمْيُوَافقَاُ قال: فإذا حَاءَ رَوَحَكِ فاترِي
عَلَيْه السلامَ ومریه بے عَمَة ابو فلا حَاءَ ِسْمَاعِیل َال: مل ناكم مِنْ أَحَدٰ؟
قالت: نَم آنانا شَیٔخ حَسَیْ ایق رائۓ عَليْه فسالنی عكٌ کر
یچ ہے ہق ال
تتای : کیٔف عَیْشُتا؟ فَأحيْرَته آنا بخیر.
مو لاوس اس ٭ حت پيم کٌرھ ال مر ا چہ سً ارھ,.۔ ٤ھ
"سس شر ا بات 1+۶۶۶ ك ان لیت
۰ نا شا لہ کم اك إسمَاعیل ری کل لَهُ تحْت
دوَحَة یا مِنْ رَنْزمَ مل راہ قامَ ! لی فَصَنعَا کَمَا يَصَع الوَلِد بالوَلدِ الو
بالَْالِيِ مُمٌ مَالَ: ا إِسْمَاعِیلء اڈ اللق اترّي بر قَالَ: َامشخ تا اترك رك
قال: تس وأَعِينكَ قالَ: اللق أَري ان اَی هَا هَا ہنا بَیتا وَأَشْار لی
مرلفنة عَلی تا وا
۳
تمس ال رے
ٰ َال فَهند ذَلِكَ رَكَعَا القَوَاعِد مِن الب تی تَحمَلَ إشتعیل انی کی
وَإِبراهِیم ىِّي 7 حتی إِذا ارم انام جَاءَ بھّذا الْحَحَر وَسمَۂ لَهُ نَم عَلَبْیٍ
کُر تھی َاِسْمَاعِیلُبَاولَهُ الْحَارَف رَمُمَا یَقولانِ رہتا تَقبٗلْ بنا ىك انت
لس ايم کہ زالبقرۃ: .١۷
قَال فَحت کت ان حّی يَدُورا حَوْلَ ایت وَہُما بقُولان ہل رہنا بل بنا إنْك
انت السّهِيمُ الْعَلِيمٌ 4 (البقرة: ۷.
وت روایة أآخری ٹی الصحیح: عن سوید بن خُبَیْر عَن ابْنِ عبٗاس رَضی الله
تنَا فَالرِلَمًا کان بن رامسم وین اه مَا کان حرج واسماعیل وا
(سماعِیلء وَمَعَهُمْ شنة فِيها مَاىٌ فجعلے أم إسماعیل شرب مِئْ الشنق فیدر
لھا عَلّی صََّْاء خی قَيم مک فَوَضعھا تحت دَوْحَة تم رَحَع رس لی
أَمْله فا ا ِسمَاعِيلء تی لمًا بلغوا کداء نان مِنْ وَرَائه: یا إِبرَاحِیم لی
مَنْ ٹر کنا؟ قَالل: لی اللة. قَالے: رَضِيتٌ بالله.
قَالَ: َحَمَتء فَحَعلتٰ نترب ىن الشّق وََيِر لھا عَلّى صَِمَاء خی لم
یی المَاءٍُِ قالے؛ لٴ نت فنظرتء لعل ای أَحَذا. قَال: منج فصعدّت
العّفاء فتظرّتٰ وَنظرّتٔ َل تَحِسٌ أَخَدا؟ فَلمْ جس أَخٰداء فَلمَا بت الْوَادِيٰ
سعت؛ ران المروة ففعلتٗ ذلك أَشْوَاطا نے قالت: لرْ ذِمیۓ فتظ رت مَا
سے ضس
فعّل؟ تعِْي لصبیٰء فذخبتء فنظرتء فاذا هُو علی حاإِ كأنه ینغ لوت قَلَم
تقِرَّا نفسُھَاء فقَالت: لو ذحَبْتُ فتظرتء لَعَلي اجس أَحَداء مَنْمے فَصَمدّت
الصفاء فنظرت ونظرتء فَلَمْ 7 نجس أَخَدَاء ختی أَنمّتٗ سَبْقَاء تم فَالَتٌ: لو ذھبۓ
فنظرت ما فَعَلء فإذا جي بصوتوء فقالتُ: اٹ إث کان نل عیرُ فَاذا حبریل.
قَال: فقال بعَقِيهِ ُکذاء وَغَمَرَ عَقِية عَلَی الأَرٴضء قال: فا نی الكَا2 فدھحشت ا
اِمْمّاعِیل, فَحَعَلتُ تَحْیرٌ
قَال: فقال آبو القام و: َو ت ركتهُ کان المَاءُ ا٥ء قَل: فجعلتٰ تشر
ے لے
ِنْ الْمَاءِ وَیَدِر لَبٹھَا عَلَی صِيّھَا.
٥ رر ج8
قَالَ: مر ناس مِنْ جُرْهُمَ بطن الوَادِيء فإٰذا هُمْ بطیْر خا أنکرُوا ذَاكَ
وقالوا: ما یکوںُ الع لا عَلَی ماب قَیعوا َسُولهمٍ ۷ھ فإذا مُمْ بالمَاءِ
نهُمُ فأَعبرَمُمْ تا ِلِيْهَاء فقالوا: ؛ یا مم إسماعیل: أَنَاذنین لیا ان : معكِ
صصس ار رۓ ۱ ۱ سے ۱ 8ز
بس بت سد رو
قَال: ؛ إِنهُ بُٰدا إابرامِیم نقالَ لأمْله: وی تر کی۔ قَالَ: اہ نمو
فقَال: أَيَْ ۷ ممَاعیل؟ فقالتِ امْرآن: دع تشتت قال: قولی لہ اذا حَاء: غیر عَتبَة عتبة
وو قال. آنت ذاك وب پ2 7
7 ساعِل 87 2.20 07.- یصيد ری 5 7 وو
فقال: وم طَعَامُكمُ وما شَرَْكُم؟ قالۓ: طْعَامُنا ا للخ وشرابتا الْمَابٔ قال؛:
الله بَارِك لَهُمْ في طَعَايِهمَ وَشَرَِيهِمٔ قالَ: فقَال اَبُو القاسے و ات 0
8-0 تم ٰ
عو یزرد وو و بل تک و ا سال كت اتربی انا
انی لهُ بَیْمَاء قَالَ: أَطِعْ رَہِكَء قال: إِنه قد أمََيي ان تَيينتي عَلی قَال: ِذث أَنعَلٍَ
ا کمَا قال.
قالَ: ََماء فَحَعَل ِْرَاهِيمُ تی وَإِسمَاعِیلْ ناو الحخارہ فو لات: --
نی ل بنا إك انت السیيع الیم پچ ( البقرۃ: 0۷7
ترمالیر یش ٰ
ام نے اپ کش رت سی خی سے کیا کہ ارت ای ما -
زئ الرعتے نے فرمایا:
سب سے چلیل بس خافو نان ےک رکا یڈکارتایا دا حسسل کدل0(ا2) میں نہوں نے ہہ پا اس
لے بنایا جاک دہ اپنے فک موںل کے نشانا کو عحخرت سارہ کے لے مٹادے۔ پھر اہر ائیم علیہ السلام
ایل اورالن کے ٹج اسما حی لکوج بک ددا چیا حالمتبر ضاععت مل تھے لن ےکر ببیت الد کے چوار ٹیل
آگے(اں وت مت الد تفہ ری شحل یں یں تھا اور الن دوفو ںکو یہ حرام میس موجودوز زم
2 کو 91 کے او بر ایک سا عیالنائیل ھوڑرا الہ ںا لات کوٹ ڈی 2 تھانہ یا یکاوجود۔دونوں ۱
کووہال چھوڑا ان کے خر یب اگک میا یٹس میں چنر رورس گن را ماپ یکا ایک می بھی رک دیا
اور خودالیج قر موں وائیل چے گے پاجر؟ الع کے پے یچ ےکئیں او راک : اے اب رای میں ای
(بے آب گیا داد سی یش چو ڑک ہکہاں جار سے ہیں جہاں نہکوگی ا نسان سے شب یکو کی دوس ری چز؟
سو ہو
ابر اھ کی رف ےکوی جو اب نہ طادہبار بار کی تیر ہں۔ادھر ابرائم علیہ السلام نے ا نکی اب
ذرا بھی نو جہنہ فرمائی۔ خر اض ول نے بے جاک کیا آ پکوا تا لی نے مہ عم فر مایا سے ؟1برا ان ےکھا
اں! تر حضرت پجر نے (اییان و لقن سے سر شار یجے ٴش) فرمایاکہ :جب تو وہ جہیں ضائح نہیں
021,) ا
ُدھرابرائیم علیہ السلام کے ر ہے بیہال اک ککہ جب ا لگھائی پہ سے جہاں ے ا یں دیکھا
ٰ جا ا ارت الک طر کیاو اکر نات ے دعافرلی:
فربنا إِنّی اکن مِن دی بواد غَمْرِ ذِئئ ددع عِند مَلْتِكَ الْمْحَیٔم _
رَبْنالِیْقیمواالصّلواة فَاجُعَل أَفَثدة من الناس تھوی إِلَيھم وارْزْقهٔم من
القَمرات لحَلَهُم یشُکرُون ہُ4زاہر اہیم/۳۷)
مغناے مہرے رب !یل نے اپئی تو لا دکواسل بے آب دگمیادوادی ئل تی رے نز مگھم کے جوار میس آبا کیا
ہے۔اے میہرمے و ب !کہ مہ نماز مقائ مک یں نال لکول یل سے بہت سوں کے د لکرد ےکہ ووا نکی
رف انل ہوںاورا یں پل میدوں سے رزق دے شاید وہ شگ رر“
وھ اسا سیل کی والد اساحی للکودودھ مال ی میں اوراس متیزہ یس سے یا یی 7 و
تی تیں یہاں مج کک مکی اسب انی شت ہ گیا تو تد بھی پیاسی در وگکی اور بنا بھی پیاساد ہگیا۔
ے ٹین ومحمطرب ہو 7 توم اس عحی لی طر: کر۔ نیس( جو پان سے پلک راا) کی کہ ان ےہ
منظر در یگھا: نگ یاواسص کی طرف دن ہکا اگواری سے دیے کے لے وا سے تل بی انت
وارل ے قرب ترین پباڑ ص ناک تھا ا ال پ کی ہو کی بر واد کی رف در حكکر کے وین
گی کہ شای درک یکو دک لیس "یا نکو تی رد آیا۔ چر صفاسے نج اتآ ۱ گی اور جب وادی میں بین یں تو
انی اد رکا اکونہ او اکیااور ایک انسال نکی بئی بساط ہو سک سے 1 یی اود وا یسک وخ رر ہے
مردوپباڑء کی اورائس یہ جاکیڑیی ہو گی اورادع ُدھ دنہ گنی کہ شاب کول 73223 جاۓے۔وہال
بھی وگ ین دکھائ ی دا سمات ٣77ا کیطر عکیا۔
کن عبا ا فرماتے ہی ںک نی پگ نے فخرمایاکہ :
ادج سے مفادم رد کے اشنلوگوں کے لے یش دک گی“
مرح ووٹر وہ چڑھمیں و ایک آوازانپوں نے سکیٹ دکہا: خماصوش یم راد اینے ا بک کہنا
تھا۔ بر دہ دبا کان لگ اکر سن ےک یکو ش شکی نوک گیں:) 0
ے رد یھ نذ ایک فرش زم مکی مہ پر موجود ہے اود ا نے اپ ف مو یا ا ہے چروں ےکھووع
شمرو کیا یہا لک ککہ یا نل آیا۔ ححضرت حاجر؟اس ما یکو جو کی شحل میں مفوب کر نے گی اور
ہے بعنپ عیائ فمات ہی کہ نی پچ نے ارشاد ف اللہ تھائی اخ ساعیل پر رم ف ےگ رو
72 مل کی سورد ہیں اف بای اسے مفو :کر یں قوز مز مک چشمہ جا کید کی شکل میس بہتار تاد
خر حفرت اج مانے زع مکاپانی بیاادداپنے پچ ہکددددھ پلا لی ر خی ف رشن نے الن ےکم
کہ :اپنے ضائ ہو نے( ہلا اگ ہو نے کا خوف مت کر واس لئے کہ بےہاا بر ال کاگھریسے نے لڑکااور
وم رکمرریی کے اور اتا لی ال کے رن والو لکو ضائح نیں فرماتے۔ اس زمانہ
میں بیت الد زشن سے او مھائی بہ کی مامند داٹح تھا نکی ھجک سلاب آیاکمرتے تے اور بت اللہ 2
دائیں با یں حص کی عمار تکو نقصان بات تے_
ای راد نگذرتے رہے جیابکہ ایک باددہال سے قیلہ ج عم کے چند اوک یاج رہم 2و
گحھردالوں یل ے 9 لو ُ ور 2 گراء کے راستہ سے آرے ھے وہ لہ کے ×- و فروشش
بوئے دا اہول نے دیچھاکمہ ایک پر ندہ منڈلار اہ ےگوہ کینے مگ ےکہ ہہ پہ خدوت بای کے وی منڈڑ لا ٰ
ہے جج بک الال ودادی ٹن کہیں ال یں ے۔ اض بولیانے ایک دو آدمیو ںکو کے و ےکر ٰ
پیا کہ بای 1 طض 7 7ر )دہ گے اور گے اہ پای(زز م) سے دو دای لوئٌے اور | کی پتلایاکہ یا
ہے دہ سب کے سب پالی کے پا آھھے۔اس وت ائم سا تی انی کے یا می تھیں. قوان لوکوں نے
مال کیا آپ می اپنے قرحب فر دک ہو ن ےکا جات دب یںا؟ ان وکا ئ غےکہاہاں۔ میک ے
لن باب تہاراکوئی نیس ہوگا۔ دہ کن گے تھی ے۔ ۱
این عحمائی شرماتے ہی کہ یی لگ نے فرمایاکہ :ام اس گا لکواا نکی وجہ سے الس ہوا اور وہ
ا ۰- کی یں( سلۓ ان لوگوں کو ابزت ریا ۱
رئئ ج جم کے لوگ وہیں فررکش ہو گے اورانوں نے ای ےگھ روالو ںکو بھی پا یا وہ
بھی دہاش فرد لع ہو گئے۔ یبال کک کہ دبا الن کے ئیکھرانے ہ وگ ئے اور اس 2 یھی جوالی گی مم کو
یئ اور ا ہو نے و مم سے 7 1 بھی سیک اور جب جوائن ہو ئۓ ۲ مم یل کے لو ںی
سب سے (یادہ ٹیل اور با وقعت تھے نہ دہ بالغ ہو گے اور شعودکی ع رکو ہچ سے قو و جم نے
ای ایک عودت سے الن کی شادییکرری۔ ٰ ٰ ٰ ۱
ای دوران ۱۱سا مل رر ت بات ز١) ھی انال ف مگئیں ؛ حر ت اسا می لی اد ی سے
حر یھ ت ابر ا 2 علے | نل 1 بھی دہاںل آائئ جا انروگھیں الہ بھی اور یہ ( تھے دہ ےار وید دگار ور
گے تھے بھاکیاحال ہے ؟ جب دہ کے قذاس یل علیہ السلا مکونلیا۔ آپ انے ا نکی ڈوجہ سے سوال
ضسر _. 870 9-ۃ
کیا تق وہ کن ےگ یک ہے ل ےھ رز قکی حوش میں ے یں نہد رہیر
سےا نکیز مرگ اور عالات کے متحلق درافن کیا ذو کین لگییں :چم یھبت مکی حاالت میس ہیں ہیں وی
ھی اور 22 6و اوران خوب عالا تکا لو مکرا_
ابائیم علیہ السلام نے فرمایاککہ :جب تمہارے شوہ رآ جایں تقذانع سے مہ راسلا مکہنااو رکہنا
کہ دوا ہے در واز گی چ کیٹ 7 27 ل ار سس
جب حفرت اسا یل وائیں ہے نوا کی ماحول ہہ مان وس انوس سالگا۔ اغو نے بے ہچھاکہ
کیا تمہارے یا ںکوگی 7 تھا؟ و کن گی کہ ہاں اس اس طرم کے ایک جآ ے انہوں نے
تہارے متعلق بد سا ق میں نے انیس جلادیا یں ری رر ےس ٰ
ری ۔ے؟ تو ٹیس نے ا یں ناد یاکہ ہم مشقت اور حد“ ت مل یں 'اساعیل نے کہ ماک پک رکیادہ نے
ہک رم جس ہک گی کہ اں /ٴانپوں نے بج عم دیا ےکہ آ پکوسلا مکہوں اور کہ د کے تے
کہ :اہین ددواز وی چوھٹ یں تب لک یل اسا می نے جواب دیاکہ وہ میہرے واللد تے اور انہول نے
بے تم سے ملح کی اخقیا کر ن ےکا عم زیاہے۔ تما ےگھردالوں سے جاعل “خر ا میں طلاق در ےکم ۱
ای فییل ہکی ایک دوس ری اون سے شاد یکر ی۔
ححقرت ابرائیم علیہ السلام الد کے عم سے جیبتک الس نے جار کے رہے۔ بچھر یھ حر صہ
بعد دوپارو اس صیل علیہ السلام کے ال آے نوا کیں پھر موجو دہ ایا دہ الگی اپلیے کے اس سے اور ان
ے اس عیلئ کے متحلق سوا لکیا ا نہوں ن ےکہاکہ دہ ہمارے لئے ور یق کی معلائش شش گے ہیں پر
برا نے الع سے و کہ مل کو ںکاکیاحالی ہے ؟ اور ا نکی ز نکی اور حالات کے مت دریافت
کیا ورک گی ں کہ ہم بت ایجھے عال ٹس ہیں وب ذراوالی ے اور ال" کی تی کی۔ابرائٹ ے
ما تمہ راکھا کیا ے ؟ کن کی ںکہگوشت ہے چھاک ہتہار امش رو بکیاے ؟ کین گیا پای ابر اٹم
۱ نےےدعا رما کہ اےالل راک رق لاہ کت عطاش رما ٰ
می کچل فرراتے ہی ںکہ :اس انل کے گمردالوں کے پاس اس وقت ذرا جج یگندم اور خلت
وغیبرہ نہیں تھا ۔اگمر ہو جا تو ابراڈین ماس کے لئے بھی د ع ار تے۔
رابرائیم نے الن س ےکہاکہ :جب تہارے شوہ رآ جائیں تال سے سلا مکہناا ودرا نیس عم
دیناکہ این در وازہکی چ ول ٹکو بر قرار میں
ا تحریف لاۓے نوپہ اک ہکیاکوٹ آیا تھا ؟ کے لاس پیا ہمارے یا
اک بہت اکبھی حالت و صورت دا نے جآ تھے اور ال نکی خوب تع لی فکی۔ اضہو نے جھ سے
آپ کے متحلق دریاف کیا قش نے انی لا دیا۔ برا نہوانے ہھ سے و چاکہ ہار یز ندگ کیی
)۱
سال لت سَِسىسصصَِ سج سسیٌیساًژس سے ۓ۲
گند درہی ہے ؟ نیس نے ا یں لا یاکہ بہت ا ھی اسما لی نے النا سے لو اک ہکیادہ ربج ھک ہک رگئے
ہیں؟ ان ون ےکہاکہ : لن دہ آ پکو سلا مکہہ گے ہیں اور آ چو حم دیا ےکہ آپ اپ ددوازہکی
تن از زج انم نے خر ما اکہ : دہ مییرے والد تھے اورجچ وھٹ سے راد تم ہو انمہوں نے
کے مھ دیا ےکیہکیس اپے یس روک رکھوں۔
اس کے بعد ححفرت ابر ائنم یھ عر صہ ھی شہرے در ہے اش تھی نے ج بکک جا پاچ راس
کے بعد تشریف لاۓ فودیکھاکہ ححقرت اس می زم کے قرب ایک سائحپان ٹیل تی رکالن ٹیک
گررے ہیں جب اس یل نے یں دیکھا و ۶ ے ہو لئ اور دوفو نے ایک دومر ےکیسا تک وی
سلو فکیاج ایک باپ اپینے بن کیسا قعد اور بٹاا نے باپ کے سا تجح ھک تا ہے۔ بجر بر ائیشم نے فمرمایا:
اے اسا یل !الد نا ی نے بے ایک عم رمایاے۔ سعادت مند جج نے جقواب دی اکٹ
آپ 2 - نے جھ عم دا ا ےک رگد ئے۔ چو چھاکہ تم می رک اعان کرو کے ؟کراکمہ یش آ پکی
مر اورامات کرو نگا_ رما الہ : سے اد عزتو بل نے ۶م ثرمایاے کہ دہالں پر ایک 1م تر کمروں اور
ابر ائق نے پا تھ سے زم کے اروگ رد ایک بلند شل ہکی طرف اشاد:فرمایا۔ ٰ
تمور پ پٹ نے ار تاد شرماکہ : پر ال لہ کے مقام پر ہی ان دونوںل تحضرات نے بت اللہ 1
نیادیں انٹھائیں اسان پھر نےکر آے اور آبراگیم علیہ السلا مکی تقبر فرماتے بیہا یت ککہ جب
عمارت بلناد ہو 07 :- 2- (تے ”تام ابرائیم “کہا جاجا سے اور نصے خ را نکر بی الہ رت الع این نے اپتی نشانی قرار دیڑاے)
لائے اور اسے رکھ دیا “خر ت ابر اگیم اس ب ہکھٹڑے ہوک مفبر فرماتے رسے۔اور حضرت اسما گل پھر
انا اٹ اکر | یں دتج رے اوردونوں محضراتے رما 7 از رے 17 ننناے جمارے برودردگار! ہجار کال
مد ص تک ہار کی طرف سے قبول فرما گے بلاشہ آپ بہت ضنے دان اور جات وانے ہیں“ (البق ہر ے )٣١
رض دونوں ا سکی عفیرمیس گے رہے ہا یک کک دوتوں ببیت انڈد کےگمردکھو ےر سے
۱ (لعیبر کے سا تھ سا تھ )اود( عفر سے قراخت پر بی دعاماگ کہ ): ٰ
اے ہمارے برورد قاراہما ری طر ف ے(ائں خر مت و( ثول رما یج با ہہ آپ بہت
نے دانے اور جا ۓۓ وا لیے ہیں “_(ابتردرے )٣٢
تخریج الحدیث:
رواہ البخاری فی صحیحہ۔ کتاب الأنبیاء _۳۹۹۸۲)
رر اریے
جیاکہ 7ر جم ظاہر ےک ہ عدسث پالا میں 1 تحضرت گان نے ححضرت بات رم اور تحضرت
اسماعیل علیہ السلا مکا واققعہ بیالن فر مایا ہے۔ ادف لکل ہعھرمہ میں سب سے لے سکوعت انتا رکم نے
ص ار یۓ ۱ +.۔_. ۲۸
وانے اوراسے آپادکر نے والے بی دوفول مال ٹج تے اور کیک اس مقام پر ا نککا ڑا ہو ”کہ ز٣ نکا
وہ تصصہ روۓ ز می نکیا سب سے ہرس مقام مار بایا۔ وہ مقا مکہ چہاں جبیت افھرام سے جم کا طواف ْ
روۓ زین پر مین وانے مسلمائن جا قیام کرت ہیں گے اور جھ بل ہگگاد حا لم ہے ' ہا ںا سب سے
لہ ساسا یل علیہ السلام پہ وی نل ہوک اور سب سے پت میں سیر حضرت جم الر سول ان
مب نازل ہوئی ۔چہالں ار ت کیاکی تیعم نتاتیال' مقام ارام گج راسوو" زمزم فا و
شعاتراسلام موجور ہیں
حقرت ابر ایم گیل اللہ علیہ السلام' اللہ تما یٰ کے بے عد برگزیدہ ہق اور وع جضٹی سر
قائم تے ا نکی دو بیویاں مھیں_ حقرت سار ہ'جن سے حفرت اسحاقی علیہ السلام پیرا ہو ے او ریہ کک
ام میں 1اد یں اور ححضرت اساقع نے فلسی نکی سرز مین بر اش رکا گر بنایا سے لق رس“ اور
”اص کے نام سےد خیاجانقی ہے۔اور جے قبلزافول ہو ن ےکا شرف حاصل سے ٠ج جار و اتا کا
مولد وممکن اور ع رکز بی اور نک ماحو لکور تک تانے باب ھت بتادیا بارکنا خولە ۔
دوس بی حضرت پان سے حضرت اسماعیل علیہ السلام ہو ۓ 'اوراکیں رت اب اتی
علیہ السلام نے اللہ تال کے عم سے شام سے لاکر ادخ مقلدرس مر ممکمہ یں اس وقت آبا کیب
۱ بانؤززک گنت ھ ل٤ل عاات دش بر نکی یکھراان 'تہیای کوک انان“ ں ْ
ایک بے آب وگیاہ سنکلاغ چنانوں مشکتمل پچھولی سی وا دی میس ا نیس لا بہاا۔
حخفرتابرائیم علیہ السلا مکو ڑا بے می ایر تزاٹی نے حضرت 1سا کیل علیہ امسلا مکی شحل
ٹس فرز ند عطاکیاتھا جن سکی ہنا بر ححضرت سار پاجو اباب کی گی زوجہ یں الن کے دل میں خیال پیا
+واکہ اب مج پکی قر رو قبت نخرت ابرائین کے دل بی بڑھ جات ۓگ اور ححقرت باج رڈ کے دل میں
بھی بی خیال ہو اک ہککہیں ححقرت سار نکی حانب سے ا ویش باان کے نو مولوداسا گی لک وکو گی نتصالن نہ
ٗ ییجے۔ چنا نیہ جب ححفرت ہار ض فلسٹین ہ ےہ ہکی طرف روانہ ہو گی فو ای یکم ریہ الا گا با ند لیا
جو ینجے زین تک لکتا ھا اور وجہ ا سکی مہ تع کہ دہکیٹراز ین ب رکھٹخما جات گا جن سک وجہ سے الن کے
فر موں کے نقانات مٹ جاعیں گے اور سار ہکوہ غییں معلوم ہہو اہ باج کہا گئی ہیں ؟
اھر جن تواٹی نے حرت ابر می کو حم رما کہ باجر٤اور ان کے و مولوداس حم لکو ببیت
نی سے متام پر بھوڑ آئیں زیت اللہ اس وت کک مقر نی ہوا تھا یکن اس کا مقام مین تھا
کی وجلہ ا سکی ساوقہ نی رطو فان نوم می بہ ہکر تخم ہوگئی تھی )۔
رض فلستین سے ببیت ال دک د+دبے آب دگیادوادی ات صافت بش یکہ بغیرجان جکھوں
ہیں الو اں ینا بھی مشک٘ل تج
ضس ایر رۓ ××-ص-س سس٣ ے٠ سےسجست ۴۹
ا سی ارام علیہ اصوٍو الا مکی کڑی اور خت' رئش تقو یئاک اک 7
بڑخاہ ےکی اد ماد جھ بی دعاول اور مرادول کے بعد ابد نے عطافظ مکی نچ ر عم پور با ےکلہ اس یىی
ور سولود گر ےگگڑ ےکر ایک یہ ہد پل نہکھانے ناد رویز نکیل
اما نا شہ آدم ےتآ دم زاد یھو ڑک رآ جا ئے_ ۲
گر اہ مل شانہکی عکمت الہ اود در تکالہ کاکوئی اعاط نی کرس وہ تین ای مقام
سے ججہالی سے انسا کو سب سے زیادہ خطرہ ہو جا ہے جفاظت کے اسباب مم اککرد یا ے۔ وہ فمر عون
ئ سب سے بڑے مخالف( موی علیہ السلام کو فمر عون بی کے ز قہ برای کے ےی تک
اسباب مم اکر تا سے اتکی ککو ٹیل لی کے لن گلزار ہناد اے جوانسا نکو لہ بر میں جلاک مر
کھردے مہ سب ا لک فددت کے او یکر شے ہیں ہہ ظاہر ایک اعم میں انما نکو مشتقت' خخالشت '
نتصاان اور خطرہ نظ رآ۲ ے ان اس کے اندر در یقت مالک تی نے بہت کی خر اور ج کسی و
1 ھنتیں نار ھی ہوتی ہیں کی کاار خمادے :
عَسی ان ان تکرَھُوا شتیئاً و ھُو خیرٌ لم و عسٰی
آن تحبُوا شنیثا وٌّھو شر کم الآیة (القر:۸/٢۲۱)
یر میک ہچ کون پند کرداورڈلپاگ ید :ال تر ہواورہے بی مین ےک ء1
ایک کو پن دکرداوردہ تہارے لے متصالن دواور شر ہو اور اللہ جانناے تم نٹیں جاجے“۔
چناخھہ خفبل لی اس آزمائش می جو ناج جلاکت خسان ادرص اسر مار ہک بات شی
فی رمتیں اور کی انماشیت کے لئ پ شیدہ خمیں' ۱ آآ نع یی کی کی نو انمسمالن پر ظاہر سے بلکہ سمار یی
امت ا آآز مائٹش سے مہ یں لے والی ر تقو اور ب کول سے استتفاد ہکر در بی ے_
ز اللہ (اسا یلاک اس ے آب وگیاددادی میں نو ماے انانب تکو رویۓ ز می نک
سب سے م عفد سس خر لد اشن عطاکیا۔ و شر عطاکیاکہ ج کی رت الین نے مم کھالی کس مس
رب زوا لال کی تحبکیات دانوارا ت کا م کرو ممیت الندے اس
دیا ہے جمروں میں صا و و
مم ٛ٠س کے پاساں میں وہ یانہاں مار
وہ پر خطاکیا ہار دز شلن پہ سب سے زیادہ عبات طاعات رات اور نا کاو ور 7
ہو تا سے سے اس الاکن نے کفرکفاراور مشر کین کے پک وجدد سے اک رکھاہے۔اللہ تال
پھیضیاکرے۔
اوت زی نے مرنے ضا عرش ینوک
فی اور ریغ
تس نے تم کی" سرن انماحیت رکا نات بی ای ذداور تی دا دا یکا ٣ولر ومُْشاء بنا_
صلی اللَەعلیٰ رسولە وآله وسلم سلاماً تسلیماً کثیراً۔
بلاشیہ الناسب خیرات د برکات اور نا ت کا ذرابجہ ان نے شیل او وڈ پع ارڈ علییاااصا ا
والسلام ٣ لو زایا" اور ال کے ذرلجہ سے ان 2 7۸+0۶9 کر کو امم ڈ مر ۔ ذالك فضل الله
یؤتیه من بشاء۔ بی رحب جن مرا سے جا باطا۔
سی نا1 رئیم ۹۰ہ" روٹم ہواؤں “نو تصورت باخیات ' یت ہو ہے
0 لم ا ا مرا
یسیک درخت کے سامہ میس لا ہٹھا یا میلوں کک انسای زندگی کا کوگی نام ونشان؛ کک نہ تھا
اور ٹور أومال سے الگ وہ موں جلد ئے ےن ہگھربتایا نہ تیعم لگا اش د لوا رٹک یکین ہکھائے پٹ ےکا سا مات
مہ اکا انہ جنگ جاندرول سے فا تکابند داس تکیادر تل د ہے عکم ابی کے آ کے سر تسلی مم
سی و ہا ہج کی بی دامی اور ہے بی و لا ار یکا نمور یچ کہ ا شی یلہد مرالن میابان آدم تہ آدم
زا مال ینہ رکھان گھرتہ خیمہ 'انسالن تہ انور ایل میں مو مود ججک رکا گر کےا یں کات ہے
مضبویطا آسر اشوہ ر چو ڑکر جارہاے ' کہ نیس جار پا نہ ص٦ نہ دلاے 'سہ ہے بین و خطرب
یچ کے لی ہیں بی چھنی ہیں ؟ یی ںکہاں جچھوڑکر جاد ہے ہیں ؟ٴس کے مہارے مو ڑکر جار سے
ہیں مر وبال سے نا موی کے سواہیجھ یں بار ار نے جین امیس سوا يک ہی ہیں تنک اکر
و ھی ہ سک ہکیاالڈہ موم مس ؟ جواب آ ایا۔ مال باتر نے ایمالن و لقن سے
رما ریہ میں ایک جارس بی لہ ارشاد ظ مایا: ادن ِغضۂپغنا۔ا کے عم سے مو کر جارس ہیں
ی7 کی یح تم زیر یئ الام ےسعکم بی کے ساۓ بیضہ حر تم رہن اور ابراممم
شلیل نے می یک کے دکھ لاگ سمادی زندگی بی سے عبارت شی اور ق ہکن نے ا سک یاگوانی دگی-
إذ قال له' رَیْه' أسلہ قال اأسلمت لرّبُ العامین-(ا/ۃر:۳)
بپکہاایر ائ مکوا کے رب ن ےگ تعحم برا یکر کباکہ شیں رت اتا ین کے عم کے سیا نے سم وا ون
خرس ابرائیم کے اس جواب سے پاجر کو سکولن ہو اور لن کے ول کو ٹنرک تئ گئ یکر
سب پکجھ عم ابی کے تحت ور ہاہے۔
ُدھ ابر ا وائیں جارے تے' وی اور فو مواود فر من رکی فطری حبت بر عم اٹپ یکو تج
دتۓ ہوے وائچ یکی راداخا کی یکن نطری ویر ریا مت کے جزمات تی انمذردے ھے 2ے
کت جب وادیی کے اس مقام یہ یئ ججہاں لہ تاور دوسا ج کی نظرروںل سے او مل ہو گے : قذاب شلہ >
تڑ ھکر ببیت القیقی ل(کع ہہ )کی طرف ری کر کے دولوں پا تر سا نکی طرف بلند سے اور اہے
ضس الرےۓغ پچ تپ تت تتگلچچجوبتتتواسسٹشست ۵۱
روررگازے نہ جانے مس جب کے عا کم یں دعاکی:
ٰ ربَنَا إِنَی اُسکنتٗ من ڈریّتی بواد غیر ڈذی زرع عند بيتك المُحرّم
ربِنا لِیْقيمُوا الصتّلواةً فاجُعل أَفبِدةٗ مٗن التّاس تھوی إِلَيهم
وَاررُفَهُم من القمراتِ لَعلَھُم يشْکرُون۔(ابراھیم۲۷۸)
غ”اے جہارے رب! یس نے اپٹی اولا دک ایک بے آب وگیاہ وادئی یں تیرے تر مگ م کے
قرب آبادکیاے'اے مہرے رب !]کہ ىہ نماز تق مک میں لیں آبپ لوکوں میں یئ ےکو لوب ۱
ا نکی طرف ات لکردچچے اود ا نکو( تعن ١نی قررت سے )کھانے کے لی کیل دی سک ہے
لوگ ان نت ں کا شر او اکر یں“
نات رٹ ریم نے شی اللہ علیہ العلا مکی دعاکو قبول فرماا اور ال نکی امیر پر آَلی' 1
ا ایل" (ہاجر٥) یھ دن بک تو ای مکی کال استعال پک گار ہیں چو ابر یم علیہ السلام چھو ڑگ تھے
ا زس روز تو مولوداسا گی لکوانادودتہ یلا لی ر ہیں لکن وہ
صعمولی سا مکی رداور ھوڑبی کاچ رک بکک سا تح دب بہت جلد شت اوہ جرۂبلوی اتا
4 راس مرانہ شی انی کی ھک پیامس نما ار مال بر داشت 22 یکن ا نو مولو کو پھ وک
اس سے لن نج کسے دک تی تھی جونہ مال لکیاشدتز بالنے بیا نکر سکناتھانہ بھ و کک کلفت '
تیاکہ دہ پیاس سے لب دم گیا اور ما لکو ا لکی طرف دی کا بھی یارانہ ربا نہ تی ا لکی نیف د
کلف تکومڑانے اوردو کر ن کوک ذروعہ مس ر7ج نظ رآر باتھا۔
اما لکی بے بی کاکیاعا لم ہوگاکہ و مرانہاور بیاپان ٹل ا نو مولود تب تج رک کوک پیاس
کی کلفت سے نو تاد کے ؟ اقطرار بی کیفیت یس ححضرت پارڈ صا پہاڑ جھ الن کے آ اس اس سب سے
ریب پان جن تی ئن ےش کن جا دنت دو زج نظر می ے نظ رٹ جا ۓ کوٹی نب وکا
بھلکا مسافر نظ رآ جاۓے یس کے با سح ےکوئی پھوک یا پیا ںکومٹانے کے لے پھھ کنل کوئی
زم دک یکو ہاتی رک والی ھز ریا سار تر کردورکک نظردوڑائی ہکوئی نظ رآیانہ ز ندگ یک
٦ سا سکو بر قرار رسک ےہاک کی ذد یہ 'دورکک ددی بھ ینک سناٹا تھا۔ دہال سے ہے بی کے الم یس ات یی
اور ال دو سر ے پہاڑ گی طرف موجہ ہو قیِں جو یھ بی ناصلہ تھامروہی ج7ی اور وہال دے بھی دور
کیک کل ار ا ا 4س را کوگی ز گی کے سمانسوں کے پر قرار ر گگۓ وا( زرنعہ “کوئی
محصوم قب تج کی بقاکا ضان' بجھ نڑیں "سی ہے بی" لاحاری اور اخطرا بکی کیفیت میں بھی بے
قراد ھکر مفاب ھی بھی بے چیہ دکر م ردپ جال و شی سمات پگ ر پور ےکر لئے جب می
صفاے مروہیامرووے صن صناکی طرف عا میں نذایں نظ رتو مواورڈال “ 7 یرہ ماتجر کے ہہ سمات
فص اور رۓ 7 ےم ےت کے ۵۳
ا ضس سے صا ا کن نے والے مسران
و ا ا کا سوا مگرتےر ہیں کے اورد او سی وکومشت اورنے میا کی
کے الم میں بھی مھ رک رب اورحجدہو جم دکر ن ےکا بیغام دسیتے ہیں کے۔ گیا کے ہہ سمات چک رت
الا ین نے مناسکرغ و عمرہ کے اچم رککن قراردےد ہے ۔ اور فرمیا:
إِنٌ الصّفا والْمَروَةً من شتعائر الله فَمَن حَجٌ البیت أواعْتمَرَ فلا
جذاج عليه ان يَطوَّف بھما (البقرق)_
بلاشبہ عفاادرم دوالشہ کے شمعائ یش سے ہیں سوج کوئی بیت الل کر گکرے یاعمر وکمرے فو اس
کوٹ گناہ کی ںکہ النا کے ماجین کر لگا ے_
خر جب سید باج ؟ کے ات پر پورے ہو تے قذا اک ا نو نے ایک ا آہٹ کی وہ
چ وکنا ہ وگیں اور اہ ۱ پک ون گی ںکہ ناموش !اور خو ب کان پگاکر سن ہک یکو شش کر یں
ای اشماء یں دوبارددہ آہٹ اور آواز یذ اب انخہول نے آوا کو خاط بک کے کاکہ اگمر تارے
اش مددسے لو نے ای آواز سناد کی ہے۔ اور ان ہو انے بک بار اور وت نظر ے آوا کا اکھوخ لگایا
تو معلوم ہوک سیر آواز نو مولو دکی جانب سے آدہی سے اور وہاں رب الین کے میم فر شع
ردام لائتک 'جی تل علیہ السلام موجود ہیں اور ابی ام کیایائی وی سے ز مل نک کر یل رے ہیں جو ز زم
گی چک تھی بکایک دہاں سے پان ا لے لگا 'ینس با یمکووہ بلند یلو اور پہاڑوں بر حلائ شلکرربی معھیں وہ
رٹ ذو ال یلال نے ان کے و مولور کے ود موں کے چچے سے جار ٹرادیا۔
ا ما کی فرحت دخوش یکاکیا الم وگ جواپے لیت مک کو موت کے منہ سے کور ھت
پھ ولا دک ربی ہو ان ہوں نے جب بای دیکھانو ہے اخقیارپا یکو ج عکر نے اور تغو اکر ن ےکا خیال آیااور
انہوں نے ا تھوں سے مخ یکاایک جو ساہنان ےک یکو شحن کی کہا اس مل مع ہو جاۓ اور ضا
0 یی . -“صص9و یم رم ایک بجاری چش کی صورت ٹس بہچتار رتا ۔اوراسی کے
متعلقی رسول ادن پچھلگ نے ف رما کہ :
اد تھی اخ اسم کیل رر بیریا کر ووز نر مکو یو شی سہسانت میں )و
زمزم ایک پت چش کی صورت میں جار تار بتا“۔
رض “اوہ تا ٹی نے امم اس تی کوبال یی ان سی نس قیمت
دود ھا لیے کاو رب ہکی جلوک پیا کا بھی بندوبست ہ وگیااوراس وقت ج رم نے فرمیاکہ:
”تم اپنے ضا ہونےکاخوف م تکرو' اور ا یں خ سخ کی سنا یک مہ بنہ اود اس کے والد
عنقریب ال ہکاگع نر یی کے اورالل اٹ اس کے من والول وضاح یں فر ہیں گے“ ٰ
عض ریغ سد
چناغی اللہ تعالٰیٰ ےا یل علیہ السلام اور ا نکی واللد ہر اپی لقت تک رون
2 اس پا ایت پاکرنے کے لئے پھ لوگو ںکو یہاں لن کے اردگرد سا کہ اسایل علیہ
ااسلاماورا نکی والد وکی وحش تک ہاور دودوسرہے انسانو کی موجو دک کی وہ سے مار ہیں۔
چناغجہ ہوبر عم ایک تقافلہ وہای گذراتوواد کہ کے نیب میں فر وک ہوا ٴانہوں نے د بی صانہ
اس لاخ وے آب وگیادوادیی شیل فضاییل بر ندے اد سے ہیں" دو جا نے تےکہ بر نو ںکا ہہ ول
سی کہ منڈ لا نے ہا مان ہک کہ ہجوب خر ےگزادنے وانے ہوتے میں دوکسی مقام پر وف نہیں
0-0]. لن جس طریقہ پریے پر نے منڈاارے تے اور ای نعل پروازکرر ہے تھے قو کسی
ای ری اس طر منڈڑلاتے ہیں۔ من انیس اہے اس اندازہ شی پک تال تھا کہ وواس علاقہ سے
اف کہ اس نعل زین می نہ تومالی سے نہ یآ بادی ۔کی و کہ آ آبادی کاب ڑاگب رااور از ٹی تلق مان
سے سے ۔آنحرکاد اض چو نے ایک آ دی کو ایے اس انراز کی مد لک کے لے روان کیا اور اس نے کر
النع کےا نرازہوکی اضر 9 و اور ایا ا یل طر ات وت اور کاو مولور کی یہالں ہرد ے۔
ولگ اسی جانب ےم اوراپی ہگکمول سے سپا پٹانوں سے اھ نے وانے پش مکرم
کودیکھااور بہت خوش ہو ےلم سیل سے اجازت گید اس قیا مکرن ےکی ۔اکہو لیے اعاذت
دےدگی "لین ىہ شرط لاد یکہ بای بی ان کاکوگی فقن نہ ہوگا۔ انہوں نے اسے کل مک رلیااور اپ ےگھم ۱
والو ںکو بھی و میں بلوالیا کو7 یلوگ خانہ بد سم کے لوگ تھ ج وی ذد غاد انی دا حجہ
مر رض قیا مکرتے تے پچھروہاں سے خی ضزلو ںکی جلاش ین مگ لکیٹرے ہوتے ھھے۔
رض ١سا عیل علیہ السلام اسی ماحول یس ججوان ہہوئۓ “بڑے خو سور ت اور جو النار عنا جے '
ا نکی جال زمر مد اور نقاط ے و راور بھی اسر مت اد مہ رن یکر بمانہ اخلاقی اور ای صفات نے ان
کے سڈ وسیبو کو اپنا اکر وید بنالیاادراہوں نے ان 5ار کرتے ہو نے او ےا نا ان فبیل
یق یزرد ٰ
اسی دوران ا اح لک انال ہ گیا جب ا میں اپینے نے سے مل قکوکی رش وتوف
یں ر مان ا نکی تضا .ص070000) کی انچاے اس ےا یں بھی انی آ موس میس کےلیا۔
اھر حضرت ابرائیم علیہ السلام جو ایک طوسلی عر صہ سے اپے ید کپچ سے ددر تھے نکی
جم گی ری کے لئ تشریف لاۓ فو اساشحنل علیہ السلا مک وگھھرمیں نہ ایا ودای ےگھردالوں کے لے رز
کی حلاش میں لہ ہو ۓ تھے ا نکی زوجہ نے ١برا میم علیہ السلام سے اپنی تک دستیکی کی تک اور
سخت مشقت وگ یکااظہار یا۔ اب ٹین الع سے ر خحصت ہو تے ہو ت ۓےکہاکہ ای شوہ رکو می راسلام
کہنااو ا فی معگمد اہ این درواز ےکی چ کوٹ تب لک ریس (ىہ در تقیق تکناىہ تھاز وج ہک تبد بی
فص ار یۓغ چوپڈپچچتفٗٗٗپچسسشس ٹر ڈە-7- اد
کی طر فکہ ای اہلی ہکو لاق د ےکر دوس ری عورت سے کا حک لی سک وممہ ال نکی طبیعت میں اعت
یں اور نف یکی بیو یکو قاع ہو اجا یئ اور ہر عال یش اد رکاش رگنراد ہونا ام دہ اس بات سے اعم
یں ر بزرگ اس شی کے والد ہیں اورا نکی طلا یکا عم دے رے ہیں ا پوکیانے با پ کا پغام
بی ےکو پچیادیا ان ہو نے واللد کے پغا مکامطلب تکھتت ہو ا یں طلاق دے دی۔
ابرائیم علیہ السلام جب دوس ری ہار آۓ ایک دوسرىی عور کو اسما کیل علیہ السلام کے
مس موجود اور ا کاعال بی سے انل ملف دیھاکہ وہ یتر ھی کے باوجود شاک د قاع ہے
نان ابرائیم علیہ السلام نے انیس نکائ میس ر کے رت ےکا عم دیا کی کہ اض ہو نے د بیکھا لیا تھاکہ جو
عورت تنک د سک دمحای پر بای کے باوج داش کی شگ رگزار اور قبایعت ند ہو بی نب یکیو جحیت کے
قائل ہے۔ا بر انیم علبیالسلام نے النا کے لے ب رکم کید عافماگی۔
الہ جیب کت بی تال خور ےک ارام علیہالملام نے اساشیل علیہ اسلا مکیزدج
سے لے چھاکہ تہار اکھا کیا ہے؟ تو اض ہوم ن ےکہراکہ موشت اور یا لی اب یکم مج نے اس بر اد شاد
رما کہ :ان کے یما ںکوگی خلہ اور اتاج یش تاکی وک ہآگمراتارح ہو ق ا سکا بھی نک کر یں اور ابر انیم
علیہ السلا مگموشت اوریاٹی یل رکم تکیدعا اس تح رانا ںاور لہ گی ب ریت کے لئے میھید ہار تے۔
نان ہہ بات بڑکی جیب ےک اب لملہ جو اصا رت اسا تح کی اولاد ہیں و صر فگوشت
اور ای برع یگمزاراکرتے ہیں 'د یکر اناج اور لع وخ ردان کے ییہاں ہگ استعال ہہوتے ہیں لین
ا ا ا ا 0ل بی ا
استعالکریں نوان کے لے نتصالن ددے۔
سینا اب رام علیہ السلام خیسرىی ہار اش ریف لاے آ حے اق نے
اس ےگھریس تیردر س تکرر ہے تے ُدونول پاپ بٹے ایک طو یی ع صہ کے بعد بل رسے تھے رولوں
نے ایک دوصرے کے سا تھ وبی معال ہکیاج کر نا امن تھا۔ معائقہ “لام دعااور شر خر یت کے بعد
ابر اگیم علیہ الام نے سعادت مند فرزن دکواولد رٹ العا ین کے عم سے مض عکیاکہ ہبیت اط کی لفہر
می سے اور کہ ابر اڈیم علیہ السلام کے سا تھ و(اسا تل متاولن وی کے سعحادت مند نے نے
و عم ال یکی اطاعح تک اور دونوں ح١ رت فتی رکعتۃ اید یل مصروف ہو گۓ اور جب ال ا
2 میم مرعلہ سے قارغ ہوئ اور سعادت عصشھھی حا تس لک نو ما رگا والٹھی میں د عافرمائی:
تاے ہمارے رب !اس غخدم تکو ہم سے قیول فراجے بلاشیہ آ پ ببت سے اور جاتۓ
والے ہیں" '۔(الترہ)
خ۵
تر :
چتر رت وصا)
کورہ الا حد یث در یقت علوم' تاکن اور ٹوا وق اظر رو ال 7-2
تہ تمام تا لی بن نہ فراے ٢ ذاضسانیت کے یائس یت الل گی تق را کی بنا اور اس سے متیات
افنس جا من کاکوکی دوس ا تد اور قامل اعخماد ذرنجہ نہ تھا می کرحم نے ان قام فصیاات کے
بجاۓ چند اہم اور بمیادکیانو عی تکی باقس میا نکی ہیں ج بکہ تفصیلات وج یات رسو لکر مم جچ نے
ان فرماٹی جن یس جمارے لے بہت سے ام فوائنیاں ہیں(
ا۔۔ حدیث سے سب سے پیل تمہ بات معلوم ہہ ٹ یکہ سینا برائیم علیہ السلام نے الد رت
از تک طرف ےد بے مے عم پر را دی ج چوں جاک فو دی یل فرمایا او جو دہ اس عم بل
کر نے سے بظاہ کلف و مشقت اور ' قصان نظ رآررائی اور بظاہر حخل کے خلاف بات شج یک وی اور
نو مولود بی کون تھا ےکی اورے لم کے عالم ٹس اسے ومرانہ یش چو کر چلا جائے ججماں تگال
211--1 جن 1برایم علیہ السلام کے رز مل نے تلادیاکہ اسلا در عقیقت مم
لی کےا ملین مکر کے لی ے مکم لی کے عتی جوازی - لال اور جواز بج میں ان ےتک
بس ہے قاضاے علممالاىیر ےکہ بلاچوں تج اح لکیاجائے۔-
ے خط کور سڑا آائی سڈ و میں عق
تی ۶ تماخائۓ لب پاما ھی
٥ اور
زل کے ے ےےے ٰ
”و 2 کاو قلام وەدل نر گکرقول ۔
09 مو سووو ٹوو ہی
ای بظاہ رکنتا بی مشکئل ضر رساں اور مبجھھ یں نہ آ نے والا ہو 'بنلد ہک شمان کی کہ وو ا کی لہ
متا سکھرے ٣! میارمتمب ال ےش تیر ۲ ا ول ری ْ
ایم وت ۱
گر چہ تو ز مرا ی اساب سے قلب کو مان ؤرا آزاو کو
د7 تی ۓ فرع تن فص بر اعحالکی بماد رگ -
امام تر در ارام عبت می کہ ند دو چرس وف یل عمکرے عم
ا ا رت من ہق ہت چان مج مس نہ آے کسی وج
ٰ سے تر فک ناجائے گیئی۔
بد
رین ۵٦
۲ دوہ ائا مرو ىہ حا عل ہو اکہ انان لسااو قات ای ککا مکواپنے لے ناگوار" ہرااور تتصالن دہ
بھتا ہے کین نپ التقیقت اس میں اس کے لے فو اور پت کی لو شیدہ ہوکی سے جس اکہ بہال اظاہر
آنیۓ کھروالوں اود مرانہ یل ہے یار وید دگار گیھو کر جانا ایک ناگوار اور خی م دا شمندانہ مل تھا لیکن حتیق
اس میں 1برامیم علیہ السلام اوران کے گھردالوں کے لج اور مو ری انساحییت کے للع بے شار فواکراور
7ی و ر حیسم شیدہ تھی جآ ری روا ہیں۔
بی حقیقت ہر ملا نکو پیش نظ ر ھن جامی کہ الہ جارک و تما وٗ2س"و
واے واتعات وعالات ظاہرأہمارے لے مشکل او نیف دن یکیو نہ ہہوں لیکن ال ض انام کار کے
۔اعقبار سے اور در مخت کی بناء پر ال مل جمارے لے خر کے تھی بہت سے بببلد اہر ہو جاتے
میں ”کو گی تح کی پر واز کے لئے سی ٹب ککر اتا ہے اود ود ی ط رح تار یکر جا ےکہ مقر وققت
پرایرپورٹ کک جا ماک مقردہیرواز سے انی مضزل مقصود بر کچ جائے۔ لا نمی مور کی بناء
ٰ اسںکی برواز پمرٹ اٹ ے فدہ یڈابز بز ہو تا سے اور اس کے لئے مہ ای ک ملیف دہ صور تمال ہو لی
سے نان اگل روز اسے اخبارات سے معلوم ہو جا ےکہ جس بر واز سے اسے جانا تماد می عاد کا شکار
ہ گنی سے تو بر دا زکا کوٹ جانابظاہر اہ سکیل لیف دہ معاملہ تھا لان اس بی اس کے واس خر کو شیدہ
ھی اس یکو ق 1ا نکمم نے ار شاد فرمیا:
عَسلی أن تَكَرَھوا شَیئًا وٌھُو خیر لْكُم وعسلی ان تُحِبَوْا شیئًا وُھُو شر
لگ ۔(البقرہ)
شاب کہ خ مکو ری گے ایک چز اور دہ ہت ہو تمہارے حقی یل اور شاب ہیں پھلی کے اک جر
اور وہ بر کی :و تھہمارے تس میں ٰ
۳-۔- مضرت اور احائیل علیہ الام کے واق سے ہے بات بھی معلوم ہوٹ یک عم الإ یکو
تی مکرنااور اس برع لکنا منائع اسباب نیس سے بکمہ انسا نکو می الو سح اسباب دوسا لکو بھی
اتارک نا جاہیئے۔ جع اکہ نخرت باج بے آب وگیاددادئی یش ا تحھ پر ہا تج دھرے نکیل ششھی ر ہیں
ہی ساط پیاگ دو ڑکی اور بج یز مدکی بانے کے لے ای کے حسو لک جدو جج دی-
۴ با پکو ا اولار ےکی یں ات ای نگ رکرنا جا گے اوریہ شر اعت کے
اقبار سے ضرورییاے “حخرت ابرائنم نے اہج سے کے وم نکی کسلہ کر کیاوداں کے بدا کی دنا
رت 7۳ا کت یں کات اق تی ا
فرماگی اور نس وقت انیس بچھو ڑکر ار سے تھے اس وقت بھی الن کے وین اورد نیا کے لی دعاکی۔
۵ں حدرین سے معلوم ہواکہ سید نااسا ول علیہ السلام ایک مھت بین تی راند از ج ےکی کہ دداہٹی تیر
سار - سس
او رما نکودرس تکرر ہے تے اور بجی وجہ ےک تضوراکرم مل نے ایک وت رعایاتھاکہ :
'إرموا بنی اسماعیل فإِن أباکم کان رامیا۔(باری۸۸۸٥)
ھاے بی اس راہحل اتی رانداز یکیاکر و( سیکھاکر کیو تہ تہارے جدامحید (اس عم ) بھی میم انداز جم“
1 حد یٹ سے ایک اکم فا نکد ٥یہ عا صل ہو اکہ ائل الد اور صمکماعراو ران کے کھروالول کے اخلاقی
کے مناسب یہ بات ہ ےکہ دوہ رر کے عالمات می عبر و شگراور تباعت سےکام لیس اور گی وتر شی
۱ کے عالات میں شکوہ شکابیت نہک ری نک یہ میا کے شایان شان یں“ جلیہاکہ اساخل علیہ السلام
کا ہو ہے حم رس کا شکوہ کیا 2برا ڈیم نے انیس طلاق داداد یکہ شکودو شکای تکر :انرام کے
گھروالوں کے لئ ز یما کیںے۔ ٴ ۲
ہیں
۸
پا ال دانع (ن 4
اف سے 27 بر ماد ساہ
ہیر
ال رت الا ین اپ نو نکد شحنول اور ال نکی ابذاؤں س ےکس طرع تفاظت قرماتے ہیں ے وا
ا کی الیک مال سے مس ط رح ال یل شانہ نے ححضرت سار کی عزت دعس تکی جات فر مائی جج بک
ایک جابرہ الم شف نے ال نکی بے چا گی د بے مکی سے فا دو اٹھ اک حریی) نبوت پر مل ہکن ےکی تا اک ونام راو
جسار تک اور کسے اللہ رب الھز ت نے النا بے یس انساو لکی د گی ری فرمالی.ے وات ؟ ی٤س پا تکی معلیم
۱ دا ےکہ ارب العز ت این محبوب ومقرب بترولں اہر عال ٹس تفاظت فرماتے ہیں۔ اوران کے ر * منوں
کوپمیش ز یل دخوارکر کے رسوافریاے ہیں۔
فص الیریۓ.
روی البخاري ٹی صحیحه: عن بی ریہ قال: قال لی پا : (ماحر
إيْرَاهِيمٌ عَلیِْ السّلام بسَار فدَخل بھا قریة فیا مَلكْ بن الْمْلَوكٍ حبَارْ بِنَ
لحبَايرَق فقیل: دحل إبراِیم بامْرأِ 9 ِنْ أَحْسَينٍ النساء أَرْسَل ا إليّه: ان ىٛ
ااراھیم من مَذْہِ التی مَعَك؟ قَال: اتی 2 رع ِلَْھَا فقَالَ لا کذبی حدِیٹی:
رم أَعب رْتَهُمْ أَنك أُعؾيی, واللد ان عَلی الأرْض مُوْمِنْ غیْري وَغيْرْْيِ فَأَرْسَل بھا
یه فقَام إليْهَاء فقامتٗ توَضا وتصلی: ٤ فضالت: لم إِن نآ بغ
2۶ جی إلا لی زَوٴحي, فلا تسلط عَلَيٌ الْافِرَء فَمْطر حَی
ركض برِخِْه ).
قال الاعرج: قال کول بر ِكَّ ابا هُرَیْرَةَ قَال: ١ قالے:.
پا يْقال: ھی قتلتث فَأرْسل ؛ نم قام إِيھَاء نَا نَرَصٌاً َصلي,
تقول: اللهُمٌإنذ کت تل يك وَیرَسولِكء وَأَحصنْتٗ فَرحی إلا عَلّی ترْجي
اذھل لکن للڈ کی رقیں ریم
قالَ عَبدَالرَحْمَن: قال و سَلمَة: ال آُو مُرَیْرٰة: فقالت: (اللؤُ إِن مت
٦ سے 0003
قَالُ: جی فََلن فَأَرْمل فِي الثاّة ا فی الَلَقِ فقَالَ: والل مَا أَرْسَلحمْ إلَیٌ إلا:
شَیٌطاناء ارْحمُومًا لی ِيْرَاهِيم وَأَعْطُومًا اج ِرَحقَت إِی ِبرحِیم عَليْه الشلای
فقالت: اشعرت أَن ا کت ک0 ما ولِيََ ).
وٹی روایة آخحری تی صحیح البخاري: عَنْ ابي هُرَيرَةَ ظٹه قال: لم ينب ٰ
ْرَاحِيمُ عَلیهِ السّلام ! لا لاٹ کذبات: ز یتین مین فی ذات یلق ۶ء فَولهُ ط انی
سَقِيمٌ م٭ [الصافات: ۸ وَقَوْلَُ 7 بل فعله كبِيرَهُمْ مَذا می زالأبیاء: ٦٦]ء
وقَالَ: بَینا هُو ذات يَوْم وسارة اذ نی عَلی جبًار مِنَ الحبَيرَقِ قب لَلَهُ: إنّ هَا ہُنا
رَخُلا مَعَُ امْرَأۃُ مِنْ أَحْسَن الناس: َأَرْسَل إلبْه فَسَألهُ عَنهَاء "ٔ۰ 3
ٰ سی فاتی سَارة َالَ: یا جا لی عَلی وَجْهِ الارض مؤین غیْري ؛ وغل وَإِن
مَذا ابی تن ع أنك اي فا تگذبسی. سن إِيھَا فلمًا دَحلنت
عَليْه ذھَب ٤ اوھ ؛ ا فقَال: ادُعی الد لی؛ ولا أَْسٌك فدعتِ إِلژ
ھ۶8 نجار تا الغائیة اک یں ام فقال: اڈیی ال بی ولا ون
کو تال تھفااگ کال نک 030 إنْسَان: نما تک
بشَیْطانء کرا ھں ناقا تی ل کالا و ٗے؟ قالتٗ رَدٌ الله
۰ لاف 0 القاجر - نحرو وأَحَدَمٌ مَاجَر).
عظتَ9 ×ד لو اک ات ماء السماء .
تعواثر یت -
حضرت اب وہر می فر مات ہیں رسول اود مگ نے ار شاد شرمیا:
”حطرت ابر ایم علیہ السلام نے اتی یزوج ضرت سارہ کے ہم راو ارت فرما فی اور ایک کی
می داخل ہو ۓ جس می اک راد شاو ماک سام ننس تھا اس س ےکم اگیاکمہ اب رانیم ایک عورت کے
سا تد جو خقرام عووں ے زیادہ تین ے داشخل ہوا سے۔ اس نے ا کیل جلا بھیجا اود می پچ کہ اے
ابر ائیم !ىہ جھ تمہمارے سا تح عحورت سے تمہاارب یکن سے ؟ ا برا ٹیم نے شرمایاکہ :می ری مجن ے۔ پھر
ابراڈیم علیہ السلام وائیں ححضرت سارہ کے پا لوٹ اور النا ہےکہاکہ باد شاو کے ساتے می کی با تک
جنانا مت ای نے اسے بھی لای س ےکہ تم می ری من ہو اود الیل رکا مم رو ز بین بر ال وت
میرے اور تہارے علاوکوئی مو من نیس ہے ( ہام می ری مو من بن بکی می ر شنہ سے )۔
ضر ار ٰ ۱ ۱ ٰ ۲
پچ ر اس نے ضرت سار ہکو بلا جیا راغ کے سائۓ اڑا ہوا عفرت سار کٹ
کی اور وض وک کے دو رکعت نماز می اوردعا اگ یک :
۰ 'اےاللہااگ رس آپ پہاو آپ کے و سول پہا ان رگصتی ہوں اور نے ای شر رگا دی
تاخق تک سے سوائے اہج شوہ کے فو بھ برا سکاف رکو لہ شرد تج“ _
اللہ تھاٹی نے دعا تو لک اوردہجا بر اہنے فک موں بی ز بین میں داد اگ“ 2 :
اب یک ایک دوس راروایت می حضرت الہ میٹ سے منقول ےک ' بی کپ نے
ارشاد خرماباکہ : ٰ
یئم علیہ لام نے بھی موٹ ٹیس یو سے 7 ن مر 092
خلاف تفیقت بات سے سے فذربی کت ہی ںکہ ایک بات کے دو مفہوم ہوں ایک مفہوم قریب اور
دوراب یر۔ شر سے ہے کے لے اس مع مکی بام تک اجازت سے ان ں سے دو تواللہ تال گی ذات
مز وج کے بارے میس جھے۔ ٰ ْ 0
ایک پا نو ٹرمایالہ :ا تی یم سقَیمٌ (اادا٥ات/۹۸) لہ میں م ریش ہو ں “اور دوس ا”بَلْ قوله
کبیرهُم ھٰذ! “(لا ام ءر ۷۳)۔ کم ون کے اس پڑے بت نکیا ے '' -
اور تم رام کہ ایک اد ابر انم ائی زوا کے ھراوست کررے جھےکہ بد بڑے جا
عم رانوں میں سے ایک جا بر عگمرالنا کے ملک میس یی اس جا بر کہاگ یاکہ بیہاں تمہارے علاقہ یٹ
ایک آدکی ہے اس کے سا تھ ایک جن رین عورت ہے۔ اس چابر نے ابر ای مکو یلوا جاور الن سے
سارہ کے متعلق دریاف کاو رکا ان کولع ے ؟1بر| کے ٹرمیالہ 2 کیا کن ہے( اور می ات ے
سے حدہٹث 7 ا و رر کے پا آئے اور الن اس ےکہ اکلہ : نے ساروااییںل
وفت رو زشن پہ میرے اور تمہارے علاد ہکوٹی موصن نیس سے ' اور اس شس نے جھ سے
تہارے ملق و بچھا نشیس نے لا یاکہ تم مب ری بین ہو (اورامماٹی رشن سے تم می ری عون مین بی
8ھ )بط امی یی ابا تکو اس کے سائئے مننلانا مست_ ٰ
۱ چم راس جا بر نے ححقرت سار وکو بلوا بھیچا جب وو اس کے اس داشخل ہو گی ف اس نے از راہ
شیطنت ا نکی طرف ہا تھ با ےک یکو صن کی تر دواد کے عراب میس پک ڑاگمیا(اس طط رر کہ اسے
بعد مو رک دیاگیا) ا نے سادرد ےکہاکہ میرے لج الد سے دھاکر ول(کہ بے اس عراب سے
ضحبات دے) مو میں میں کی نتصالننہ ادنگ حر ت ہاردوے ریا 1 وا ے ظا یی گل گئی۔ا ٠
ےر بد مکی سے الناکی مرف مھ بڑھاناعاما لد چھر رگ قرعخزاب ہوا۔اور یی ے زیادہ سّت ایا اور
مز ور کرد مایا 7 اکر ےئ الد سے دع ار دو نو میں ہیں کوئی اقتصان نہ مٹیا لگا سارہ
اس ار ےۓغ ملس رہ س ساس ظفٗمًٌُُٗ٘پمسیس تی لئے ٰ ۳٣
نے کیمردعاکی نذا سے پچ رخلا صھی نصیب ہو گی ۱
ال نے اہیے لیت در ہار یو کو بلایااد رکنے لکاکہ : :تم میہرے پا کوٹ انسان غنیں لاے
لہ تم دکوئی خیطان لاے ہو (نتو ماول) پھر اس نے باج ہنائی بائلد کی سار کو بظور خاد مہ رے وی' ٰ
حضرت سارہ رت ابرائیم علیہ العلام کے با ٗی و وم رڑے تھا یڑ رسے جھے" انہوں نے
7 با جھ کے اشھارہ سے لے اک کیا ہوا؟ سارہ ن ےکم الہ :اد نتعالی ن ےکا فر کے منص اور سمازز ش یکو اس
کے علق یس لوادیاا راس نے پاجرءکولطور ماوع دا ے“ 5
بی داقعدسن اکم ابو ہر میلنے فرماپللہ ا ےا سحالن کے یا کی او لاد او( )مار یہاں ہں “ ۲
تخریج الحدیث:
رواہ البخاری۔کتاب البیوع /٢/١١۔
کتااب الأُنہیا /۴۸۸/۷۔
یح مسلم ۔کتاب الفضائل'باب فضائل ابراہِیْ /۱۸۴۰/۳
7 رب سحبیت پر ظا سے تحص جو کے ا
ا۔۔ عریث می خر ما مال تحضر تار ائٹم نے جن پار کے علادہ تھی حجموٹ یس لو لا۔
ہا کب( ججھوٹ کس ےکیاص راد ے؟ مہ بات فو ظاہر ےک ہکنر ب کالفا ہے یف ی محنوں
یس استعال نڑیں ہو کیک کسی بھ یکا کم اڈ ام لیم السلام سے ممکن نی کہ دہ باتقاق علاء
ےت ہو ئے ہیں۔ ٰ
زراگ ”لے پ کالفا یبال باغتبار مخاطب اود سامح کے استعال ہو اہ ےکہ سن ولا ا نکی
بات سےکوگی دوس املپوم بے جھکہ مرادنہ ہو سے اصطلائ میس ” وریہ کیا جا جا سے ۱
ارت ال نے تن باقو لکابلا انی ء کے ذمہ رکھاے الن می انماء شیہم السلام سے
گز بکاخال ی یں ہے خواہ کھوڑاہوبازیادہ_ ۱ ٰ
ہا ں کک ا مور و اکا تعلق سے فان بی انمیاء عم السلام کنب کے احال کے متحلق ٰ
دونول بی اقوال ہیں سلف وخلف کے مین اض قول بھی ےکہ ان میں ببھی اخمیاء یہ مالسلا مککزب
ا وک
ا ضصی عیاخ ماک ف مات ہیں٠
مح ى ےک جن یں کا تلق با سے ہو یھی وہ رضم ون
پہتاناضروری ہو)نواخیاءے ا سکانصور نی ںکیاماسکنا۔ خواوصنائز سے متخلق
جم ان کے لے اخا لکزب کے جوازکا عم ل_اکیں یا خھیں.......... اس لم ےکم
منصسب شوت الہ ما ولا ے ہت بلن و جا ورگرخیا کے لے ھا للز بک
سى..ىہسصسسىىىىت >> 07۶:
ْ جواز رکھاجائۓ فو بہ بات النا کے | ثوال ے و وق اور اعم کو حر 2 . ٰ ٰ ٰ ٰ
ہب رگیف!یہااکذب سے مرا جھوٹ نئیں۔ کہ حضرت ار ائینم نے جوبا تکادد تاور
الین اس کے دو مطبوم تھ اور خاطب ہہ مچھاکہ ا لکا تق ہی می مراد ہے جو عمو] ہو ے؛
ج بکہ ححخرت ابرائڈ مکی مرادبعید معن تے۔اوردر تقیقت ہہ ای ککزاب تھا ضحضرت ابر ایم شیل اللہ
یاخان اکنذ ب با ٰاے پالاوم ڑے۔ ت5 -
اٹ حدبیے کے آخ میس حخرت ابو ہر می کا بجملہ ےک : دہ(ماجرہ) ھی تمہار کیا ماں یں اے
ٰ آ لن کے یا یک اولاد!“۔ ۱ ٰ -. ٰ
سان کے پا یکا او لاد ےکیامرادہے؟ امام نو وف ماتے ہی ںک :
اکٹ محفرا کی را ہے ہ ےک نیا ماءالسماء سے مرادقاممائل عرب ہیں 'اورا نکوا ثتب --
سے پچاران ےکی وجہ اک انسا بکا عمل الس اور یسل سے عحلوطنہ ہون ےج نب غیروں کے ٰ
اشلاط سے ایےے صاف ہیں جیسے آسانکاپال ید نیاکی خجاستوں او رکنافوں ے مصفأاور نال ہو جادے_
ایک ثول ىہ کہا سے ماد صرف انصار ہیں 'اورا نکواس لقب سے پیچار ن ےکی دہ ان
کاچ دامچد عامر بین عارظ بین ام ایس ہچ من سکا حرف تماء السا “ تھا شی دہ آسان کے بالی کے
رف سے مشہور و معروف تھا داد اعم ٰ ٰ
-- کوو وت
رت ابر یم علیہ الام نے جب اہیے علائے سے منرت فرماٹی نان کے چم را ا نکی
زوجہ جحفرت سارہ بھی یں جب ابر ایم علیہ السلا مکوا نکی قوم نے نگ می ڈالا اور آنگ ار کے"
عم سے ان کے لکل وگزار بی نگقی فذاس کے بعد نپوا نے وبالں سے پثرت قرباگی اور دور در از
علا ثول مل ڑا کر تے در ہے۔ ظا کیا بات ےکہ النا خی مان اور ا٘سی علاقول م سکو کی ا نککابد گار
تما ینہ تھا اور ایی عالات شی نام وس رکعن لوگ خر جب اللدیاد لھگ لک عالناومال اور عمزت و آبرو
مل آور ہوتے ہیں “چناغیہ ححفرت ابر ایم علیہ السلا مکو بھی ایک الم و جابر اور اقترار کے نشہ یش
ہو کل ف رجولن صفت انسالن سے واسطہپڑا۔ الس کے ساسمئے فک ہکیاگ کہ ایر میم ال کیا سز شن م ردنا
کی مین و حول عورت کے سا تھ ات اہے۔ اس سم کے نلم وبد معا لوگو کاو طی رد اس زمانہ میں ۔
اک ہاگ لی عور تکوخاص لکر اہ قذاس کے شوہ رکوگر فر ہکر کے قید یس ڈالل دتے تے اکر وہ
عوارت شور والی ہو لی گی۔ الہ اکر د ہکنواد کی ہد تی یا بے باپ یا چھاٹی کے ساتجھ ہوئی ای صورے
ٹس اس سے اودرااس کے عزی دا تارب او رگھردالوں ےکوگ یت رق کرت تھے -
بچی وج تع یکہ ابر ائیم علیہ السلم نے اس نلم بادشاہ کے تقاصد سے ب یکہاکہ سارہ می ری
ض0 5 +090 0 3 39 ٣
بن ہے( کہ ودابرائیم علیہ السلا مکوگر ار ہککرے) اور محقرت سار ہکی عزت پر مل آورنہ ون
اس کے پاوجودائس ظا لم نے اس پر بد تی سے عمل کر ن ےک یکو شکی۔ حضرت سار ہکواس باد شا کے
اس مگ دیامیشیتب کٹہر کے ا یں ین ر ار کہ اد رٹ الا ین نخضرت سار کی عمزرت و عحصت
گی تفاطت فرمامسں ھےکیوکلہ اخیاء صیہم السلام با فو اسان کے سب سے ذیادہ عقلد اود پ اہ
فطرت لوگ ہو تے ہیں اور الہ تا لی الن کے لے پاکیزہاور خفت ماب خو ا تین بی مب فرماتے ہیں اور
ٰ ں تو من سےکڑسی ن کی ذوج ہکافر ہو لیکن اح یس ہو می از واج کردا کے اقبار
سے پیش یا اکینزداور حصصتماب ہہوٹی ہیں۔
ححضرت ابر ڈیم علبیہ السلا مکو الد عل“جلال کی ذات ب رکال لقن تھاکہ ححقضرت سارہ جائر
اد شا ءکی شیطنت ے تقو رر ہیں یز 1 ا0ت کک ىہ تادیاکہ شی نے بادشا ہکوے لایا
ےکہ مم ری مجن ہو۔ اور ور طفحیقت ہہ ” فور مہ “تھا بر اقیم علیہ الا مکا۔
اور ےکا مطلب بے ہو تا ےکہ انسمانالیاذو مع یکلا مککر ےکہ مخاطب اس ک ےکو کی دوس رے
می بے ج بک شحل مکی تاور ہو اکر چانڑے خصو بج بک نکی نلم کے ع سے جتے
کسی شر اور نقصان سے یت کیل کیاجا تۓ بل شبہ چائز سے اور ایک کنب اور چھوٹ نمی ںکہلا تا۔
رسولالل نچ نے اس ےکزب سے تا کی نت سے تیر ف رما کہ سن والوں کے لئے
لپ ظا
ریف !ضر ت ابر ائیم علیہ السلام نے حشرت سا روک فرب کہ ٹس نے اس می با
س ےک تم می رک بین ہاور یقت ہہ ےکم روئے زین را وت ہرے رف ری مکل
مو صن میں ے اہر ام می را اا٠ مان ہو یلمع لسجلال ہار اد ھی س ےک :
۱ قامطلمت مال مال یں “کرت --
یوار ےک 1ا7 علیہ السلام کے ملق می یکین کور وعد بیث مم ىہ ےک
ٰ انموںانے تن با رکذب سےکا م لیا[ سکی طرف ق رہل نکر مم نے دو نل فآ ول میں ار ہکیاے۔
ایک ہار ق فریاکہ : إِنی سقیم (شل بیار ہوں) تو یہاں بھی ابرائیم علیہ السلام ن گناہ
کےکام می ش کت سے بے کے لے وریہ سےکام لیاتھا۔ جب ال نکی قوم نے انیس اپنے باعل توار
نس میں بیت بر سا 0ہج نکی دمعوت دی قے انہوں نے فرمایاکہ یل
مر پیش ہوں' اورال سے ا نکی مراد ىہ ف یکہ می مل اودر تید جو تمہاد اس بت سرت یکی ْ
وجرس ےکی وکلہ تیم کے ایک مار دہ کے بھی ہیں۔ ٰ
ای رک دوس کی ار جب انہوں نے قو مکی ٹیر موجودگی یں سارے بقو کو ڈالاور
سر ہ..سسسسمٔمسہ غخ
آتھ بیس سکلپاڑے سے س بکو فو ڑاتھااسے بڑے ب تک یگردلن ٹیل ڈال دیا بعد یں جب قوم نے
ماک یہس نام نے ہمارے معبودول کے سا تجھ ای اسلو ککیا تق جواب میں ابر اقیم علیہ السلام نے
فرمااکہ: بل فطل“ کبیرھم ھذا (فانیاء)کہ س ےکام فو تمہادرے اس بڑے ب تکا سے تم ای سے و جیر
لو ان ید دی رر می الام نے وم پت نہر کرنے کے لے
وسر دی سے گا وی ےرم زع
یہر کے بت کسے ول سے میں ؟ ول نکی ای بات سے استقد لا کرت بہو ئے ابد ائیم علیہ لسم نے
ٹرما :”لف ہے تم پر اور تمہارے الن باشل مجودول ی' کہ بہ جات ہو مل یکلہ ہر کرت
نول یت ہیں نہ ین کت ہیں - نع اکن ہیں نہ نتان پچھر ھی ا نکی لو عاو مہ صت کرت ہو ؟۔
خرضص توں مات بظاہر غلافہ حقیقت تھیں لیکن نی الوا حخگز ب اور وٹ ہیں
میں یکن قاعدە ےکلہ حسنات! الأبرار سیّثأتٗ العتقرینکہتیک لوگو کی خکیاں مقرب
ینکروں کے صن یس براکی شحار ہو کی ہینں۔
شی خلاف اوٹ یکا م گر عام آ دی سے صادر ہو فو اس پت ہکوکی مو اغ و ے ز گر فت وملامت '
۱ لن چ کہ انیاء مہم السلام ع مہواندوقزرس کے مقبٹ بنرے ہوتے ہیں لپذلان سے خلافف او
صدور مج باحث تنبیہ اور بااحعث می ہنا ے' اہفراعد یٹ یس ٦ ےک روز قیامت جب مخلون
سار یی میران تش رکی جختیوں سے بابلا ا بے کی قد لف انمیائ کے با سار کیل ا ال
سے سمار ۶ کردی کہ وو حش رکی تح شح فرمادس اور صاب وکاب شرو فماکیں تو قمام انرام یم
السلام اپنے اپنے غلاف او یکا مو لکویادککر کے الن سے فے ہہ واستفقا کی کی اور سغارش شکمر نے سے
ص, 00 گے۔اس مو بابرا ڈیم علیہ السلام تھی معفہ رت فرمایں گے اور اہے اٹہ تین خلاف
واتعہ با نو لکو این فن یل مخت او رگناہ یگنت ہہو ئے فو ہک کے اور سفار ٹل سے معفہ رم کر للیگ
؟ہر ال ارت ابرائیم علیہ السلام نے حر ۶0 9 لئ کے
ہو گے اپنے رب سے ما تجات ددعا لپک گئے۔ چنا یہ ح تواٹی نے اہے شی لکی دھا قبول فرمائی اور
حضرت سار ہکی عمزت و ححصس تک اہ کی اسباب کے اخیر تفاظت فرمائی اور خود نضرت ساد ہکی دعا
اور بے بی کے عالم کی گفا مناجا تکی رت سے عق توالی نے انیس ینزو حترم رکھا یں رتا
سمارددنے دھاما 11 الہ :اے الہ !ا اکر میں 1 آپ سر اور آپ کے ر سول برا من مہو اور نیس ےا گَ
شر مگاہکی تفاظ تکی سے تو بھ راف ر رو مملطان ہک
چناتی جب خحضرت سارہ اس ص رش خحیطا لی صصفت بادشاہ کے اس یں فو اس نے از راو
من ار بی سسسے سے سے سس سس سے سے !سس ےسیک ٦
شیطنت ال نکی رف با تھ بڑھایا ا جح ھکا بڑھان تھاکہ قر رم تکی تی ق خیں کت میس یی اور وہ نلم
خیطائن خ اب ال یمک ی گر نت یش آمگمیااور اور جن تعالٹی نے اسے معفرور وایا غکردیا۔ رت سار ہکو یہ
غزف اض کی ہداز ک :زع رگپا او لین گے نے از اوک غ٠ ینکر داز نظ ای شون نے
رت سار و ےکہاکہ تم الد سے دعا اکر وکہ یھ اس عذاب سے جات دے فو میں بھی ںکوکی نتصدان
2 یا ںگااور تم ےکوٹی تع ررض نکر ول گا۔
نطرت سار نے دعاکی نوا سے اس عراب سے محجات م لگ ہو بضرے
ھی ا لکی شیطاضیت پچ ر عو دک رآ کی اور اس نے دوس ری بار از راو شیاقت حیطائی مات بڑھایا گر قررت -
0 9 2 0 دہ لے سے زیاد ددرت کے سا تھ ایا ند معز و رگر: اما وہ چھرروے
گان لیک تر دعا کر وکہ اس معیبت سے پچھکارائل جا می ںکو ملیف دو ںگا۔ حطر ت سارہ
نے پیر دعاک یمکہ اے ال اکر یم گیا بج سر اترام گ کا لیے ان 7رت لزان 7ز
دچئے۔ غمرحص اسے حبات دے د گی اس کے بععد اس نے اہ در باپول اور ید دگارو کو بلایا اور
انی کہاکہ ق و میرے یا می شیطا نکو لے ۓ ہو( وہ متا تزاکہ شی قوت کے خزاتے حیطات
کے پا ہیں)اسے نے چاو اود پالل الم ۱برا مم کے پا س بیچیادو بوملہ وو جا نمیا خھاکہ ال نکی
طاظت یں اور س کی عاردی ے اورووجر چو کی سے متفوظط ہیں اوراس نے لور خادمہ پھر
بھی پر ین یی کی اور بچی پاجرہ ہیں جھ اسا من کی والعدہ جیی ںکیہ ضرت سارہ نے امیس اپنے وہر
ابا میم علیہ الام اہ گر اوران نے ان سے ا کال یقاس ےق لک پا ج)۔ ٰ
رحول اللہ کی ایک عدیٹ سے دا لم نے انی کچ یس ری یا ےت بط
ار شا ممایا: ٰ
تم ختقیب مص کو کرو گے اوراس سس رز مین می قیرالط سکہ چا وگال تی اط مع رب یک بی
ک وکہاجاتا تھا ج ب مم اسے 229( را گے پا شنروں سے اپچھاسلو کک کی انام پر رشن اور دامادکیک
جن سے یا رمایاکہ رشن کاىصضی سے۔( مر )٣۵۶۳
ال ے مرادہ مہ تضور علیہ السا م رت اسا تل کی او لاد بیس سے ہیں جو رت باجرہ
کے لے ہیں اورحقرت )جو نل اقرارسے مصرے تعلق رکھتی تھی ںکویاوورسول اللہ چک اور
اکپ عر بک مال ہو میں اس خببت سے فرمایا۔
نر رت واصاں
ا سب سے اہم جات لو ال صد یت سے بی معلوم ہو ٹ یکہ انمیاء مہم السلا مکی از واج مطرات :
ہ رط رح سے عزت و حصصت کے اعقبار سے فو طط وا موان ہو کی یں اوراگمر بج یکوکی فاجر و بر طنیت
ص سال رگ جئججئٔىےےىمىە+ىٔ خسسشتت شش-ّ+ى-ےسىس ضس ہت
تس انی شیلنت سے ال نکی عزت و عصصت س ےکھانا چا سے قذ ن تعالی شانہ کی نی قو تو ںک یکر
سازی سے وہ اس و فاجر اپئی شیطنت سیت عزاب الھی می گر فمآر ہو جا سے اور انمیا کی از وا
مہرات فو ظار ہی ہی ںکیوکر اخماء ٦مم اللا مکاطیقہ بی فو انسالن ٹیش سب سے عقد س اور اکیزہ
طقہ ہے اور وجب تقاعد ٤ال یمک : ٰ
الطیبٰت للطیبین (۱۶۱) اگیزہ مور ٹس پاکیز مر ذوں کے ہیں
انی از واع بھی مطبّر ات او رحضیفات ہو میں یراک صطرت سار ہکی مز تکی تفاظت تی طور یر
الد تھا لی نے فرمائی اور اس فاتر حا مکوعذر اب میں را
ر2 دوس ری اہم لیم ج اس واتعہ سے حا صل ہوک دو کہ مم نکوچر اجتلا و میمت میں فور
اللہ تھا کی رف جو عکرنا چا ہے اور ما کے ذد یع ال سے مددونھرت طل بکر نی جا یئ ۔ جاک
ححقرتا بر ائیم علیہ السلام نے اس ب نال یک گنی یں مازادردعاد مناجا تکی طرف لوج فماٹی اور
۱ نود ححقرت سارونے اید ےگ ڑگڑ اکر دعاکی جکا نتیہ ہہ لگ اک الہ تال نے اہ ری اسراب دو سال
الف ہو نے کے باوجود یمر متو جح طور بر اداد فرمائی اور پر نتصان وش سے فو ظا رکھا۔
73 مرکودہپالاداقعہ سے ایک ز بردست میم سے تی ےک انسا نکو می ز گی میں مض ١ سے
٣ کڑےاو رتشن حالت سے دوار ہو نا پڑت ہے چہاں ودای خوااش کے مطاب قکام نمی ںکر کالہ سے
تی تیم قوت کے ساتنے ججیک جانا مڑ جا سے نہ ھک کی تصو رت میں وہ انا تن کر کا سے نہ حخالف
قد تکوکوئی نقتعسان پیا سک ہے نوا یوقت میں خخالف قوت سے گھرانے کے بائے عق تھا لی شان
1 ٹر تکالہ سر لنشین اور مھ روس کر تے ہے عالا ٹکو ای پھر کچھوڑد یناور وش ور پر یک ضا
خلاف شر بعت کیں۔ جراکہ حضرت ابر ا ڈیم علیہ السلام نے اک س رک شیطالن باد شاہ کے متقا لہ میس
اس سے گگرانامناسب نہ مچھاکہ کے جع تااسکو نقصالن نہ پیا سکتے تھے بلمہ خود بھی منتصسان اماتے
پان ےکااندبیشہ قوی تھا۔ را ہو نے عالا کو عمل طور برا رت الھا لین کے سپ ردکردیاور ای
ےکا مین اور کجمروس ہکیسا تد دعاک کہ دہ ہر طاقت سے بڑ ھکر سے اور س کن کی ۔ رکٹ یکو تم
1و2 بر طینت یی پر اطوارئی اکور وگۓوالا ے'اورا 077 گی۔
بہت سے لوگ اس عم کے عالات یل جھکنے کے ہائۓ گھرانے اور متق ہل ہر ن ےةکو مر دای
اور مز بیت مھت ہیں اس لُ کہ نیاوئی ز نکی مل انسالن ہر دفت رشحم کے عالات مل بمیشہ دن
جلاع کرنے پہ ا دد یں اور نہ ھی اذ مرگ کواٹی ختاء کے مطابق کال طری رر
کر ن ےک استطا مت رکتاہے۔اسے کیل ن کنل مان ہیا مقام پ اتی خوائش کے برکس حالا ت6
مقال کرت پڑنا ہے۔ ابی صور تال میس لی او قجات خقالف سے گ مرج ج بک وہ آ پ کو نتتان
بچاسکتا ہو ماود عدم نکی سی پ ع لک کے انسان این ل ےکوی ضا بیت ور اھ رد
٦ے
صص ار رۓغ 1۹/٦۸۹
ملا کر سا ے۔
لیذ می ھی وا اکا را ال ے' ٰ
تن حالات اےے ہوتے ہیں کہ اس می لکشت دخ لناسے بجنائڑ یی امیت رتا ے_ ۱
یہاںامہ دانج رر ےکہ اکا مقصدیہ نہیں ےک ملمان ہ رکافرو تی کے ساتنے جک
جا یا صو١ت سے ڈ ھک با مادی أ تصان کے خوف سے پیش کاظرہ ومش مکی نک ماع دار بین جا ہ رگز
کی ۔اسلا مم مو عمزت دو قار کے سا تح جیا ھا ہے اورای عزت دو قار کے سا تق ےکی ے اسلام
ےے ای پیر وکار و کو ”ماد“ یی مقرس فرش سے روشنا کر لیا ےکہ ج بکوٹی طاخوکی قوت اور
سمامراتی عذریت مسارانوں کے ایمان عزت وآ برو اور ان کے دبین بر عملہ آ ور ہو ن ےکی جمارت
کرے پا خی عزت و شوکت کے ساتھ رجے نردے پااسلا مکی ایت او اط لکی موی کو لیم ٰ
گرے و مسلماان کے ساس چہاکار اس ہکھلا سے اور عمز تکی نز ن دی کے تصمو لکسلئے عز تک وت
اور سعادت منراتہ شماد 901 0
وا یمان وس حا ت کے لئے سے جا ں کر مصلت کے فیدر
یک ایس میں حضرات صھالہ ہکرام وا ن اللہ ہم ا می نکی مقر سز ندگیوں اور سیر و مفازئی
کے واتعات میں مل جائی ںگی۔
ما ایک صھا لی ایک جک میس اتکی صھا۔ لیو سے مربوش نک قد مے مھ
رشن با شاونے انی اسلام سے مخحر فکرنےکیابہ تکو شش سک لن وا صحاب زیت و امت
ایمان بر ڈنےر سے تنگ کر اس نے ارک ز جردست نگ جلوالی اور اس میل ایک ببہت بڑا یل سے
ھرااہوا بر تن رکا'جب وہ ت لکھو لے گا ان صحا کو بلوایا دہ صحالی جوالن کے امیر تھے النا ےک راہ
اگ تم اسلام نرک کرتے ہو ٹیک ورنہ می اس خوف ناک دک ہو ےتیل می ڈولوادوںاگا۔ اضوں نے
صب سالقی الگا کیا تق نے می دہشت مان ےکیلئے ء انی کے اک سا ھی کے پارے میں عم دیاکہ
ایس ڈال دا جاۓ ا یں ا سکڑھاؤ ٹیس ڈال د )گیا گھوں میں وہ بج لکر ماک ہو گئے اس کے پاوجود
ان امیر صا لی نے اکا رکیا اد شاو نے عم دے د کہ انیس بھی ڈال دیا جائے یت ا ین نے جا یا
تل میں ڈالے کے لے تا نکی ئن ان 1نس و آگئ' مادشاو رہ چھاٗہ مو١ت کے خوف سے
2-7 اس نے والی بلایااو رک کہ اب مبھی وفت سے اس المناک موت سے جچنے کے لئ ا ہوں
کے فرا اک تر اضیالی ےکہ وت سے ڈ رکر می ری ہگھموں میں آ نس و آگئ' وی 2
اس بررونا آ کہ مب کی فو رف ایک جالناے جوا بھی چن رون میں مم و جاے ےگ یکاش کہ مع اج راد
حا ئیں ہو تی اورووسب اىی رح اش کی راوییس تقر با یکر دی جا یں الد اکر
بی جواب کر بادشاہ بر د حب طار کی ب ھگیاکہ رکون سی موی سے جو موت کے نہ میں
صسالریغ ٰ ۰
72۶۵۳۳2 ۳ زم 77د ۔ لیف اا نکو مو تکی
مزاد ینان تہای تگم مز اے کو مز اچک جس سے۱ن کے ئک یر کو یس
نے اس ن ےکہاکہ اپچھائیس ہیں ایک ش رط بد اکر نے کے لئ تار ہو ںاگ تم مہ رے س رکو پوسہ دو“
الن صاحب استتقامت عحالی نے پھ سو چاو رکہاکہ ہا جس تار ہوں شر لہ میرے ترام ساتو ںکو
تیر پاکیاجائے۔ بادشاونے وعد ہک لیا قوانوانے باد شاو کے مرکو پوسہ دیااور اپ خام ساتھیو ںکو
جو ار ۱ ترتع رکوجپ ساراواعہ معلوم ہوا پت وی ہو ئے اور لن کا
رو بت 7> ٭._.۔
تی !کس طر ا پئی اتنقاعت آمنی عمزم اور جس تکی فیاد بر اصیر ہبڈ کرام
سا یو ںکو ر .اکر والیا_ | ب النا کے سائئۓ اک صصو رت جک بادشاہ کا 7 و ل88٣
مع جائنے لکن خلاہرے خلاف مصلوت بات تھی جہاں ا نہوں نے استمقام ت کا مظا ہر ہک جا ا وہاںل
اڑسی اسم قامت دکھاٹ یک ہکا فر ہاو شا بھی مر عوب ہ وگمیااور چہال نیرت ےکام نک موئح کاو مال
یرت سےکام نےکر سب سا تحیو کی ان بھٹ یکروالی۔ در حقیفقت می ایال فراست اور یرت
سے جے ہر ملا نکویشش نظ رکھا اٹ اور دی نکی شجم حا صن لکرن ےک یکو مت کرٹ جاضئے۔
۳ ت ھان رون مکورو حر یٹ ےکا صل ہوہکہ مسا نکیل کس یککافر اور نا مم کر ور
ٰ قو لک رن جائتۃ ہے (یش رطیلہ ا رہہ سے اپنے دوبان می کی غل ۸0 ٰ
رت سار ہکواسی شیطان صف تکا خر و لم با شاو نے خاد مہ ی کی تو رت سارہ دن اس مد کو
یں سن نے بھی ا سک و فرائیبکہ خرت سارہ نے پاجرونئی دہ با ند
رت ابر ائی مکوج کرد اور رودی 1اس یہي
۸ چب کوک فنت حاصل جو ا مکل سے خلاضی َال الیک شگردواکرنے کے ات
سا تھ ا سکی لن تکو بیان بھ یکر نما مین یج ”نتر یٹ مت کہا جانا ے سرت سارہ نے ال نظالم
سے محجات بانے بر حضرت اب امم نون اس مس یھ یکراک اللہ تالی نے اب ےکر سے
ٰ کا کرت رای پرلاندیادرال کے شر سے مجات دی ْ
ین 7
نالصہ ()
اے
رت لوط علیہ السلا مکاواقعہ
.
اش کے تی ححضرت لوط علیہ السلاماناولو ال اخمیاء یش سے ہیں نج نکاداسیطہ ایک ا کی توم سے سڈ اہنس
کی سک دی وقاوتا انچاؤوں اک ھی تی تی نطرت اور طبیعت سخ ہوپچھی صی اوران یت کے و ام۳ کو
جار جا رک گے تھے اخلا قای تکی د ججیاں تحیر گے تھے تک اضساخیت اور رو ے زشن مرو ترین لوک ای
جیداٹی جبلت بی ات ؟ کے بڑھ گئے جھےکہ اش کے ن یکی تیم د عوت بھی ان کے قلوب بر اشر اندازنہ ہو لی
تھی ا نکی حیواشیت کے ساتے میواشی کو جیا لی شی اور ال نکی لیت 'بہائمکیے پاش ش رم و عاد شی گا نکی
ا6 اسارام مو کو دافدرار کرد اس با سا سرت ت لوط لے
زا فطر ت کا بر ہھوومیں ندرا ہے جرگ نیہ ہق اھ اتا ہی شمد ید عذ اب ان
کی تم ہناور ور می قوم صفی تی سے ماد یگئی۔ 0
لی انید بث :
روی ال حاکم ٹی مستدرکە عن ابن عباس رضي ارز عنھماء ٦
و لا حاءت رس اللق مُرطا انم ضییفان لقوة فَانامم خ بے
ےر “ وھ قھ
قریباء وَحَاء بینایه ون تلع فَأَعَدهن بىْنْ ضیفائه وَيْنَ قوبی نا دک ۱ ٰ
یھرعون الو فَلمَا رََمُمْ تَالَ: إ مَزَلاء بنائی مُیْ اَطهَرْ لَكمْ فانفر اللَ وَلا
تَحْرُونِ فی ضيْفِي )4 [ھود: ۸ء قالوا: ۰-0
ما نریدگ4 [ھود: ۹ء قال: وروی كُمْ قوَة او غاوي إلی رشن شدید یچ
[ژھود: ۸۰].
یه حٔریلٌ علیہ السلام فَقَال: نا زخن رش کن تعیر پت4
ڑھود: ۱ء قَالَ: فطمس أَعِنهُمْ فرحموا وَراَحَم يَركبُ بَفْضوع بۃْضاء ختی
رَخُوا إل الین بالبٌابی فَقَلوا: جَاکمْ مِیْ عِنْد أُسْخر الَاسي قد طْمَس ٰ
اْصارقاء فاقوا يَرَكَبْ بَعضهُم بَضا خی دَخدوا القَرقَق قَرقمَت نی بَحَضٍ
ابو سی وی کو رک 7 سے سی ور و کی
رھ
مس ار ےۓ
َو السماءِ یو سے فمِن أَذْرهُ الأَفْکة 07 ومن
کو١ سے حیر سے سر و
ار
حرج اعت حَیث کان حَعّرا فة
آقال: ہے پل جس ہن
ال اد ع تا لی تمَحخت جع عزن یقال ما الرعوقةفعا بی مو
إلا الوٴسُطی ۰.
تحار مث ٰ
جاک نے متدرک علوإلصحیحین یں جضت اح عبا سخ سے نف لکیاہمیکہ انہوں نے فرمیا:
”جب اللہ کے تقاصد(فرشت )لوط علیہ السلام کے پاس(انسالی شحل میس )1ت نوا ننہوں نے خیا لکیا
کہ دہ مہمائن ہیں جو ان سے لئے آے ہیں انہوں نے ال ناکو اہیے شرجب مٹھایا اور ان کی 3 یں
یں نوا یں اپنے مہمانوں اور قوم کے در مان نلیا 'انکی وم لن کے پاس بے اختیار دوڑپی ہوئی
,لی لوا علے الام نے جب وھ نی خبیث فطرے سے واقف ہو ےکی وج ے)
فرمانے گ ےکہ :مہ می رکیابڈیاں ہیں یہ تمہارے لے النال(مہمافوں سے (یاد ہیاک ہیں (اگر نیا حگکر :ا
جا ہو) سوالڑد سے ڈرواور می رے مہمانوں کے در میان بشھےزر سوا نکر و“۔(ہودر ۸ے) فو ا نکی قوم نے
گی: ہیں جیری٠ عیٹیوں ےکوی صر وکار کیل 'اور نو قوب جا تما ےکہ ٹ مکیاحاتجے ہیں “.(ہود ۹ءے)
لوط علیہ السلام نے قرب یاکہ :تمکاش! یج تمہارے مقاے میس قوت حاصل ہو کی ام سکسی مضبوط پناہ
کی آڑلح اڑا ٴ“_(ہورء۸۰)
یہ سب م کالہ نکر بی رحتل علیہ السلام (جو اہ سا تمییوں کے ”راو خو بصورت لڑکو ںکی
شحل میں آ نے جے اور اھ یمک لوط علیہ السلام نے ا کی چان میں تھا کے گ ےہ :
امے لوط ا بل شبہ ہ مآ کے رب کے فرستادہ ہیں یہ لو فآ پ کک ہ رگزنہ خیچ یں گے ۔ (ہور۸۱)
چناغیہ پھر ححضرت ج رتتل علیہ السلام نے (اللم کے عم سے )ا نکی آ کو کو منادیااور وو سب کے
رت انا ور کے ہی ایک دوسرے بر سواد وائیں بے مان فا کن انل وگول تک جا نے ج
وروازویُل موب ور تھے اوراان سے کے کک ےکہ : چم تمہادرے یا سب سے بڑے چادوگر 02
آرے ہیں اس نے ہار ىی گا ہو ںکو خر ہدک دیا'چناتیہ وو سب (اف را نف کی میس ایک دوسرے پر سوار
وائیسں لیے بیہاں ج٠ کک تی میں داخل ہو گئ پچ ر رات ت کے در میا ی حصہ بی وی ری تی (اۓ
پاش گان سیت او بر اٹھا ی رن ان تا نت کا اک ود تاکن
ہنرو ںکی آ اوازل سن رے تھے یم( تقیاو خھائی سے )اس پور ی بت یکو زین پر یٹ دیاگیا 'اوراک
ضس ار ےۓغ رھ
پصیست یں ضس ہت
نل گا اس کے کے ور لکااوراس پھر نے اسے جم 7 ات
ہووت تپاکرا یر تر شوہ ور “ائی چر
پیصہ ڑا ری یت کے مطابی حلے رہے یہاں ک ککہ اک ضز یت ےک چو فی بی بھی اتال
ک رکا ودو ہل سے ایک چچشمہ جا ب وکیا ' رت کہا جات اد یں مش ے صرف لی
اہی بای :بی۔
تخریج الحدیث:
أَخرچۂ الحاکٰ' ايَسَفرف علی السعرحیح/کتات الشید/۴2۵۷۔
وقال:ھذا حدیثٌصحیح علیٰ شرط الشیخین ولم یخرجاہ۔ووافقۂ الذھبی علیٰ تصحیحه۔
رح یٹ _
حظرت لوا علیہ السلا مان کو ردواقہ دراصل ق مآ نکر می میں لف مقابات اجم الا 7 شی
دونول ط رر بیا نکیاگیاے' سور 1ہو دن لک واقعہ د خر متقاما تکی نت 2 یر روغ
ا ای وا ہک چندا یی جن ئیا تک نشاندد یک یگیاہے جو ق رہ کر بی مس :کور نہیں۔
وا ہکا خلاصہ ہے سےکہ حقرت لوط علیہ السلا مکی قوم اخلاقی مھت کی اناو کو کی تی
الد رب الا کین کی وعداحی تکون لیم اکنا اس کے ہ کید سال کون مانزا نان کے ج اعم تھے
تی اوراش کے علاوہ بھی بہت سس ےمناہوں کے عادبی تھے لجان ان کا جھ جم تارب انساحی تکودامدار
ک اور بس ۓ اٴ مس کو بھی شر مر کرواوو” و2 جس ے کی )۱٣۱۰٥۱۸۸۵۴۴×۳۸۱۲۷۱۰ تی اہ دہ
انی شہوالی خوابشا تکی کیل فطری طر یقہ سے جنس خخالف س ےک نے کے بھائے لم رکوں سے اور
نے ریس یں ے کمرتے تے اور اس عادت خسن یل اح :ُ 1 ےل یئ ت ےک بقول 2 7
ان می عور تو لکی خوایش ہی شخ ہگئی تی اورپ کی قوم بے ش ری اور ڈعثائی سے ا ککر وو ضت لکو ٰ
انا ہو ئے مگی۔
اش ان “و زس نے صفیہ ہس قکوا نتر وو تر بین انسانو لک یکھنا وی نے شر ںان
کر ےکا فیصلہ فرمایااور عذاب کے فرش ا نگی| ال مقر بر آ یی ححضرت تل علیہ السلام دمر
فرشنوں کے مرا ے ریش 'ام رد اور خوبصورت لڑکو ںکی شل میں حضرت لوط علیہ السلام کے یا
آئے دہابنلہ أ کیل بج ےکہ مہ فر ستاد اہی ہیں 'اغہوں نے جب خو بصورت لڑرکو ںکو دیکھا تذ ہمان
بی ہک ہگھ میں بمٹھایا لان مہ خوف داص گر ہو اکہ قو مکو پت نہ چجل جائے ال نکیا تو ئے بد ے وا قف
جے الین ودی ہو اہن سکاڈر تھا الم عحضرت لوط علیہ السلام کے گھع کی د یوار فو کر یا یھ ن کر داخل ہو تے
لم انف 5 سے ہے
ور جقے کے جقے مطال کر نے گ کہ الن الکو لکوہوارے جوا کرو مال سے جو اہی کی
تحضر ت لوط علیہ السلام نے انیس برا مچھایاکہ خالم و !اس ت کلت سے باز 7و اور ٦ہی ں گر
انی فضمانی خویش لکی تی لکرکی سے فو مہ مب رکیل( قو مکی ) یڈیل ہیں الناے کا حکرلداور جات طر تہ
سے خوائش اور یکرواور مییرے مہمانوں کے سا نے بے رسوان کرو ۔ گر و وکیہ شع نکی فطرت تس
ہو گی صھ یکہاں باز آنے وانے تھے ۔ ینہ گ کہ اے لوط !تم جات ہوکہ مکیاحیاتے ہیں تار یی
یڈیوں سے مک وکوکی سر وکیار میں .وس مان لڑرکو ںکو جمارے جوا ل ےکروو۔
جب ححضرت لوط علبیہ السلامم نے ال نکی ىہ بے ش ری رت تقر وے یس ہوک فر مایا
کہ :کا تہارے مقابلہ یس بے طافقت و قوت ہو ٹی اکوئی مضبوط ٹموکانہ ہو جا تو وہاں ناد نے لتا۔
(مقید رہ تواکہ عیرا کچھ یکوئی مضويا نتر ان' قبیلہ یا جتا ہو جات “ہیں اس بے ش رب یکاہ ھا تا )اس ٌ
مو بر غیراخقیاری طور بر بقرىی نان سے حضرت لوط علیہ السلا مکی ڈگاہ عضن تعاٹ یکی تی نصرت
ے ہٹ گی اور انا عو ہم السلا مکیلئے مہ بات ۴ی خلاف او ی تھی اسی لئے رسول اللہ پل نے فرما امہ
:”یَرحم اللَهُلوطاً لقد کان یاوی إلیٰ رکن شدید“۔.( یفارگ و مسلم معن ال ہر مہ)
ار میہرے پھالی لوط سر ر تم فرمائے شا محاف رمات کہ وہ مضوط
کان کی بناہ کے طاگار ہو ئئ ل(حالم اللہ الگ کی بنا سب سے مضبوط سے )
تو سلام علامہ عال نے اپنی فی می٠ کھاہ ےک حضرت لوط کے بعر جو انا مبحوٹ
ہوۓ سب بڑے نے اور لے وا لے جے “فی عال یر سور 7ور ۲۹۸) ٰ
مرش١ جب ملا کہ نے ححضرت لوط علیہ العلام کے يہ بے مکی دشھی تولوط علیہ السلام سے
(ضلی کے طور پر ف ما کہ :اے لوط !ہم آپ کے رب کے فرستادہ ہیں (فر نے ہیں )اور یہ لوک
ہ رگ ز کک نہیں گے۔
صاب تفر مظب ری نےککھا کہ : پھر رح نے اینے دب سے عطراب نا لک ن ےکی
اجازت طل بکی 'اجاز تم لگئی فو انہوں نے انی جتقی صورت اختیا رک بی بر یچھیلاد ہے مو تو ںکا
ہار نے ہن لراردانت یں نے پال کگعریانے اور بر فکی ط رح سفید دوفو ل پا ول سن تی
7 کچ رابنا یک پچ النال وگول کے منہ سس مار اش( سکی و جہ سے ال نکی کی میں ن ھی ہ وگئیں۔ اور ٹور أہے
کے ےک 20 0ئ
اد کنا بچھر تعفر تلوبڈ سے کن گے کہ ذراضمہرو سج ہوے دوکھل یج ہم خر سے ستھیں
گے عکون مکو ہن مل جا ےگا۔
نہر ور رص توعیاالکمصرہتتھ
صص ار یۓے ۵
موعد (وقت مقر رکیاہے؟ اہو لان ےکہاکہ تع فرب یاکہ اس سے بھی جلد جاہتا ہو ل ا نکوا بھی
لا کک دو ٹپ ہے۔ فرشققال ن ےہاک ہکیا مع تیب نہیں سے ؟ تس مظبری ہار ج)
ادرف شتقول نے الناہ ےکہاکہ آپ اپ نےگھروالو لکول ےکر رات کے آخ رکیپ ریس سال
ےکو ھکر جایے اور آپ مل سےکو گی بھی کیچ م کر نہد ھے۔ لمت آ پکی وی آپ 279
نہیں ہو 0 الہ ا ںلکاملان وم اط فک سے اورجوعزاب ٹوم پ ہآ ۓےگاودا 9 کو 20
لوط علیہ السلا مکی زوچہ رے مکل روروایل ییں۔ ایک دوایت میں سا تھ ےکر تا
کور ہے کن سا تج والو ںکو مم تھا کو چچچہ مک نہد ہے ا نکی زوجہ نے جک رر
انی فو مکوعذاب یس جتلا دس ہک سی هگ یکہ ہائے میرک تو یہ کہا تھا کہ پھر دہ ھی ےر گی
اراس پر بھی عذ اب نازل ہوا
دوس گی روامت بے ہ ےکہ لوط علیہ السلام ذو ہکوسا تد ل ےکر ہی نیس لکل بکلہ دہ قوم کے
ا تج یر ی۔ بب رکیف ادہ ھی جاۓ راب ہوئیں--- ۱
رخ ! کو الد رب الما لین کے مرا پکا عم وا ور ی و مکواسں ط رب سے ص دصق
سے مٹادی اگ یاکہ مار شاد ق رآلی:
فَجَعلَنا عالِيّھا سافِلھا وأَمطَرنا عَلیھا حجارۃ من سسجیل' _
متضُود مُسوْمۃة عند رَيك۔( ر/۸۲) ٰ
سو ہم نے ان مستیو ںکوز روز برکردیاادداو ےکا تفع یچچ اود یئ کاو ہکردیا۔ اود ہم نے ان >
کرٹ چھر ہر سائے لور میا بد سائے جھ تجرے دب کےا پان زدہ ےھ
ینوی نے گھاہ کہ تو ملوطدکی پا سال تھیں 'حعضرت جج رم نے اسوں کے ئے انا
ایک بازوڈا لکر انتا انال یاکہ اد یہ وال ول نے رخ کی .انگ اور رتو کے بھو کک ےکی آآواز بھی کی کور سی
قوم سولی ہہوگی تھی لیکن کسی ک تن الا ہکوگی سویاہو افش بیداد ہو ل(ظب ری ۹۸۔ مھ )اور پگ راو
نے جاکر پور یی ہت یکو الیل یا ٹف کر ز مین پدے مارا۔ اور یی سے پنھمرو لک بارش بر ساٹ یگئی جھ
سس مادرے گے اور سب نشالن ز دہ تے۔ غرض سب کے سب ہلاگ ہو نے او رکوٹی بھی ماتی نہیں
چان بستیو ںکی آبادئی تقر یبآ یار لاکھ شی اور ان ستیو ںکو ق رآئی اصطلاع مل ”سؤ تفکات “کیا
جات ہے جن الٹی ہوٹی رستیاں۔ 1 ۳
نر رت ولصا0
حقرت لوط علبیہ السلا حمکام کور ہبالا واقعہ ق مآ نکر مم یں تعدد مقامات پر تزوی اور فی
دولول طر ارد ہواے او ر حر ا۔م لن کرام نے اس واقع ہکی قمام تر ہار ہنی ات بھی نل
فص ار رۓ ْ توم یامزمعمسسی ئداجحسساممسو رجش تج ےت 2
مکی لکن حدت مکور ہلا واقعدلیدے مععلق بجض :خی ود یں جن کاڑک قرہ کر
یش ہیں اض :
۔ وم لوک حضرت جرمُل علیہ الام نے پوری صتی سیت ای رح ایا ور آسمالن و
زع کان ۱ کرک نا جس نر تال آازق کر تار گے
٢د حضرتلوط علیہ السلا مکی بنات لہج نکاذکر اما ی طور بر رآ نکر مم میں سے ) کے مصعلص مہ
تق لکہ نی جن یں می اود جب جت الو علیہ السلام تم خدا کی تی سے کرت
بھیان کے ہمرا و ہیں
پر بڑی صاجز اد یکا انال تو شا مکی سر زین یں ہہوااور اہ تھا لی نے ال نکی جاۓ اتال یہ
ایک جم جار یی فرمادیا سے و یہ “کہا جات تھا۔
ج بکہ سب سے مو کی صا تزاد یکا انقال ینہ عر صہ کے سفر کے بعد ہاور ال نکی جائے
اتال بر بھی اللہ تعالی نے چچشمہ جار ی فرمادہا جکانام ”رع ریہ“ تاور ضزل مقصود پر یچین تک تجنوں
ٹس سے صرف ایک صاع زادیی باٹی نئییں-
ایک امم عم ۔
یہاں یہ دا مجر ےک فورات جو نظر ت موی علیہ الام یرناذرل شندوساو یکتاب سے میں
بعر یش بیبدد نول نے ببہت کیا تر فا تکردیی ہیں اور اب نوراڈ کا گی نہ بھی تر نات سے تفوبڑ
نھیں ے۔ اور تام مخوں میں تریفات کی کیا کی ہیں لن یبد کول بلا ککر ےکک حر ت اناءم
مقر صلوہم لصال و یسل یما کی مقر سز درکیوں کو بھی ان نل گوں نے تر بفات کے ذرلعہ دانمدار
کہ ن ےکی ناک وف موم جسار تک سےحائن ضف جعانہ ول ںکااپنا ایک نظا ے_
نی آخرالئر ان عل. الصلوا وا حم بر نازل ہو ے والی مقح در ل ۰ء ۶ت -
ے تقو اور رو رجیم سے مآ موع سے اور ال ںکماب مق رس می القدر ت الھا مین نے امیا کر اشم
کے مق رس داقتعا تکو بیان فرمایاے اور النع دا فعات ککی رو شی میں بہودی حھربفات رونی دوگ کی طرح
ْ ا کی ین
حضرت لوم علیہ العلام کے ب کور وواقعہ کے اندر بھی حمریفا تک یگفی ہیں کہ خذرات
حضرت لوط علیہ السلا مکی ایک ای مات مس شال کرو کیج پاش یکذب دایا اورددورغ
وک یکی ا لی تربین مال سے اور سے نف لکن بھی زیت مکل او رگرراں سے اس میں ی کہاگ اکم
ححضرت لو یا علیہ السلا مکی دوبیڈیال یں اور جب حر ت لوط علیہ الطا ماپ صاجنزاد یں کے ہھراو تی
کے
کی یریۓ
رض غ 0 پا کے غادھ ررش اققیرکی اک بارا نکی صازادنوں
نے سو چیاکمہ ان کے وال دی صسل تو مفنع ہھ جات ۓگ یک ھکل ہکوکی خ یہ اولاد تو سے تنیں ۔ البمراانہویں
نے رت لوط علیہ السا مکو۔ وذ باللہ۔ دورات شراب پلائی اور جب ا نک بھ ہو شی شہ رہ ایک
رات ایک صا جمزادیاان کے پپہلو مس لی فگئی اور دوس رکیارات دوس ری اور دوفو ںکو عل ہواہٹس
سے اولادسس ہو شی ٦۹ و مو ین اور دوس رب کی ' مع رتیں' کہلاقی سے۔(سخر امتکوہی) ٰ
(مرقحات م تفر یت٤ ان
رآ نک ری ا رسول الہ حو کی عد یٹ مبارکہ نے ا نکی جلیسا ت تاور خریفا تکا لال
کھول دیااور عقیقت دا فربادی۔ لار جب !اھ کے مقدرس می حفرت لوا علیہ السلام بر ایک عظیم
پچتان ہے بلاشیہ الن مو نے جھو کی انچ ای اش کی عم !اش کے تقر سر سول اور انمیاء مہم
لمات پش مک نظاہری ودای فو اش سےاک ہیں وہ متقدس ومط ری جو سار کی عمرای ” اح“
کے خلاف ڑا ہاور اپٹی تو مکوغعز اب میں بتلاد یعاد ہ سے اس عم کے فاحشہ میں تل ہو سکتا ے ۴
ج بکہ خود ال عزتو پل ای الن انا لد سی کی طافظت فرماتے ہیں۔ ای رب ال نکی مقر و
مطبر صاجمزادیاں بھی ہر شھ مکی فو اض سے پاک میں جن میں اود نے ال نکی اک گی جک بناء پر اپنے
والر کے ہم راوس عتتزسب میتی سے نک ےکا عم فرمایااور ا فیس مات دگا۔
لا شبہ اہ صرف الن نا یک وخلاظت می ڈو ےگنر لو بکی مہ موم ع گت ہے چون
طاہر ویاکیز: فو س فور سب ہک طہارت و محصس تکود اعد ا کرد سے ہیں ہہ صصرف اشترا اور جھوٹ ج-
ش نکو ق مآ نکر مکی اصطاح میس ” مفتریات “مکہاجا اور حد مث م کور ہ بالما ودک اک تر یف
اوران کے ا سکفرب وافزا مکی تفحیقت خوب وا کر ثاے۔اعاذنا الله منه شرور انفسناٴآمین
ٰ (ا تمس ار یے1)
)۲( صر یث سے دوس اف نہرک لھا راکرد سس بک نا جا ججے
ہیں نو اہ مقمرب و کیک یند و کو عذ اب سے پان ےگل دہال سے نکال لت ہیں یی حضرت لوب
علیہ السلام اورات کے چھ روا کے ھردانے(جو صاحہ این ےگ انکر“ میتی ےک نے عم ہوا۔
(٢) ےحائی فی اور جی بے راو دئی یک ایا اک ز ہر ہے جو گی بھی قوم کے محاش کی
زوا لکی خی علامت بللہ زوا لکا آنری اج ہو ہے۔ الد تال یکا ع اب متعدد اقوام پر آیا اور
تلف تل فکناہوں اور یں کے سبب متعرد توم کوروۓ ز یی سے تت مکردیگمیا۔ مان جتنا شید
ع زاب ”وم لوز'“ ہوا یدوس کو شال ٹیس قا۔دجہ دا ےکہ بے حا ور تی بے
راەرویگناہوں ہیں بد ر نکنادے۔
مسزاریۓ
-_ ۸ ے
سر ا یس تاد تی از از رت نان
رن کا عم دیانگیا تھا آع گی اقوام کے وسی عزا بکا سب نے دا ل ےگمناد ایل ابمان مل روا
پارے ہیں۔ ناج فاشی می بے داہردئیکاسیلاب اب مسلم معاش ول ٹیل جیزکی سے بڑ تا جار با
سے اور امت مل کی نوجوان نل بڑی زی کیسا ھ اس سلاب مل کی ین جاردی ے ۔
الہ تال ان فا اہر وو باطنہ سے پیر گی ات مل کی تفاشت فرمائے۔آرمین
۹ے
ہج
ہا لوال وائع بڑے ی4
پبض مستمی
.جا کی میاح
ٰ سر
زی نظ رقصز میں کسی ذربیہ سے معلوم نیس ہو سک تا ماسواۓ وتیالہی کے 'اور اید لاد بی وی مو
نی تر نک ریم یش اس قح ہکاکوئی ذکر نی ہے۔ یہ قصہ “میں ستی ماع ول ر ین مھ الر سول اوہ علے
1نعضص٠ل٠ زرل سعلدم ہو اہے اد چرگہ ا دا ہاوگ شا یں ہے ادوس رہے فی سے ا
رج سکس ن بھی ہیں
آوم و موی الام دو ول الہ جلالہ کے خقیم لے تقد راوراولوالزم اخجیاء یل سے ہیں ایک الوالیشر
21 دوس رے کیم الہ دو پان ہونے والا ساد گرا یرم علیہ اسلام کی زبالی ہم ٹک پا
دولوں کے مان بی طا جات و مباح کم ب کہا اور کے ہا مہ نہ حد بیٹ شش بیال نک یاگیاے نہ م جاسنے ہیں لین
ای کے باوجوداس کے و تو کا ہم قد قن کال رت کالہ ىہ صادق و مصدوشل تل کی ز پان صدق ماب سے
کے 'دوز بالنع جم کی شارت وی ران اس :ماینطقیٰ عن االیوی إِن وإلا وحی'
و (ائ م۸۳م)
کہ بی (پپ) خ وا می ےو ےک کت دہ وو گی ہہوٹی ہے جوا نی ںکھاٹی ے“'
آ دم و موی علیہ السلام کے مان اس مباحت _کاحد شود حول کے الفاظ مل اس رم بیا نکیاگیاے۔
ارت
روی البخاري ومسلم ٹی صحیحیھما عن أيي ھریرة ظله قال: (قال رَسُولُ
1 اختج آ٥ وَتُوسی عَليیْهِمَ السلام عضذ رَبْھِمَا فحْج ج آدم مُوسی فال
موسی: آ آدم الْذء ي حلقك ال ؛ بیو ونفخ شی امت من روجے رت لكَ
ملائکٹڈ وَاسْكَنك فی حتيب؛ تُمٌ أَمْبَطْتَ ٠ ناس بخحطِیتبِك لی لأر٘ض؟
فقال آَدم: ان مُوسّی الْذِي اصْطًَ ال برسَالی وبکلاہب رَأَعْطْاك الألوَا
تہاں کل 7 رك نجیاء فک وجحدت ابد ُ ب لتوْرَاة قب أنْ ل٢
قال ام لن شش وا ہو وتی امم رئا ری رف ہمد
قالَ: : نْعَمْ . قال: افتلومیبي عَلٰی ا عَملتٗ عَملا کت از عَلی أَنْ أَعُمَلُ قبْل ان
7
فص الرے
جس شووس سس حَع دم تُرمًی),
وجاء ٹی روایة عند البخاري: اح اَم وَتُوسَی فقال لهُ مُوسی: آنت
7 لِْي اک سد را الْحَنوا و یرت انت ہُوسی الِی | ثت
از یئ زی اخ مُوسی؛ تین ) .
۸۰۹
وحاء تی البحاري أیضا: ) اج آدمُ کرک کا اکر تی کا2 ات
ابونا خیبتناء اح جُتنا من الجَنة؟ قال لهُ آحَمْ: یا مُوسسی؛ اصطفاك الف بکلاِۓ؛
وط لكَ بیلدوء نومیی عَلی مر در ال عَلَي نبْلَ ان ' يَخلْقَبي بأَربَيَِ سة؟
فحَحٌ آدمُ مُوسَی فحَجٌ آوَمُ مُوسَی تَلانا ).
تحار مث
حخرت الو ہر سے روایت ےکہ ر سول امھگ نے ار شماد خرمایا:
حر آدم و موی لیا لسلام دوفو نے اپتے رب کے سان میاح کیا مس میں دم
علیہ السلام موی علیہ السلا مب الب آگئۓ۔
می سی پ آدم ہیں الد نے پکوافنے دستہ قد رت سے کظلیشی
فر مایا آپ کے اندر رو بپ وگ ور شنو سے آ بک و سد ہگر وایاٴ جن یں آ پکور ہانش عطاکی (ان
برا رس ایام ٹی خطا کے سبب ز می نکی طرف اتاردیا؟
رھ جواب میں ) آدم علیہ السلام نے ریا :
”ب بی موی ہیں جنہمیں اللہ نے اپی رسمالت اور ای ذات سے مکلا ب یکاشرة ف عطاکیا
پکو نورا تکی ال وا( تختیاں ) عطافر یں جن کے اندر چرچ ادا مع بیالن تھاادر آ پکو انا قرب
عطاف راکرس رگوش فرمائی۔ فذ آب نے میربی فلیقی سےکتوا عر صہ مل تر اھ ہو اپایا؟ موسی علیہ
السا نے جو اب د ]کہ چا لیس جرس قل۔
وم علیہ السلام نے شرمایا :وکیا آب نے فو رات میں ہے لھا ہو اپایاکہ :
او روم نے نا فر مان یکی سووولخر شکھاگیا“۔ موی علیہ السلام نے رما اں۔ فرب کہ کیا
بے اہک الٴے مل بر حلاص تکرد سے ہیں جس کے بارے می الد تھاٹٰی نے مب ری لق 6ے
1 قل جیکگیدد اک میں ایاکرو ںگا؟
۸۱
رسول ال نے فک یسر ام میم موی ع 1مم ذااب آگے“۔
ارگ یکی ردایت می الفاطا ہک :' ”آوم و موی علیہ السلام کے ما بن مہاحڈ ہوا“ وٹ
نے الناسے ہم رمایالہ : آپ کی دہ آدم ہی ںکہ آ پک وآ پک خطانے جنت سے الا ؟ آدم علیہ السلام
نے نم رمایاکیہ : آپ بی دہ موی ہیں جن یں ار نے ابی رسساللت و کوٹ یکیلنے تب فر الما “سپ ر بھی اب
گیا ےمد ہرمی پردم مر تلق ے بھی خی عی مق کرد گار سول ٰ
ان پا نے مل الہ :
”وم علیہ السلام' مو سی علیہ السلام ا ابآ گئ “(اورا یں لاجواب گردیا)۔
فا کی دوس کی رواحیت شس یہ فا می کہ :
”آدم و موی علیہ السلام کے مان جت و بجٹ ہو لی موٹونانے الن سے قمباناکہ دے ٢ اوم!
آپ ہہمارے باب ہیں ن۲ ابورےربے آ بر وکیااور آپ نے بیں جنت سے مکلواہا؟ آرم علیہ
الام نے فرمایا اے موی !الشرنے آ پکواپےکلام کے لئے نب فرالاادر اپ دستہ قررت سے
آب کے لے ورات ۶ تر فرانی آپ نے ایک ابےے معاللہ پر لام تکرر سے ہیں جے الد نے می ری
تخیقڈے بھی الس برس تحل می رے لع مقدر فرماویاتھالرکہ یس مل لکھائؤ لگا اور جنت سے چا
جا ں گا) خھرض١ی آدم علیہ السلام نے موی علیہ السلام پہ تحت قائمکردئی اور ا یں وا لککیا۔
آ حضرت پل نے تین بار یہ بات ار اد فرمالی_
تخریج الحدیث:
اخرۓة 'البیخاری /کتاب أحادیث الأنبیاء' باب وفاة موس ی/ ٦۔٭ ٥۴
ك-٘ھ۷۷ئئئ)0 ' ایضاً فی کتابٰ التوحید فی کتاب القدر/ باب تحاج آدم و موسی ٥/ _-۰۵ھ۵۔
اج مسلم فی کتاب القدر/ باب حجاج ادم و موس ی/٥۔ ۳۔۲۔
7 رید
ہب مشقت نیف سے عیارت سے ےجو نشر بھی د ناش آیا سے اے ز ن دگی میں
ٰ میا نکی مرعلہ بہ گی لیف معیببت وکلفتکا سمام نکر ڑج ہے امیر ہہو یا مر یب ری ہو یا
ڈیا یٴ گحورت ہویام+ مہ ر تن کو ملیف طرح کے ساٴ ید ملا تک سا متا راپ ے۔ ا یکم
زن دی ہے۔ ق رآ نکی یش ار شمادے : ٰ
لقد خلقنا الإسان فی کد(البلدم 0۴ بلاشیہ ہم نے انا نکوبڑی مشقت مل پر اکیاے )
یقت کک آخری مکی ہے رزگ کی مشقت ہار سے جو لکی مشورت
تس ار بے
ت کہ انان جو لق بھی منہ میں ڈالتما سے وو بھی بڑی مشقت وکلاشت کے بعد اس کے منہ میں پاہچتا
ے۔ ار تو رکیاجائے فو ایک لق کید نے کے کتے اف اد یکتی عحنت بی شید وے فو خقل مان رہ
جائے بلاشبہ یہ قدر تکانظام ےکہ حخللف انسافو لکو مخ فکاموںل میس ڈگاکر انسا نکی ضردریات
پا ھی طور پر ایک دوس ر ےکی دلج ورک یکر ےکاراست بنادیا۔
مرحم دتیاکی ہ رنفت کے چیہ نت و مشق تک ایک داستان لو شید سے پچ ران اتوں کے
صول می ار کک یس سا وی حالا تک ری یداد نے یو کی
2 گا گی۔ا سی جچگی بیس انسان ع رج رپپتار بتاہے_
حر ت مو یکلیم ایند علیہ الصعلوات ذلتسلیرات اڈ سو جل کے تملیل القر ر اور اولوالھز :
ہروں میں سے ہیں د نائیس ا یں ہے شر مشقتوں اور مخکالی فکا سا ہن اکر نا یڑا فر عون اور اس کے
شکرے متابلہ ہوا۔ مصر سے مھ نکی رف اس ودفت فرار ہو ناب اجب ایک بھی آ کے کے
ہ گیا ناو ہال آشھھ دس بر تک معضرت شیب علیہ السلام کے ممولیتییو یکوچ انا ار سمالت و نبوت
کے منصب پ فائہوچانے کے بعف ون سے دی وی قد رم پر ا ال کی ض دنس اور
عنارے وا لہ ا٥خ رض ہو یکافتیں اور مخحقتتیں یی ہیں
شابیرائی مضمقتوںکیی ینار ہیوت ان کے قلب میں یہ خیال آیاکہ دنا ای اس قام مشقت
کاسبب آوم علیہ السلا مکاجنت سے کال جانا ہے۔ال تال نے انیس جنت می موکانہ عطاغ بی ھااگر وہ
مج رممنوص نہکھاتے نہ جنت سے آکا نے جات نہ زین بت اور ال کی ط رح ال نکی او لاد بھی نت
مس می ر بی تاور بد نیاکی سار ی مشعتیں اور 6ر جی ےآ ین۔
چنان جب حظر ت موی عااسلا مکی طحضر تکآدم علیہ السلام سے ملا تقات ہو کی وی میس
ٰ 009 تکی طرفد لاگ یکہ صر فآ پک وجہ سے نییں و نکی مشنقتو ںکاسا مناک ناڑا
اگ رآ جج رمنوع نہکھاتے اور جس تکی بائی تو بر النفافر مات تو جنت سے نہ لکائے جائے۔
نا ٦رہ:۔ یہار سب سے بے عور طلب بات فو ہہ ےکلہ سیا آرم عل۔۔ ااصلواڈوالسلام ' زاون
انسماانع ےج بک ہ سیلرنا موی علیہ الصلو1ڑوالسلام ان کے 2ص ب- س۷
اہرمی جمائی وجود کے ساتھ دونوں کے این ماما تو شکن یں قے ات ہہ لا از کی و رنج
برلارط نے تچ کی حر مت دکورہ اس باب میں نا موش سے لمیان علاعو نے م کی ینس فے ےجبات
با نکی ہیں جناخہ ارب سم علامہ فو وک فرماتے ہی ںکہ :
”اہو لسن القا ٹین نے ا سکا مطلب ىہ بیا نکیا ےکہ دوفو اخیا کی اد واج آسان یں من
ہو میں تو وہالىِ پا ای مہاحذ وا حا رح ہوا
۸۳
۸۳
ہت یں ىہ عدبیث اپنے ظاہر پر سے اور ا کا مطلب ىہ ےک
دولوں حطر تداۓے تی وجود کے سا تج لے اور واقعہ ا ا۶ (مترا جب کی حدبیٹ مہ جات خاہت
وی ےکہ ب یکریم پچ کا دسر انرام صلوا ت الد وصلامہ تع کین کے سا تح آسمانوں میں اور :
بیت امرس“ ایشماح ہوااور آپ نے لن را تکو نماز بڑھا یت ذکوٹی بحیدر خی کہ اش رت
الع ین نے الن جعترا تکوز مر کر دیاہو بی ےکہ شہراو کے متعلق ے_
علاوداز ل اہک اخال بی گیا س ےک مہ با ای مباحہ واتجاع موی علیہ الا مکیذ گی
وھ پسناتن37 ٥1ریپ طز یں آرم علیہ السا م کا دیرار
کم وایا جا ۓ “و ال | عم (نود یع بی مسلم ۳۴ )۳۳٣۰۵ ٰ
موی علیہ السلام نے آدم علیہ السا مکوان ہرالل کی عظیم تو کی یاددھا یکر وائیک کس
رع آ پکووجود کا اس می روپ ڑا یآ آ پکی کال وسالم انا نکی حییت سے لبق فر مکی “سور
لامک بتیا ا جن تکو آ پکا لن بنایا ان سب تو لک تقاضا توب تھاکہ اگر الفلد تی نے صرف جر
مصنوہ ک ےکھال ےکی مان تک شجوچنایید نکھاتے_ ۱
آدم علیہ السلام نے اس کے جو اب یں جو بل کب یر سول اح کے ارشاد کے مطائق
صوسی علیہ السلام۱ کی سے لاججو اب ہو گئ_
ٰ ا یں نے اڑا موسی علیہ السلام کو اد نے جو شرف وفضیلت عطا فرمائی ا سکاذکر فرمااور -
فربایاکہ :اے موی !اید نے آ پکواتی رسالت و خیوت کے شر کنل ےضتقب فم میا شر فی جسکوائی
سے سر فراز فر مایا اور اس کے بعد تر کی الو اح( خختیاں ) عطا فرمائیں آ پکو اس مقا م کا حائل
ہو نے کے بحع ای جات کی لک کی سان" یہ بنا ےکہ الد تحالی نے ورا ہکو میربی خلیق ےکن
حرصہ کی دی تھا؟ موی علیہ الام نے فربا کہ :چا لاس بس ٹل اٹ وکیا آپ نے ال مل ےہ آیت
مکھی ہوئیبائ یک : وعصی دم ربّھ فغوی لا مر '؟ رم
علیہ السلام نے و ھا ۔رمااکہ گی ہاں ! آدم علیہ السلام نے فر مایا : بچمر بھی آپ بی الک بات بر ملاصت
رر سے ہیں -سے الل تھی نے می ری تحلیق سے بھی لیس برس تل دی مقدر فرمادی تھااکہ آ ارم ایا
فی لکریں کے اور ال کی ادا یی انیس نت سے کا یکر ز کن شس اجاراجا تن ےگا)۔
رسول اکرم یل نے ححضرت آوم وحضرت موی صا السلام کے ناشن ہونے وانے اس
سباحظہ کے بارے میس ماکمہ فرماتے ہو ۓ فیصلہ دباکہ وم علیہ العلام نضرت مو کیب غاب آئے۔
مر خلہ کی صورم کیا ہو فی ؟ غاب ہکی صورت ہہ ہو کہ خحضرت آدم علیہ السلام کے جوا کا تقد
کہ آپ جج ملاصتکرر ہے ہیں یہ انل خلا ےکی ھکل ہم سب انڈہ تا کی مخیت کے بابند یں
ضس ال ریغ ۸۳
اور ال تعال کی مخبت میں فیصلہ ہو جکاتماکہ انسالنکوز ین سر اہار ناے اور ز شین یس ایانب اور خلیفہ
ا ے جس کے اتور شر حھتنیں :و رکیپ شیدہ یں او اس ز شین جس بسان ےکر یقہ نے
ہوگاکہ نحضرت آوم علیہ السلا مکوابتر أججنت میں بسایاجاییگااور ا یں ایک عخو مس درخت کے قریب
جانے اور ا کا من لکھانے سے تم کر دیا جات ےگاادر دہ شییطالنا کے بہپکائنے سے اس درخ تک کیل
گے جن سکی باداش میس انیس جنت سے ثیا لکر دنیائیش می دیا جا گا۔ ن کو حنتں سے آ دم کے ْ
رون کا شی سب اکل ججرہ(درخ تکاکھانا) نیس بللہ قد تبارک و تعال کی محیت اور ا کی تقر
تی یرت ای کان
چنر رت ولصاںب
حد یٹ پالا سے متموددابھم ٹوا تد جا صل ہو ئے۔
پل فاکدہ نو اصلاح عقاگد سے مصعحلق سے اور ىہ عقیدرء رس سے عدیت یں سرب کے
من رین پر واج رد ےکہ اڈ دکی نظ مراور مشتی بت ابیز دکی کے خی ہپچجھ نہیں ہو سکمااور ج جج چھی دنیایس
و وع ازس ہو جاے وومشیت ا بی کے جائع ہو جاسے الرجہ بہت سے انسالی محاللات بی انسالنبار کی
تما یکی رف سے عطاکردواخزا رکو استعا لک رج ے اور ای اضیار کے کج اط استعال یماوس زا
ٰ تن ہو جا ےب رکف !نقذی الھی سر عقید و رکھنا ابا کا خیادی گن سے اور اس کے بی امن
رہاے۔
7 دوس ا فدہ ”7آ وا“ سے ممعلق سے حر یت سے معلوم ہو تا ےکلہ ربنمایان دن کے
انلدر با بھی اختلاف راۓ ہو سکم سے اور اس اختلا فکی نا پر فغفطی میاولہ و مباحش بھی جائز سے
گ٠ رحدوددشر لجع تکر عای تکرتے ہو ۓ اور جن کے اظما رکسلنۓ ہو 'بچھر جب تن اہر ہو جاۓ تو ا سے
و لکرج بھی ال عق کا شوہ ہے جیسے مومی علیہ السلام نے صضرت آ دم کی با تکو طض سمچھا اور
2 ار
۳ ال ایمان کے لے ”یمان بالنیب' صروراے میق بر صادق المصدوق یچ جو خی بکی
خرس بقلا گی ان بر دل و جانع سے اییمان لانااور ا کیں سا سجھناضروری ے ' جیراکہ م مکورہبالا واتع
٥ 0 - 0-7
خمردیئسی علیہ السا مکی ہر بات بر خواواٹی ناش خفحل میں آ نے یا فیس ایمان لا ناضرور یردے۔
ات ینف دوسر ےلوگ جو خی بکی خج رسس جلاتے ہیں ال نکی پاتیں مت رنجییں ہیں اکا :من
اور بھی تر ورگ اویل بر این کرنا ٌّ ںی طرح حض خور اخ بی راوررعیان ولایت
بہت کی با اپی غیب دالی کانکہا رن ےکی یل نکرتے پچلرتے ہیں ان پر بھی لیقی نکرا تج
تضص اور ےغ 007ص0 ے _۔_۔ ۸۵ہ
نہیں فنص وخ ج بہہ دوشر لیعت کے صع رتا مکامات سے متصادم ہو /ا۔
×س مڈیٹ پل سے ایک اہ علم مہ حاصل ہوک اللتعالیٰ نے وراوکو حضر تآدم علیہ السلا مک
تخلیق ے بھی ما مس۶ س شی لک تھا۔ ۱
دو م می بات کہ ندرا تکو عق تھالی نے اپپنے ہ تھ (ز جیما ال کی شائن عالی کے لال ےے)
نے کیی...۔ دوٹوں پاقیں تق را کی فضیل تک باعت ہیں اسی طرح ق رک نکر مکی آیت وعصی
ادمرَبه فو ی“فذرات میں بھی اسب الفاظط سے منقول ہے۔ کن خذرات کے موجودومخوں میس ہے
ارت کی ہے۔ -
۵ ایک اہم فامنرو مہ حاصل ہواک ہاگ رعسی وت دواشخائص کے ماین اختلاف رائے اور تچت
از کی ہو نودوو لیکو ایک دوسم ے کے مان اور فض ال اور ا ھی انٹیل بیالناگ/ناعا بج]-
اخاف را ےکی بىاء ہکدرورت نہ پیدراہ کے خضرت موی علی السلام نے آوم علیہ السلام کے
فا بیان کے اور ہوم علیہ السلامنے موی علیہ السلام کے۔
”“سسسے۔ مہ بے
۸ہ
کر پر کت
ا وال واتع(4۸
سسجس_أیس١۹طجےىے۔ سے سے ے ۸
۱ +٭
موی علیہ الام کے بج رکاواقع
ہیر ۱
بی اس ائیل دہ قوم سے جس نے اپ انا کون تال مال اذ عتیں پنیا ئیں ت کہ انیس ع٠ لک نے جک
ےگ من ہکیا۔ ضد اور حنادا نکی مر شت میں داخل تھا انشرتعالی نے حضرت موسی علیہ السلا مکی وجہ سے اور
انی دحاو لکی بدوات بے شا غفتقیں بی اسر ات لکو عط ای او رسکئے بی موا برا یں ضرمت موک کید عاکی
نام بر ماب و مشکلات سے حیات گی ین ان سب ننتوں کے پاوجودان کے لیت جبڑاء نے حطضرت عوسی
کوایذاء پان می لکوٹ یک میں چوٹڑئی۔ چنا جج ایک مومع پہ جہلاء تی اس ایل نے حضرت مکی کے متحاق
یہ مشمپو رکید اکہ اکے حم کے شفی حصے می ایک مرخ ہے اور جن مس میں مہ رض ہوا کو 1ور“ سے
وولئل ور گزظیاروای چو سز داقعہ یل آیا۔
ایر بث :
آئی بن ھی ۶ ہد یں ہا فال رون ال کل :
۱ هن کی رین قانوا: ما َسُعتر ھٰذا 7 نپ کہیسی 2 ب رص
وإما کر اما آفةی
ذ٦
سے سے
ال أراۃ ره بَا قالوا لموسی؛ فحلا یم وحدف فوَضّع پَابَهُ عَلى
و دنت ۳
لْحَحَر ؛ لم اغتسَلٌ ٤ فلما فر غ اَل إلی اب ليَأحدمًء وَإك الْحْحَر عَدا بوٴبی
پک س جح
اذ مُوسّی عَصَاُ فروُٰ رانا أُحْسَنَ ما عَلقَ ال أبْرَأهُ ممًّا یَقَولُوثَ وقام
الحشی فاحد ئ فلبِسَُء وٌطفِقَ بالحَجَر نئان تد بالحَحر لندبا:
بن ار ضزیب تا أَوْأَریَمًا أُڑْ عَنْسًاء فذَلِكَ فَوْلهُ ٭ یا اَيهَا الْذِينَ آسّوا ل
کرت اکالوی ااراٹر کی 7 اھت کٗوگکمنتتہن سیت ٰ
(الأأحزاب: ۹ .
وی روایه عندہ عَنْ أَبي عَرَیْرَ عَنِ النی اَم قال: ( کائت بسو إسرائیل
تلود عُرَاقٌ وی لی کان مُوسّی قَلے يَفيل رَحْنہ فقالوا
۸۸
ضس اور ےۓغ
دال تا سم مُوسی ا تَفتسیل ما إِلا أنهُ آَدْرُ فَذَّب مَرَه يَفتسيل ؛ فوٌضع توب
َلَیٰ حَجر ففر الحَحر بٹوبو مرج مُوسّی فی إِره َقَولَ: راعش حتی
نظرّتٗ ببنو إِسْرَابیل إِلٰی مُوسی؛ فقالرا: واللق ما بنُوسًی مِنْ تاس وأخذ ُوبَه
فَطَفْقَ بالحَحر ضربا) فقَال .- شریرة: و (وائلق اِنه لدب بالحَحر سے روہ
ضَرُبًا بالحَحًر).
۱ تد ارچ
سی +س مت لی ے۔ وو فراے ون کن
رسول از مین نے ار شماد رمیا : ٰ
”موی علیہ العلام بہت باحیااور سز فرمانے وانے ھ ان کے مم کاکوگی حصہ انچائی حیاکی
وجہ ےد ماشہ حاسلکنا تھا ہنو اص ر ایل کے موزبی ٹم کے لوکوں نے ا کی ا یت بیچانے کے لئے مہ
کہناخر ور عکیالہ 9 2 070
کوئی عیس ے ات یخس ےب یٹگلنچ یو کام رش )ہے اوک دوس یآ یت ہے۔
ال تتالی نے ارادوفراکہ موی علیہ اسلام کے متلق جو چھ دہ عیب ز یکرتے ھے ال
سے ال نکی ہرآت ئ2 ناجیہ (ا سکی صورت نی ف ماق کہ )الیک دن موسی علیہ العلام ای
تیاۓ حاجت کے لئ صحر اس لے 'اور ای لپپٹرے اس کر ایک نھر چیہ رھ د ہے یل
فان گے ٹسل سے فاررن ہدک انوں نے اپ ےکپڑے اٹھائ ےکی رکی رف ٹر غ کیا کیا
بین ہی ںکہ پپھران سک ےکیٹڑے لے تیزی سے چچلا جار ہا سے ' موک علیہ السلام نے انا خصا ایا( اور پچھر
میرف دوڑے) نے لوگوں نے ایل برجنہ دکھھ لیا اور دی کہ اللہ تا یٰ نے ا کیل مرن اور
و بصورت حم عطاکیاہ (ادر در عیب ہ مر سے یاک ہیں )اود اللہ نے ا نکی ہہ اُت نا ہر فرمادیی ٰ
7,777 0 اف 'اور پھر ر گگیاموسی علیہ السلام ن ےکپپٹرے لئے
ایک کن 7 رابنا محصاسے پھر بی مار اش رو عکردیا(خصہ اود ش رم کے مارے 6ر سول اللہ پٹ ْ
نے ار شاد ف رما اککہ :اش کی !پھر ال نکی اس ضرب کے نشانات ہیں تن باجار اج اور ای واتد
کی جانب تح لن کر مکی آ۔ی مت ما کہ مس اشاد وف ما کیا :
یا أبُھا الّذينَ 'امُنوا لا تکُونُوا کالّذین اڈوْا مُوسی فَبرَأهُ الله مِمَّا
قالوا ”کان عند الله و جیپا۔. (الاحزاب) ۱
'اےابیان واواشہ ہو چا تم نلوگ کی رح ؟ نیوں نے موی ( علیہ السلامکوایذاع چا
چم ایند نے ان کی بر ات اہر فرمائی اس جات سے جو انہوں نے (بی اص راٗیل نے )کی اور وہ
(م وع )ند کے نزدیک بہت صاضب و جاہت وشن تے “۔ ۱
ھیے۔
ضس الریۓے ٰ " ۸۹
١ ایگایک دوس اروا ت مس رت اوہ ریخات ہی ںکہ نی پنے فرما
ازم رف لک وایت 7ا سے رسب پچ" "مم" تر
ْ لے شی سے ) آ میں ٹیل ایک دوصر ےکی طرفد ریگ ھکر تے تے اج بکہ موسی علیہ السلام تھی
یش سس فرماتے جے(سب سے جج پکر جو جیا فطری تقاضا تھا بی اص ال نےب ہکہناش رو کردا
کہا کی تما مو کوہوارے ساتھ تس لکرنے س ےکوئی ماع نیس ہے سوائے اس ک ےک دو ”در“
ہیں (و, شف جس کے نے مس مرض ہو) ایک پار موس تس لکیلنے تشربیف نے سے ا نے
یک پچھربررے(اورننسل فرمانے گے )دح روہ پچ ر(ار کے محلم سے )انا کے کپٹرے سیت چھاگ
گا موی علیہ السلام اس کے ت یی یی می سککتے ہو دوڑے : اے پچھر میہر ےکپٹرے! نان فک کے
یفاص رائیل نے موم کو (عریان) کچھ میااو ررکنے گ کہ ارڈ کی تما موی کے اندد توکوگی عیب نہیں
ہے۔ موکیانے اپ ےکپڑے لے اور پچ کومار ناش رو ںکردیا“۔
اب ہر میٹفرماتے ہی کہ ”ال کی عم اچھرمیں اس مار کے نعاات ہیں تقر چیا ےت
تخریج الحدیث:۔ ٰ
بثان ی/کتاب أحادیٹ الأنبیاء ۸٦۔۴۳۲
الروایة الثانيه:بخاری/کتاب الفسل۔ باب من ا غتسل عریاناً/۔۳۸۵۔
رواہ مسلمٴ کتاب الفضائل۔ باب فضائل موسٰی۲/٢٦۲۔
نٹ رح الیر مج
اصل واقعہ یہ ہواتھاکہ ضرت موی علیہ السلام اس زمانہ کے وسقو رکی ط رج بکنو میس یر
نات و بر ہٹہ ہیں ہوتے تھے جس پک ال ز مان ہکاعام د نوز بے اکلہ دولو 040001 00
تے اور اس ےکوی معیوب بات نہ ھچ تھے ج بک حخرت موی علیہ لسلا محلم ش ریت اور حا سے
فطری تقاض ہک ہناء پہ مھ پکر سمل فرماتے تھے بکہان کے اندر فذاس قد جیاکاخلبہتھاکہ تم مکی
حصت بھی ظاہر نہ فرماتے تے' قومم نے مہو رکرو یاکہ موک یکا ابا حم اور سن چان کا مقص رکو ی
مر سے ے دہ تفی رکھناجاتجے ہیں. یا تق بد حلکام رخ ہے یااو روگ ینکلیف ہے حے وودوسروں سے
میا ناحاتجے ہیں اور ہی تفر ت موی علیہ السلا مکیلنے نہا یت تکلیف دہ بات 0221 ےک جن تسا ی
نیشم سو ہیں ہمہ
ہیں ای رع ظاہری اور 08 9 770 اار جن منائے ہیں اوراکیں ہ رطرپع کے
ب یوب سے پاگ رت ہیں" چنا اللہ تال نے بنو ا رابتل کے اس من عومہ بے بنیاد تو لی
تی تردیداور موی علیہ السلا مکی اہ رید جسما یکاملیت وو بصور کون سخہاء رواخ ة بش
ا سس مت اگئی۔ ٰ
۹۰
رس ایر ہے
جب وہ پچھرابلد کے عم سے موی علیہ العلام کے کٹڑے ےکر پھاگا تذ موی اس کے تھے
دوڑے او رکاٹی دو رکتک دوڑے وہ پھر بتی اسر اتل کے اکن کے این جن یی ات اکن کااوز
لوگوں نے انیس برجنہ دیکھا اور اکیں معلوم ہہ وگ یاکہ وہ سمارے گوب رت مز 2
ارے میں کت پجھرتے تے الن کے اندر میں ہیں اور جب ہہ مقصید درا ہوگیا وو پٹھررک گیا
حضرت موکیانے ا نےکپٹڑے لئے ہر2 وط ھغارت تی" نف کے جو
نہیں ہوئی تی پچھریر خصامار ناش رو کر دیا۔ کہ اس مار کے نشانات بھی اس پچھ ربہر موجودہیں۔
ای داق میرف اشار ہکرت ہووۓ ہ رن ری مکی یت نازل ہوک ا
شاے ابیماان والو !حم ان لوگو ںکی رح نہ ہو جا تہوں نے سن علیہ السلا مکوایواء بای
پچ راہ نے انیس جرب یکر دیاان ل(لوگو لکی) بات سے اور وہ( وی ) اد کے نز دیک بہت
و چے اور جم لصصورت تھے (9ا اب )٦۹۸
نر رت شتطے
)۔ با فا دو حد شال اڑل بداکہ اللہ تال اہ ٹب روں کے لے ابا کو بر دہشت
نی کرت اوراس کے ازالہ کے لئ فی الغوراقدام فرماتے ہیں “چناغچہ موکیا کے لئے جھ بات باصث
تسورق 7ا7 عبات 1ی فرب نی موارے ؟ تن ہکو ٹیا نیس اذیت باہھا
ینہ گے
٥ص - +/)
ال ایما نکو عم دیاکہ دوالنالوگو کی ط رح نہ ہو سجائیِں جنہوں نے مو 0ھ "۳0۳ئ0
السلا مکواہیے طز مض سے ایا نہ امیس )اور بی التقیقت ا سآ یت سے مل چیہ دو کو میں جن
تما نے می علیہ لسلام سے متمق اب ایا نکو لف بات دک میں اور ایا ےک ہار ی بیض
بات نی کے لے بات ايذ ام مہیں۔
خم رض عی تعالی اہ اخیا ءک کو گی ایذاء فی ٹنیس ہونے دتے اور اکر ا نہیں ہلا ع وسقراء
س ےکوی ایت تی سے وا سکاازالہ فرماتے ہیں۔
پچ رکاکپڑے مک ےکھ بھاگناایک خی رمعم ول بات ےکہ پھر جھھی بے ان چزاز خودشعوری
ترتع ہر ےکہ پچ رکی ىہ تحصوعییت کی ںکہ دوڑے باجھا گے لیکن عن تعالی شانہ ما عم ہرسخ مر چا ْ
ہے اورہر یزاس کے مع مکی ت ٹع سے اور یہ ال دکی فقدرر تکامل ہکا جیب مظاہرہ تھا۔
اسی طرحلمڑ یکا پچھر بر نشاان ڈال د ینا بھی الد تھا یکی قد رت کا ل ہکااظہار تھاکی ھکل پظر
000 م_ے۔ ے ے ےج ےت ے ےت ےج تد ودے تح ےی ے ۹1
ٰ گلڑی سے زیاد: خت ہو ہے اور مو یی ہو جا ےکہ گکڑ یکواگر رپ ماراجائے واڑی وٹ مالی
ے اور 2 رکو اث نہیں ہوتا۔
97 دی ا ۴
کے تاب ہیں' ان کک خاصیت جلانا سے ان ححخرتابرائینم کے لئ ہگ علم الپ یکی وچہ سے گلزار
جن ای ہے زج رکی خماعیت حم انسمالی کے اندروثی نظا مکو اکر کے انسا نکو موت سے ”مکنا کر
ہے مین ال جن لیر کے لے زہ رکا داپوالہ ارت مجن جاتا سے یا یکی یمیادی خاصیت خر ق کر نااور
لوا سے گر صما کا پور اشک اہ کھوڑول پر سوار دجل ہکی مضہ زور لہروں بر مصت خرائی سے چا ہوا
کنارے تچ جا اے او رصی کےکھوڑ ےکا ح مک نی بھیکنا۔ تذ خاصات ایا بھی عکم ای کے ابع
اور ملیتِ ابیز دکی کے پابنلد ہیں اور اد تا ٹی ایل د ناس ابٹی فند رت کاعلہ کے اظہار کے لئ بسااو ات
اس طرع کے خیمر ملمول واقعا تک انکہار فرماتے رہے مہ ںکہ کہ ال افو ںکی قفات کے
بردے یٹ >
و یک اورائم2 کرہ حر یٹ ہے ے جا گل ہوا کہ ہلا ءکی ایا رسای سے انیم یم اسلام ۱
بھی کفوبز یر ے۔اس می جیارے لئے تمہ ےک دی نکاکام کر نے والو یکسلئ بببت سے لوگ
ایذاء رسا یکا باعث نے ہیں۔ مھا اوردعا اص کیل بت سے لوگ مص زی من جائے ہس لیکن ان
اذ ا پر حی رک نا بی ال ایمالن اود حاممناد بین کے لج داعدذ رصن ہے ۔اکی ہر کے در لجہ ان کے
در جات بلند ہو میں لو کی ابذاء پر صب رک انس لن کے با شی مقاما تکوببہت بلن دہکردیتاے۔
۲ صعٹراتانمیاء مہم السلام امت کے لئے ای ک مل نمونہ ہوتے ہیں 'اخلاقی وگروار 'ائر از و
اظوار حمادات و محاخرّت حتا دو حبادات خم رم رشب کے اختبالر سے ای کفکا مل اس ہہوتے ہیں ای
لئے الد تعالیٰ ا کی پا نی اختبار سے کائل بنانے کے سا تھ سا تج اہ کی اختمار سے بھی ککائل بزاتے
ہیں ؛ بس رب بر ت کے اظقرار سے وہ سسیکن ہودتے ہیں فو صورت کے اعتمار سے 7 نہیں 4ھ
تین منایا جا تا سے کہ لوگوں کے دل ا نکی طرف ال ہو او لوگ ا نکی بات سیل ' اور ایر نے
زی سا مکی دجاہ تکیگوالی دق جی اگ او مگزرر
چنانجہ ىہ ظاہری وجاہت بھی شر یت مس مطلوب و مو سے ديین کے حاین "دای اور
ین ےتا یااختبار سے گید جیہ ہونامناسب سے جاک ایل اد لا نکی طرف مال ہول اور
الناکی بات یل لان ىہ وجاہت اع پیشن نہیں بکلہ عطاکرد؟ زرت ے جو لن صاحب دن و
عامل لم دی نک تی تھا کی طرف سے عطاہوتی ہے۔ چان مشاہدہ بھی بی ےک عموماحق توال
شانہ علما مرا مکو پا نی ود وعا ٰ یکمالات کے سا تج خاہ رکید جاہت و سن بھی عطافرماتے ہیں-
نو ار سے سے سے ےس سے ےس ےسوو۔۔۔۔۔۰ ۹۴
بھی وج ےکہ انس نکی طاہ ری وجاہت ؛ز ہم تکو بڑھا نے کے انختیار می ذر الخ اخقا کر
بھی حدود شر بعت ٹیس رج ہو ۓ مطلوب وگمود ہے اور صاحب شر لت می ملین کی تعحدداحاد یٹ
قی و ٹل ی اس برد لال کر کی ہیں۔ وادڈہ ام
(ہ) بھ یککبھار الو قار واصحما دجاہ کو گیا یے خی ار کی حالا تکاسا ماک ا پڑ جا ہے
70 و و 5 9م ا
علیہ السا مہ اہر اختبار سے بھی صاحب وجاہت دو تار تے اور با ضنی اختبار سے نبور تکی خظظمت و
کے حتف ےل ئن رآ ضررت ا ے بر حر ظ نت 7 ڈا فک اءاتی
ٹتی. لین اس میں بھی من توا یی جیب وخریب میں اور حتیس پ شیدہ ہی ہیں یی ےک
حنرت مد کے لے شیدگں۔
٣
اس ار رۓغ
وا رات 0
صوسھی علیہ السلام او کلک اوت
سیر ۱
الد کے بی عضرت موک صاحدب عفظمت و جلال نی تھے 'عز اخ مارک ٹل جلال بہت قھاأت تال نے
اہ یقت بھی عطافرمائی می 'انیاء یو بھی جنت کے مردوں شی طاقت رت ہیں ' ٹل یکوایک ب یکھوزے
ارا نذا گی تضا ای جلالی شان نوہ شیکہ پھر پر بے اعتبار عصا بر ساناش رو غکردیا۔ کک الموت روح مارک
یو ےت لے اس جاگاو جلا لی ممںش سے اور رو ن کی اجازت طلب گی تو جلای شا نکا جیب
مظا ہر و ہدااوروسستب مو سوگی نے فرشم ھ یح لک انس ی آگھ پچھوڑڑالی_
زان وت یک اس جیب وا ہکو ہت ری ہے؟ جج ین اسا افو ٍ
یئ
یسا فیرحت :
روی البخاري تٍ صحیح عَنْ أَبي مرَْرةَ لہ قَال: ) أَِْل مَلَكُ الْمَوْتِ
لی مُوسی عَليْھِمًا السّلام, فلمًا حَاءَُ صکہ فرع ای رہ فقال: أرْساتیي إلی
َبلٍ لا رید الحّوٴتء فَرَد اللق عَليْه عَیندُ وقال: رع فَقل لَهُ َع یه عَلَٰ من
لور فَلهُ بکُل ما غطّت بو یه بکل شُعرٍ سَق قَال: ای زبے کہ قال: ام
لماع قالَ: فَالآثَ فَسَأَلَ ال ان یه مِنْ الأَرْض الْمُقَذُسَة رمیة بجھن قال:
ال رسُول الل ٹفل کت ا نمٌ لأ ری كُمْقَيْره لی ایب الطریق عِند الکیب
لأحْمر ).
و روایة عند مسلم: ( جا مَلَك اوت إِلّی مُوسی عَلَْه السّلام فَقَالَلَ
ا٘حبٰ رَبِكَء قال: فلطُم مُوسی ء لی السّلام عَيْنْ مُلكٍ المّوٴتِ فَفقَأمَاء قَال: تر فر جع
مك إلی لق تَعَالّی: فقال: انث أَرْسَلتي لی عَبلٍ لَك لا ید المَوتَ سی
عَيْيء قال: فرَد ال ا عَيند وَقال: ارح لی عَبْدِي فَقَلِ الْحبَاءَ تریڈ؟ فَاِن
نت تریڈ الا قشم يد لی من لور مسَا َوارَت مد ِیؿ شَعرقفَنكَ
تییشُ بھا ستَةٌَ قَال: :تم مه فَالَ: : ٹم تمّوت. قَالَ: الآن مِنْ قریبٍ رب قال :
تی من الأَرْضِ الْمْقَدسَة رَميةَ بحَحرہ قَالَ رَ کک واللز لَرْ آئی جِندهُ
ارک ری خادب ار لد کیب اواخنر
ع لیت
ترجا یر بث :
ام یفاد نے انی نام حضرت ابو سے نف فرلاہ ےکہ:
”نک امو کو حضرت موی علیہ الام کے پاس بھی ایانب دہ موجن کے پا
انہوں ناک کیٹ مار یا فرشت اپل وا یل ان رب کے پائس لئے اور ۶ ,۸
آپ نے جھے اپنے ایک ابیے بند ہک طرف جج راجومر تا "0020
کی والی لوف ئیاودار شادف ا کہ لن س ےہ وکہ ایک با تھ تی لکی بپھ پر رک دمیں انکاا قح بل کے
نے ال بھی ڈھانب لے استنے بی سال انیس مز یر حات مل جا گی موعانے ل(مہ مک نکر ) فرمایاکہ :
اے میرے رب !ئگ رکیا ہوگا؟ فرب یاکہ اس کے بعد بچھر موت ہے۔ فرمایاکہ جب اضعا مار صوت ہی
ے) ای وق تکیوں کیل" ہ ص9
ٰ مس (یتا قد کے اتاترء ی یکر دےکہ پچھ رپچیگنے کے بفقرر صافت رہجائے۔
رسول اللہ تل نے ار شاد فرمٴ :مر می وہاں ہو ق تم ہیں (صحاب کو )ا نکی قب درکھاسا جو
راس کی ایک جانب سر مہ کے فرکیپ داع ہے “۔
مسل مکی رویت میں فرمااکہ :
”یک اکدوت موسی علیہ السلام کے با انسمالی صورت ٹیل تش ریف لا اور لن سے خ رمیا
7 :گے ر بکوقیول سی یی مو کیلع میارنہو جا ہے “موی علیہ السلام نے مہ کن اگ رملیک الھو تکی
ھب ایک ایا تمیٹ رما رہ ال نکی ہہ پپھوڑدی۔ فرشت مو ت' اید تھا لی کے پاس وائیں سے اور عرش
ا : سپ نے بے اپنے ایک ابیے بندہکی جانب گند اہ دومرنے کے لے تیاد ٹیس اس نے تو
۳ ىی کھھ بیھوڑ دبی۔ رسول اللہ لگ نے فرما کہ الد تقاٹی نے ال نکی کیہ وائوں لو بادگی اور ف رما اہ :
میرے بندہ کے با پچ جائ اور اس سے لو کچ ھک کیا یز گی جات ہو ؟اگر تم رید حیات جات ہو
انا ارک ما تھ ایک تن لک یہ سر رکھ دہ تخہارا پا تھ اس کے یبال مچھہائے ات ہی سال تم ز نرہ
رہو گے( تہار کی عمرمیل اضان ہکیاجاۓگا)۔
موسھی علیہ السلام نے ہو راک : رکیاہوگا؟ف رما یاکہ اس کے بعد بر صو ت پآ ت ےگیا۔
رما الہ اے مر سسمومسبود حسیشی : بے ار مقرسہ
سے پچ رپیگنے کے بر ر صماضت بر موت د ہے
ر ول ااند ج پٹ نے ار شاد شرمایا:
او کی شھ !اکم میس وہاں ہو تا نو سی ا نکی قبر دکھا ناج راسننہ کے ایک طرف ص ری
کے ریپ وا ےر
رواہ البخاری/کتاب الجنائز۔باب من اأحب الدفن فی الأرض المقدسۃ ۲١۹۸٢۳
رواہ مسلم/ کتاب الفقضضائل۔ یاب فضشل موسی عليه السلام*٭ ۱۸۲۲/۴۔
نتر ار یش
اکر مم کی اس عد یٹ سے مہ بات معلوم ہوٹ یکہ اداد رٹ الھا ین انبا یہ ا السژا مکو
ٰ وت کے وفت ...و لو ھکرامت داع زآز یہ اققیار عطافرماتے می کہ دہ مد ت یاحیاتدد ناش سے سے
اہی اخقیارکریں۔
۱ بج احادیٹ میں خودر سو لکرمم جچے کے متحلق سیل ہمھائٹڈف بای ہی ںکہ کپ علیہ السلام
کو بھی اختیار دیاگیانتاادر آپ نے كیا کی ملا جا تکوت بد کی اور فرمیا:
اللهُمُ الرّفیق لڈعلی' ار اسب سے الب قد شی کے پا“ :
اور کی حیات مطھہرہ کے آخ رىی الفاطط جے جو آپ نے ز پالنا سے ادا رما ۓ اور ا کے بعد
رو مبارک مال بالاکی رف پرواک رگئی _ صلی اللہ علیہ و سلم
ہہ رکیف! امم رر و ری علیالسلا مکی موت کے وقت جب الد تا لی نے فرشت ا یل حطر
عمزر انل علیہ السا مکوان کے پاس جیا فذدہایک انساڈی شک یں تشر یف لا ئے اوران ے ب۳
رب کے مطالبہ پہ لیک سے اور یہ در تققیقت اعلان تھا ا نکا وقت مو ود کن کا موی علیہ السلام
کے مرا لک اود تق تی ا نہوں نے جب یہ بات مل تفر حضب می فرہتد اہ لکوایک تھٹر
ڈے مار اجس سے ال نکی انسا لی اکھد پچھو فگئی_
کہ ححفرت عزرائحل علیہ السلام اسان ی صورت می تھے تذانسانی صورت کے خواص بھی
انیس مل ہو یئ سے می وجہ عھ کہ موشی علیہ السلا مکو تپ مار ن ےکی طائت حاصمل ہ وگ یک وک
ایام خہم السلام وا تعالی ججنت کے مردو کی قوت عطافرماتے ہیں ورن ہاگ ملک اوت اتی اصلی
شحل میں ہو تج فو حفرت موس بی ا نکو آ یرنہ مار سیت تے۔ ٰ
رت عزر نک کیٹ رکمانے کے بعد اپنے رب کے پا شکایت نےکر ین ےکلہ 1 جتکجے
ایے ند ہکی جالنا لی کو سج دیاجو مرنا بی نیس جابتا۔
ال تال نے انیس عم فا کہ میرے بد کے یا پاواددان ےکہوکہ شیہیں زم گ اود
مدت دوفو لکاانتیار دیاجاجاے صے چا ہو اختیا رک رلواور ا سکیا ر دہ لیقہ یہ ہوگاکمہ ایک خی لکیاُشت انا
اھ یروس کے تی بال تار یی کے یٹ آ سی اتے بس تہ از کی بای جا گی
ٰ رت موکیانے جب ہہ بات کا چا جمالہ : الا پا ات بر کیا ن گی کے بحد پگ کیا
ٹضحصالفر یث ۱ ھ۰
ہوگا؟ رما کہ اس کے بعد پچ ر وت٠ نی آ نے گا(کہ دی ریش راد نیاوی انا ے) موم نے فرا کہ
جب آن رکار موت بی آنا سے نوا جھ یکیوں کیں۔ مہرے رب شی ا ھی تیار ہوئں۔ الب مب رکا خو ائئل
کےا بے ارضض مقر سہ (بیت المنقعد )کے قریب وجوار یس وت آئے۔ ایند پتھاہی نے ال نکی
اس خو اپ شکو راف رمیا
رسول اللہ یکل نے فی کہ : گر میں واں ہوج فو میں ا نکی قی ردکھا تا چھ راستت کی ایک
ٰ زی ٣كا نے ذِ ٰ
نرہ موک نے باوج داختار لے کے د نیاوی حیا تکو قبول نہ فربایا ٤ص0
الا غہوں نے سوجا ہوگاکہ جب مود تی لی سے و بچھ راتا عرصہ می ز ندود کر ز نگ یکیکافیقیں
ابٹھان ےگ یکا صمرورات سے اید کی طا ات ہب ے بڑکی فقت ے۔ جب شبدا کی اروا چر
و نت میں اڑتی پچھرتی ہیں تو اخمیاء یم السلا مکی ارواج منقدس کو نو قرب کا
۱ ویش نہوں نے لقظاء ادید(الش کی ططا جات )کوانخقبار فر میا
وللآخرۂٔ خیر لك من اڈوایٰ۔
چنربہرت 71
آئْ ایام مےہم السا مکی مت شا نکاحدبیث سے معلوم ہو جا ہ ےک لی شانہ 'طو راگ رام
وا۶: از موت کے وقت ا غپڑیں وت دج سے نل اغقتیار خطاشرٹمکلنہ ہیں ا ہیں نوز مدکی میس مبلت
ای اور حا ا ارت گی ما تقا تکااعزاز حا ص٥ لک یں
پر شتوں کان نی صورت اخا رک ینا بھی نضن تعا یکی مر صی سے ہو ج ہے۔اورججب فرش
پش بی شکل اتا رکرتے ہیں ان کے اندر بش رر خوائص بھی پیر ہد جات ہیں ۔ بھی وج ےکہ موی
علیہ السلام کے تھیٹرے فرشتہ اج لکی بشری کہ بچھو فگئی ورقہ ایک انسان ٹیل اتی طاقت کیل
ہو یکہ لام ککو نتصان جیا گے _
۳٣ تسرانا دو عد یٹ سے ہہ حاصل ہواکہ انسمالن کے لے اس با تکی تمنااور خو ایت کنا بہ
ول اق ا اق کی ا عویت ت آئے- چیب الہ
موی علیہ السلام نے ارض عقدس کے قرب میں مور ہکی خوائش رما اور ج ب می مقدس مقام
س مو کی قحمنااورد اکر نا جاتزے لو یجان کہ کا' مقدرس وفت اور میا رکب ایام شی موت
گی تناادددعاکی جائے۔
مل اکوکی ہہ دعاما گ ےکہ اسے و مضمالن کے ایام یش با جمعہ کے روز صو فآ ئے فو مہ چان سے۔
لص ایر یٹ
بہرحال ہ وگال تذوتی جو تح تا یکو منظور ہوا ٰ
یہالں ىہ ھی وا رس ےک کی مد س مقام ما لک و مرک ساعات وا یس موت 7 :
اسنا نکی جات کاذرییہ شئیں۔ مات کا عرار قے شض اعمال اورا نکی قیولیت اور جن تعا لی کے فضل و
کم پر ہے پالنابہ ضرود ہےکہ مقدس مقام اور مقدرس د مارک ساعات دا گی کت انساا نکو
ع صل ہو سی ہے۔واددا 2
س-00
۹9۹ 012
ر وا لافصے .|4
٠ ا ےھ
بی اص اج یک ید ھا
و تمالی شی نویس ورس ہکو گر آخرت طعییب فرماتے ہیں ال نکی ز نگ یکاہ رفنظہ اسی کر میں بس ہو
ہ ےک ہکس طط رح آخرت مس مقمات عالیہ نیب جو چائیں اور ا یپاک بازد برگزیدہ ہستیو کر فا تکی
۱ سعادات لعسب ؟و جالئۓ -_
ٹی مقر نخوس ہش نے موی علیہ السلام کے دورکی دو ھیا بی تھیں جنہیں اللہ تعالی نے ا نہیں
طو مل لیات ز ن دی تعیب قرمائۓ یی تن مو یر ل91 کے“ جے اور نو سی
ضائاکر نے کے ہجاۓ لک رآخرت میس صرف کے ۔
وی علیہ السلام نے الن سے جفرت بوسف علیہ السلا مکی ق رکا پت لے ھا جکہ جب دہ بتی اص ر ال کے
مراہ مرسے جائیں نوف علیہ السلام کے مقر جم اطہ کو بھی سا تھ لے جائیں۔ بڑھیانے اکا دہکردیااور
کہاکہ صرف اس ش رط پہ بنا ےگ کہ موی علیہ السلام یوعد ہکری کہ وہ جنت ا یڑ اکو ابی صعیت
و ہن موس و یمر وو و ادا 020
وبل۔ 2 زگ
بجی ہیں وب شی ہیی
۱ لی کے اناء ا کرک ی سے من رای
ص اد سث :
روی الحا کم ری مرکو عَنْ اي مُوسی: ات یت ال ہچ نزل باعرابی
ذاکرمه فقال لە: دی سس سس میں بَا رسول ال ری
4
ری 2]:
وََعَنزٌ يَحْلِيُهَا أهْليء قالھا مَرَتیْن .
َال لڈ رسول الا کالہ ( اعَحَرْتَ ان کون منْلَ عَُوز نیي اسرابیل ) فَقَالَ
س۔-ج
أَصحَابْہ: یا رسُول انز وَمَا عَجوز بی إِسْرائيل ؟
قال: ر إِن وی أرَادَ أَنْ یسبیر بیني إسرائیل فأاضَل ءَ عَنْالطریقَ فقال لَهُ
۰-
۱ ا ۶/۲ :.ٰ ہا
۰ سا 400٤ سس شس می نے ہے در سے سح رر جچ_شر: جج سج سح
وک سو ر2 اۓے ےم 227ھ
ملمَاء ببي إسرائیلء نَحْنْ نَحَلتّكَ ان وسف أحذ عَلینا موائٛیق اپ آن لا نخرج
ہت" 0 ھت" تک يذري أَيْنَ قبْرَ يوسُفَ ؟
قَالوا: ما تڈري أىْن قب يوسُّف الا َجُوڑ بيي اسرائیل؛ َأَرسَلَإِلَيْهَا فقال:
قیيي عَلی کر بوسف . فقالت: لا ول لا اعَلْ حّی اکُود مَعَك ق الْحَة)
قَال: (وکرۃ رَسُول 1 مَا قالْتٗ فقَبلَ ه أَعْطِہَا حُکُمپّا فََعْطَامَا حُکمَھا انت
2 کے 1ات ات قالت: احْْرُوا هَهُنَاء فلمًا حَفرُوا ! اذا
عِظاء وا تار 66 لطريقَ مِثلَ ضوْء النمّار ) .
تری:ا یر سث : ۲ ۱
7 نے متدررک مل روابہت تج کی ے۔حفرت ت ابو موی اشع را سے روایت ےک
رسولل الہ لے اک با ر ایک دییہا لی کے ہا ل خر وک ہو ئے۔ انس نے آ پک بہت بہت اکا مکیا آپ
98 8۳990+
رظ انی حاجت اک“ .ا لن ےکمامار صول ای ا ایک او ۳ کیاوہ کے سا تھ اور چنر
بھی رککریاں جن نکیادودیہ می ر ےگھ ردانے دو ای پا نے دو مر تبہ مہ امت ہگا۔
رر حول انہ یلان نے اس سے رما الہ : جج سے ایی شہ ہد اکم و اس ان لکی ہیا جیما
بی ہو مات ؟
تھا۔ نے ع رگ یمیا ار صوںل اعد عو تا بن اس انت لکی بڑ ھا اکا قصتہ ہے ؟ ر سو القد ال بات
نے مرمایا:
”'حطرت موی علیہ السلام نے ار اد وش رمایاکہ ہوا حر 9 20 رت پنک گئ'
و جنواص ایل کے بڑ ھھے گے لوگکوں ن ےک کہ چم پاڈ و ودک فرب امت
(ہارے آ پا جداد سے )اللہ کے نام پ یہ عہد نے رکھا قاکہ ہم مصرسے نہیں نس کے یہا ں مک ککہ
ای لو سیف مایا فلا مکی ) رے !ا 7 ال ای سما بھھ نہ یا ئیںل(اور ہم نے بھی جک نکی نیاں
نی یں تو شا دای مدکی عدم کیل کی بنا ر سر جم راسٹہ پیک گے ہیں۔ موسی علیہ افلام نے کے جھاکہ :
میس س ےکولن جا ضا ےکہ اوس نکی قب رکہاں ے ؟
وہرکنٹے گ کہ :من اصر ان لکی ایک بڑ عیا کے علادہ ا نکی ق رکوگی نیس جا اص وی علیہ اسلام
نے اما لک یکو جیچاوراسے بلولپاورا ےکہاکہ و سن تایکسل کی خجر کی طرف جار گار و ان 7
وو وھ سکن ےگ یکہ : نمی ای کی شش !یی ایب نی سکرو لگ ہا کم کک (آپ و عددک سی
کہ )یش جنت میس آب کے سا تھ ہو ککی۔
ٰ ضس ار رۓغ ےے 8 ۱ 7
عفرت مونیاکوا لکیہ بت پنر ہآ لین سپ سے(بذدلجہ دگی) کہاگیاکہ اسے ا کا ٰ
مل دےدیں نان آسپانے ال با ت کا آ ول دے دا۔ ُ ٰ ٰ
رو یڑ ھاریک مو نے ہے ا لاتے بر کاو کن ےگ یک : ا پالیک ھال وجب یا ال لا
وھ ا اک 7 وج بکعد ال کی نو حظ رت وف علیہ السلا مکی پیا وہ میں ' چنا تر
جا 7ن سی راس ان کے لئ دنکیار و کی کی - و 0و 0-7
کھر ارہ
اخرجه“ٴ الحاکم فی المستدرك علی اللصحیحین۔۲/ ٦٦٦۔
وقال: هذاحدیث“ صحیح الإسناد ولم یخرجاہ۔
تر ار یش
مر ول ارد گے نے صیھا کر مر ضوانارڈ میم این سے ہے قح رکیوال بیالن ف مایا ؟ ا سکی
دج حدی ثکا ام ی دا ےک رسول اض سو کرام کے ہمراو می سفر میں اک
ذےپائی تھی کے بیہاں فر دک ون اید بیہای نے پکی خوب نماط رکی 'اور بڈااکرا مکیائر سول
ال مکی عادت مرارکہ تع یک ' نع الإحسان بالاحسان “پل فرماتے ے می کسی
کے سن سور ککاہدلہ اس ے زیادہ سن مسل ان کے سیا تحھد در تے نان آپ نے ال سے کہاکہ کر
۸ .0 ٰ
وہد یما ینہ صاب لم نان اس 7 عقل وراپش 1و ۲ تی ا سکی کل کی جو زا گا
مم رر قگ' اسے اس با تکاادد اک نہ تراکہ پڑ ولا سے جب ماٹگا جا تا ے وا نکی شمان کے
لال ما جا سے اپنی ثیت کے مطابق نی ۔شہ عرب عم سے مرو زگاریاصتلہ ح لک رانا بڑی
وٹ بات گی من ا نے اپے طا لک رکیپ داز کے مطاق مال کیامایا؟سواری کے لئے زین کے ۱
سیا تج اک او اچ موی یک ہگھردانے دودح دو ےر یں اور موا کامتلہ تل ہو چائے۔
بی پا کو ا سکی ىہ خوائش تاگوا گر اور آ اپ نے اسے بہت کیھون جانا جنا تہ أب نے
رما الہ اکا رک مرن اون ےک شع
مطالن انا ٰ
“ھا نے ٹور او جاک یار سول ال ! اتد انح لکی بڑ یا اکیاواقعہ ے ؟ جو تو
رسالتانے یہ داقہ سناامٹ کا خلاصہ ہہ ےک :
حطرت مو کیا علیہ اسلام جب بنواسر ات لکوٹ ےکر مصرسے لے ف عون کے خرق ہونے
کے بعد تو راستہ بک گے اور تی رالن دم گر داب حر ال میں بھلکت بچھرے وم کے اندر جو عاماء اور
صص الر ۓغ ۱ ۱ ٦ ۰۳
ھک لک ے نہ نے رت مو ےا ہمکوی ارت معلوم کہ رت لوسف لہ
الام نے ہمارے ڈول ے ال کے نام بر یہ عبدیاتھاکہ جب اتال یں مصرسے پجھر تکاصو تا
عطا کرس نووواۓ سا تھ النکی قجر ہیں سےا گی ریا نال کر ان سا تھ نے اہی فو جمارارا 71 اکنا
شاباش تما ی کی طرف سے ای با تکااشاروہوکہ مان بڑوں کے کے ہے اس عی ہکو ہو را اکریںی۔
حضرت مویانے بجی راکہ تم میس سے اوسف علیہ السا مکی قی رکون جا ضتاہے؟ ا نہو ںان ےکہا
ہق ہم میں س ےکس یکوزنہیں معلوم سداے ایک لو ڑ ھی عورت کے۔ ضر موی نے اسے موا
اور ال ےگہالہ : بے چاو سف علیہ السلا میق رکال ہے ؟
ا ار ےس نر خ2 ے اللہ کے نمی سے ابی خوائئش پور کردا کا۔
نا کی ےگ کہ می اس شرما یہ جاؤ لک کہ پیل آپ وعدہکریییکہ جیے جنت میں آ پک ممیت
عیب ہوگی۔ اس بڑ ھیاکی بر وا زلکر بہت او گی ھی اس نے نیا سے الن کی شالن کے مطا بی سوا لکیا۔
حطضرت وکیا کو ا سکیا نہ سوال اگوار ہو اک |7 ھی ہیی با تکہہ د کی سے اود ای جمانک درجی
سے یج سکاد یناند ینان کے اخقہار میں کھیں۔
اللہ تی نے بزر ىہ وی انیس عم فرمایاکہ بڑھیاکی بات مانالو۔ چناتیہ اغہوںل نے وعدہ
اص جا کرای نے با کہ لوسف علیہ السلا قب رہل یاے۔
دعانیٰ کے اسیک تالاب پر انی ن ےک گنی او ہکہاکہ میپالی کال مہا لکعدرا یکر وجب ایا
کیایا ا ول سے ححقرت لوسف علیہ السلا مکی ال ب 1ب جو ضس ۔ چنانچہ جب ا کییں ک ےکر دوپارہ
ازم سف رہد فور استنردن یدک یر وا ہوگیا۔
چنر بثرت 2
ا حلعث سے ایک بات تو رہ معلوم ہوٹی نہ انسا نکو بلند متقامات اور مم راب علیاکی طل بکر کی
ٰ چان ا ورس می ریت رگن چاہجے۔ جیہاکہ حضور علیہ السلام نے ارشادفرباالہ:
ھ سے اسان ہو بک کہ وا را کی بڑھیاکی رح ہو جات “ماود یدک فا دو کے جھائے
۱ ت رو درعات 72 طلب کر 5)۔
۳ اس حد یٹ سے نو ام ایل سے متحل کئ اہم ما نوس ےی
سب سے ہی بات و ححضرت لوسف علیہ السا مکا ہد وییشاقی جواض وی نے جنواس انل سے لیاتھا۔
تر نکر می اعد دیثا کو ذکر یں ہے۔ الب تورات کے یت ضس خوں میس ضرق انراز
اس عیدویٹاتیکاذکر ڈیں اتاہے۔ 7
قس رین _ -
چنا خی ”نف گکوین اصاخ +۵ کے ق رو۵ ایل ہ ےکہ :
”(لیسف نے حلف لیا امم ہے کت ہو ے :الد ہیں سس 3 م ری
ٹیا لکو یہی سے اٹھانے جانا“ ٰ
ٰ اصھا نکی سر تر ور “ا ایی نشرداا ا و
”موی نے کوسفت کی برای ات سا تھ لے میس (جب پک دو مر سے نیل رے چ) اسلئ
کن دو( سف) بی ام ائل سے حالف نے گے ا یک ہک رہ ال تھی ںگ کرد ےگالپچ تم می ری
ا ہا سے اہین اھ راداتھائنے چان گے “۔
کیف! آ حفضرت کل نے اس عبد دیثا کا نف اف رات ت کے یش جزوی :
واتعوا کی ید ملق فائی۔
ٰ تی طرحع کے ات بھی معلو ہو کہ ال رت الین نے وسف علیہ ملا مک رک
فلت کے لئ مالپی ٹس چعیادیا۔
7ے ریب و ٹورویویڑرڑی تر
ار کے اوامر کے نغفاذ می سکوجابی یا مت یکرمیں۔ تی اک جو اسر ان لک وگ مکردددا کر دیااور راستہ ے
پھلکگادیا۔ اس ل ےک اغہوں نے الش کے ع مکوپو ران سکیاتوااود و سف علیہ السلام کے مع کی بل
نی سکی تی فو گکوباراوسے بھللناائیک ط رح سے جنویہ لی ھھی۔
٣ حدیث سے اک ام جات ىہ معلوم ہوک یک سابقہ اشتیں اکر اپینے نی ےکوکی عی میں
بعر کے ز مان کیل فو بعد بیس آ نے وا لے لوگوں کے لئ ا کی پو راک نالازم جو جاتا سے جی ےک لوسف
علیہ السلا مکا محاہروادر بیناقی اپنے ز ماشہ کے اس رائلیوں سے ہواتھا لین بعد کے لوگو ںیکیلن لازم قرار
ایا۔ہاسی رس رسول مگ مع نے اپنےزمانہ ٹس صحاب ہکراث سے بہت سے معاللات پہ یجت اوران
سے جب لیا۔ اس عہ کو پور اکر جس ط رح صھا کی ذمہ داد کی تی اسی رح بعد یش نے والو نکیل
بھی لام ے۔
سار ریغ
سال ہے
گار گوال ثصے ط(|ە
۵
جب موسی علیہ الطا مکوو طور پر تشریف نے گے ف جچیے ساس رک نے ایک مچچٹرامتااجھ سونے کے
ز ارات سے ما ریا تھا۔ بعد ازال اس شی وہ سئی ج ججر تی سےکھوڑے ہے سم کے ۓ گی نشین
سے اس می روح یداہ گن توم نے یو جاش رو غکمرد گی رآ نکر مم نے اس واقع کو بیالن فرمایاے ہیں اشار جاور
مکی بکتھ ہت خیات بھی یا نکی ہیل می عد یٹ اس واقع ہک نع مرج نات و تقصیلات نے میں كکر تی سے۔
پور_.-
روی الحاکم ,فی مستدرکه عن علي رضي اق عنه قال: د لمًا تَعَخَلَ مُوسّی
لل ره عَید السَایریٔ فَحَمَع مَا قَدِر علیہ مِنْ الُلیٰ: حُلي َی سی اِسرائیل: فَضَرَبَ
عِخْلا ئم ألقی العَبضَة کی حَوٰفه فإذا هُوَ عِحْل له خیوار فقال لَهُمْ السَایِرئ)
ہذا إھ مو مُوسّیء فقال لَھُم مَارُون: ا وم الم يَهدکم رَبَكُم وَعدا حَسنا ؟
ٰ لم ان وحم موسی لِلَ بن إسرائبل 7 أَضَلَهُمْ السَایرئء أَذ ب راس ا رے؛
فعَالَ ا هَارُوث: 09 مُوسّی للسایري: ما عَطَبَكَ ؟ قَال الس امری:
کےا تا ِنْ ٹر الرٗسول فَتَْذتَهًا وَكذلِكٗ سَوَلّتٗ لی نَفْسبي
رر رر ےر ھ
َالَ: فَعَمَّ مُوسّی ی إِل اليخْل فَوَضَع -0صصص)
نھر فمًا شرب أَحَدٌ مِنْ ذَلِك الماء مِمَنْ کان يد لِكَ اليِحْل إِلا اصفر وجھے
ٹل الھب فتَالوا 0.27. ما توسا ؟ فَال: کا نک تا فأعڈوا
لسکاین, فحَعل الرَخُل بقع اه واحاۂ ولا يالي مَنْ قسل حمی فیل منهم
سبعون أفاء فأوٴحی الله ال مُوسی رم فليرََمُوا أَيكِيَهُمْ فقد غفرتٗ لِنْ تل
بت عَلی مَنْ بقيٴ ٠ .
کے ا امت بَتبي الَار تَاکلھَا فََمْ تطْعَمٰیَا کَقَال: إن يك
غلولاء فَََايعبي مِنْ کل قبيلة رَخُلء فَلرِقَت يد رَخُل بیدوء فَقَال: کہ او
لََابطبي قَيلَكَ نلزقت يد رَحلیْن آو تلائة َو فقال: رک ارت
فَحَامُوا ؛ کر یی رس یسل فر ےم اَخَل و نا
تفص اور یۓ ۱ ۱ ٦
الْعنائہ ٗی ضَعْفنا وَعَجْرناء فَأَحْلَهَا لنا ).
تار مث :
حفرت ملف اتے ہیں نے
جب موی علیہ السلام اے رب کے پا ل نیف لے مگ تو ساس ری(جو ایک جاد 3
نے اراد ہکیال پچھٹرابنان ےکا) اور مس مر کن ہو سکازورات کر لئے جو بن اسر ائیل کے تے پھر
ان زورا تکوایک نر ےکی شک میں ڈ ہا ل لیا چل راس کے پیٹ میں ایک می می ڈالمد کی نود ایک
زخد ہآوازوالا چرام نیما رماع رکیانے جنوام انل س ےکہاکہ
ی تمہار امتبودے اور موک یکا بھی“
فو ححضرت ار ول نان شرمایا:
اے وم !کیا تھاددے رب نے تم سے ایک اسچھاوعدہ کی کر رکھا" - پچ رجب موک نی ٰ
۳ تی کی طر ف اس عال یس والیں لو ےکمہ سام رکال نک وگ را ہکر ہکا تھا تل مارے خحصتہ کے )ان وں
نے اپبئے بھائی(ہاد ونا) کے سر( کے ہا ) ٹر لے ار ولنا نے الن ا ےکہاج کہا بجچھ ر مو نے ساص کا
ےکہاکہ مت اکیامعالطہ سے ؟( خر فو ن ےس طم رح مز نہ آوازوالا ھا ناک قو مکوائ کیپ ایس
گادا) اس ن ےکا یں سے رسول (حضرت ج می لم کے نقش قرم سے ایک مشھی می اٹھالی تھی ٰ
اوراسے میں نے ال بچچھڑے کے قحلب میس ڈال دیااور میم ے د لیکو می مات ا کییئ۔
ٰ ولمس ممچھٹ کی طرف متوجہ ہو اودال کے اد بر ایک ر :لا رک ھکر اس ہیل دیااور
وا وفت مہ رک ےکزارے پر تھے (ا کی مین سارک پالی مم لک چناغچہ کن ص---“
سے جس نے بھی اس ضہ کاپان یا تذ ان س کاچ رہ سون کی رح پیا گیا | ب انپوںنے مو یعلیاسلام
س ےک ہاکہ ہعار گیا و۔ کا
مو نے فرمایاکہ : تم لی یس الیک دوصر ےک وع لکرو۔ چناخجیہانہوں نے مینٹریاں اٹھا یں
اور نے ا نے باپ ا لکش یکر ہشکر ماد رک کیپ ون کی نے مرا لکیاے ؟
ہا تک کہ الن یس سے سز نار افراد شل ہوۓ۔
اڈ تعالی نے موسی علیہ السلا مکو ہد لہ وی کم ف رڈ یں عم دی ںکہ با تح انٹھالیش '
پں جولوگ فل یکررئۓ مین می نے ای مغفرتکر دی اورج بای رہگ الگی تو.. تو یک ری“ ٌ5
تخریح الع نوخ
أخرجه الحاکم فی المستدرك ٢۲۸ا۲۔
کتاب التفسیر۔ وقال:ھذا! حدیثٌ صحیحٌ علیٰ شرط الشیخین ولم یخرجاہُ۔ ووافقه الذھبی۔
صصالید یٹ
ج- لی
فرت موی علیہ السلام جب جنو اسر ئل کے جمراو عون کے خرقی ہو نے کے بع ہکوہ
طور بر جانے کے لئے لکل تذخود جلد یآ کے لے گے اور قو مک وکہاہمہ ہت آہتہ میں اور یس 7 کے
اکر عبات وی ویش مشغول ہہو جا ہو تی ہار وکن علیہ السلا مکواپنا اتب بنا کردا ان کے نان
کے بعد سامم رکانے توم کو وگ اکم تن ےکاار از ہکیا_ ٰ
رر اص ر یسام وو مکافرد نوراہ شامکامحروف قبیلہ تھا مض نے کہ ےل فر عون
کا بی سیر وز نی موسی علیہ السلام بہایمان لے آیااورائی
ْ کے سا ت نل پڑا
رت ائن عھائٰنے ف ماک ایک ای توم افر گا ےکپ مت کر تی مکی ک
طرح مع تچ گیااور ہہ اہر دن بی اص انل میں داشل ہ گیا مر اس کے دل میس نفاقی تھا(قرمتی)
حاضے قر تی می ےک ہہ فیس ہنزوستا ن کا میشری عیادا تکمرتے ٦ں او رگا2 بات 2 ۱
ارک یں ٦
متس میا بی ہیں ہوبر مر ۱
ا کی ما یکو خوف ہوا ف عوٹی سیابی ا کو غل یکردیں کے تپ رک اپینے سا نے وہ
محیبت سے کہت ر پچ اکہ ا سکو جننل ا 0 0000 و ا ٰ
2-2 گیب یکر کیاکی ہوگی)اُدھر ابد تھالیٰنے جج مل امم کواس کی تقائظت اور مز ای پر
او رکردیا۔ دواٹی ایک انی ہر یک یر من او راک پر دودھ لاتے اور اس بی ہکو ناوج“ روں
رفۃ رف ددجران ب گیااور ا کا اخیام ہہ ہواکہ خود بج یکفرمیں بتلا ہاور بتی اسر ام لکو بی با
کڈ کیااور با رر ۱ یی :9 گر ار ہوا۔(روعالعال کوالہ موار ف الق م؟ن۸٦۱۳۵,۸)
ایل کیا شاعرنے یہ جیب شع اکر
فموسی الذی ربَاهٰ جبریل کافر' وموسی الَّذی ربّاهُ فرعون مرسل'
دو موی( بین ظفر سا ی) مس کت میت ویر وش جج رت ن ےکی دہ کاخ ہوااوروہ موی( علیہ السلام) 2
ٰ ابر ورش فر عولنان ےکی رسول د مر ہوا۔
بس رکیف ال نے ححفرت وکیا کے جانے کے بععد ىہ تک تک یکہ وم کے زاورات ھ
ای کگمد ھے میں ڈاواو تے گے تم جع کے اور یک تھی نی ان میں ڈالی۔ مہ مٹی وو تھی جو حضررت
ریغ سے نتشل ق مکی سام رکا نے ایک باردیکھا کہ حخرت م تی ل'کھوڑے
کو وووووھکھیوستچوھوسویچ تی ۰
رسوا رحضرت موک کے پا آئے اس نے د یھ اکلہ ای الناکے فید م پر ہے میں وہل وہل
فورآر وخ رگ او رس زواگناشر ما اتاپ تن یی مہ ناصیت کہ ہاج قَ
ان کے دم پٹ دہا ںآ "ء72 +وعا یے۔
۱ ایک ندایت ہہ ہےکمہ جب ددیائے و تی اسرائیل کے لئ رات بن اور وود را
ارک گے تو وہاں حطرت جت رما موجود تے اور یہ سام رکی ایل بتاک کہ ال کی یہ وخ ا نیوں
کی - ےپ
لیک روایت ہے س ےکہ ال کے دل یس ہی بات شیطالن نے ڈا یک جج رکُلْ سرت
حا تگی تا خر سے چنا خی انس نے ا ناک می می دہاں سے اٹھالی ۱یزت یش
ڈلی تزدواک ز ندہ راٹس میں گان کی کآوازآر ہی تھی پیراہ گاب سام رنانے قوم سےم کہا
کہ مو ٹم تق گے اب بیید نہیں بہئیں کے یا غئیں۔ تہاراخدا تو ہہ چھڑراسے اور بجی موک یکا بھی خدا
ہے( حوزپااش)
انحوی اک یت کات ران لے لی حظر۔ سس سس گر ودمالۓ
دا لن ےکبال تے-
خر جب حضرت موک ندر ےش ریف لاۓ اور را تکی خختیاں با تھ مل
میں رز قوم ضے فذحید بر مچھوڑک رگ تے لو سال بر سی میس جنلا ہ ھگئی سے تو شمدید خصہ آیا
یں قم پ اللہ نے اتنے انھامات کے اود فر عون سے خجبات دی اس کے باوجود ہے ش رک میں با
ْ ہوگئی۔ اسی غخصۃ کے عالم یس اپے بھائی پارون علیہ السلام کے صر کے بای پچڑ لئ کہ تم نے امیس
ردکاکیوں نہیں اور ضمہی ںکیامانع تھاکہ جب قوم ش ر کیا رادی میس تلا ہ وگئی تق تم نے می رک ا تجاح
کیوں خی کی ؟تم مہ رے اس طور ب رکیوں نی گے ؟ ان مش رکوں کے سا تح رتے مت ےکیوں ر ہے ؟
ححضرت ہار ولنا نے جواب میل فرمایاککہ : اے میبرے ماس جائے؟ میراعذد یل اود وہ ىہ س ےکہ مس
بلیں جاہتا اہ ہن اصر اوت تذ ربق واشتثار باہو ۔ گر یس موہ اورش رک سے ابقتاب ےے
وانے لوگوں کے بمراہ ج نکی تعداد ارہ راد گیا آپ کے پا آ جات تو بی اسر ایل میں اختشار اور
تفر تہ پیراہو حانج بکہ شجھے ىہ امیشگ یک کے نے کے یہ دوباد ور اوراست پآ جاٗیں گے_
070۲ قو مکی اکٹری گرا ہو گی تھی اور بہ تکم لوگ میرے ساتجھ رو گے
جھے اکر میں زیادہ جنگ ڑاکرج تو وہ بے گ لکردہے۔ جس نے انیس مھا ین دونہمانے اور میرے
فی کے درمے ہو یئ“ 2.20 نکر انیس بچھوڑد,ااور فماد کے ا٥ی بای سام کی تی ری۔
پنےا سے چو چھاکہ اے سام ری ریس سے ؟ نو نے می رکم تککیو کیا ؟ اس
می ایی ۵۶۰ 00 8-غ 5
نے جو اب دیاکہ بات می شیک می نے جج رت تل کے شش رم ہہ مشاہ ہکیامہ سے
ہے دہاز لن بی سنرداور رو ئ گی وا ا الا و ا ا ئن عری
ٌ شر ہے لپفر ایی نے وہ می اٹھالی اور اسے النازورات می ڈال دیااور می تا
شض اس پر حخرت موی علیہ الام نے فرما کہ د یٹس را مزابہ کہ سب لوگ تھے
متالعہ (سوشل ایکاٹ )کرلیں اور اسکو یی کت کا تھ نہ لگائے اور ز دک کر و تی
جانو رو کی عط رح سب انسافو لے الک تنک رے۔ ٰ
لات لآ ہ کہ موس علیہ اسلا گی بد عاء سے ا مل ی ہکیقیت پیداہ وگ یک
اکر یک کو ہا تجھ زگاد تا اوک ا کو تج سے جو لیا ت2 دونو کو ہخار چڑھ جات تھا لکناٹی لالم اس ڈر
ےی رخ از ہار رآ یل ان
سے چپ وق مت تر خی ابی حالت میں رام ٤د رگا ہو وکرمر ا۔(خلاصہ از خر سست آ٦۸ )۱٠۴۳ :
نر رت 2
و.-٭ عم ٹہبالا سے سب ے ارچ ٣ر تلم نز عائل ہوک کہ ارا نکواللہ ہرک
تی سے پمیشہ دین پہ استتقاصت اور ہرای تکی دعاکر تچ ز ہنا جا ی ےکی وک ہکوئی تنس مہ د کی نہیں ٰ
کر سکناکہ دو بییشہ رایت پر رہ ےگا یکو ابق أہرایت مل اتی سے لیکن بعد مس اب تال اس سے ہے
ثت چیا نکر ہمیشہ کے لے ثروم فرماد نے ہیں۔ ٰ
یکن می کے تر ران انقراء ٹیل اسے بھی ہرایت م٢ لگئی شی اور وہ موی علیہ
اسلام کے چمراو ہ وکیا تھا 0000س ا اتصان و شمارہ ٹل جایڑا- ہن |
0ے وین بر انقامت اور تیگ اعمال و بدا تکی زی ئہشریے
اوراپ ےکی بھی عال پر ملمشن نیس ہوناجا ۓ۔ ٰ
۲۔ دوسری بات ہے معلوم ہو کہ لی امتو کی نے --0408
تھھیں اور تض او ذات ایک دوس رر ےکی جالنا مار نے سے گناہ متاف ہہوتے تے_ جیراکں مکوروواق
7٦ مو بس جار ا 00[ امت را افراد
ےج ب کیل جا کے ان تو قجول ہوئی۔
اس اختبار سے اضت تر یی ساجالصوالسلا مکوایلہ تال نے اٹی خحصو صی رت سے
وازاہ ےکہ ا لکیل ےکوئی سخت ش رماع تن نرارے ا بر میں اور نوم کو اتا آسمالن فزماد الہ جب
سے ٠س دفت جاے جہال جاے ور ار آ پکوگناہ سے یا کفکیا جا سکتاے۔ بندوصدتی
حا
ثصص ار ےۓ . ٢١
رل اور تی نرامت کے سا تعن تعالی سے اہ ےگمناہو کی محاٹی انگ نے او رآ7 یر کے ل جمتاونہ ٰ
رن ےکا زم کی مر نے اور فی الو رگنا+ نر کفکردے کر س پالئل یاک و صاف او رگناہ ے
کفو ظط ہوگیا۔اور و ۔ قیول ہ وگ ال شاء الد
ےد مس واقہ سے ہہ بات بھی معلوم ہوٹ یک تھا اٹ کیک بندول اک گنا گار ول ے اور
گناہا رو یکو کیک بنروں ۓ منائزاوز بد اکرنے کے لے یھ یکوئی اہر علامت بھی چیراکردچے
!یں یی اکہ اس داقعہ می ہوا۔
چناغیہ جن لوگوں نے ہے ص اص ہصح یں
نے اور سب کے جج رے مہ رے رک کے ہے جس میں اس مپچھڑڑ ےکوی ںکم ال سکابرادہ بہایاگیاتھا۔
سس محعقیدر؟ نید اللہ اک وتعا یکی تیم ضحقت اور ورارایمان ے 'اضسا نکوسب سے زیاددای _
یی فا تکا تر مکر چا ےم کہاگ راس عقیدہ یش قورل پیا ہدیا ذاضسا نکادناو مل ٰ
۳ -+ 2-0 اس مل ےک عق تھال یکاوا کے فرماان ا ےکہ دوش رک ک ےمم ہکو معاف کیل
فر امیس کے 'اہفراہراختبار سے ش رک سے پچنابکہ اس کے شاب اور شبہ سے بھی اتترا فک نا اج
ا
ضس ار ےۓ
پار گوال ثصہ ط(١پە
چا رصن لشگک ومن کے مک جرا رکیاسامنا کرد ہے تت ایک تیم الشان پش ر' گا ہوں کے سا نے
تا وود می نکی کشر ت تحعدر اد سے پر بیٹان جے 'ووا کی نام خیالی میس جتلاے از از شکرہںکی 07
۰ دکٹرت ہہ ہے۔ جگوں ش کامیال یکثزت تحدادکی بناءی ہولی ے۔
من الد کے بر گزیدوینرے جاٹے ہیں 1 یی ت تھوڑی جا یں ذااب ۱ یں بد یکر سی
ا گی۶ںل/ پل کے گے" .
یلت وو توری ۸ر تی رق سن
رش نک یکر تکی کر فیس نی ان شک رکی تعداد بڑھان ےک اگر دا نکی رہے ای ککیت سے زیاد رکفت
کی گر ےگ جگییں کٹرتۃ تعدرادسے میں جز ول سے اور ایا دابقا نکی اد پر شی جا ہیں عم ہو جا ےک
دولوگ بن کے قلوب و تیائیں گے ہوے اخ سے جداکردیا ان ۓےکہ دہ نگ نہیں لڑ کت۔
اس شی لشلکر کے سا تد انہوں نے دشن سے چہاد شر و گیا وا یس ىہ اند شواک دوران تنک رات نہ
آجاۓ دہ جات ےکہ را ت آنے سے کل یی الد تالی ئ عطا فرمادی' با رگا و الہی میس انہوں نے دعاکی
0۵ ظ0۳ك00,++- "ء,ھ"0 -- درم فک نے ہہ مخظرد یکاہ
ال نے سور نک یگ د تر دوک دگیاورا نی رنیب فر مائ یم ا کی خظیم نتانی تی ٴ
ہے داع بھی صادق امصد دق کی ازوز ان سے سن :
الد یث :
روی البحاري ومسلم ٹی صحیحیھما عن أي مُرَيْرَة ظلہ قَالَ: فالَ رسول
ان کن ٠ را ني من الأَََا َال لِقويه: اي رَہل مَلَك بضع انرأو هو
یری أُن بیتي_ بهّاء وَلْمَا ؛ ین بھاء ولا أَحْد بنی بیوتاء وم ِرفع سُعَوفهَا ولا آخصر
سی غدمًا أَوْ خلفاتٍ وَهُوَ منتظر ولادَمَا فراَ فدنا من القرَة صّلاۃ فص ا
ِنْ ذْلِك فقالَ ِلشْمُس: ىك مَامُورق انا مَأَمر اللوْ اِْْسْھَا َلَیماء
فخستا ختی تح الف عَلَیْهہم ٰ
ر فحَمَع العائمٔ فَحَاءَت یىی الّار لکل نل تمہ ا ا فک
ارہ عیفی من کل ناو رن تارذ رش یہر نقَل: ض ہم رن
۱ جم ٰ ٰ_- ۳
سے سر حم فلا
کات برا٘س بَقَرَة اویز فی کر فحَاعّتِ ا ز انار ام الک
ٰ العنائِہ رای ضَعَفنا وَعَحرَناء ٦ َ7
رقدالر ےث می اسر تررلفاہارڈا دمراانے
اما میں سے اک سی نے چا دکیا(ججہادکا اراد ہکیا) نو انی وم ےکہاکہ : وہ جررۓے
سا تہ نہ لے مس نے حالل جیا می و نیا حکراہو اور ووال کے سا تد سہاک رات منانا اتا ہو اور اججی
یا ا مھ رات ہگزاری ہو۔اسی طرح وہ ھی میہرے سا تح نہ ےج نےگھر
نان شر و عکیا ہو اور ابھی کک ا کی گیتیں نہ اٹھائی ہوں نہ وہو تنس میرے ساتحد چے نس نے
موی او رگا بن اوضشیال بوری ہوں اور ان کے ال بیو کی ران کا ختظ ہو لکیہ الن باقول شیل
مشخول تکی وج سے ذ جن اٹی می اکا بتاہے اور چہاد کے لے ج سکسوئ یکی ضرورت ہوتی ہے وہ
ارہل ے)۔
برا نہوں نے بن کک اور عع رکی نما کے وقت ما گے قرجب قریب دواس نستی کے قرجب تا ٰ
گن ضے کن تھا تا خہوں نے سوررح سے خحخاطب ہوک رکہاکہ : ٰ
با شہ تے بھی (الڈہ کے ) عمکابابند سے اورمیش مبھی ا کے عمکاپابند ہوں۔ اے الد اسورخ
گر کیورے روک سے
ہیں !نک یکمر دش روک د یگفییہانن ککہ نے انیس سے عطافرمادی۔
ٹن کے بعد ونہوں نے اموال غیت جع یئ اور انیل لےکر(حصب دوابیت ) آگ کے شر یب
اکہ اس میس ڈال دم اور ووا ھا مان نک نے مال کی ںکھایا۔ اس پا ہو نے ار شا د
شرمایاکہ :
ار رما نکوئ نان مل ے(جکی ان تک دج ال یرت کو پگ قبول نہیں
ٰ کرربی) ار اہر فییل ہکایک فرد میرے ہا تھ س بجع تکمرے ' پچ ر(جس بیعت ہوٹی )جس فبیلہ کے
1 ربی نے اہ تک تھی اکے نما تد و نے جب نی کے پا تجح میس پا ھ ڈالا تو نے فرمایاکمہ :مہادے
اندربی ضیات سے الہفرا تہارای ر اخیلہ میرے پاتھ بر بیج کے 'پچھردویا مین آدمیوں سے بی پا تج مایا
0-122 انررتی خا تد ے۔
0 وو تر ے(جوا ہو نے مال یاتھا)اوراسے رک دا
پچ سان سے ایک گن کک گی اوراس نے سساراوال خ نیس تکھالیا 99م“ ,0
٠ علی حا لصاو ا وا سام )کیلئ ال خلت علال فرمادیا
ض 2 7 ۱ م۳
.تر 2
007“ الجہاد والسِیر۔ اب یل الظائی۔ ۷(۳ءہ/۔۔
سے ھ وہ سی
شر ار یش
رسول ریپ نے ال حد یٹ مس حضرت وش بن فون علیہ للا مکاواقہ مان فرباے۔ ہے
رت ا تع بین نون علیہ السلام“ رت موی علیہ السلام کے بعد بتی اسر انیل میں ” کیا ہو ۓ تے۔
اور ین روایات کے مطااقی حقرت م وکیا علیہ لسلام کے ا سفر میں جو حضرت مض کی جا میں
ہو ااور ران سے ملا تقات بہ و کی و ت رآ آ نکر یم ہیں ان کے سا ھ ایک نوجوا نکادکرے۔ نس رودات
کے مطا بی دوفو جوان ححخرت بوضح بن فون علیہ السلام می تے۔_
ہا ں اک ایک جچہادکان کر ہے اس چا دکیلنے روانہ ہونے سے ہل حضرت او شع بن نون علیہ
السلام نے قوم سے ب ےکہاکہ میمرے سا تج تع طرع کے افرادشائل نہ ہوک ں۔ یک تووہج نے ماع
گیا ہو اور ٠| بھی بیوی سے خلوت نہ ہولی ہو 'دوصرمے و جس نے گھربنانا ش رو عکیا ہو اود اگھی ا سی
میسن اٹمالی ہوں اور ” بیرے وہ 2 تیم لی اور عا مہ اونٹیاں تم یل کی ہو اوران کے مال
ولاو تک متظرہو_ ْ
اوروج ان تن تفم کے افرادکو مخ 7 1ئ کہا ہے افراو چہاد یش پور طر با ہنی لوج
اورکیسوتی کے ساتھ شال نہیں ہو سکتا کہ ىہ وں پا تی انسائی ز کی یش بھی بھھاربکمہ عمو ]اک
ای آآلی ہیں اود انی پر انسان کی ز ن دک یکاعدار ہو تاے۔ بی کی *گھراور مال مو رت جھ اس زمانہ کے
بر سے یا ضرورت اور معاش کالازگی جڑ تھے قواگ رذن ان ش ایا ہواہو ق ہد سے میم
7ے 1 ادا 2 027 0 نہ دہ تذ جال نکی با کیالگان امیر الناے اور وہ تح سک اچ دکر ےگ
ار جا نکی باززئی لگا ت گا جم سکاد لکہیں اور اہ یا وابو۔ قو ا بناء پر حخرت لو شع نے الن جن طرح
کے افرا کوا ہی لشک یں شا لک نے سے مع فرمادیا۔
ہت اس ے بعدجب چہادش رو ہوافوکڑتے لڑتے عصرکاوفت آگیا۔ اب ایک طرف تو صورحال
7 شک ہازا گرم ہے اور ذراسی ع؛ت سے سے :مار ہو سک ہیں اور زرای ے وی
خکست ے دوچا رکر کے دو یجاب مم گی نما زکی ادا مگ یکامستلہ تھوا۔ - 5
مقر تکوش جات تےکہ شمام ہو نے اوران را لے سے پیل سے ہو جانے من اس کے
:
تصص اور ےثغ
جری کلں کی انس ض رت تن ما رکا ضا ہنا فی تھا۔ ابر ااخہوں نے لے لوسور رم
کو خطا بک کے رما کہ :”تو بھی مامورے اور ہم بھی مامور ہیں '“(نیچنی فو بھی اود کے مع ما یایند سے ْ
کہ ابی مقر رکردو م رت پرگر دش شکرے اور ہم اتی ما مود ہیں اس بات کے اس یت
بھی ا وقت پر یڑ ھی پچھردعاف مال یک : ٰ ۱
ا اراس سور ینک یگ وش شکور وک د ےگ
ار تا یی و من 00 مم ملک نے پہ نظارودیھاکہ
گمردش یآ قیاب ر کگ اور یو شح ین فو علیہ السلام اتی کے سا تھ جہادفرباتے رہے یہاں
ک کک الد تھالی نے انیں رح ونصرت سے وازا۔
نے کے بعد دستور کے مطابی جومالی غیت تائ عک گیا ما پقہ امتول اورش لین میس وستورے
کہ جج کے بعد جو بھی مال نحنیصت حاصل ہو تاوہ میاہرین اور الن ال وگول کے لج علال تہ ہو جا ھا بہ
۱ اس س بکوراو در ائیل ضر کک دیاجاناضرور کی تھا- :
از مان می ط یقن بے تھا اک ہج سکسی کوک ال راو دای رہ کر ہو جا تاذ ودمال کر کے
پہاڑ بر رک آن تھا آسان سے ایک ئگ ہی تی چاس ما لکو جلاک رت کرد ہت شی بہ اس صد تی
ہے ون 7 از آگ نہ "کی ما ا سںکو جا کر ماگ : جک ری ق3 مطلب یہ جاکہ ا یکاصدقہ
ویر قولی تکامقام حاصل کی ںکر سا ٰ
ناخ دستور کے مطا کو شع بن نون علیہ السلام نے سار اوالی غذجصت ت اکٹ کیا اک اسے رک دس
اور اکر کرد نے سان نے ایک نک کی لیکن اس نے ما لکوکھایا یں (جلایا کین وخ
علیہ السلاام نے شرمایاکہ :یتیب یقن تم یں سے می نےکوگی خیان تک ہے ج٘ سک وجہ سے آگ نے یہ مال
می ںکھاما یراس ضاع تکی تی نکاراست ىہ سےکہ میس سے ہ رٹیل ہکایک ما7 نرہ میہرے با تھ ر
0 بے ۰ ۰ نتر نے بجعت
کے لئ انا ا تد ححضرت وش کے اھ می دیا تا نہوں نے فورآفمایاکہ : ”خیانت تہارےاندری -
ہے “فا تھمارے خبیل ہکا ہر فرد یھ سے بج تکرے۔ اگ دویا ٹن اف راد نے بی بج کی یک
رمیا : تھمارے اندربی شبات ے“ 7
ٰ چنا یہ انیل اقرارکرتے بن پکی اور وہگاۓے کے سرکے برابر سونالیک ھآئۓے جواضہوں نے کس تمص الما
نا پچ را تنۓ گی مال خبصت ت میں رکھاگیااور رآسمالی ہگ نے ا ےکھایا۔
لی میں میں بی عم راہ یہاں ت ککہ پھر اد تتعاٹی نے ات تم یہ اس فا ٰ
والسلام کے لئے مال غیم تکو عطال فمادیااور م کہ مال خی تکا تس (پانچواں ص) تو اشاور
7)
ز خلت
سط سی ای سی تقر یے۔ فرغ
۱ ضرورت ودای جائے )اور بای سب غاز لااو گہداء کے ور امیس تی مکیاجا ےگا۔
چنر رت 2
اعد بیث اور الب جیا نکر دوواقعہ سے بی اہم فواد حا صل ہو :
حفرت و علیہ السلا کا باداور ال کے لے ینہ لاج ہے کہ قال اور جماد مج امتوں اور
سابقہ شر کی میس بھی مش رو اور جار تی تھاصرف ات جج می کے سا تھی نیا غییں ے اور اس سے
خابہت ہو تا ہے تہادہ قال ارت العزت کا پندیدہ تین ل سے جشھی ا کوہردوراورز انہ یش
جار گی رکھا ٴا لک دجہ بھی ظاہر کہ ججماددر تفحیقت الد رت لھا فیا نکی حاکببت اور ال کےکل کی
سر بلنلد ید ححفطکادوس انام ہے او را کی رکت سے ال رمتب الاکن میاہدی نکواور ال اسلا مکو جن
مز ہرکتں ے نوازتۓے یں ان کا لت راد کے آ نصور بھی بھی ںکماما سک۔ ۱
تدج ےکہ جب بس نے عقرتت موی علیہ اسلا مک قادت ی ملک شام یل آہ 05
عمالقہ سے جچہادے اکا رکیااو رکم با
یا موسلی إِنّا لن ندخْلّھا أبدأ ما داموافیپا (700ہ) -
ے موی !ماس شر یں پ رگزداخل نہ ہو ںاگے ج بک کہ وول(د شن )اس میں موجورے۔
اارگپا/ہ: فاذھب أنت وربٔك فقاتلا إِنّا ٰھنا قا عدون (۸۱ئ)
گآ آپ اور آپ کارب جا یئ اور ال یئ پم فو یہاں یر بی ہں“
وارک تا ایی رف ے جورم زان پي نذاب صل گیا :
فإِنْھا محرْمةٌ علیھم أُربعین سنۃة٤ یَتیھونَ فی الأرض الأیة (۷۸ر,)
شی ذو( ملک شام)ان کے اوپر مر ام ہے چاٰس بر کک اود یہ ز لن شل تج رالناو پر بین پر تے رگ '
چا کے دودلنع گی رسف رکرتے اور شام ہو می و یکن کہ اب زرل ت رب آرے تج یراد ہو ئے کو
سے رکا لاطلہ :کیٹا ہو چچہای سے چلا تھا می
کا مصداقی نے وت ای لئے اس میبرا کو چا یہ چھرتے رے” یراع تہ “کہا جانا کہ
ا ممم یں تج ران ہپ انا رپے کے اور یہ بھی مس تج ران ویر ان چلرتے رہے وف
4ر تر کک ر نے کیو جہ سے النا بر مسلط ہو گی اعاذ نال نذالک۔
قرب نکر مم میں اخییا سا ین کے ملق ب ہپ جو اہ ےکہ انجوںنے چھاد کیاور چہاد ال
زا لا تق نال کیا۔ارشاد فریا:
ھت
قس رید
. "وکاط یفخ یقوں کاخ (آل کر۸١۳)
او رسک ہی نی لے ہی ںکہ اکے سا تھ ہوک لڑہے میں بببت سے خداکے طالب۔
سور کر یش ماس ئل چہادکی فرضی ت کات کرو تفیل فرمایاکیاہے۔
زی البقر ر۲۴۷ خر معارف اث ٌآن )١/
کی سور )لق 70س 99 تر جا کا نفتیی نکر رے۔ خر !جہاد
: صوعک نکی شال اور مز ت سے ای ٹیس لیر نے ال اسلا مکی ص ربلن۳د گی فاظت ریت رکمت اور تر
کشر رکھی ے۔ جب بھی مسلرانوں نے اس عظیم فریض ہکا ایا ءکیااسے سے سے ایاٹہ نے عزت د
ض فرازی طعییب فرمائی اور جب جب چچہاں ہا ران اس کے تا رک ہہ ئے 'اقوام ہام ان کے وپ
کر و مع کے دلوں سے ال نکار عحب چنال یاگیا۔ ہر رح کے مادبی وس انل اور مل و عشرت
کی فراوا ی' شر اب وکبا بک ار زالٰ اور افرادی قو تک یکثزت کے پاوجودذلت دخوا کی ا ن کا مقد ری
کہ یھی سنت اش ے اور بجی تار کا موق ہے۔ اتا لی یس اس سشت اید پہ ھ0
سو یکو حا ص لک ن ےکی فو شی خطاف ما ۔ بین ٰ
٣ وو ائا تد کہ انم اور ای لے جم کو وا بکیا ہے وا ام سے لے
و و و و تی لیے اج رس متعدر سے _ل ۓےکو ششک میں
تصوص اجار تے نمیم فی کی ادا گی بقی راس کے کے سی ادجرے کہ حضرت و تح ین نون ٰ
لی السلام نے ای افرا ہکواہے شک میس شال ہونے سے مع فا جوا ےکاوں یس گے ہد ۓے
ےکہ ال نکی دجہ سے ذ نید ی کسوکی جرار میں اغیں حا صل نہ ہوئی۔
پک ۳ ابی سے یہ بات بھی معلوم ہو یقکہ ایک سالار لشکر اور تا دکو ای ککان ہک اہپنے فو جو اور
سا بیو لکی اق دض اور ماع سے واتف رہناض رود کی ہے اور ا لیے امو رکا خقیا کر نا بی ضمرو ری ہے
جوا کی کو مدان نگ میں خابت قر مر اود دوہی تخل اتی کے سح مدان مل
کر جی اکہ رت او شع علیہ السلام ن ےکیاکہ النااف را کو شال می کیا ش نکی وجہ سے انس
ا تکا1مکان تھاکہ اکر لشگکر میس شال ہو ئے تو جن کک مع میس بیو یکی محبت نک زین
مدان سے پسائیاخا رک ری اورورے انگ میس بے می او کروی پیراکر نےکاسبب جیں۔
آات لہ تھا جہادکی برکت سے ابق قدرتکاللہ کے حرت ای قارے مشاہ ہکراتے ہیں جن
7 سے اس کے ر سولو لکی جار اوران ک ےکا مول براعاج تکی راد بموار ہو ٹی ہے۔ جیسے حصضرت لو سح ۲ ٰ
ویااو رجا بر من تالی نےگمردش آ7 اب روک دی اورد نکو طو بل فرمادیا ک..- سرت
۱ علیہ لسلا مکا مہ زواور چہاوکی شی بمکت تیاور کافاممدویہ کہ ال تال نے و نکی رو شی مس
0
: . ای ا سی ہل اھو وس وو ت ہی مہ و 0ک 2 2
ظا کت دا کے ہے پییہ+اسوسزر سروسمروسپہب ری ہے بعد سس حر بحصصر تہ ان ہے ہے ےو ےو سیت" -
صس ار ےۓ
تی تیم سے سر فراز فرمیا۔ 0 0
اسی ریہ ھی حخرت لو تع کا مج زوادر جہا کی برکت عھ یکہ مالی خذعمت یس خیاہ ت۷ر نے
والو ںکو تق تھا لی نے نا ہر فرمادیااوذر جحخرت اوت اس قجاہ کے ایک فرد سے پا تھ ملاتے بی حا نگ
کمہ اس شبیلہ کے افرادنے خیاخ تک ے۔ ۱ 0
۵ اس ححریہ م رجوممہ کے لئے الیل کی اس تیم رحم تکاانکہار بھی ال حد یٹ سے ہو تا ےک اللہ
نے اس امت کے لئے مال غیت کااستحال ما و علالل فرمادیااور ال کو مال علال یب ٹراردیا۔
مسا غذمتم حلالا طتباً۔(فندل)'کھاؤجو ہہ تم نیت میں حا صس لکر وعلال طيي “
ج بکہ سابقہ امتو لکیے ہا دک یکلفت مشنقت برداش تکر نے کے پاوجود مال فی تکااستعالی
جانا خی تل ٰ - ۱
آت انت اود تخرد بر دک ناا تاب تین جرم ہ کہ ا گیا وجہ سے اللہ تھالی چہاد یس نیم لکاناب ۱
بی ضا کر دتتے ہیں خصوصاج بکہمال یت جس ہو میں تیفیانت ہرک ہاور ال یش حرامرے
ین مت من ذا وت کے بد تریغ ہون کیا دجہ ہہ ہےکہ مال خفیصت میں قام جازوں ہر -
کے ور ماء اور ببیت الما لکا تق ہو تا ہے اور انس خی خیام تکرح وم کے ہر فرد کے مال نشین ضائ
کرنے کے متراوف ہے اود یہ وجہ سرکا کی اموال کے انزد بددجہ اعم پائ حجاقی ے اناجب مال
یت یش خیانت بد ترین جم ہے فقوم رکا یا موال مس خیافت بھی سفت جم او رگا یر دے۔
جو لوگ س رکیاریاموال اورس راد تی خزنہکوذائی ضر وریات دتقےقیات می استدا لکرتے ہیں وہ
گیا ایز م ریش داشل ہیں اور یق نخان اور بردیافت وں_----- ٰ
الہ تال یٰ تام ملمانو کو سگمناہ سے تی کی یی عطاف باگیں۔ مین
مر
۱۸۸
-
جس
۱
فص ار رۓغ
تی عواں صہ 697
۱,۶
دفات تنا دا علی الام
اورولییای۔ .ںو جو دای ہی جج
ری
رری الامام مد عن اپیفرئرۃ ان رون الف ول فان اکان کی ابی
غَيرَة شید وَكان إذا حرج اغلقّت اہراب نلم دحل عَلی ارہ أُحد
.قَالَ: فخرٌج ذاتَ وم وغلقت الکن ء فاقبلتِ ٹرآ تطلِع لی الدار 77
رَُل قَام وَسّط الذار فَقَالت لِمَنْ في ایّتِ دیو شر
والڈا مُعْلقَة؟ واللق لنفتضحْنٌ ؛ بداود.
فَحَاءَ دَاوُدُ: فا الرحل ایم سط الدار ء فقال آ له داود: لے ت؟ ىَال: آُنا
لی لا أحَابُ لْمُلوكَ ولا میم نی شی٤. فقال داودُ: نت وأللق مَلكٌ المَوّت
سے مہ و جس ہد سی
وٴطلء تْ عَليْه الع ع۶ ۱ ٰ
فقَالَ سُلَيْمَان لِلطیْر: نزک عَلَى دَاوُدَ فَاظل عليْه الطیرٌ حتی امت
علَيْهمَا الأَرض. َقَال لَھَا سْلَيْمَان: : اقبضبي جَناحًا جَناحًا رد پا
مر ہے ہش شک رت ہے
شس الر برغ
رعقیالریث:
اما بن بل نے اپنی نمس حضرت اوج رم سے لش لکیاہے وو فریاتے می ںکہ رسول
ایند پگ نے ار شاد مرمایا: ۱
”ال کے نی داؤد علیہ السلام یس خیب رت بہت شمدب عیب دوگھرسے باہ رتش ریف لے جیاتے
قدروازے بن کر کے جاتے تھ چناشیہ ا نکی والی یج ککوٹ یگ روالوں کے پا س ت ہآ تھا۔
ٰ رماما: ایک روز ہدہبار 3 ف نے گے اور(صب معمول )گع کو بد کرد مایا الع کی احلیہ سان
1ئ او رگ میس ھا کے گی ود یکھاکہ ایک ہد ب یگ رکے چیچوں ٹ کیٹراہے نذا ضہوں نے النالوکوں
پ 9
شف سگھرمی ںکہاں ے داخل ہوا؟ج بک ہگھ ر2( باہر سے ) مففل اور بنلد ڑا ہے۔ ایی
ما یداو دک ور سوا ی ہو ا
پھر حضرت داؤ ےتشر یف لا ایک آ وب یگ رکے یں ٹ کن ای دا نے اس سےکہاکنہ مم
کون ہو وہ کن لاک :
سستنمیں ود ہوں نہ جونہباد شا ہول سے جا ہو نہ ججھے کوٹ روک سے “راو نر الہ :الد
ٰ کی تح ام تو میک کموت ہو ہیں الل کے عم بر خوش لآھدی۔ ٰ ٰ
.ات حظرتداؤڈکای جلہ تر ہوئی جہاں ا نکی رد شیک یگئی ہا اک کک ووا نکی یرہ
مر رۓے زار غ ہوۓ تو سوررج لو ہو کا تھا_ "
حضرت سلدان علیہ السلام(جو نظرت دا کے صاجہزادے تھے )نے پہندول کو عم دیاکہ داد
علیہ السلام یر سابہ لکن ہو جاکیں چنا ہبہ ندوں نے الن یر سا ہک دیا تک الناد وو پر ز ین ان می ری
ہوگئی۔ سلیمان علیہ السلام نے پر ند وس ےکہاکہ ایک ایک باز ویابر سے النا ار ا رک
اہر رق فرما کہ رسول اللہ لگ نے ج یی ںکر کے دکھا اک مس ط رم بر دہ نت ےکی کا_ اور
راوّرعلے السلام گیارورا روز خی گی 1 دنا بس پر لیے بر وں والے کے از انج
تخریع الحفواقفآ.
رواہ الإمام أحمد فی مسندہ(۳۱۹۸۳)
ورواہ الہیٹمی فی مجمع الزوائد )۲٦١/۸( _ ۱
وقال ابن کثیر فی الیدایة والنہایة ”انفرد باخراجه أحمد واسنادثه جیلهٴ رجالە ثقات (۱۷/۲)
تار نے -
ال حریث تل النّد کے بی حضرت واؤو علیہ السلا مکی دفا تکا واتعہ پیا نک ایا سے۔ حمرت
خوالرجے ۱ َ ٰ ۱
داد علیہ السلام لن اولوالعزم اور یل القدر ول میں سے تھے جن ری تا یکا خصوصی تل ر
اسان رہا۔ آپ بر چو تی آسال یکناب زورک نزول ہوا۔ ال اتقبار سے آپ صاحب شر بیعت ہی
ہوے۔ علادداز سی ال تاٹی نے انیس ایک اعزاز یہ بھی عطا فربایاکہ خبو تکاسلسلہ اٹھی مہ تم نیس
ہوگیا بل ان کے صاجز ارے ضضرت سلیمان علیہ السلا مک بھی نبوت کے شرف سے نوا زایا
و وت کے علادہ گی یب د خر جب یں عطافربای جن اکر تق تال نے رو نگریم
شا
٢
"اور نے داؤة کو پر بت یر اےپاڑداداۂ کے سا ۃ ھ بار بار رت کرواور
ہنرو ںکو بھی عم د یلہاان کے ا تح تک کرریں )اود ہم نے النا کے واسٹلے لو ےکور مکردیا“ -
گویانوت کے شرف کے علاودد شی کی اطقمار سے گبھیںہ فا ل عطاف مات کہ :
”پہازو ںکوان کے لے مخ کر دیااور جب حضرت دائد علیہ السلام کر ای اور خزاوت ز اور ٹل
مشغول ہو تے فو پاڑ بھی آب کے سا قح سا تج زک رکمرتے۔ ٰ ٰ
ای طرح ندو ںکو بھی بھی عم زا چنانیہ وہ بھی آ سساشہ
مصروف رت بی دونول مجھزے تھے حضرت داد علیہ الام کے۔ ٰ
ای رما نکیل اود تعاٹی نے لوہ ےکوخر مک دیااور مو مکی مان کر دیاتھاکہ تحت سے کت لوہ
اور ٹوااد ھی ان کے پا کھوں میں موم و مکی مانند ہو جات تاور اسے ہر شکل یں ڈالنا 7 سائن تر ہہو جات تھا
انپیں زرہ بنا ےکی صنحت سال 'اغبیں ام خوبصورت شن اور خوش آواز ی ے ثواڑاکہ جب وہ
زاو ری“ علاوتارتے وب ندے رک جاپاکرتے تے۔اىی رح ا کی دشیایس اقتترار و سلطنت بھی عطا
فر مائی خمرض ححضرت داؤد علیہ السلا مکو راخ ہار سے ای ککامل اور بت ین انسالنابنیا۔
۲ ان کے اندر خر تکا جز.۔ ببت شد ید تمااور ےگ واراتہ اک ہک ولا ای اور نا محرم الن ک ےگحم
والول پر اہ بھی ڈال کے ٦ .9ھ تے و باہرے الا ڈال لک جاے
خھے ماک کول خر رم یس ا کے و و 00
اک روز اہر جانے گے توب مع مو باہر سے بن دکھر کے تریف نے گے .ا نکی اہ ےگ کی
مرف ہی او رگریں داخل ہوگیں فو پک یگ سے چیموں بے ایک شی سکھ سے “ودک ؛کئی ںکہ
ْ درروازوبند ہونے کے پاوجو دی شش سگممی ںکسے داٹل ہوا؟ اور کون ہے؟؟اوراغیں یہ گر دام نگیر
ہوٹیکہ ححضرت دا کے لئے مہ بات بی ہبعش فضجت ہوگ کہ ایک غیر محرم فی ان ک ےگھم
ںا نکی خر مؤجودگی ٹیس ہو اف اووال بات سے بہت ڑڈریی۔
سررے - ۱ ۱ ٦ ٦ می
ٰ پچییر میس شر تی ْ
کٹ اے' ححضرت داؤوڈ نے لوجاک مکولن ہو اور کے سی سس ست
اد شا ہوک سے ڈر جا سے کوک ی یراو یل رکیاوٹ بین سکناے۔ ٴ
جواب سے واود علیہ السلام مچحعد گ کہ لکوت ہیں جوانسائی صورت می ا نکی روح تین
کمرنے کے لئے تشریف لاۓ ہیں۔ چنا یہ حضرت داڑنے فو رآفرمایا: آپ یقن لک الم ٥ت ہی ںکہ
رک صفت لی ددسر ےک خیں قحال کے عمکی یل کے لے آ پک فو مت ٰ
ہوں پا رھ کلک اوت نے حرت داد علیہ السلا مکی رو ٹین شکرٹی۔ -
الناکیدفات کے بعد ا نکی صا حر ارے حضرت سلیمائع علیہ السلام (جوخور بھی نی تے اورا نکی
عکومت ازمانوں کے علادہ بر ندول اور جانورول پر بھی شی )انہوں نے بر ندو ںکو عم فربایاکہ داد
علیہ السلام پر اینے پروی سے سا ہکردس کہ ا نکیا تیر وین می ںکوکی دخواری نی نہ ہے۔
: چتائچہ پر ندوں نے الن بر سابےگردیااوراتاھنا سام ہدگیاکہ لن پان می راسا وگ یااود سور کی
۱ شعائیں او کر نشین تک نہ انی میں
ٴ چنر برت یڈ
اکس حد یٹ مغ یا نکرددواقہ سے حاعل ہونے و سا ہہ
ا ںیم حضرت وا علیہ السا مکی اص شال اور جماعمت امام ا نکی متاز می تکاظبا کیا
گمیا۔ اور نب یکر مم مال نے حضرت داؤ ےکی وفات اور ال سکا جیب واقعہ لن ف راک ان کی جلالتِ شا کا
کرو ظرماالہ جس رح الد تھی نے دیاکی ز ن دی می قام عمرال ناپ اپنا تصوصی نل وکرم فایای
تماسج ال ا لحال ٹرادیا۔ ٰ ٰ
حضرت دا کی شد ید خر تکا ران عد یم لکیاگیا۔ جٹس سے معلوم ہواکہ خر ت ایک ابھاٹی
رص سور سر سر مہ خر
وہ صرف ب کہ مطلوب نمی بلہ نہ موم ہے' لا یر تک نہپ یک وگ کردا جو
جال یش عامس مہ شر ما جائز کییں۔
نات سج سکم مس عوی را لان یکی حد ین امام سم نے نف لک ےک اہول نے ضرت
وا جم بن ععرکی الأ نار کے ذرلعہ رسول ادد مه لٹ سے سوا لکر ایک ہکوگی شحص اکر ابٹی گی کے
7 مردکود کیہ نے تو 020-123۷ کت ا رر سج رس ب الطلاقیر
اب جال العان۱۵۷/٠ ۲)]۰رم)
فص اور یٹ ٰ 070 ۴۳
ال عدیث سے مگ ىہ بات ثایت ہولی ےکہ خیرت کے :ام رآ کردیناشر ماف موم سے
اکرش کسی شب کی متام پہ ہد۔ جیماکہ ہوارے پا شض با گی معاشر ول مل ام روا ےکہ ممولی
اباتاٹی غیرت کے خلاف مسو کی ق فی سےکو یک فیصلہ نی ںکرہے۔
عو پیر ایل یکی شس عحد ی ثکااو بر ذکر یمیا کے متتلق بھی فقباء نے ف مایا :
اگ رکوئی متخ اتی ید یکو خی مرد کے ساتھ جتلا دہ نے اور ے " ش٠ لکردے فو ا سکو تصاص
نت کیاجات ےگاکہ غییس؟جمبور علن کے نز ویک اگمر وہ نس اس واقعہ بہ حا رگواہو کو پیل ۰
اے قصاصا فی خی سکیاجا گا ( ویک لہ را مہم ۶۳۸ ۳) ۱
بپ“ رکیف!ملمول باتک مناء با کسی ندب کے غیرت می ہک رق یکر دن بھی 1 یں"
الہ بے ھالی اور عمالی و ای کو بر داش فک نااور بے بہودہ با لکو قو لکر نا تخت بے خی کی ے اور
ا بے فی کی جمارالو رامتاشر وشائل ے الاماشاء اٹم '
پہرھال اعت داؤد علیہ اسلام کے اندر یرت بہت وید تی اور چک تس
ند ر شی لزا مود شی تد سو لال نے اک مو خر ت سسمن عباد کے ٹول کے جواب
یش نم مایا الہ : ٰ
نمی میں سب ےڑیادہ يُ ت مند ہو ل'او اللہ تعالیٰ ے7 7 ت وا سے
ایردوس یی روایت ٹیل ماک :---
کیا سح نکی خیمرت پر تج بکرتے ہو ؟ ادن کیم ایس اس سے زیادہ خہرت مند ہول اور اللہ
تی جھ سے زیادہ خیہرت مند سے اور ہہ اش دکی خہرت کیا ےک ال نے ہر طرع کے اہ ری وباشفی ٰ
ات یکو ترام خر بے “.(د یھ جع لم راب العاق م جاب اع لان ال من وا ام )
- فرتو کا انی شیل میں متسشل ہوا بھی اس حدیث سے عابت ہوج ے جج۴ اکلہ محضرت
عمزرائیل علیہ السلام انسالی صورت میں حضرت داؤد علیہ العلام ک ےگھریش تش ریف لاے_-
ََ۔ سوہ می شی سیر یں جانوروںل اور
پ4 نول پ مگیاانکا عم چنا تھا ْ
۵ حدیٹ سے یہ بھی معلوم ہو اکہ اموا کی نول کے سا تد ات را رکا محابلہ گرا اورا اك
تکلیف میں ڈالنا چائزغنیں اور جس ط رز ن دگی میں اسے عبت يافط ری طور پہ جن جن بقل سے
تی وت کے لحعد بھی ا سکو ان بانوں ے لوط کنا نے جیے حرت سان علیہ السلام
ےپ نو ںوس ےکرنے عم فیا گر ار دنک اس عز سض
ےہ
6
م۳۴“
ای
اب اص رکرنالہ ٌسع دی قے رق ٹیش اود ہر طر کے اس سے
ہے نیاز ہہوجاجا سے اور ال تو رکی ہیام پر نعہخوں کے ساتھ ملیف کا متاطلہ گناہ ت گناہ
ہے۔والاتم
تس ایریۓ
ود عوال تس : 01ھ۶0۶
۲۵
ہی بھی سے ماع نف برای
اما نکی - 07ہ تی موٹی ےاورا ٹی کے ئل بوتے روہ ا بڑے بڑ ےد تح ے کر نے
کے ہگردواس حقیقت سے بے خر جن ےکہ ای تمام ت ایر اورو سال واسبا بک یگاڑ یکواگ ر مخیت ال یکا
وا ال اھ اور منصونے ہوا تک حابت ہوتے ہیں۔
انیاء مہم السلام اس حقیقت کے شیاسا ھوتے ہیں اور اپنے ہر مل درا یکو خطاۓے ال ھی گے اور اہ ام ۱
مواملات و منصوبو ںکومشییت انی کے جب رھت ہیں۔ بی الودی نعلیم بھی ےک ہکو کی بھ یکا مکرنے سے یل
اے الہ گیا مشیجد ے نڑں گرروٴاور الع ڈاءایٹرے گھر اور جا ىالفاظ 7ر کر با تکاا حصار کر وک
ال ںی شت نایا نکی جدداورائ کی یرت کے اق مہارے تام و سال قام ۶ نوز کی سز ٰ
نترایی رہام منٹورا“(اڑی ہو فی خاک )ہیں ز ْ
انا شا اللہ نہ کے پ الہ تعال کی این بل از بی سی سلیمان علیہ اسلام اک حنبی ہکا گیب واتعہ سی
کک نیدی نیا در 7ھ
لی اید بیٹ:
روی ھذا ا حدیث البخاري ومسلم قق صحیحیھما عَن أبي مُرَیْرة عَن
ای ا قال: ( قال سُليْمَان بن دَاوُدَ: ںو و او انی
کل امْرأق فارسا ُحَِدُ ي سیل ال : فقال له حيْهُ : اك شَاءَ ال فَلےمْ یَقَل
فً ۴
اس سر رس مو ںا
لاو من وھو 27 والسیاق و واوردہ دس سد ید
,,
ال بیو ان کڈ کر از خلت بقون یں سیل ال ک0 لهُ الْمَلك: تَ
ان شاء ال من وَتَىی) فاطاف بهن وَلَمْ قد منهُنٌإلا اسْرَأ صف
إِنسّان). قَالَ ہر و قال ِن ا الله لَم حّث وَكَان أَرْحَّی لِحَاحَته ).
لص اوررۓ
رک نے ھی حترت بے دو ٹکیا وت یک وت
ٰ نے اداد شرمایا۔
ثنسلممان بن داد علیہ السلام نے ایگ با شرملیاکہ جا سی
شرب کرو لںکا سے ت ایک شسوار سے عالہ ہوک “وہ سی سوار ای کی راومیں چماد
ف۶ 3م/00
اع کے سا نشی فرش ن ےکہاکہ ۔ الع شاء ال مھ انغپو لیا نے ہکہال(شایلہ شبیطالنانہ بچھلادیا) ال کا
تہ ىہ لاہ 0 اک بھی تحسل نہ ہو اسوائۓ اک کے او راس نے ھی ٹس او رابک جانب سے ادعورا
کے گتا۔
کیا نگ نے ف رما اش دولوں کت ےک۳ سالگ دش چاکری“ :
دوس یاروایت مل ےکہ : ٰ
'”سلیمان ین داد عیچالسلام نے ایک با فرما نف کک رات مرو رو ۷ بت 7--
گا ہن میس سے ہرایک لڑ کےکوجتخم دس ےگیااوددولٹرکا ان کی ر اوییش قا لکر ےگا“
ااناسے فرشتے ن ےکہاکہ :انشاء ال کہ د ین ممرانہولانے ن ہکمااور ول گجئ۔
رسب سے مع تک انام ےسک نے چا نہ جم دیاسدائے ایک کے اور اس نے بھی
آٗرھااور ارگورا ٦م دیا۔
بی للع نے خر مایا :اکم دوالن شا یٹ ۂکہمہ دتے فذحاعت نہ ہد تے ادرال نکی حاجنت بآ ری کے لے
بر زیادہبرامید بات گی “۔
رواہ البخاری/کتاب أحادیث الانبیاء ۲۵۸/۲
ایضاأً کتاب الجہاد ۳٣/١
رواہ مسلم۔کتاب الأیمان/باب الإستٹناء فی الأیمان۔اا/۲۸۲ _
ر تارمث
حفرت سلیمان علیہ اسلام الہ ای کے ان جیل القررانیاءمش سے تھ ان کی طرف سے
عظیم تیں مال ہو کی تجھیں_ نوت 'خاندای شر افت و خجابت “نٹ یکی فرز ند ی تیم الشان سلطنت
بر بل ش رکسی خیرے عکومت 'انسانوں پر عکومت جنات پر عکومت جچر ند پر ند بر حکومت'ہوالل یر
علومت “انور وی مر علومرت' شر ات ار پر علومرت' دو ںکی ز با نکاعم رخ کیک اتی
یں جح تھالی نے نھھیں تعیب فرماگیں_
5
مور
ارز
ایس جم وسعت سلطعت اور تیم نمتوں کے ود میاہر نی شنل ا بھی تے اورانش کی راوس چباد
کر ا ٹیس بہت م رخوب اور بین تھ۔ چہاد کے صمل سے ان کا شخفف ہراس شس واج ہوگاجو ق رن
ْ شی مکامنظ مان مطال مر گا۔
ان کا بی شخفِ چہاد تھا جو انیں اس لکر یس سمگرداں رکت تئیہ ایڈر کے لشگر اور نہ کے
مباہرو کی تحد اد می اضاذ ہکیاجائے اور جہاد کے لے تار کیا جائے-
یں وہ پر ندروں کے گر تی رکررے ہیں ہیں جنات ج رم کڑرے و یں
اناو ںکیساہ کی کر میں کے ہں۔ تق ر1 نکر مم میں ارشمادے :
وَحشر لِسْلَيْمان جنودہ 'منالجن والإنس وَالطیْر فَهُمُ؛ بُوزٌ عُوْنْ۔(النمل۱۷/۸)
اور سے سے سلیانا کے پاس :اس سے لگ ر جن او رانسمان اوراڑتے پر مردے پر ال نکی میں بائی جات
نسمجھیں رون 71 تا ری اور ا یں جازودمر کن ےکا امام مر یں۔ارشادے : ٰ
إذّ عُرِضٗ عَليه بالْحَشِی الصتّافناتٗ الُجیاد۔(ص/۳۱۸)
”جب دکھال ےکولائے لئے الن کے ساس شا مکوببہت عید وکھوڑے مل ٰ
رص سینا سلیمان علیہ السلام ایک میاہر تھ اور مجاہرلنہ ع مگ میوں کے لے ہمہ وقت زار ی
رن تھے اور ہہ بھی چہادے ان کے ششخف ب یکا تھاکہ انہوں نے ایک روز یہ ش مکھائ یکہ یں
آ ارات اپتی ستر(اور ایک ردایت کے مطابی فدے اور ایک رایت کے مطابی سو) عور قوں سے
جن میں ال نکی از واج اور بانیاں سب ششائل میں صحب تک و ںاور اس صحبت کے متجہ می ہر ایک
کے بیہاں ایک لڑکا بد اہ گاج بڈابہ دک ا کی رادکا ماب اور تجسوار ین ےگا۔ اس رح ایک پی رات میں
اج کچ ر ماد یل محابد پیدراہوجائیں گے ٴ
کن چ ےکلہ ہ رکام اور منصوب ےکی خی جہؤروز تیر
انان کاکام ىہ ےکہ اسباب وو سال فا مک کے پھر من اڈد یہ سوڑدے اور کک ےکہ الن شا ء اڈ الیا
ہو صرف این اسباب و طافت پر مجھر وس ہژکر کے ت فی ہق تھا کی قزرت سے صرف نظ
کے کن اث تعالٰ بھی کبھھاراۓ مر ب کر ولا ے :کول ی غلاف اولی خ بر رک راو تۓے ]2 2.- ْ
2اا وی اق دز رگ ملین از فآ کرات
بھی ہو لی ےک لوگو ںکواس کے ذری ہے مھ دی جائے۔
حضرت سلدان علیہ السلام بھی اپنے ا عمزم وارادہِکو اور ا سکی تی لکو ال تھا یکی متقیے -
کے تا انا بھول گے با شیطاان نے لاد ماکہ او 7 ات کے یادد ڑا نے کے دہ اننشا ء ابد کہ گے
۱ اک تہ ریہ ہو اکمہ را تکو سب سے صحب تکر نے کے پاوچو کس یکو بھی علل ججک سن زا
ص١س ار ےۓغ ۱ ٰ ۴۸
نے اک گ کے ناس کے ہاں بھی جب ولادت ہو گی و ایک نا فص اوراد حور اپ پیراہوا
وا تال نے انی یبد دا اک کو ھی کم جار فطاء کے فی خیں ہوسا گر ا
اکا تو شیہ بھی خی سکیا جا سنہ رت سلیمانانے اود تال کی طرف سے صرف مظ رکیاتھااور
صرف؛ہۓ مل پھر کیا قد نیقی نیس بمہ متا ختاان ے قلب میں بھی بجی بات ہگ کہ ری
راکرس گے لیکن صرف نہ رأانشا ءال کنا ول گے ج کا می رآ ہوا۔ ٰ
ناخ رسول ادڈ پا نے اد شاد فرماانہ کا ووانشاء الہ رکب لیے نوا نکی عم بواری ہو جا اور
وو حاث نہ ؟٭ تے۔
ور حقیقت تر نکری مک تلیم بھی بی ےک بر ام سے قمل جو تل می کر نےکالردہ
ہواے اث کی مقیت سے ضر فکرواور انشاء ال دک کہ اک الد نے جا ہا نبال ہوگا۔
چنا خو دہ یکرم یل کے سا تج یہ واقہخٹ آیاکہ مش کین نے یبد کےاکسانے پہ سے نے
۱ ا حا کہ فکا داقعہ دریاف تکیا و ڈپ نے وعدہ فرمال یک ہ تل بنا ںکا اس روس اور امب میدب کہ
- چ کل علیہ اسلام ذ یہ تی یں کے اورالشاعءالل کول
جرعیل علیہ السلام ا گے روز ت دکیا آتے در ود نع ٠ک آ تب نہ زا ۓ ور علے علیہ السلام
سس شی رر ںا ریف لا کو
وا تو زشنی نی فاعلٌ ذالِك غدا إلا ان یا اللۂ۔(الکہفت/٢٤۸٤۲)
وپ ہ کسی بات کے لے ہی ںکہ مش اس ےک لکروں ام کہ الل چاہے جیا سے
اٹ کی مخیت سے مشرویط یئ مغ رس یکا مکوکر نےکاوعدونہ فر ما ہیں ز۳ رو ٹوا بر عخثا ی۸ )٠۸۳
خم رض انشاء اد ہکہنابببت ان مکام سے اور ہہ رمسلما کو اس کاابتما مکر نا جا می اور اسے صرف را
کا کا رار نہ مھا جاے بللہ ا سکاد میا نکر کے کہنا جامینے ماکہ ز بالنکیسا تسا تھ دل و ہاو بھی
مو تفیقی اور زاعل تفیقی(ادڈہ تواٹی میرف ہو جائے۔
چند صرو ریا حظات:۔ '
اس حری ٹکو بگھن کے لے ند با تقو ںکاجان لی اضرو ری ڑے۔
۱ ہی مات فو کہ الس ز مانہ شی شریعت موسودکی بیل تقر داز واج جا رتک مع رم و ا
کہ خشربیعت ریہ علیٰ صانماا لصا والسلام میس سے بل کشر تعداد بھی ہوسحتی تھی اور اس کے علاوہ
حضرت سلیمان علیہ السلا مکی باندیاں بھی عھیں شک کہ یی گر پک ےک دہ میاہر تے اور میا کو مال
حفیمت ہے سا تق سما تھ با نال بھی انید نتناٹی عطافرماتے ہیں۔
کر رر
اکیسواں قصہ :۱٣پ
ضف ال رر 1 اور
نررت انسا نگ ہو اور لا بھی طبعت و جس سکھانے کے لے نس او جات بے ز بالن جاندرول سے بھی کیب
کم می سے ایگ ایے می ہو سس زر می مجنلاانسا نکاقصت ہنس کو ائند نے ایگ بتقدر کے ڈر لج سجقی مکھایا۔ سان
نو تاس کیب ق کو بیالن مر ی٤ے۔
ان رن
عن أبي ھریرۃ عن رسول الد ہل قال: )ان 3 یع دمْر ۶7 سّفیبنة
تا بالاء وَمَعَهُ قَرْدٌ فَأَحَذ الکیس فَصَعد الاقَلَء فَحَعَل يُلققی دیٹارا فی
البْحْر ووینارا رق السّفِینةہ تی حعلَهُ نصفین ).
۶ ج ر:- بہشثے:۔ فحضرتالا ہر یی تبرت ہیں کہ ر ول الاند پگ نے ار شاد فرایا:
ات 2 سر اب فروخ ت اک رج تھااور (جچ لہ ہو زر میں جبنلا خھوااس لے
را مکماکی کے پاوجود بد حا مکااد ما بکر جا اور )شراب میں پالی اکر جا تھا 'اس کے سا تھ ایک
نر ھی تھا اس بنلدر نے اس کے د ینا کیا کی اٹھائی اور بادبان کے ڈنڑے کر جا تڑھا۔ اور مکی میں
سے ابکد ینار کالما اور اے ثرر ہل ڈالر تااوردو مر اد بنار ال( اوراے سح میس وا دجا مس طرئ
ای نے سمارےو ینارو ںکودو ول میں نے کر دیا(اور آرھا کثرر 0 نز کردا الہ جو حلاوٹ کے ٣
٤ ما لکھااے دوضائضح ہو جائۓ کہ وہ تس اناد ہنارو ںکا گی رار نین ھا)۔
تخرٍ کے ۱ لحدیث:۔
روادا لا _:- یب من ای 2و امم ٹویاً_۱۵۵۸۵/٢-
وروا اتپ یئ ” شحب فا مان“ ۳۳۲۴+۔
ورواها من صتروں۔ ۲٢٣۲
شر ایر یش
یہ ایک وس میس بتظا لا پگ تاج رکا قصہ ے ججوام اث شرا بکی خریروڈروخ تکاکار دبا رکیا
کر از اردال وت می ںلکمانے 1 2 ےے اسے ملاوٹ آباد کر دیااور | کیانے خر اب یس پالی
ماناشر ورک دیا۔
امہ بات وا مر ےکہ اسلام سے یل مچچچلی ش یں میں سے مض ش راک کے اندر شراب
مس ری
ْ ترام نہیں ھی جی اک اسلام کے بھی ا بای دوج رامک ھی لیف ارہ اشکال تخ ہومگیاکنہ اس
شف کشر اس میں ملاوٹ پ تاب خر متگردااگ یلین خودش راب فروش تک سے جاور رداتھ؟
اور عد یث می اس پر اسے ال رص تکیول نہگر داناگیا؟حد یت سے مہف م کیل پیر اہو نا چا ےکہ
شراب فروض تک پاکوگی بر ال نھیں۔ ۱ ٰ
دا شر ہنا اہ ےکہ یی ش یں یں سے می شش لع تکاواتعہ ہے شریعتد مھ بے شراب
سے ہر رکااد لی تلق خواو ین ےکا ہو خواو لا ن ےکا خواو فروخ ت کا ہو خ اوخ بی ن ےکا خواوبنانے اور کشید
کر ن ےکا ہو خواوانس میں لن خی و ناو نکاہ رر کا لق پالئل مرا او رگنا وٍکیبر دے۔
ڈو رھ می ورس لاو فک تا اور پای ملاکر فروش تکیاکر تا تا اور ا کان کاردپار
25 کت میس جادی تھا۔ اس کے سا تھ ایک بد ر بھی تاجو یہ سب معاملہ د یکا تھا۔ اس نے ا الک یہ
کیا کہا کی کر ارت 11 یی اتھکر بادبائی سک یکا جو او یر دازا ڈ اہو جا سے اس بر جا جڑھات اہ
ال 7۲ کے اھ نہ گے اور یی میں سے د یناد کا لکر یک سحندر میس بچئیگناش رو کر دی ایک
دینارسنررمیں کیئیکنا جا ادوس رسکی نل ڈالا جا ا اس ط رح اس نے آد ھھ د ینار سحند رج دکرد ہے
اور آد گید ینار اج کے مل ےکمست میس ڈال و تے گگویااسے ایک ط رح سے سیق سکھاد کہ جو مال نے
لاو ٹک کےکاہاتھاائس مت اکوگی عق خنیس بذماتھا ہف ادداتی تقائل کہ سحنرر ٹیل ینک دیاجائے-
ے
چتر برت و لصا
اہ حدی ثکا نیاد کی سس اور ی7 شش( دس کہ اور ملاوٹ )کی نم مت اور ا کا نا جات ہونا بین
کنا سے اور اس بر مر تب ہو نے وانے ففکر کی اشرا کا ان ےی کو دع کہ د ینااور مال شل ملاوٹ
کر کے فر وخ تکر نا قطعا 7 ام ے اوراس ے حا صمل شد ہآ ید نی ھی م ام ہے۔
بت اسلا می ۓ بھی تن ملاوٹف “کو بد تری گنا اور ام شرار دیڑاے۔ رسو لک میم اق نے
رمایا: مَنٌ غغشٗ فلیس صتًا۔(العر یت )جس نے لاو فکیاباد کہ دیادہ ہم یش سے میں اسلام
نے جس رر تشم کے سا تح اس سے منح فر ماب ھجھتی سے ہہارے مسلرمان چھاگی اما بی اس کے اندر
ہب ہیں پوس زر میں تا اممانیت سے عارکیسناک لوگ اجشیاۓ ضرور تکی رج رمیںلاوٹ -
کرنے ے پاز غہیں رت دود *شہدگھی وغیرہ تو معموبی اشیاء ہیں سم فو مہ ےک دواو کک مل ٰ
لوٹ ہو ن گگی سے 'آخرت سے فافنل ذرکے پپچاد می مہ غلیظ عناص ہمارے مواش روس می گنا گیل
دز نے ےکھیلتے ہیں او رک وکیا کے ا تہ رو کے ولا یں ای ےلوگ انساغیت کے تا تل میں۔
مر حعال املاوٹ زدداشماء 7 وخ کر اورخوولاوٹ گر نا سخ تگزاداورجتر ام ے_
رھ
نمس اور ےیغ ۰۳
۲ے الہ تی فا وکا موں بر اصل مزا خر ہی میں دی گے ملین ینس و قجات د نیس 0
گی سزاد یت ہیں 'انسان کے اوپہ جیی آنے وانے ملف حوادث اور مصماتب د نیاکی نم طکار لو کا ہی
شا ضمانہ ہوٹی ہیں۔ ۱
اس تاج کو لاو ٹکیا سم اللہ تی نے دنیاشل اس کے اہین یندد کے ذ رجہ دیکمہ اس نے اس
کے آدھے ا یکو ند ری نز رکردا۔
۳۔ حدریث سے خوانات کے جیب و غریب اصرار بھی معلوم ہوتے ہی ںکہ جا ورول اور خوانات
یس بھی اد تھا لی نے ایک عتل اور جن معاملا تکو مک اذ وق رکھاے۔ کو رو واقعہ یل بد رکا ہے
٠ ں کے معالل ہکو نے ادرعدرل دانصاف کے مطا کا مکرنے پرد لا تک ہے
ایک بات سنہ بھی معلوم ہو ٹیک اک رانسان کے پال رام اور تاجاحز را سے حا ”پ"
کیٹ نانہ جاہے بل اسے ضا گر بای دوضر گر زی کورےو بنا جا
چنای ریت اسلامہ می بجی مم ےک اڑل فوئر ال سے مال حاص٦ لکرنے سے اجقنا سکرو“
اور اگر ہیں سے نا جائز مال مل جائۓ توسکما زگ اسے اص قحال کر و
ںلوکوں کے پاس سودکی ٹم مع ہو کی سے فو اسے بھی استعا لکنا انز یں سے “سودکی 2
تر ا ہ امیر قوماوراموا لیکوک یت نکودید ینا مہترہے لین یکا نین علاءے فو ک کیا جائے۔
فص اور ےۓغ
اھ
ٹس ال ریغ 207 ۱ ١۵
ا یسوال قد :۔-(۴۶
گائۓ اور پجگیفر ےکا اسان اے رکال رہ
تبر
اس د نیا کے اندر یی نے والے عیتبات اس تاد ممفلق ک ےکر تے ہی ںکہ ہرم ا لکی فندر تکا تمونہ
ہے۔ دہ سے چا حگوبائی ہش دے' لع د مان سے فوازدے ا لکی قد رت سے سے و بل انا نکو لق و
میالناسے محرو مردے اور چاے تو بے ز پان جانورو ںکو من وگو بای ہش دے۔
اظرداتعہ ایک اییے بیکرشمہ فقدر تکاہے جب خال قلعم دبیالنا نےگائے اور : پر ت کو انسالن سے
کش دک رن ےکی ققررت عطاکی۔
صصالرمث:
رری البخاري ٹی صحیٔجه عَنْ اي ھریرة ةَ رَضبي للنْ عَنه قال گی رَسُول
ال لٹ صّلاه الصبٔح تم اَقبلَ عَلی الناسء فَقَال: (َبنا رَخُلُ مَسوق بَقرَةُ إِْ ھا
فضربَھَا فقالت: إنا 3 نحلَیْ لهٰذاء إِنمَا َلِمَنا للحَرٹ. فقَالَ الناس: تہ اف
7 قَرة نکلمٰا! نَقَال: فإِني أُومِنُ پھذا انا وآبو بکر وَعْرُ وَمَا ہما تم,
...7 َِ۔
وو رد سی شی اذ دا الب قحب بِنْھا بشاى نطلی سی کاڈ
اسْتنقَذھَا مِنهُ فقَالَ لەُ الذ؛ ھٰذا ستتقذتھا مِنی تہ یسوم و یووم لا
راعی لب غیْريء فقَال النام: سبحان |رز ذئ ٠ یَتَکلم قال: فإِني این بهُذاء أُنا
وو بکر وَعُمَرُء وَمَا مُمَا 7-
تار
لام بفار ئن اٹی جس حضرت الو رم سے نف لکیاے' 7 اک زرط لآ
نے نے ےی نماز یھی اس کے بعدلوگو ںکی طرف رخ فمایااورارشاد فرما: ۱
”ایک خحصص ایک گال کو ایک 7 الہ سو ہپ اس متوے َ
لے مار نے لگا دو گان ےکن گی :* ہیں ا سکام(سواری) کے لئ نیس پیراکیاگیا بم تو فی کھبتی
اڑ یا کے کام کے لے پیل ا گے ہیں
بی ع نکر لوگ سے گے : سجھالن الد اگائئ ببھی پام تک لی سے؟ ۴ ؟ ر سول الد نل نے ار شزاو
فرمایا: بلاشبہ یل تو ااس پر ایمان رکتا ہوں اور ا ویر اور گر بھی ۔عالاکیہ وہ وہاں (ا واققیہ کے"
رھ
نمس اور یۓغ 9۶ 7 0" ٦
موب ر) موجود نیس جھے(پھ بھی لقن ر کت ہیں)۔
”اوراک یس اہۓ مومیٹیوں کے در مان تھا امہ ایی دورالنااحیانگ ایک جیٹس ا کے موبنیوں
ر مل آور ہوااوراک ایک جا ہبی اان ٹس سے اٹھال یمیا اس نے ا کاچ اکیااور انس سے مج کی چٹ رانے
گی کو شش شک او ری ری اس سے برای نو بھیٹر ہے نے اس سس ےکہا:
رج ق ا کر یکو نے بھھ سے مچچٹرال اکن ا کاکون عجافط ہوگادر ند وں کے دن میں جس
رن عیبرے سواکوئی اور ا کات وا کی ہو گا“ ْ.-
وگول ن ےکہا: ان ابد ا بھحیٹریا بھی نگ وک جا سے ؟ 1۴۴ب نے ارشادفرمیا:
لا شیہ می تاس پرایمالن کھت ہوں یس بھی ورای ڑوم بھی “ھالا کہ دودوٹوں وہاں کیں تۓ “ 5
'ڑ٤خوا ریو یں
رواہ البخاری فی صحیحا: کتاب أحادیث الأنبیا۔ ۵٥٥-1
وفی کتاب فضائل الصحابه۔ باب قول النبیٴ/ لوکنت متخذ ا خلیلا۔ے/۱۸۸۔
ورواہ مسلم ایضأ فی کتاب الفضائل۔ یاب فضائل ابی بکر الصدیق 0 و
تر افر مغ
رسول اکر یم مکل منت او جات بہت سے جیب دخ یب واقعات بین فرماتے تے زس نظر واقعہ
اب یث کے داقعات یل سے بہت تیب واقعہ سے مس میس رو الله نے ایک گاے اور
ہے کےکلا مک نےکانمھ رک روف مااہے۔
سے سر سوا کی کر نے وا لے تن سک و ما نے ےا : کئیں اکا مکیلئے و کی اور
از یک یں اک اگرابللہ خی نوزراعت او ری باڑی در ویش اتا لکر ن کنل پر اکا
ہے
الہ تعالی نے جانورول اور چو پائؤول میں بھی ملف خصوصیات کے عال جافور پیدافرماۓ ہیں۔
ہر ان کی ایک انگ نماصییت ہے اور یو لگا ےک ہگویاوہ جانور اص ای متصدد کے لئ لی قیگیاکی
ہے۔ چناج گا ۓ تل و شیمرہ عھوہآبار بر دار اور سوارکی کے لئ استعمال یں ہو تے اور ا نکی سوار کی
سوار کے لے بھی کوٹ آرام دواور راحت رسمال 0رت 7ب رمواری سے ا2
ف۶“ 2 ْ0 چا اک سارک آرام رہ ھی ہوٹی ہے اودیہ ہ رھ مکی باد بردارگی
ھی کر سے ہیں گائے بل و عم رہ عو مائل یلا نے اور تھیقی باڑی مس استعال ہوتے ہیں او رکھوڑے تر
ویر کھیتی بانڑی میس استعال کہیں ہو سے خر ادڈد نے ہر چاو رکوایک تخصوصیا تکاحال بنااے اور
ال سے دن یکام لیا چاییئے۔ لبراا کا نے بھی مچ یکہاکنہ میں ا کام کے لے پلرا کم کم یاگمیا۔
تس ار ۓ ۱ ے٢
لوگو ںکو اس پ بڑا تب ہوا ہے بھ یلا مک رسکتی ہے اور کے گ ھےکہ لن الہ گا کلام
۱ ٤ے گان کے لے ایک قامل ین مات شی اوراس را نہیں نے لج کا ظما ہا رگیا۔
رسول اللہ کل نے فرمیا:بلاشیہ می اورال جاور رف اس پر ین ر کت ہیں ھالا کیہ وودوول :
وہاں موجود بھی کہیں تے_
رسول اللہ پچ نے ان دونوں حعفرات کے متعلق ات وف سے اس لے فر یہ آ پکولیقین
ھواکہ مہ رات آب کاٹ اعاداوراتالقن ر کت ہی ںکہ آب جو بھی با تکہیں خواء نی ی جیب
رہ نہر لاف عققت ہو لین دو وٹ غیں ہوسکق اور می ابیان خیب کا دودرجہ ے جو ال
ایماان سے مطلوب ےکہ اناد بھی اور اہر خعقل نہ نے والی ان بات لکی تمدل یکر نا جو
ْ ع ہآلنادحد یث سے خابت ہوں۔اور ایپ ہی بند و کوالہ تھا لی نے تر یف فر ماک ے_ ٰ ْ
الْذ ین ؛ُ ؤمنون بِالْخَيب(البترہ)
(ض/ئی۷د ولگ ہیں جھ خی بک باقوں پ ایمان رت ہں_-
یی مر دوسرے واقعہ ج ارشاد کہ ایک بھیٹر بے نے مگ کی۔ جب جرواے نے
پہادر تیاور ہم تکا مظاہر ہکرت ہو ئے مگ رٹ یکو بھیٹرتئے سے پچ رمیا چھیٹر کے تن ےکہاکہ :کر فو
نے اسے ھ سے مین رای نان اس دن اکا برسمائع حا کون ہ وگ جب در ترو یکا دن ہوگا اور ان
ریو ںکاکوکٹی جہ داہانہ ہو گا سواۓ میہرے۔ائس دلن فو یہ بھ سے پک گی۔
لیا نے فربایاککہ اس سے عر ادا ام تکادلن ا ےکہ اس دنا ہر ای ککو ابی یڑک ہوگی چانوروں
اور بھیٹر جر لیو لکو پھیٹر ئے سے بجان ےک یم س گر ہو گیا؟ یاااس سے مراد قہ با زمانوں کے تہوار اور
کی عیدرکاد نے کہ ا روز وگ اجے میلو او رکھیل دش ات مٹپہک ہو تے ہی ںکمہ انیس ای
مولقید کی حاط تک بھی پر ایال کیل ہو جا توااور چھیٹر کے جانورو کواٹھانے جاتے تھے۔
( فااز ٹر حالنودئی عی لمج مل مر ۲ے ۲)
لوگوں نے اس ے بھی مج بکااخھا رکیاکہ ایک بھیٹیا بھی انان ٰکنشک وک رسلا سے ؟
رسول اللہ نے پھر دی بات ارشاد فیا کہ : بلاشبہ مم اور اب ھککڑو رق اسى ل ین ر کھت
یں بادوجود یلیہ وہاں موجود ہیں تھے
چثر 7 ت۱ ولصا
ا_ حعدیث سے بلیادی طور بت مات سفن اب وک وعررضی الیل خماکی تیم فضیلت نا ہر ہوتی
ےکہ رسول اکم پل کون دونوں پر المااعخجاد تھاکہ از خود ایک پاد غیل دوہار ف ما کہ :نٹ اور او یکر
ٹم الید یٹ " ' ۸
دعرواس پر لین رت ہیں۔اس ل ےکہ آ پکومہ لنشین خھاکہ خو اہ سار ید نام رىی با تکو سلیم نہ
کرے کن ىہ دوول ہفرات این او ین کے ال مقام پ فا زی کہ خوہ بات بظا یی خلاف ٰ
ْ خ ليکیوں نہ ہو ہہ ا سکو پالنل جاور سا جھیں کے اور واقہ بھی بجی تھا متا کا واتعہ اور اس
صدی اک ی کی بے ساختۃ تلق و جائحی اس کا می شدت ہے اود نیس صعد لی کے مق یر فائ :کر ن ےکا
بویاظمارے_
چناغیز امام مار کاو امام مسلے اس حد ی ٹکو ان ٭ضرات کے فضائکل کے جاب می بی فک
فمااے۔ ام بفار نے ىہ عد یٹ ”باب فطائل عم ڑج اور ایام سم نے ”باب فضائکل ال بجر
الصر بی ٴںش ضٰ اے۔ ۱ ٰ
ایمان ہایب اور ایمان الر سول یچ کے فی سی کابران معمل نہیں ہو سکتا۔ اور اس کے معتی
بی ہ سکہ رسول اللہ یلج بات بھی فررائیں اسے من اورپ جھمیں خواووہ ہجار کی تل یس آئے یاتہ
آ ےگ کک اللہ تار ک وتھاٹی نے ش رآ نکر مم یس ار شاد شرمایا:
وَما یتطِق عن الَهویٰ إِن هُوا وَحیٗ يُوحٰی۔(النجم ۳٣
ور( )نی خوایش ففس سے پھھ نہیں کت لقن دہ تو وی ہو لی سے جوا نی کی بای ہے۔
عقل میں کے والی ا کو تلی مکرح اور خلاف عق لکوردکرد ینایا لیم ت ہک نا یمان ایب اور
ایمان پالر سل 1 و ہے۔ ج بکہ اسلا م کا مطلوب ا یمان بالغیب "اور اما
ار سولی سے بی اس حد ی تکاابھم سح اور ہے
٣۔ جانوروںاؤر بہائمکاازنانوں ےمنشگ کر ابظاہر فو عوال سے مان خلاف ختل اور مستبحد یں
اور اللہ تا ی اي تاور ہی ںکہ چانورو ںکوگویائی نٹ دب اللہ توا لی جب روز حش رانسالن اکا زبالن پہ ہر
ازس کے اور اس کے اخضاء عم اس کے خلاف گواہی دش کے فو اس مو شع بر ایند تعاٹی انسان کے
حم کے دوس رے اخضاء ا تجح او و خی رہ وگویائی عطاکر یی گے ۔
لیم نحْتِمُ عَلیٰ أَقُواهِهِمْ و تَكلْمُنا أَیْدِيهِم وَتَشهَدُ أ_رْجُلهُمْ بماکانُوْایکسبیُون(/۷)
رج کے دن ہمالن کے مضہ ہمہ ر_گاد یی گے اود ہم سے با تک ہیی گے النا کے پا تح او دای
دم گے ال کے پا ان( مم کا موں )کی جود ہک یاکرتے ے۔
وجب ال تال انان کے دوسرےاعضاء مک وگوبائی عطافرمائیں کے نو او رو کو بھی ثوت
گومائی عطافرماسکتے ہیں اوراس س اظہار تج بکرنایااے مال بامستبدد مجھنا جع نیس 'اوریہ اللہ تال
۱ گی فہ رت برکال لین نہ ہو ن ےکا اظہارے-
پا عریٹ سے معلوم ہوک گا ۓکواللہ تی نے زراعت اور اتی کیل موز ول بنایاہے ت کہ
نس ار یرۓغ
سوارگی اور بار بر دار ٹکیا ہچ رکا مکیلئے اس کے مناسب اور موزول انور اللہ تعالیٰ نے بنائے ٹیں۔
سوار کی اور پار بردارگی اسلن :کھوڑے اور جم و 7 دو بتایا ے۔ 7 بس جاور کو شس کام کن بنا یاگکیا سے
اس سے ون یکا م دنا جا گئ- ٰ ٰ
۵۔ ایک ملا نکیل پ راس بات یر لیی نکر :اور ا سکی تل نکر ناواجنب اور ضر ورکی سے جو خرن
کیم اور رسول اللہ یٹ کی جن احادیث سے خابت ے۔ خواوو انال عقل کے مطائ ہو یا غلاف
گل _گمر وو بات ق ران و سنت کے د لال مجح کے سا تجھ ایت ہو فا سکاازکار ہنس او تا کذ رک
جاہکیاد تا ے۔ چناخجہ اکر وہ مات بس ک انکاز کیا جارہا سے صروریات دن ہیں سے ۸و ثلارول
الہ کا واتع ماع وغیبرہ کااثکار “ذو ہکف رتک پنیاد تاے او راگ ضر وریات دن میں سے نہ ہو نو
کک ت پچپازی دچتاہے ' کل مہ رواجع ول الا ہےکہ جو بات ق رآلن وعد یع یی مل یں
نہ ا نوا کافو رانا رر دی خیں یہ خہایت مین بات ہے ال سے بہت (یادہاجتناب کر ناجائے۔
1
7 ار ریۓ
اے!
س9
تحیسوال فصہ ۳٣پ
: ۱ 0 سر
ارمرازری --- جھو نے می ں کن وک ا ے
نو مولو دک کا عام انمسمانوںل کی رب لومنا ایک تر تا بات اور الیّہ کیا در تکا جیب اظہارے تار با ایت
یش ہہ مر التقول واقعہ تین بار نل آیا ےکہ ایک نو مولودادر گھو لے بل پڑے ہوئے یہ نے با تکی نہ
صرف جا تک بلہ خہاحیت دا سشمندان اور عاظانہ نیش وکی.ر سو لکر یم بل نے میس تلایا ےکہ ایک تحضر ٰ
حیی علیہ السلام نے من وک دوسرے صاحب جب نے ل( جن کا قعصہ آ کے آ یگ انشاء اب ) تیسرے اس بی
نے جن کاو اذ یکیاحد بیث ٹل ن کور ہے _ ۱
مھ الد یت :
رري البخاري ٹی صحیحه عن أبي ھریرة و سے قال: (کانت امَرأۃ : ترضع
نا لها مِنْ بی اسرائیلء فمر ر بھا رَحَلْ راکب ذو شَارَق فقالت: لم احعل
انی مئله تر ُديھاء وأقَل عَلی الا کی فقال: 0۰
َلّی تھا يَمَصُد). َال ابو مُرَیْرٰة: ہ کاني أَنظر إلی اللبي لے یَمَصُ إِصَبعہ
مم بأَمَةء فقالت: اللهُمٌ لا ھا ل ابی مل مَذِو فتر تُدیَيّاء فقال:
ال صلی ٹلهَا: فقالتٰ: لِم ذالا؟ 7" الا کی نار يٍِ الْحَبَايرّق وھذهِ
لأمَة یَقَولٰونَ سرقتو زَلبّتِ وَلَمْتَفعَلْ ).
رر شر 6و رتا می رع ون آئو فر تن زع
ا ٠ لہ کر ریہ فان یع ابی بل تع ان علی تہ فَحْتََ يَتضْ
قال: ۰ لی رَسُول اث ہے رھ يحْکِي ارَيَضَاعَ پإصّعه السبابَة فی
فیب فَحَعَل بَنُصَيَا قال: ومَرُو ارڈ وَهُْم بَضْرْونھَاء ََقَوَلُون: : زنیست
سرقتی وَعِي تقو حَسٍٔی اللہ وَنْم الْرَكيل فقالت ام لُمٌ لا تَحْعَل اي
ِکلَهَاء فَرَكَ الرَضَاع وَنظر إِلَيْهَاء فقَالَ: اللهُمٌ احعلبی مِكْلَهَا .
فَهُنَاك تَرَاجَعَا الحدیث,: غَقَالت: : خلقیء مَر رَْلْ ع اوت الله
مر رر چج ہے
اجعل انی مثله ا اللهُمٌ لا تعلِٰی مِئْله ومَروا بھی الأمَ وھم يضر بُونها
رپ
رم الیر ہے 7 ۴ ك+ 2020ه - 4+ +1 ھت ا
َقَولونَ: زیت سرقتی آ قتلۓ: اللہْم ! 2 تَجْعلِ اي نْلهَاء فقلْتَ: اللهُْمٌ احُعَليي
لهَاء قَالَ: ِنَ دَالً الرَّحُلَ کا برا فة قْلْت: الله لا تَحْعلٰي مِئْله وَإنّ مَذہ
َقَولونَ لھا: رب وَلمْ تن سروت لم تطرق فقلت: الله اعلنی 1 ).
مار یث ٰ
فاری نے ابی کچ یش خرت ابو ہر کی سے ردایت 0ے مفرماتے ہی ںکہ سس
الد م پا نے فرمایا: ٣
ا را لکاایک ماق اپ موود ہکودودے لاردی شی و مال سے ایک سوا رگ ز را بڑ
خوشھال اور کہن مین تخصیت والا “اس نون نے ٹور ادءاکی اے اد امیر ے سخ ےکو اس جہسا بنا تئے یک
ال پو مولود نے مالی کے سبنہ سے مہ چٹایااور اس سوا رکی طرف متوجہ ہوک رکہا: ٰ
نے الد اجکے اس جمانہ بنا “اور پچ ر ال کی بای کو چو نے لگا۔
او ہرہش رماتے مج ں لہ 0807/7 اور سول ادج ھکوا بی ا مکی مبا رک جچو سیر سے ہیں
(ینی اس پیک کی کیفیت تتارہے ہیں )۔
ٰ چھرواں سے ایگ باند کوکذار کیا تہ غا ون کن ےگگی ساقاس ظازیو حا
3007 نے پچمرمااں کے سی کو بچھوڑااور سے لگا : اے الید! کے اس با نل کیا جیما بی بنا گے وہ
حورت( مارے ۶رت کے ) لکن گی م یکیو وہ بر سک لالہ : ووسوار جھگذداتھا بڑے الم و جابر ٰ
وگول یں سے ایک تھااور یہ اند اس کے متعحل لوگ ن ھکمہہ در سے ہی ںکہ پدنے چو ری اور ز کیا سے
ین فی ال نیت اس نے ایا خی ںکیا۔
کر 500000
”ایک نو مولود بیہ اتی ما لکادودھ بی دہ تھاکمہ دہاں سے ایک سوار نس شاندار سوارکی بر بڑی
شالع و شوکت کے سا ج گرا ا ب ہکی مالانے دعاماگی: اے الا میرے بی کواسس جعیمابنا یے۔
یہ نے سیںہ سچھوڑااور اس شنی سکی طرف رر خکیاات دیکھااو رکہااے الل !بے اس جعیمانہ بنا گئے۔ ىہ
کہ ۔کردوبادہا کی ھا یی طرفر محکیااوردودوھ جئۓے لگا۔ ٰ
ااوہر مر کت ہی سک ہکوبا ٹیس د کیہ رہ زنکزریيز گی اسیئ٣ ا ظزے
کو نف لکمررے ہیں۱ ٹی اگشت شماد تکومنہ می ث ےکر جو سک ات ہیں“
نر ےب سار ظ اس سیر عاریخ
8 نے بدکار یکی سے اور چو رک یکی ے' اور وہ کچ یکبت یکہ : ”نے می را اد کاٹ سے اور وہ پہت بین
کر سماز ہے “انس بی کی ما ین ےکہاکہ : اے اش !میہرے ٹٹ ھکو ال یمان ہنایئے۔ اس نے پچ ردودھ
مع ز ہے
نا سچھوڑااور با نک یکی ط رف د بیکھااور کے لگا: اے اش اھ اس جلیمابی نا یے۔
ا عورت نے ایک ددد کو رکی پکار کے سا تح ھکہا: ایک شاندار خخصیت والا دب یگذررااور شش
نے دعاکیکہ اے الد مب رے ےک وا س جیما بنا یئ نون ےکراکیہ : اے الید !تھے اس جمانہ بنا کے اور
روگ اس پان یکو مار تے یی ہگن رے اور اس کے شعیلق کت ہی ںکیہ فو نے مز نکیا چو رک یگی۔ نویس
٣ ان کیا اے الا مہرے ٹ ےکواس جلیمانہ بنا ہے ون وکنا ےکلہ ہی
اں گ۵ کیاوجہ ہے ؟ وہ کی کا اک :
”و 1ی توایک ام تفنس تھا نو نے مہ دعاگ کہ 007 اور ے ھ
انل کے لوگ اس کے مل ککتے ہی ںکہ تو نے کمیاعالا کہ ال نے ز نا کی ںکیااور لونک سکتے ہیں
کہ پّنے ور یک عالاکمہ اس نے جو ری کی ںکی۔ فو اس لے میس نے د ماک یکم اے اایلد! جے اس دیما
بت ٰ ٰ
تخریح الحدیث:۔
بنار گی کاب آعاد یث الأ خیاء_ ۹۱۸۷ء ۳۔
مل کاب ات والصلے - اب نل برالولمد من لی مطورخ می العنا7_ ۸۳ ۷ے۱۹
ت مر اور میٹ
مواود بی ہکاعاقانہ اور دا شمندانہکلا مک رن ایک خہایت خی ر معمھوٹی بات اور قرت انگی ہو جاے '
اللہ تھا ی ای ندر تکا خلف طرلیقول ے اظمار فرماتے ہیں“ جع اکہ ال حد حیث مل بیا نکر دوواتعہ
سے صاف ظاہر ےک مال انے کیہ کے لئ ظاہ کی اختبار سے اجیھ حال وانے شی سکو دک ہکر ادڈر سے
ات کہ کے لئے دھاک یکہ ای ججیمابنادے۔ بچہ نے فو را کی تردی کردا عالاکہ وودودے پیا کہ
ول زاس عم کے ہے کفشگددی پ تقادر نی ہوتے چہ جاک ہکوئی دا نشمندان ہکا مکرمی مھ رایک -
با تکہناجونہ صرف بظاہراس کے عق کے ب رس ہو جم حقیقتت حا لکویش نظ رک کر جم بات
کہناتقجرت پالائۓ تجرتدے۔
کن اس واقنہ ے صاف : اہر ےکہ الد تال اتی فد رکا عل ہکا اظہار ففرمان ےکسلئے عقل مند
اور پاشعور اناو ںکا بی تا یں فرماے بللہ تعن اوقمات تو مولود او رکم مجن وت جے رں کے
زرلچہ بھی بڑے بڑے عقال کااظمار خر اکراپنی در تکاا ہار فرماتے ہیں۔
چنا یہ ال واقعہ شیل دوبڈے تا ففنکااظمار فرمیا۔
گی تق یک وہ تنس جو ظاہرىی اختمارے بہت تو شال ڑا مار تخصی تک مالک اور بڑی
۴۳۴ر
صص ایر ےۓے ۷
شمالن و شوکت والا لیک رما تھا تق ایک نبا یت الم دجابر یس تھا اور لو وگوں رظ اکر جا تاور اس
قائ نہ تھاکہ ای تقلیدی مات ٰ
دوس رىی حقیقت کہ وو مظلوم باند بی جو خظاہ کی اغتبار سے بد ی مغلوک الال لوگوں کے طترہ
لی نک نشانہ شی اور ا ںکی عمزت وآ برو بر حرف ڑل یکی جاردی شی دددر مفقیقت ایک بار سااور عفیقہ و
اک دا من وپاکردار 1
ال تواٹی نے بن دونوں عٹیم تق ںکا انار ای کم من نو مولود اور بے مھ بیہ کے ذ رجہ
فر ماک انی ور رکال ہکو شا ہت فر مایا۔
نر رت ولصاں
بی واقتعہ ببت سے ام ٹوا بر ر لے
ا۔ نماد ی مفھرر اور لیم اس عد یک ىہ ےک ارت الا لی نکی قزر کسی سبب اور زرل ہکی
تاج نیں' ادوس یکا مکوکر نے کے لئے عرف اود ز نہ کے عام وع کے اع ہیں۔ دو چا ہیں تة
کسی باشعور انان سے ےگورائی سل بک رلیس نیائیں توف مولود بی کو یقت پپندرانہ نہ اور وا شمنرانہ نو
سکھاد یل اور اہ تھا لی شانہ اتی اس فکرر تکااظہار با داز شکذہ ففرماتے ر سے ہیں۔
۳۲۔- دوس راا ہکم فا لد حر یر یل پیا نکر ددواقعہ سے ہہ حا صحل ہہ و اک ہر سن ےکاایک طاہر ہو تا ے اور
ایک باشن'انسا نکواس کے اہر سے زیادہ ہاش نکی فک رکرکی جا ین او ری بھی ش کو اہ کی تک و
دک اور اہ کی تسن وخ کی بناء پر کیل اپناا ایی بکہ با فی خ بیو لک عذاء براپنانا حا یئ
ال بی کی مال ایک انسا نکی اہ ری خو شھالی اور رحب دا بگک رو فر شمالن و شوکت اور مالر ار گی
سے متاثر ہ وگئی اور |7 قی مر عوب ہوٹ کہ اپے بی کے لے اس جا ےکی دھا اتک ڈالی ات کے
صحیقت اس کے کے پ رحس فیک ا سک سار ی خوشوای 'رعب ودب ہہ اور شالن و شوکت ظم وچ رکا ے2
تھی اور ىہ اشیاماکر عم اور تر سے سا تج حماصل ہہوں قونقت یس دبا ی جالن اور ذر یہ خذ اب ہل اللہ
تما کی نے اس تی تکاالنقاعء نہ صرف پیر کے قلب می سکیابللہ ا لکاز بان سے اس تقیق تکااظہار
یکر دادیا اور بچہ نے اپتی ما گید عاکی تد کرت ہت ۓےکہاکنہ :اے ال ایجھے اس جمیسانہ بنا یئ -
ای رع ا ںکی مالں نے اس با نٹ کی خظاہرىی منلوک الال اہر ی ذلت کے نقوش شکو و بجعت
ہو ئۓ اس ماشہ ین ےةکی دع اکر دگی۔ الہ ر ٹب العا ٹن نے ا سکی یقت بھی پیر کے لب میں القاء
ف مکی خی بز اس کا اظہار جج یکردادیاکہ اگ رجہ دہ باندگی مفلوک الال ے٠ ال پر بدکاریی اور
کر دارئی کے کمن نے الفرام لگا جار سے ہیں ین ومن صر فک پاکباز باحیااور حرف ویاکمد امن ٤ے
سو الریے
بگہ چو ری دی سے بھی مفو ط ہے ابد ایچہ نے اس یما ٹن گیا دواکردیی۔
رماکا متفیر :_
ور ہک اکا ممردی یس ھا اعم ۔کہ بے اس بائد یی دالاحال عطاکر دہج بللہ متحیررہ
قھاکہ جتس رر دہ باندکی فی برے اور بر ہونے کے پاوجود مظلوم ہے اىی ط رع مج بھی فی حر
ٰ جائم ری خواو اس کے متہ میں جھ برض مکیاجاۓ اور ج٘س طرح اس آدئیکی شالن و شوکت اور
نیاوی غفتیں اور خوشھالی لم وچ رک متیہ ہیں تو یج علم اور بر کے ساتھ سے فتیں مہ د تج اگ یہ
میں اور خو شوالی مجر کیا یہ ہیں نو کے علماورجر کے سا تھ یہ نقتتیں نہ و بج گر یں ان
اور جن رت سے میس فو ویک ورنہ توں اور خو شوالی کے تصمول کے لئ مہ الم اور جا جر نے
سے ھا مجر مر ے لئ ای کعنتوں سے مفل وک الھالی : رت
ریب ہکی د اکا متصدرو نکی نول اور خوشھالیکایار نیس پکہ لم اوج کر کے حاصل ہونے
والی لٹمتول اور خو شھالی سے ازکار تھا۔ اور دوس رے قضیہ میں ہہ مقصصود کہیں تھاکہ یجس راس بان دی
کولو - مور وا رام مر ار ہی اوراسے مار ر سے یں وی حال بر ے سم ھ بھی ہو بللہ 2ے رت
ہہ باندگی تن بر ہو نے اکر دادویاکپاز ہو نے کے پاوجود مظل وم ہے اسی طر یس می تا مر ہوں
وا مظلوم ہی کیوں تہ بنا بر ے۔
پک اس ےہ بھی معلوم ہو کہ نلم نال( خواواس کے تہ میس دنیاچہا ںکی لنتتیں حا تصل ہو جائیں )
جات کھیں اور مظلوم نا( خواہ اس کے مضہ نکی ملا تکا سا مناکر نا بڑے )جات اور پیند یہ
ے۔ بلاط در یا ںکہا جا مکنا ےہ دای شفتییں ماص لکرنے اور معز بن کے لے اور دمیاوئی ٰ
شمالن و شوکت بڑجنا نے کے لئے 2 کر نااوراس کے منہ میں شان و شوکرت جا ص٥ لکر لاد نیاوالوںی کے
زرک شاید ابی تکاحائل ہو لین اد کی بارگاومٹش نہ صرف یکہ ا لک یکوکی ابعیت نہیں پک ق لم
کے نہ میں عفر اب وم زاکا شی ہوگا۔
اس واقہ سے ق رآن نکر مکی ایک آبی کر بی کی اور زیاد٥وضاحت ہو جالی ہے ق رآ نکر مم
میں سور ارہ یس ار شاد با کی تھا یٰے :
عَسٰی ان تكرَهواشیئاً وھو خر لکم وعسی ان تحبّوا شینًا وھو
شر لکم الأیة (الیقرہ)
اور شای ھکہ خ مکو بر کی گے ایک چزادر وہ پہتر ہو تمسارے جن میں اور ایخ مکو جھلی گے ایک نز
اور دہ بر کی ہو تھمہارے مت یں ْ
یی انمان ہر جن کو ظاہ ری اخقمار سے د بکھناے اہر اجچھا ہد تو ف ریت ہو جاجا سے عال ا مہ اس کے
ے۵٥
نس ار برغ 7101103990“ ٦
الین میں خرالی اور فماد ہو جاے۔ اور ظاہر خراب ہو ال سے نذرت و بز ارک یکا اظہا رک تاے اور
اس کے پاف نگی۱صجا یکو خر نرازکر دج ہے۔ یہ اندازنگ رج نہیں “رج کو کا ری اور ہا نی دوفوں
قارے زا ےرت می زان تٹ کال عقل ودائ کاطریقہ ے۔
۵ نے کے ٣ل ضطض رمضم ہ٣ل +رآ ز۳۳ اور واعظ وداج یکو ای بات
دوس رو ںکو مھا ےکیلے کن انز ربق پا پت جس سے ا کات دوس رو ںکوا بی را
ہن نشین ہوم ہے جیسے تضور اف رس نپ نے اس پیر کے دود ہے ا ور ما کی ججماٹ یکو چو تن ےکی
وضاحت ما فرا یکہ انی مار ککومنہ می ےکر لا .ا کی وج بچی ت یکہ بات سے والوں
کوخوب !تھی طر کک میں آٌجائے۔
رسول اللہ کی احاد یٹ کے ذ خی وی اس طر نک بہت سے مالیش تی ہی کہ آپ نے ۱
کسی با تکودا یح کرنے اور مچھانے کے لئے ا سکا مکی مظاہ رک کے بتلایا۔
ال یٹ ٰ
سے جو ہیں یڑ تا ہول اور وریہ ے 7 ۱ ٰ
اے اللّر! آپ گیا مدد کے سمارے ڑج ہوں آپ ہی 7 ردے ہارے تل کرجا ہول اور
الہ مز رگد بت کے سوان ہس کی طاقت سے نہقوت “۔ 7 ٰ ْ
چتر مم ت و تصار0 ٰ
مندرجہہالاواقعہ یی ایک مسلمان کے لئ لششچحت ہے بہت ے پیل ژں_ -
ا۔ ایک نو ای آ سے پک وا 11 وم اور ایۓے 2 کو پر ھا می بھی تو مکاایے آپ گودومم ق
اقوام سے ا ید بر مکھناىہ تو مو کب لاککتد بر بادئ یکا بڑاسبب ہے۔ یہ چنزبڑی سے بی ا قوا مکواور
ا قتور سے ماق رلوگو کو تا کرد ہے ۔کیوکمہ ىہ اللہ تال یکو خت :ا پپندے ۔کصی بھی توم یاافرادکی ٰ
خوبی مال ماکوکی بھی قایل اع زا نز اللہ تھا یکی عطاکر دو ےکوگی قوم طاقت ور سے فو ا سک طانت
بھی عطاکمرد 6ای سے سی قو مو عل مکی دولت سے مر فرا کر دیا وا نکا عم بھی عط اکر د٤ا بھی ہے۔ کر
طا تر اپتی طافقت پر از او رگھمن کر نے گے اور علم دانے اچ صلم پرغ ر:(اتراہٹ )کا مظاہ رہن نے.
لیس اوراس ای جناء یدوس رک اقوا مکویاافرا وک کی اور تق رنقصو کر نے لی نو ارڈ کو مخت ایند سے
اوروٹیں سے اس تو مکی اکر تک سمل اور زوا لک مل شروں ہو جاجاے جیسے ن کور و واققیہ می ن کو
ای عددگی قوتد بتک پر ذداناز پیر اہوااورتتججہ میس مت ہترار اف رادکی پلاکم تکو جنلتنا ڑا از اہر عال
یش اعتمادو بل روسہ الاڈ سر ھا جا یۓ _ ٰ ۱ 7۲
۰٣۔ ر حول اللہ حٹلگکی ىہ خاصیت می حد یٹ ے دا کے کہ آپ اپنے کا کے ساسئے انا باخوں
کو بیالن فرماتے تھ جوا نکی نی رکردار کے لے ببہت ضرورکی ہو نی خی ںکیوکہ ان صا یڑ نے ک کے
لکر بہت کی اور پھار گی ذمہ داد کی اھالیٰ تھی عکومت سیاست معانشر ت کے سا تح ساتھ الام ٠
کے کل ہکواقوام عالم کے سساتنے بلن دک ا تھا فو اہ کے نین کے ساسنئے قو موں کے عمرورج وزدوالی کے"
ٰ اسباب بیا نکر تے تھے کیہ ا نکی کرد ست ہو جا اور الع کے اندر چمائل :اٹ یکا سایتقہ پیر اہ جائے۔ ۱
٣ اس واقہ یں ایک علیم مق امت کے قا مین ز ماع اورر ہمان لک ومک تکیلئے من ہاں ے وہ
بی کہ اپنے پیر دکارول 'اپنے فدایارول اور چیہ لے والو ںکوانڈر کے عم پر بلایں اور ا ہکی اطاعت پر
ای کرد کر اور خودستائی بز او رھمنیڈ سے کتیں جیباکہ اس واقیہ می نا نے ابی قو مکواوڑر
کے معلم بے آماد کیا اوران ے اطاح تکر ول
جمادرے دور یل ر ہناور تاد من وز تماء١ کی کشرت عرداور طاشت سر ڑا کنیٹ اور باز کر تے 2
کن اپ مان والول کے اغلاقی کردا 'اعمال واقوال اور دی نک یکوئی گر تی ںکر تے زہالن سے ال
کے اکام پہ لک واتے میں بلہ اس کے بر عم دکھاجاتاسے کہ می تقا بین خودا از دگٹں
۵
اص ار یرۓغ ٢
صاہب در ینہ نکی ہوتے بھی مس گر وو عوام اور اہ مضلق رن اور ماتۓ والول میس اکم ال نکی م ری ْ
کے ممطائش خود بھی رین کے احنکامات سے دور ہہ جائے ؟ وی کہ کیل النا کے ماننے دانے را نہ
ہو جایں جعیراکہ آ رن کل اس کاعام مشابرہ ہو ٴے۔
َ سس تب ھ تر وب ا صب تا
بر اہٹ ہو تو فو رآنما زکی طرف متوجہ ہواجائۓے۔ جاک اس واقعہ یل ےکہ النااشد کے کی نے ٹور
ما زکی نیت ماند-گی۔
نود جناب ر سول البند اھ و سے علق ا ےکہ ج بگھ یکوئی مکل اورپر نال لام ہوتی 7
و فمازکی طرف متوج ہو جچاۓ ق رہ نکر میں بھی می عم اما نکود گیا ےک :
یاأیُھا الّذینَ امنوا استعیُوا بالصئٗبر والصّلواۃ(البقرہ)
”اے ابمالن دالو!د وحاص٥ لک وععبر اور نماز کے ور لجہ سے“ ٰ
بپاہارے لئ بی معلیم ےکہ ج بکوگی معیبت لاعتن ہ وھکوکی بر بای اور متلہ در شی ہو نو ٰ
اش کے در ہار ٹیل حاض رکید اور ما نکی مرف رج کک بیی۔
٦ اہکم توی وی محاحلات کے اندر قائد اوسر براوقو مکی ذمہ دادئی ہہ ہ ےک کو فی کر نے یل
لد پازگی ےکام نہ لے اور ہی تن ت ا۱ہم فی کزے پگ ال توغخوب خوروگکر ہکا نے اور
برای قوم کے ذمہ دارافراداورال داش دای ھم سے مور وکر کے سوچ مہ فی ہکرے کہ
تد بی منقتصان نہ اٹھانا ڑے لی اکہ الد کے بی نے ا تی قوم سے مشور وکیااور مخورہ کے بحد فیصل ہکیا۔
مت ر ول زیر ن۲ لیم کے مطان ہر حال م ال سے مدد گی اناو خواداپے ا کے
بی اسراب ووس ال عع ہول اور افرادئی قوعت بھی خوب میا ہو ین ال اسباب ووسرائل بر نظ کر نے
کے بات عق تال یکی نصرت طل بکربی حا ین اور اس بی بی کجمر وس ہکر ناجا یئ
۱ ورک کے م وٹ پر سول الہ ہنی کرد اچوس حد یٹ یں کور ےا کا
اترام تما مل وگو لک و موب اور تام ر* نام تکو تحص وص چاے۔
0010
اتھاروال قصہٗ :س(۱۸ک
و یی سے تجھوٹد رکھا
ہیر
انیاء مم الا مکح تل جو دسعنعہ خر لی اور اسانی تکاج اعم مقام عطافرہائے ہیں اس کے مت یس ای
مر کی تیب داقعات ظ پور میں آآتے ہیں زیر نظریہ واقہ مض رت ششیی بن مر یھ کاے ججوالفاط کے اختہار سے
نز یہت تفحق ملین فا کے اخقبار سے ہت میم سے۔
ھ۹ا لیر یث:
رری ااہفاری رسلر و ممیپوسا ئن تی مُررَةَ لہ عن السي کیا
قال: ۱ رای عِیسی این مَرم رَجُلا یسر ء فقال له: اُسرقت؟ قسال: کلا دالله
الَذِي لا إله إلا هوٴ فقالَ عِیسی: : آممنت باللهِ وَكَذَبّتٗ عَیی ).
تس رن 5
ام یفرقا ورام سک نے اپ انی نس حضرت الہ میڈسے یہ حریٹ گل فر ماک ےک وہ
مات می نک در سول الہپ نے قرما:
ایگ بارعفرت می بن م رم علیہ اسلام نے ایک شی سکویچود یکرت ہو ےد کیھا ال سے
ربا :کیا نو نے چو د کی ہے ؟ دوفو رای لگا: ہ رگز نی !اس ارڈ رکی عم جس کے سواکو کی مجبود تہیں۔
ضر ت می نے فر ما اک :یس الیپہاما نا لا اہول او رای نگ کو ملا ج ہوں“
تخریج الحدیث:۔
کے احاد یث الا خیاء۸۸۹(۶ء )٢
کی سکم تاب لت سمل اب ام صلی( سر ۱۸۳۸)
تر ار یۓغ
مصرآت فیاء میہم السلام انسائی زن دی مم ایک منفرداور لی فکردار اور نمونہ کے ال
وت ہیں ال نکی ز کی دنگ انساخو کی رح نکیل ہوث کہ جذبات سے مقلوب ہو ما 2
ند انماحی تکا اترام گی یبت زیادہ ہو ہے۔ دو ایک انان 7 ناہ سے بانے کے لئ انی ذات پر
بھی بات نے لٹ ہں۔
ٰ قرت تی لہ علیہ السلام اللہ تال کے میم الشان اور 070 ۔انہوں نے
ا وی ود بر سی پیر یں
ٹمس ار یٹ
کرتے ہو ۓ دک کر زاموش نہیں رہ سکتے_ نا خی یی علیہ السلام نے بھی اس نی س ےہاک تم ری
کرتے ہو؟ اس نےکیاکہ :یش چو ری خی ںکرر پا لاس ذا کی مم جس کے سواکوئی متبود کی ۔
چنانہ جب ال نے مم کھائی تو حضرت میمی علیہ السلام نے پاوجود انل ک ےک انی آ گھموں سے
سے جورییکرتے ہو دریکھا تھا ا کی ع مکوچ جا اود ف با یاکہ می الہ سر ایمالن لا تا ہو اور اپتی_
ہو ںکو ماج ہو ںگوں 1ک مسلران سے متتحلق نہ خیا لکیاکہ وہ دو ٹیم نمی ںکھاسک اور اے
رسوالیٰ رتچ بویا اس سے معلوم ہواکہ می ا کان اک مس نکو رسوائی ہے ایا کرام کا رق
ہے باّت شمیں ت یکہ حضرت مکی علیہ السلام ایک مچھوٹے اور ہے معنحس کے در میان فرقی نویل
کر کت ے بلمہ ا نکی نر میں اوہ کے نا مکی عخظحمت ہت کہ جب اس نے ال کی مکھائی و اسے
تچھو گر دانزامناسب نہ مھا اور اہج مشابد ہکوغلط قراردیدیا۔
سے بھی معلوم ہواکہ انبا شیہم السلام بندوں برح رالن اور الن کے افعال بے مزاد نے ْ
والے نہیں ہوتے 'رقیب ومگرائن اور سز اد ہے وانے فو اد تا لی ہی ہیں ۔کوئی عو سکوکی مچھوٹی عم
کھاکر دای مزاسے اپآ پکوبپانے لیکن اوڈر کے وزاب سے فو خلا صی اور مخ کین نہیں۔
چٹر ۶ہ ت و لصا 2
ال حد یٹ میس ہمارے لئ تشلحت کے کی پا مین ْ
ان یا و ا نام کی کلت بہت زیاددہے۔ انسال نواس کے نام کا بہت زیادہ ارام
کنا حا مین ایک ملران کے مان کا ات کے نا کی عفلمت قمام جیزوں سے زیادہ ہو کی جا یئ جب
کوکئی ای رکانام ل ےکر اور ال کا واسلہ د ےک کو کی بات کے ذو ا ںیکو نان ےکی ضرورت کیل اور ىہ
گا نکر نا جا مین 1 2 تیم ذات کے نا مکاواسیلہ دے ماس و اس ذات کے نام کے سا تھے
تجوٹ نہیں بول سنا الہ اگر ووٹی اتقیقت تھوٹا سے اور الد کے نام کی وٹ نی مکھار ا نذوداپے
و کی سز ابنکت ےگا اسی ط راک عم کے اور ہقاضی کے ساس ےکوکی اد کے نام سے میو ٹا حلف لے
اورال کے خلاف مگ شرارٹیں موجور ہوں نذ قاتض یکواختار ےکہ اکے عا فکوردکردوے تصوص]
جب کہ دہ وی ضم کے ذریی کس یکاعی غحض بکرن ےک یکو نت کرد باہ ےد
ے تی الا مکان ایک مسلرالن گی بر دولو شی اوراس کے یو بکو مات جا گے ۔ اوراکر دواپ نے یاگناہ
کی مر تما سے الگا رکرے تذاسے قبو لکرج ما ہے بش ریہ اس مس یکاکوکی عق فوت نہ ہو
ھ7 کے سا ج ھکوئی زیادتی ہوئی ہو۔ الب اگر بردولو شی ےم سکا عق ضا ہن ےکااال اور
اریہ ہو بجر بردودر یکن م سکوگی مضہ خیین لان وہ بر دودزی بھی متعلقہ شع کے سان
ہوی حایے۔ غیر متعلقہ متعلقہ افراد کے سانے بردود کچل یتہک ناچاہینے۔
۳۴۸
بلاشیہ الل تعا ی ہر نز پر تادر ہیں
حصة دوم
۵۰
مز مت مہ تس چا 2ے
اکسوال ثصہ :۔(4۹
ھی رز قکاا تظام
اب
ہیر
اہ بر نوئل اور اختاد ایل ال ھکاس رمامہ ہے ' اور نے وم 7 7 الد >
کل فت لاقے تو سر ای تک فی ان فان
کا حیات ہو اے اور برا لک فر رت کے ایے جیب در جب داقتعا ت ظبدر ۲ل آتے ہیں۔
الد یث :
روی الطبراني یل الاوسط والببھمقي ف 2ئ0 ین ابی حرسرہ قال:
وصاب رَُلا حاجحةق فخحرج لی ابق فقالت ام اتے: اللهُمٌ ارْرا ما نضحِنُ
ت نختبز ٤+ فْجَاءَ الخ 27 مُلای تا فی مھ الشوَاء ولرجی
تطحَنء فقال: مِنْ أیْنَ ھذا؟ قالت: ِنْ رژق اللہ فکنس مَا حول لرّحَی: فمَال
رسول الڈن کھت : (لوٰ ترکھا لذَارّت ااطحت إلی ؛ یوم القیَامَة) .
ترما یث :۔ ححفرت اادہ رم فرمات ہی ںک :
”ایک تع حات مند تاد درز قکی حلاش می جنگ لکی طرف لگ لگیا۔ ؟ میں
دعاگی:
'ےارئزکاراا زا تا کر ےک تر نو کا ×
لا ا ا ا ا ا شا
ان کالہ کال سے آیا؟د کن ےگ یکہ مہ ال کا عطاکردورزق ہے۔اس نے گی کے اروگ و سے ۱
گاڑرودےریا۔
رسول اید یکن نے فر میا و ہ0 چھوڑ رت تذوہیگی قیامت تک ای طر مک ومتی
رہق اف ای طرح آی شیتقی ر ہتی(اور آ یھی شخم نہ ہو )۔
20002
رواہ الظر الٰٰ : الو سیوا مھبتی ی الد لا ل۔ مر مر الز ار ومند الامام اتھہ مجن صل۔
تال کی ۲ - الرواتر :رواہ اج والیز ار والظبر الین الأوسط وو_
"۳
شس اور یغ
تر ار یش
ایی حد یٹ می رسو لک ریم نے کیک میا جو یکاقعت بیالن ربا ے جو غر نت ذفان کے
اث شمدرید فان شی اور بل و ککاشکار تے ین اللتعالی رن واختاداود وک کی دولت سے الا مال
جے شوہ ور ککی یت سے یور ہوکر نگل یں گ لکی تق یو نے پرینالی کے عاگم یتال
سے جو تام بے سہار وکا سہار اہے دعاگی:
ا او اہی سپ آٹا حعطاکررے یصے مگو ند ہکرروٹ ایی 0ب ۰۰
چیا تو جیب منظ رد یک ھاکہ آ ےکا بن مرا ہوا سے و دسا ہوا آ ای میں موجود ہے اور چچگی شیں
ممندم گج ری ہو گی ہے اور آ ٹا یں ری ہے ج بک ور میں جاز وگوشت بن د ہا ہے -۔ دہ رانا لان
کہ از وگوشت اور اماک رآ کہا سے ؟گیا۔ چنا نی اس نے ہی کیا سے کیہ کہ :
٠ ےرا سے آیا یدگ ےکاکہ ےسب ال کاعفاکردور زقی ہے اس ھی نے ودج گی
رز تا او فا ف ار ٰ
رسو لل کر مم ما نے “میں ا اک : 7 و تا و فا نین کو تج
رہ اور آم میتی ری“ 5
نس لوک انس شی کا کنا ادا مم کے واقیات خقل
فرار رس تر ا ا سیر ایہتے
ج را گی سے خابہت خشمد دا 27 کے واخعات ازکارجر یت کے علاد و مز اش ر بجعت اور ال کی فدرت
کا بھی ایک رح سے انکارے کی ھکمہ الد تال اہج بندو کو اقیر ظاہری سبب کے می پا تے ہیں۔
ان تر اسا بکا تا سے لیکن ارت الھا لین تاج ننیں ہیں اساب دوسا“ یرت اور وائع ہے تے
کہ اسماب بھی فذاسی کے پیاکردہ ہیں۔ اس لے ا لک فقدرت النا تمام با فول بر عاوکی ہے۔ ال 7
کے واقیا حکواسای ع لکی بذیاد سر رکھنا ہی نیس ودنہ دبین کے ایک اہم حص کا انکار لازم 1 گا۔
یھی مجح زات او رک امات جو پا ئل بر من ہیں عفل مرست اور ماڈوووسا مکی دی ے می والے ہر جڑ
کواسی تار میں کے ہیں جو الڈد وشن ک ےگ میس موگ کی برورش شک سکم سے جو الد پھر کے پیٹ
میں موجو کیٹ ےکورزق دے سکما سے اور جو ا ماں کے خو نکو بی کی ئا بنا ٣لا سے اور جو الد 20
می کی جار گی یس الما اور پھر اسے کو یل بزاکر زی یکا سبنہ چ ز 6[7نااوراے گا زاہورتع ٹن
بر ل اکم تا سے وو الد چو کم وڑ پ اکر وڑ لو جات ہو ہمہ وفت ال رہاے اور ي مت تک پالارے گا ووالتہ
یک انس نکوج ا لکانام لیا ٴاس کے احکابات پر لے وال اور ا کی ما نک گار نے والا ہے اسے اخیر
کی سبب کے رزق نیں دے ستا؟ ا س کا ازکار بے صن کی دمیل ہے۔ ہہ صفحیات اس مو ضوع پہ
ضارےۓ ۰ ۱ ۱ 0" ۳
تعییل کے ہل نیس ورنہ دو جار درس کی بار واقیات آلناوحد یت شیل کو رے بڑے ہیں جو ٰ
الک عیب فثدرت کے شاہکار ہیں۔ ٣
چتر رت و صا
سس رج لن رن ٣ یا ال ص ےمث سے ثابت ہو تا ےکہ جی نتعالی ا
۲ زی کی تن ط 7 ٹرماے اور ان ے رزںل ر انی کا مامان مم نے ہیں ۔کمرامات
اص]ا من بر ہیں اور تعم وم سيکجر ,اس ردلا ا کر لی ہیں اور ائل السقیدوالٗ را کا عقیروے ےکلہ
ادلیاء اد بن گان ماع رکی اکرامات بر عق ہں۔
لگن 7 0 عکھل بہت سے لو کوں نے موی ٭ےسیغی یی
ای ہذدگی غاب تر ن ےکی گر میس رتے ہیں کی جاب می مجھوئے واقا تک یکثرت ہ گئی ے اہی
گی تاور باتک قو دب کر سے یں در ہرس سا یکرام تک ت ید قم دیق و کر
این یہالںہ بات بھی خیش نظر رم ی ہکرامات می منطہ کیل جت ش ری نین گتیں_
٢ عدیت سے دعاکی امب تکا ھی اندازہ ہو تا کہ دعا اگ اخلاص کے سا ت ھ اور ای لازئی ش انا
کے سا تج ھی جاۓ ضرور شرف قول حاص لکرتی ہے اوبض او جات قزفورا یہ ٹل جا تاے یی
ائن ایی ئن غوزت ہد ٹا نے دھ۔ ا لے یتال ہام سک از
تم رائط کے سا تح ھکر تم ہنا اہی
۳ ہیر مکی تقیدلبق اس داقن ہکی مزب تاکیلدکرکی اور اسے ممجر تین بای ے۔
ث. سولاللچکےارشادس یہ گا دا وہ ےک الال اض نکوج مس خی ترقہ را
فرمائیں اسے تر نے اور ال لکی ارد یہکرنے س ےگ کرت این جم الہ 0
اکر وہ کو ید نی جلتے رب دینااور اس کے اردگمرو کے لٹ ےکوصاف :کر جا تو چگی قیام تک بلق
۱ راو آت خلا ہتا۔ لین ا ن گھب اکر ا کی صفائ یکر دک او ہآ ناب ہوگی۔
ای رح خودرسول اللہ کل ھکیسا تھھ جھ مجزہ خنرق میس ٹین آیاکہ ححضرت حا کا تا رکیا ہوا
وڈ ھا ایک تیم شک کے لئ ےکالی کیا ذس مس بھی تضور علیہ اسلام نے ضرت اٹ سے
کی فمرمای الہ ررۓے نے تک بر نک وکھولنا مت اور جب آاۓ ام بر لیے کا لیا
شر و ںعکیالو بھی سا 899+ بر جن ور ڈوک در تھے( رصت:۹٣۳۲)
سک خیی خصر کی حقیق معلو مرن ےک انا نکوکو شش نی سکرفی چان پک ال کی خفاکردہ
ٰ اس نت اور نصرت بر کچ روس کر ناج مٹجے۔ ٰ
فص ایر رۓغ جب عجت٤ھجیٗ+س٠>سسإمُ٢ُىصیيیہیج_ےًسکی عي اج سس کے 2ھ خی
میس وال قصے :-(ء ٢پ
.....,اورم روز یرہ بہ کر
چھ
یر
وت اور فرےعالات کت بارے می نس نان ی فطرت کے تیااصرائل کے یھگ ایک مر سی
قب حتان ےکنزرے قودل میس عیب خوایش نے سر اٹھا اک ہکوکی مردوز ندہ جو جا اور ای سے وت کے
علق معلو مکریں اس وا ہش کو اور| اکیا ئل کے قصہ میں ا سکی تضصمیل جلاک یگئی ے۔
الد یث :
عن جابر بن عبد اللہ: ا۵ن سر لا اکن کا قال: ( رح طائفة مِنْ تی
اِسْرائِیل ختی آتوا مَقْرَة لَهُم مِن مَقَابرِِمٔ فقالوا: او ڑا وَدَعَوٴنا ال
لے و سو سس ری ا َفَعَلوٍ نا
اشئرو لق لات از ای رشن تو کی وت کن خر
2 سی و یت فادعوا ال عَزٌ وَخُّل لی یُعیڈنی کما كت ) .
برجم ار یش :
متضرت جار بن عبد اٹ سے روابیت ےک سول الید جن نے ار شاد فرمای:
”فی اص رات لی ایک جماعت سفر میں نئی لے لے دہ تیر تانوں میں سے می قب زان ر سر سے تو
انہوںان ےکہاکہ اکر ہم دو رکعت بڈ ھکر ادڈہ و بل سے دعاک س شاید وہہ بای رام رز دن
س ےکا ایک آد یکوز موک کے باہ مال دے جاک ماس سے موت کے متحلق دریاض تکرسں۔
اہول نے ایبائ یکا ای اشٹاء الن قرو بل ےم تر سے ایک آدبیکاسر تمودار ہداس
کی رت گنی ھی اور ا سکی دونوں مگھوں کے در میالن ید ہکا نان تما اس نے ان للوگو ںک
مخاط بف کرک ےکما: شناےل وک !2 مہاراہجھے سےکمیاارادہ ہے ؟( کے ز ند ہک ان ےک اکا مقصمد سے ؟) یں و
سال سے مرا ہواہول اود موت کے و تکی حرارت جھھ سے ا بھی یں ییفرکی میں تت کہ بھی
بھی ا کی حراارت موجورسے ماف خر بل سے د ماک کہ کے دیما یکردے ججیاکہ میس تھا“
کر مالیریث :۔
ترجہ اصثی صندور ۲ت ٦۔
ارۓ ٭ یی 0 / ۱
منصف امن ای سے ۹ر ٦۳٢
من راز ات۱۸۱-
رجات
ر ول ریم حاون ے اعاد یٹ میل ای مقامات ب ہآ امم ْ نے جیب شع اور و قعات عہر تد
تحت کے لے یا فرماۓ ہیں۔اوروجہ یہ ےکہ بی ار امنل بہت جیب قوم تھی ا سک عادت اور
انرازواطوار ھی مر تو مول سے بہت ملف تھے الن کے بہت سے واقعات جیب و خخرب او رأش بت
سے کو ریو ر ہدوت ہیں
بے داقعہ ھی اس اخقبار سے جیب ےک اد تھاٹی نے النا کے نل وو ںکی و عااور خُوا کے
یش نظ نکی خحیعت کے لئ ایک مرد شش کوز ند وف ادا ورال نے الناسے ہ تیں ہیں
اللہ تعالی مردو ںکوز ند ہک نے > قاور ہیں گرد تا ے اندر اصولٹڑی ےکلہ مروو ںکو امت
سے تل دوباروز ند نی ںکیا جا ےگا لی محر ابی داقعات ہے ہی ںگ ہکس یباتک لوگوں
کی خوائش پ عبرت و نیعت اور انی قدرتکاملہ اور حکمت الہ کے مظاہرہ کے لے لی مردو ںکو
ال تعا ی نے زنلدوفظر مااے۔الن معرودرے چند وا جات ٹیس سے ایک فووہ سے جو سور 7 ارہ یں اد
تما کی نے فک فرمایڑے۔
الم تر إِلَی الّذینَ خرجوا مِن دِیارهم وَهُم ات حَضر الحّوت۔
فقال لهُمْ اللَّه مُومتُوا ثمَ أحیاهم۔ (الأیۃ)
”کیا اب نے ند یکھاا لو و ںکوجھ لے ا ےگھروں سے اور دہ ہر اروں ججھے موت کے ور ے
پھر ف مال نے ا نگوکہ مر جا پچھراا نکوز جرہکروںا“۔(البق روہ )٣٢۳
واقعہ بھی بی اس انیل بی کاے نج سک یتفصیل ای کی ری بیال نک یگئی ہے خلاصہ ال کا ىہ ہے
کہ بی اسر اش لک ایک ا تکسی شی میں صتی تھی وہال طا ون گُھیاا ہو گکھبر گے اور وت
کے خوف سے ںار ٹا رج مر ہیں دور دو پپاڑوں کے ور میالن اداد ی
میں میم ہو گے ۔الشد نے ىہ یقت بلا نے کے _ل ےکہ موت می عوالل میں ہف مکی ںا نکو۔:|
ا وردوفر شع سد ئے اوراخہو نے ا کے سروں رای داز ال کہ سب کے ریۓ مور
کے منہ میں مل گئے او را نکی (اشیں گل س گئیں_
ایک زمامۃوراز کے بععد بی اس ائیل کے ایک بھی حضرت 7 گی علیہ السلا مکا ول سے گزر ہوا
بی تحدراد یں انساٹی یا دک ]۷رججرت میس رہ یگئے۔ اللدتھالی نے ہز ریہ وگ ساراواق ا گی لان“
77۳ھھ "87۳وس زفدہفرمارے۔ الد نے تر ت2 و قجول فا ی اوران -
ضررے
س بکوز مد مکر دا “۔(تقیل کے لئے رھ مار ف الق رآ انا ۵۹۲ ۵۹۳)
ای طرع اس خی کے ز ند وہو ن ےکاواقعہ جج سکو نل وگوں نے کر دی پور ا نے
دوبارہز ند ہکیااور انل نے اپ 22 کے ری مین تلایا۔(الظر1)اور ححضرت می کے ٹول ء الہ
نے ممرد ہکوزز ند وک دیا۔ ٰ ْ
پور دو ںکوز ند ہکر نے کے چچقدواتعات یل سے ایک واقعہ ددے جو ب مکورہبالا عد یت مل ذکر
کیاگیا تل ا سک ىہ ےکہ جما اص رائیل کے لپتض لوگ سفر یش گھے۔ دراو ی کسی قب سان ے
گر ہوا' قد دل میس خیال ہد اک ہکاش ایا ہو جال ےک دکوکی مردوز ندہ ہو جاۓ اود ہم اس سے تر اور
موت کے احوال معلو مک یں انہوں نے پابھی مخورہ سے سے" یاکہ تماز ڑم کر اد تالیٰ نے دعا
کر کہ دوس یکوز مد ءکردے۔ چتائچاٹپول نے ایا یکیااور نمازیڑھ ڈ ھکر اللہ تھاٹی سے دعاکی۔ ا
تال نے ا نکی دع قبول فرباکی اور ایک کیک مردہ شی شکوز ند وکردا نے2 ےک ان
لوگو ںکو خاط بکیا۔ رسول اللہ یل نے فر مہ : وہ شف گنی رگت والا تھا اور ا کی وونوں
آأکھوں کے در میان سیر ہکا نان ا“ اس سے معلوم ہو اکہ وہ شف اپنی ز دی مل نما کا یابند اور
اکاماتت'الویہ بر عائل تھا ٰ
اس تن نے ز نو ہو کم النل وگول سے ال نکی اس ت کھت پر ابی اگوا رک یکاا نما کیاکہ انہوں نے
اسے دوہار ہکیول ز ند ہکردای۔ اود ال نے با باکہ اے مودت آے ہو ئے سو بر مزر کے یں اور
مس وت سے اسے موت آ کی سے اس وقت سے لے کرت من مرت مغ فا یس ار
اور اس نے الع لو ول سے دو خواس تک کہ الد سے دع اک بی کہ اسے ال سکیا حالت برلوناومیں لیے
دوبارہ ٣وت آجالۓ-
اس سے معلوم ہوگہ مو کی خی طویپی عر ص ہک بھی ہد قرادروسکی ہے۔ اود می ار
کے سا تد بھی ہو سکقی ے۔ ٌ۰
لال تام ط ہا نکاس تک تفو راک ددتت نے محلوط فرےدور مم بک
دتیاو ا آخر تکیاراحت لی ہب فرماۓ اور ہمار کی قبر و لکو جن تکا بارخ بنا ے_ آ این
تر بجرت و نصار)
اہ سابقہ او اور اقوام کے 999 لن وسشت ٹل بیالن سگئ گے ہیں ان
کے تاب اعتاد ادرک ہونے می تکوئی شک اور شی نل ہے اوران سے بلاشیہ عیرت و نشبحت
اص٥ لک کی جائئۓے۔
ے۵
"رت ہہت جج پچ
ابتہ ق لن وسنت کے علاوج ہق اور واقعات اسر انی رولیات سے منقول ہیں ا نکی صحے-
سے متا قکوکی بات جحی طور بر غئی ںکی اس نک آیادہ جا ہیں باغلط؟
اس سلسملہ یل اصمو کی بات ىہ ےکلہ النا اص ر انی دوایات سے ممقول جو بات ق رآکن و سنت کے
انکامات سے متصادم ہو فا کو و ردکرد بناج گے ۔
اس رائییات کا م:۔
اسر ایلیات انار دایا تک و کت ہیں جو ای لکتاب یہودوفدارق ے: پھ کک خپگی مہیں۔ ال نکی
۰ تحییقت پ ےکلہ لن صحاب کرا ںاود تا لین مرف پہ اسلام ہو نے سے ن٠ اب کاب کے نا ہب
سے تلق رین تے“ بعد بیس جب وہ مترف پہ اسلام ہو اور ق مآ نکر می مکی و کی کر
انئیں ش رآ نکر یم میس تھی امتوں کے بہت سے ووواقعات نظ رآ تۓ جوا مپولانے اسینے سابقہ خر ہب
گ یکتابوں میس بھی ما سے تے چنا خی ود ق رآلی واقیات کے سلمسلہ میں وہ تقعیبدات بھی مسلرانوں کے
سا بیا نکرتے تھے جو انہوں نے اپنے پرانے نم ہ بک یکتاہوں یس وسکھی میں کی ارت
شا راعایات کے نام سے تفر یکمابوں میں داخل ہو 0727
حافظ ا حکیٹرنے جو پڑوے مق مفس رین میں سے مہ سککھاہیکہ اسر اعیل یا کی تن شمسمیں ہیں :
ا۔ ووروایات ج نکی فی ف رن و سنت کے دوسرے دا تل سے خابت ہے۔ ملا راہ روایات
یں کور ےک حفرت موی علیہ الا مکوو طود پہتشربیف لے سے با لا فرعو نک رق خی رو
نکی تحمدربی ق رآ نکر نے مھ یک٤ ے۔
ر2 دوورولات جنگ ن کا تجھوٹ ہہونا ف رآ و سنت 0/2 .. 9 ۱
روایات یل مہ :کور ےک ححضرت سلممان علیہ السلام انی آخ کی میس( معاذ اڈ م نر ہو گئ تے '
ا لکی تردی ق رآل ناکم سے خابت ےوما كَفَرَ نٹلیمان'(القرہ)' اور سلیمالنا ےکف رک سکیا“
اسی رح مل اس رای روایات می ج کور ےکہ (معاذ ای رت داود علیہ السلام نے ایے سپہ
سالاراوریاکی دی سے ز کیا( نوز اللہ بھی ق رآلنو سن تکی رو ےکا مجھوٹ ہے قو اس سم مکی
روایو ںکو لیذ اور تھونا کھنالا زم ے۔
٣۔ وفەرولات یکین کے بارے ہل مر لن و سنت اور دوسرے شش ری دا تل نما موشش جس کے ر
فذراۃ کے احکامات و یمر انی در دایات کے بارے میں 1 تحضرت ح کی جرے کہ صوت اخقیار
کیاجا نان 71 اضر نق 07 یب۔(خلاصہ از مقدمہ تقیر معارف الق مر آن_اء ۵۳۶۵۲)
اس سار ی تفصی لکوٹش نظرر کھت ہو ئے اب مہ بات مج سکہ ن کور ہ پالم واققعہ پالنل در ست
ادر قابل اعاد ے اور الد تعا کی ذنرر کا ھونہ سے در تحیقت احیاء و کے ىہ ند واقعات جو ٰ
۸
لغ 010900007 ۹
ھی سا ا کا ان ٹر دو لکوز یرہ
کر کے قبروں سے تج سالماٹھانے پہ قادر یں فیک ای رح روز قامت بھی دو ترام انساو لکودوپارہ
زمدوفر ماک کے اور لا کا امتزائ کہ مرنے کے بعد جب پڑیاں تک کل جائی ںکی ہم دوپارہ
کے ز ندوبہوں گے پالئل بے مزکااور با فل ہو جاتاے۔ ٰ
٣ت حد یٹ یں بیا نکر دوواقعہ سے ہہ بھی معلوم ہو اک ہم ی اہ مککام سے نل دو رکعت نماز مڑن کر دعا
کنا جب ہے جاکہ چا مک نے جاد ہاہے اس می الد تھا یکیار حمت او رکم شائل ہو جائے۔ نما کی
برکت سے تما مکاموں میں خر وب رکمت اور ببدلت پیدرا ہو جالی سے می وج کہ رآ نکر یم نے
ا ایا نکومی عم ف رمیا ےک :
"0 0 ١
پان والوایردعا سپ اکروعبر ار ھکر ےگ ١ اے
یرت لان اور مان ا5گ کے تن ش ںکزاحعت کے انت تن و ےکی
یل بھی موجھ د ےکہ اد تھی نے بپہ لو کر امت النائیک بند ول کے لئ ایک مردہکوڑ ند وق مادیا۔
اللہ تھا اپنے نس بند و ںکی ابی دعائگیں بھی ینس او تجات قبول فرما نے ہیں شی نکالو رک ناعام ۳
طور پر عحال اور مشکل ہو جاے بلہ اللہ تال یکی سنت کے بھی خلاف ہو جاے۔
٭1
تق اارۓے ە- 7ت - - -ں.٭.ئ“ٰبۃۃ1:-. کٹ
اکیسوالں قصہ :-۔(٢4
صف ال معٹرر ار
ہیر ۱
رت انسا نکی ہو سس اور لا ہگی طیح تکو سج سکھانے کے لی لینع او قجات بے نر پالن جاندرول سے بھی جیب
رس تر سی سس مر رت ہش ہد
بوتا"ل جیب قصہ کو بیالن /رلیٰ٤ے۔
ناس ااریث:۔
ار رو ہو ری سن رر رخ قد نز و فی سّفینة
سو ودینارا ق السَفِینةق کے ات
ترجم ار مٹش: رک شور نین سے ٰ
2 تی ال و اب فروض تیکیاک رتا ۶ تھااور (جچ کہ ہو زر میس مبتنا تھااس لے
را مکماکی کے پاوجود یلد حا مکااد کا بکر جا اور )شراب میں بای علا یکم تھا اس کے سا تھ ایک
بندر گی تھا اس بندر نے ا کے و ینا رکی می اٹھائی اور باد ان کے ڈنڑے بر چاتچڑھا۔ اور یی یں
سے ایک د ینار نکالمااوراے مثرر ہیں الد جااوردوم اد ہار کال اوراے رش میں ڈالد تا آنطرخ
ای نے ماردےےو بتاروںل اورو تصوں یں تر کر دیا(اور آرھا سد رکی نز رکر دماح الہ جو ملاوٹ کے ٣
عو مال کے ووضائح ہو جا کہ وہ اہ ےت یں تھا)۔ ٰ
تخریج الحدیث:۔
زوا سو تی یب شعن الاعر ینم ٹڑیاً_۵/ _٣۸۱۵۵
وروادا ون غبا مان'۔ ۳(ر۳۳۳۲۔
ورواماتر ثٴ صترم- -٣۳۲
ٰ یہ ایک ہو سی میس ملا لا پگ تاج کا قصۃ ے جوام ا اث را بکی خر بی وفروخ تکاکار دبا رکیا
27 از اددال اگ وقت سک مانے گید صن نے اسے ملاوٹ پ آماد ہک دیااور | کیانے مر اب یس بای
انار ور عگر دیا_۔
ہاں مہ بات دا مر ےکہ اسلام سے نل لی شربیعتوں میں سے یض نش راع کے اندر شراب
وپوی
ٰ رام نہیں تھی جاک اسلام کے بھی ا تورم رام نیں .لا اش کال ہک یاکہ ال
کو شرب میں ملاوٹ بر قاہل نز متگردا الین خودش راب فروض تکر کی جاور داھا؟ ۱
اور عد یٹ ئم اس پر اسے قابل جم کیو نہگر دا گیا حد یٹ سے مہف ہم کیل رابنا اہ ےک
شراب روخت رن کوٹی برا 39 یں۔ ْ ٰ
وا تر ہنا اٹ کہ چچچلی ش عق یس می ش بج تکاواقدہ ہے شر یتم ےیل شراب
سے ہر ممرکاادٹی علق ناو تن ےکا ہو خواہ بل ن کاخواوفروخ تکا ہو خواو خر بی ن کا خواوہتانے اور گثر
کن کا ہو خواوااس میں 1 بھی سم کے نتعاو نکاہر رخ ا علق امقل مرا او رگنا ِکبیردے۔
کن زین مر ا ڈو ٹر 7۶ر روش یکیاک۷ رت ھا اور ا ں کان کاردپار
۱ ایک تمشح یس جادی تھا۔ اس کے سا تھ ایک بندر ھی جاجو ہے سب معاعلہ دبکتا تھا۔ اس نے اچک یہ
یا اس خی کے دینارو ںکی شھیی اٹھاکر باد ہیمست یکاج او ی دالا ڈنرا ہو جا ہے اس پہ جابچڑھا ماک
اس ٣ر کے ماق نہ گے اور شی میں سے دینر ما لکر ایک سحندر میس یکنا رو کردا ایک
دینارسندرمیس پیا جا جا دوس اصفی میس ڈالماجاتا۔ اس ط رحاس نے دح د ینار سحند رج دکرد ہے
اور آر ھے د ینار مجر کے لے نی میس ڈال د تے گکویااسے ایک طر سے سبقی سکھادیاکہ جو مال نو نے
لاو کر کےکایانوا اس بر تی راکوگی عم میں جذ یا ھا لن اوداسی نقائل تھاکمہ سحنعدر می چیک دیاجائے-
7
ٰ چنر ثرت و لصا
ت7 ود ی ث کا ینیادیی یق اور ألیم تو شش( رس کہ اور لاٹ )کی نم مت اور ا سکاناح ات ہہونا بان
کنا سے اود اس پ مر جب ہونے وانے فک ری اشراتکا ان سے مس یکو دج کہ د یناور مال شی ملاوٹ
کر کے فروخ تک رن قطعات ام ے اوراس سے حاصمل شدہ آ یدن بھی مر ام ہے۔
مر بت اسلا مییہ ےج 0 پرتری حگناہ اور 7 ام فراردیڑے۔ رسو ل کر عکل نے
ھ2 غٌشٌ فلیس متا۔(ا ید یٹ )جس نے لاو فک ادج کہ دیاوہ ہم یش سے کیں۔ اسلام
نے جس مر رت کے سا قد اس سے من فرمایا بد شمھتی سے جمارے مسلما چھاٹی تنا بی اس کے انعدر
نا ہیں ہو سس زر جک نا انا نیت سے عار گی 'سناک لوگ اشرائۓ ضرور تکگ ہر یں لادٹ
رن ے باز نیں رتے دود “شہد۰گھی وغیب رت ممموبی اشیاء ہیں سخ فو مہ ہ ےک دوائؤ لک شش ٰ
لاوٹ ہو ن گی سے“ آخرت سے نا ضا یار یہ غابظا عناصر ہمارے موا شر ہ یں بی گمناو کیل
دحھث نے سےکھیلتے ہیں او رکو کی اکے ہا تہ روکے والا یں اد لیے لوگ انساضیت کے تقانتل ہیں۔
بہرحال !ملاوٹ زدداشیاء فروض تک ناو خودماو کر نا ہق تگناداورجتر ام ے۔
رت
ضس ار رۓ ۱ ۱ ٦ مل
۳ ال تاٹی فا وکا موں اص مزا خر ت دی یش دی گے ےو ض1 قاتدنیاٹش میا
گیا مزادپے ہیں اسان کے اوہ شی آنے والے لف حوارث ٹ اور مصمائب د نکی غلطکار و کا ہی
شماخمانہ ہو لی ہیں۔
اس تج رکو لاو فک مزاالش تعاٹی نے دیاش اس کے اپ بندد کے ذد اہ دئ کہ ای نے ا
کے آر ھےبال کو نر رین رکردیا۔ ْ ۱
٣۔ حدیٹ سے خدانات کے جیب و خرجب اصرار 0+09 لہ جانورول اور تواتاے ۔
:و ھی اللہ نکی نے اک کر ننس مماعلات کو میک کاذدق رکھاے۔ نم کور وواقعہ یل پت رکاہہ
ایب کو نے اور عرل وانصاف کے مطا کام کرنے راع رجے۔ ۔
۔ ایک بات نہ بھی معلوم ہوٹیکہ ا گر اسان کے پا ام ارا زع سے حا صل شدہ
تی واے استعال کر نان جاہۓے لہ اے ضا لم 1ر۰.- دادور ہے 2 ُکورےۓ ور بناجامے۔
چناتجہ شم ریت اخلامیہ میں می اب نہ الال نو نا جائزذر ال سے مال حا سے کرنے سے ایقتاب 1
اوراگر ہیں ےن جاتزمال ئل جاے تو توکما نزک اے استمال دکرں - ۱ ۱
کو کا سی رہوگ سے سے بھی استد کرو یں ے مدکی 7 ۱
سی شر رںق رڈ
اصص ار ےغ ۱ ۹۰
قرارے . ہہ
ا تیسوال قصہ :-( ۲۳پ
گائۓ اور پمیر ےکا اسان سے ہ رکال مر
مر
ا دنا کے اندہ یی نے وانے یئات اس مار ملق ب ےکر تھے ہی کہ ہر تھے ا سکی قدر تکا موہ
ہے۔ دہ سے جا ےگویائی ھن دے' نصتں و یالناسے نوازدے ا لکی فقدرت سے 'اے و بل انا نکو نل و
بیالناے محروم سو تیر کو نضق کو یائی ہش رے۔
زم نظرواقعہ ایک اہۓے بیکرشمے قدر تکا ہے جب غ|الق اضق د بیان ن گا اور ٹر ےکوا نان سے
کفش کر ن ےکی ددرت عطلای۔
یلیر یٹ :
روی البحاري صحیحه عن أيي یر رضی اد ضَُُ قالَ تی رسول
اڈ ہے صلاۃ الصبحء 4 نم ابَلَ عَلى الناسۂِ فقال: زیت رَحل یوق بقرة إذ رکا
فضربهَا فقالت: نا لم نعل لاہ نما تا للحرٹو. َال الا : سُبَحَانَ از
قرۃ تَکَلمٌ! فَقَال: اي أُومِنُ بهھذا آنا وآبو بکر وَعُمَرُ وَمَا هُمَا تم ٰ
تَا رَخُلٍ فی غديه إِذ غذا الذبٰ مَنمَب ھا بشاق فَطلَبَ حَی کا
اسْتنقَذھَا مِنه فَقَال لَهُ الذئے؛ هَذا تھا پنی: فلا َو السَیْم یوم لا
راعی لَي غیْريء فقَال الا ے: سیحان آزژز ذئی کلم قَال: : فِني َ بھُذاء أُن ٰ
آبُو بکر وَعَمَرُ وَمَا هُمَا ئم). ٰ
ٹنزطریے ٰ ٰ
ْ امام ہفاد کی نے ابی جح مس ححضرت ا 0 09
نے کی نمازپڑ می اس کے بدا وگو لکی طرف رخ فرماااورار شا دق ۱: "
وک نس ای ک گا ۓےکو پایک را اہ ایی دورالن اس بر سوار ہوگیا اور اسے (دوڈانے کے
لے مارنے ڈیا دوگ ے کک ےگ یک : یں ا سکام(سواری٤) کے لئ کی یراک یاکیا ہمت وت کی
ڑکیا کےکام کے لے پیید ا یئ ہیں“ :
بی ینکر لوگ سن گے : : بھالن الہ اگاۓ بھی با تک ری سے؟۴۴ رر سول اولد یڑکل نے ر سا
مایا : بل شیہ ٹیش تو اس بایان رگا ہوں اود الو جھڑ اور عم بھی.. جا کر دہ وپاں (اس واتقعہ کے
ٔ- ۵
ضس اور ےۓغ 00: دا
موںح بر موجور نہیں جے(پھ بھی یقن ر کت ہیں )۔
”اوراک ٹن اۓ مویشیوں کے در مان تھاکہ ای دورالن اچک ایک بھیٹریا ا کے مومیول
مل 1ور ہوااور ای کب ری الن ٹیش سے اٹھا ل ےگیا اس نے ا" ھا ۔ پچیاکیااوراس سے کک کنٹرانے
ک کو شش شک او ہراس سے مجچٹرا تو بھیٹر ہے نے اس س ےکہا:
ج قزا کر یکو نے بے سے مان ا کاکون حافط گار مرو کے دانیس مک
رن میرے سواکوگی اور ال کاچ وابا تی ہوگا ی
یں ن ےکی : سان الہ ؛ بھیڈر یا بھ ینگ کر ما سے ؟۴؟ پ نے اد شادفرمیا:
”شب یل قواس پان رکتاہوں' یش بھی اورا و ککڑوغمڑ کی ھا لالہ وودوٹوں وہال یں تۓ “ 7
2 0 ٰ
رواہ البخاری فی صحیدحا: کتاب أحادیث الأنبیاءر٤۔۵۱۲.
وفی کتاب فضائل الصحابه۔ باب قول النبی / لوکنت متخذ ا خلیلاے/۱۸۔
ورواہ مسلم ایض فی کتاب الفضائل۔ باب فضائل ابی تک الصدیق ٢٢۲. (م لم مم شر اود ی)
مار یش
رسول اکر مم ینگ نس او فقات بببت سے تیب و خر یب واتعات بیائن فخمرماتے جے زر نظرواتعہ
یمور ہو یل بن ق تک شوہ یت
بے کےکطا مر ن ےکا رکرو ف سے
سے سر سواز کی کر نے والے شف سک وم نے ےنا کہ یں اس کا مکیے یی سوی اور
رب دار یکیلے فیس پیداکیاگیاپکگہ میں توزراعت او یق ہاڑی و خی روش اسقدا لکن کے دای
آپے۔
الد اتال نے جا ورول اور 7 چ اش بھی مقیف تصوصیات کے حائل جانور بد افرراۓ ہیں۔
ہر جاور سی د ابو ری ں لے رک ہگویا وہ عافور خائص سی متقصدر کے لئے قحلی یک اکا
ہے۔ چناج گاۓ یل وخ رہ عموبآبار بر داد ی اور سوارکی کے لج اتال کی ہو تے اور ال نکی سوا کی
2 بھی کوٹ آرام دواور راحت ر سال یں ذگی۔یاد برداریی اور عواری کے لی اود نے
س”ٰٰ "0 ۔چنانیہ ا نکی سوارکی آرام دہ ھی ہو کی سے اور یہ ہ ر مکیابار بر دار گی
چھ یکر کت ہیں گا ۓ بل و خی رہ عمو ئل لا نے اور ھی باڑی میس استعال ہو تے میں او رکھوڑے خر
7 تی باڑی میں استعال رہوج جانو رکوایک تصوصیا تکاحائل بنایاے اور
اس سے وی کاملیماجا ہن ی ا یا پا ا بن جیا ہکا کواہ ہز یش ا سام کے لئے پیر 1
ضوال رین ۱ ۱ ۱ م۰
لوگو ںکواس پر بڑا تب ہو اک ہگیاۓ بھ یکل مک رسکی سے اور سکینے گ ےکہ سبوالن اڈ اٹ کلام
کر تی سے ؟گویاان کے لے مہ ایک :ا قائل لقن بات تھی۔اوراس برا نو نے تج بکاانظما رکیا۔
رسول اللہ چا نے فلا بلاشیہ شی اور الو اور عمر نواس پر لین ر کھت ہیں حالاکہ وودووں
وہاں موجود بھی نیس تھے_ ۱
رسول ال لگ نے لن دونوں ححض رات کے ملق ات دفوق سے اس لے فرما کہ کا پکولقین
قماکہ ہہ حخرات ت اب کال اعاداوراقا یقن رکتے ہیں کہ آپ جھ مع بات ہیں خوا کت یہی مجیب ٰ ٰ
ور نہر لاف عقیقت ہو لیکن وو وٹ خیں ہوسکق ار می ابھان لی بکادودرجہ سے جو ال
ابیمان سے مطلوب ےکیہ لن و“ اد بہ اہر عفل می نہ آنے وی لن بات کی تقی دک قک رج
7-2 آناوحد یٹ سے ثابت ہوں۔ اور ایے ہی بند و ںکواولہ تھا لی نے تم ریف فر بای ہے۔
ٰ الذین ؛ُ ؤمنون بالّْخیب(البترہ)
(ز مکی )وولو گ یں ج خی بک با قاں برابلن رکت ہیں۔
۲- رع دوسرے واققعہ یل اداد فرمایاکہ ایک بھیٹرتے نے کنھنک کی ۔ تب مر واے ے
ببادر اور جم ت کا مظاہ ر ہکرت ہو ئے بر یکو پھیٹر ئے سے متھٹرالیا ت2 بھی سے نکراک : آ نج لو لو
نے اسے مھ سے نپپٹرالیا مان اس دن ا کا بر سان حا لکولن ہہ وگا جب در نرو ںکادن ہوگا اور الن
مرو ںاکاکوی ج وابانہ ہوگاسواۓ می رے۔ اس دلن تمہ بجھھ سے پیا نہ س گی۔
لام نے فربایاکہ انل سے مرادیا و قیامتکادلنا ہ ےکہ ای دلناہ رای ککو اتی ڑکیہ گی چائوروں
اور چھیٹر بمرو لکو پچھیٹر ئے سے بیان ےک یک سکو گر ہوک ا؟ یا اسل سے مرادفل مم زمانوں کے تہوار اور
کی عیدکادن ا ےکہ اس روزلو گ ات میلوں او رکھیل کور بی ات من ہیک ہو تے ہی سک ا ای اپ
ضرا ون بھی پور ایال کی بہت توااور جمیٹر گے جاندرو لکواٹھانے جاتے تے_
( از شر 20 7 مم م۶ ۲)
07 بھی اہج بکااظما رکیاککہ ایک بھیٹی بھی ان یکفگ رک رسلا ے۳
ر حول ان پگ نے پھر وبی بات ار اد فرمال یک : لاشیہ می اور وھککڑوعڑ سے ل نین ر کت
یں باوج د لہ وہاں موجود یں تچ “ .۰
پت ر رٹ 2
اع عحد یث سے بفیادکی طور مر لو تعن را ت بین ابویک و رر ضی ال عنہماکی تیم فضیلت ظاہر ہوئی
ےک رسول اکم یکن دو نول پر الیبااعماد تھاکہ از خود ایک بد کیش دوبار ف راک : یش اور اہو گر
8ئ ےہ تع 1۸
وعڑ اس پر یقن رکنت ہیں ذس ےرک ىہ لقن تھاکہ خواوسار ید نا می رىی با تکو لیم نہ
کرے لیکن ىہ دووں حفرات ابان اشن کے اس مقام بی فائ می کہ خواہ بات پاب گنی ہی خلاف
۱ عق لکیوں نہ ہو ہے ا سکو انل جاور سیا جھیں کے اور واقعہ بھی بجی تھا ۔ مرا ن کا واقعہ اور ال کپ
صد یت کی بے ساخ تید تما کا کی شموت ہے اودا یں صعد لی کے متقام بر فائمکرن کا
نبوی اظہارے_۔ ٰ
چنا یہ امام ہار اور امام سکم نے اس حد ی کون جفرات کے فی کے جاب بی دی گر
فربایا ہے۔ امام بنار کی نے ىیہ حد بی اب ف ال عے“ می اور امام ملح نے ” باب فضا ئل الی مجر
اامریی“ میس لف لکی٤ے۔
۲۔- ایمان پالغیب اور ایمان پالر سول لل کے پغیر می کاابمان ین یں ہو سا اور اس کے معن ی
بی ہی کہ رسول اللہ پک جو بات مھ فربائیں اسے عن اور کجتھییں خوادودہوار بی عحل می۳ ںآ ۓبانہ
1 ےئ وک اید تار ک و تھا لی نے ش ہ1ل نکر میم شی ار شمادفرمایا:
ما یِنطِق عن الَھّویٰ إِنَ هُوإلا وَحی بُوحٰی۔(النجم ۳۸۳
اور( )انی خوائش یت 27 ہیں کچ ا القین دو تو تی ہوٹی ے جا نکی کی حا ے۔
نف من ہے وی ا کو صلی مکر ور خلاضی عق لکور وکرد اپ لیم نہکرنا یمان بالقیب اور
ایمان پالر حول یں لی ابمان تتل 1 ج کہ اسلا کا مطلوب نا بمان بالغیب "اور ابالتا
ار سولے بی اس حد بی کااہم سج اور می رے_
جانوروںاذر بہائمکاانساوں ےنگ ھکر نا رطاہر تو مال سے لکن خلاف عتل اورمستبعد کییں۔
اور الہ تعا اسب تقادر ہی ںکہ چا ورول وگ اتی ہنی دی اللہ تھاٹی جب روز صشرانسا نک زا ناپ ہر
ادس کے اور اس کے اخضاء مم اس کے خلاف گواہی دش کے فو اس موںح بر اد تعاٹی انان کے
ٰ مک دوسرمے اعضاءہ تح ول رووا مکی
لوم نحْيِمْ عَلیٰ أفُواهِهِم و تُكلَمنا أيدِيهم وَتَشهَد أَرُجْلهْمْ یماكانُْايَكببُون(ش/٥)
رج کے ون ہم النا کے مضہ بر مہ رلگاد یی گے اور ہم سے بات مان نک اض رای
دریی گے الن کے پائول ان ( مل کا ول کی جو ہکیاکر تے جھے
توجب الپ تال ی انساان کے دوسرے اعضاعو مک مک کائی عطاظرائیں گے تو جاور نکر بھی قوت
مگوباپی عطا فرماسکتے ہیں اور اس پ اظمار ے کرت اااسے مال یامستبعد سچھنا ا نہیں اور الہ تھاٹی
کی رت رکال لین ضہ ہو ن ےکااظہارے۔
و حدیرے سے معلوم ہوک گا ےکوال تال نے زداعت او ھی ہیی مود تل ہکہ
ضس اور رۓ
سوارگی اور پار بردارگی کی ۔ ہ رکام کیل اس کے ماس اور موزول جاور ار تع لیٰ ے بنائے میں۔
سوا ی اور بار بردا رب کیل مگھوڑے اور تچ رو خی روکو بنیا ہے لپن انس چائو کو جم کا م لئے بن گیا سے
ال سے ون یکام دبا جا گۓ۔ - ٰ
ایک ملا نکیلئ ہراس بات یر شی نکر نااور ا سکی ندب نکر ناو انب اور ضر ورکی ہے جو رن
گرب اور ر سول الد کل کی جج اعادیث سے خابت ے۔ خواوو دانسا خقل کے مطا لی ہو یا خلاف
عحل۔ گر ود بات ق رن وسنت کے و لال مہ کے سا تھ ابت ہوخ ا سکاازکار جنف او قجا تکفذ رک
جاکیاد تا ہے۔ چناج اکر وہ بات بس کا اکا رکا یا جار ہے صروریات رن ٹیل ے ۶ھ مثلارول
اکا واتعہ مراع ورہ کاازکار “نو کف رک فاع و نگروری ان نورڈ
فی قکک تو پچھای دتاے' بل مہ رواج چچل با ےکہ جو بات ق رآلناو حد یک کس یکی خعخل میں
آئے راف کر دتے یں ات گن بات بب اس ے بہت (زیادد اتا بک نا جا _
ا_
7
صص سار
پت
0 ا ا ا ا ا ا ا سس ا یا ےک ہیا یں ہے ہا ہے رر ہے ہے ہہ دج جھد بج دج خ دہ
نس اور ریغ
تھیسوال فص ۳٣۳٣ی
اۓے)
بر
و مولود بی کاعام اناو ںکی ط رع بولزالیک حر ت اعگیٹر بات اود ال کی قزر تک جیب انظہار ہے ' ار ریا احیت
یش یہ تیر العقول واقعہ تن ہار یل یی آیا ےکہ ایک نو مولود اور مچھو لے بی پڑے ہے پچہ نے با تکی تہ
صرف با تکی بلک خایت داظشنراہ ہاور عاقانہ ففقگ کی رسو لکر مکل نے میں بلایا ےکہ ایک تحضر
یی علیہ السلام نے "اشک کی 'دوصرے صاحب تج تی نے (ج کا قصہ 1 کے آ یگ انشاء الہ) 7 بی سرمے اس چیہ
تش۷قتل لو ش نارے ٰ ۱
ھکید یٹ سم دےٌ"٦ٴا
روي البخاري ٹی صحیحه عن أَبي ھریرة عن النبي قال: (کانتِ امْرَأَ ترضیم
نا لها مِنْ بَيي إِسْرَاقِیلء مر بَا رَحُلْ ات شارة فقالت: للهٌُ احْعَلِ
اي مِلله فترَك کا س سب فقال: لهُمٌ لا تحعلیي مه لم افل
عَلی ُديهَا يَمَصه). قال آبو هَریرۃ: کأني أنظر الی 2 کے َحص اصبعة: .
.7 بأَمَة فقالت: اِلهٌُ لا تل اي بل ملیف فترَ نپا فمال:
الم اخعَلي بٹلهّا: فقالت: لم ذاك؟ دنا لَ: الرایب تارق ٴ الْحَبابرق وھذہ
25 کک 3 زیت لم نعَلْ 1
ونص ا حدیث عند مسلم: ( بنا صَِى يَرُضَع من أمّی ت ًب کی
دابة فارمَة وشارة ط فقالت امہ : : الْلْهٌْ احعل ابنی مشل مَذا فتك الِڈی
وََقبَل لہ مر لہ فان ای لا ابی بلل تما لی تا ڈیہ فَحَعَل يَرتَضيع:
قال: فکانی انظر ا ی رَسول اث پل زھر یحکی ارتضاغه ياصّهه السَّمَبَةِ فی
مب فَحَعَليُنُمهَ فَال: زَمَروا بجاریة ےآ وَهمْ يَضربْونَھَا َقَولُونَ: زنیست
سرقتی وَحِيٗ تَقُولُ حَسیي الف ونم الیل فا أمّه: اللهُمٌ لا تحْعَل ايّي
مِْلَهَاء فترَاءُ الرّضاعَ ونظر إلَيْھَاء فقال: اَم احُعلیي مِثلَا .
فَهُاكً تَرَاحَعَا الحدِیث: فقالت: فی مر رَجَل حسن الهَیكة فقلت: الله
اجعل انی مه 0" الله لا تحعلتی مثله رر بهَذیہِ لأمَة 3 وَهُمْ يضربُونهَا
۰ ا
۲۴ےا
ہت |
َُولونَ: زیت سرقتی 8 قنلۓ: اللَیُم | ہر ای لها فة فقَلٰت: اللَْمٌ احْعلنيي
ٹلهَاء قَالَ: ال الرَحْلَ کان خبار فة ق: الله لا تَحْعليي مِئْلۂ وَإنٌ مَذ
0 لھا: رَیٔےِ لہ تن وسرقت لہ رق فقلت: الله اعلنی لها ).
ترخ تا یر بث
رض مر یں ہے قرباے می یکہ ناپ رعول
ا ٰ
۱ 7اس رائُ لک ایک خاقن اپ نے سولودپ ہکودودہ پلا مت وہای سے ایک سوا 7 ڑا
خو شال اور بہت رین جخصبیت وا( اس نما نون نے فور ُدھاکی : اے الد امیرے کوااس جلیسا بنا نے“
اس نو مو لود نے ما کے سبنہ سے منہ ہلابااور اس سوا رکی طرف متوحہ ہ وک رکا:
اے الہ !کے اس جلیمانہ بنایئے “۔ اور پچ ما لکی مھا یکو چو سے لگا۔
ا ہیف مات ہی ںکہ :گویایس دکے ر باہو ر ول الچ کو انی انی مرارکم ا وھ
"'ل( ہیاس پ کی مکی کیفیت تار سے ہیں )۔
مر وہای سے ایک بان کیک گار ایا نوہ نما نون سک گی اے الر! میرے بی کو اس 7--
نایے “ال پچ نے پچمرماں کے سن کو مچھوڑااور کے لگا : اے الہ !مہ الس با ند کی جیہسا :ھی رنا کے وہ
گحورت(مارے جرت ےکن گی ہکیوں؟ وہب کے اکا ۔ :وو سوار ج ھگذ را تھا پڑے الم و جار ْ
نت ان نین کے مقر ا رع ۳ا77 رکا ر مارح
لن فی التقیقت اس نے ایا خی ںکیا۔
یمم ات
”ایک نو مولود پیہ اپنی مال کا دودھ پیا دہ تھاکہ وہل سے ایک سوار شف شا ندار سوا کی سر بڑکی
7 پل ساس بی ہکی ایا نے دعاماگی: اے الہ !میمرے ٹ کولس ججیما ہنا گے ۔
7 نے سیبنہ مچھوڑااور اس تن کی رف ر غکیااے دریکھااوو رکہاے الد ا کے ای جییسانہ بنا گے_ ہہ
7 دارہما نکی بجھا یکی طرفر حکیااور دودھ ٹن لگا۔
ااوہر مر کت ہ سک ہمگوبامیں دک ر و ںکہ ر سول اللہ مك اس ب ہکی دودح بن ےکی می کیفیت
کو نف لکرر سے ہیں اتی اگشت شہاد تکومنہ یس لن ےکر چو سکر بات ہیں“ : 8
مرا الہ :رد پا سے ایک باند یکول ےکرلو کگفررے اور اسے مادر سے تھے او رکہہ ر سے جے
کیہ فو نے بای کیا ہے اور چو رک یکی سے ار کے :کے می راالش کاٹی ے اور وہ ہت رن
کارسماز سے “اس ب کی مال ان ےکہاکہ :اے الد !میرے ٹے کو اس جلیمانہہنایئے۔ اس نے پچ ردودھ
صص ایر یے سسسسحوٗژھ' سے سے ے سے سے سے ۳
پا سچھوڑااور ہا ند ت کی طرفد بیکھااو رکنے لگا: اے الئ اھ الس جیما بھی بنا ئے۔ ۱
اس عورات نے ایک ددد گول رىی تار کے سا تج کہا :ایک شاندار خصیت والا آدئیگزرااور ٹل
نے دھاک یکہ اے الد میہرے بٹٹ ےکو ال جلیماہنا یے و ون ےکہاکمہ :اے اللہ اھ اس جیسانہ بنا کے اور
پچ روگ اس بان کو مارتے پیٹ ہگنزرے اور اس کے متحلق کت ہی ںکہ فو نے ز راک جو ر یکی۔ نیش
نت ےکہا۔اے الد امہ رے بٹ ھکو اس جلہمانہ بنا ہے مو ف ھکہتا ےک سسسسی 71
ٰ ان لک یکیاوجہ ہے ؟ )وہ سک لاہ : ٰ
نوہ دی نوایک نام تحص ھن بیں نے بی دعاک یکہ ببعومیی بج او رہہ جو
اند کی ے نلوگ اس کے ملق سککتے ہی ںکہ فو نے کھیاھلما لہ انس نے نا می ںکیااو راو کت یں
کہ فو نے چو ر کی عالاکمہ الک نے چو ری کن لکی۔ نواس لے بی نے دھاک یمکہ اے الد !یھ اس جیا
انان ۰ ۱ ۱
تخریح الحدیث:۔
ہار گیا /کماب آحاد یث الا جیا ٦۸۷٦ء ۳-
مسلم کاب التر والصلہ باب لئ بر الواللد بن لی المطورح بی اصا2 1۹۹۸۳
ٹر افریثٹ
تو مولود پچ ہکاعالانہ اور دامشمندان ہکا مکنا ایک تہاحیت خی ر صعمو بات اور خر ت اتکی ہو جاے '
اش تھا انی در تکا ملف طر لیقوں سے انظہار فرماتے ہیں ' جعیہاکہ ال عد یت میں بال نکر دوواتعہ
سے صاف ظاہرہ ےک مال انے پیر کے لئ اہر اعتبار سے انیجھے عال وانے تی شکو دک ہکر ارڈد سے
سے رگ گرا7 ضا سو نر خی روا لا وید چیا ہہ
۲ 'اول تاس عم رکے ہے کنشلدہی بر قادر یں ہو تے چہ چا ہکوگی دا نش ندرا ہکظا مک رسکی نچ راک "
لک با تہکہناجونہ صرف بظاہراس کے من کے ب رتس ہو امہ حقیقت حا لکوئیش نظ رکوکر کا بات
کہناقجرت بالاۓ تججرت ے۔
“9 طاہر رے کہ اش نتعاٹی انی فد رم کال ہکااظہار فرمانے سط ج تل مر
اور پاشعود ازنمافو کا ہی ا اب نیس فرماتے بللہ تح اوقجات فو مولود او رکم من دنا کجھ بچوں کے
ذر لہ ھی بڈے بڑے مآ یکا اظہار ف ماک انی در تکاانکہاد فرمات ہیں۔
چنا تچ اس داتعہ یں دوبڈے تا نی کااظہار فرماا۔
ے0 تن جو اہر اعتبار سے بہت تو شوالع شا ندار شخصی تکا مالک اور نڑی
اصص ار ےۓغ ۳|
سیر زم یس ےر ور ار ری
این تھاکہ ا کی تنلی دی جائی۔ -
دوسرىی حقیقت کہ وو مظلوم باندی جو اہ ری اختبار سے بڑی مغلوک ایال وگول کے طترو
لت ن کا نان شی اور ا سکی عزت و آبرو بر مرف ڑٹ یکی جارجی نشی دودر مفقیقّت ایک پار سااور عفیقہ و
٣ اک دا من و کردار ور
۱ سیرے-سآہ اب دماک تقومولوداور بے کجھ بچہ کے زدلیہ
فرماکمراپی فقد رت کاط ہکوغابت فرمایا۔
چنر عہرت وَلصاً
یر واقعہ بہت سے اہم ٹوا کے 7 ٰ ٰ
ا۔د ماد متصیر اور و مر گی ىہ سےکہ اللدر ٹ الا نکی نز کب او رز نکی
اح نہیں : نی وو یکا مکرکرنے کے لئے حرف اور زان کے عام روا کے ماج ہیں۔وو ا ہیں
تی پاشعور اضسان ےگوبائی سل بک لیس ما ہیں فو نو مولود بی ہکو تقیقت پہنرانہ اور دا غشمند انہ نو
ماد ںاور الہ تعا لی شانہ ابی اس ذررت کا ہار با نا شکذہ فرماتے رتتتے ہیں۔
۲ ٢۔ دوس راالکم فائحدوحد بیث می بیا نکر دوواقعہ سے ہہ عامصمل ہو الہ ہر شے کا ایک اہر ہو جا ے اور
اک پان “انسال کو اس کے ظاہر سے زیادہ ام نکی لگ رکرکی حا می او کسی بھی ش کو ارک چک و
رک اور اہ ہی جن وخ یکی ہناء بر نی انا حا یت بلہ با فی خو بیو کی جا یر اپنانا حا مہ
اس بی کی مال ایک انسا نکی اہ ری خو شھالی اور رحب داب رس ف رشان و ش کت اور ماللد ار کی
ٰ سے متاثر ہ وگئی اور اسمی مر عوب ہو کہ اہے یہ کے لے اس جیما سن ےکی دعا انگ ڈالی کے
حقیقت اس کے ب تکس تشخ یکہ اہ سک سمارىی و شوالی 'رعب ودید ہی اور شاع و شوکت ق وت رکا مہ
و 'اور ہہ اشیاء اگ عم اور تر کے سا تہ حا صل ہوں فو ذلقت نیس وبال جائن اور ذر یع عذ اب ں اللہ
اہی نے اس ت یقت کا القا نہ صرف پچ کے قلب مم لکیابللہ ا سک ز با سے اس مفیق تکااظمار
بھی اکر وادیااور ہی ے تی ما لک دعا اید رر کے و ےکا ماک : اے الراگے ا ناوات :
سی ا ا ای ا 0س رے ہم ہہ
ہوۓ اس جیمانہ بن ےکی دع اکر دگی۔ اد رت التا من نے ا سکی یقت بھی پیر کے قلب میں القاء
فرماگی تھی ا ا س کا اظمار بھ یکر واد کہ اگرچہ وہ باند بی مغلوک ا مال سے ٴا ےر بدکاریی اور
برکردارگی کےگھنا نے الترام لگاۓ جار سے ہیں نان ودنہ صرفپاکپازباحیااور عحفیف وباکند انکنع ہے
ضس ال ےۓے مسدسسسے ۔۔ ٰ " :
چو رکووفیروسے می مفوطاہے لاہ نےاس جیا پٹ ےکادماکردی۔ ۳
ومک متفیر :_ ۱
اور کہ ید عاکا متقررے نہیں ا_ والیر | لم کہ بے | 1 رگ والا ال عطا اکرر تھے یللہ متصیرِ,
ھاکہ ننس طر دہ باند گی فی سرے اور ف بر ہو نے کے پاوجود مظلوم ہے اسی رح بجی بیع سر
ات تچئم رکیۓ خواووس کے تہ مس جھ بر ش مکیاجاۓ اور یٹس ط رح اس آ دب یکی شان و شوکت اور
۱ دای غختتیں اور خو شھالی علم وج کا یہ ہیں تو یھ علم اور جر کے ساتھ ىہ متتتیں نہ دہجچے کر سے
حتیسں اور خو شوالی لم دجر کا مہ ہیں نو یہ علم اور بر 082220 بے "مر یئ
اور تی طر تی سے ملیس تو ویک و رنہ تہنتوں اور خو شھالی کے حعمول کے لئے بے قسف
سے ببیا ہے پچ رمبہرے لئ ای مہمتوں سے مفا وک الولی بر سے ۔
نت گوہ گید اکا متقصددنیدی لت اور خو شا یکا لیر نیس پمہ شلم اور جج رکے حا ہونے
ولی تنمتول اور و شھالی سے اہکار تھا اور دوسرے قیذ میں ہہ مقصود ننیں تواکہ جن رحاس باندی
کولوگ مور وا لام شہرار ہے ہیں :اور اسے مارر ہے ہیں تو سی حا مبیرے سا تح بھی ہبہ نس طرح ٰ ٰ
بی با نکی فی بر ہونے 'ہاکرداردیاکرانز ہو نے کے پاو؟ ود ملوم ہے ای رئیش بی تن ہار ہوں
شا مظلوم ہی ,07 /--:
ی020 بھی معلوم ہوا اہ ال نال( خواہ اس کے نیہ میں د نیا ہا لکی نتیں صلی ہو جاعیں )
از کیں اور مظلوم نال( خواہ اس کے تہ می ںکھیئی بی مشکلا تکا سام اکر نا بڑے ) جا ئن اور ند یرہ ْ
ے۔ بالفاظا دنر یو ںکما جا کیا ےککہ کی فففتیں حا ص١ لکمرنے اور مز نے کے گے اورد نیاوی
شالن و شوکت بڑھا نے کے لے 2 کر نااور انل کے منجہ ہیں شمالن وش وکت حا صص لک لہماد نیاوالوں کے
زرک شاید ہت کا عاٹل ہکن ال ھک باگا شس نہ صرف ےک ا لک یکو جیت خی پگ تم
ئ2 یہ میں عذ ابو .اکا سفن ہوگا۔
۳۔ ال وائعھ ے قرو نکر ی مکی ایک آی کر بی ہک اور زیاددوضاحت ہو جائی ے۔ ق رآ نکر مم
میس سور ۃالبقرہ ٹیس ار شاد با ری تالٰٰ ے :
عَسی أُن تكرَھُوا شیئاً وھو خیر لکم وعسی أن تَحِبَوا شیٹًا وھو
شر لکم الأیة (البقرہ) - ْ
اور شا کہ م مکو بر کی گے ایگ چززادر دہ مر ہو تمبارے تن یں اور شاید خ مکو ھٹی گے یک نز
اور دہ بر گی ہو مھہارے نف میل۔-
متنی انان ہر چ کو ظاہر سم ہہت ظاہراجما ہو فو فر یقت ہو جا ما سے عالم الہ اس کے
صسااررے - ےےمے ےہ ہے ےت تحت ۲
این میں خرالی اور فماد ہوا ے۔ اور اہر خراب ہو اس سے نفرت و بنا رک یکاانظہا کر تا سے اور
اس کے باظن جا یکو نظرانداکردیناے۔ یہ اندازگر جج نہیں ہر کو ظاہر یوون
۱ اقرارے رک کرااس کے پارے می ںکوی ر ائے کال جتقل ود کا طریقہ ہے۔
وہر و چو سے ۷۹ ہے کے اور واعظ وداگ یکو ای بات
دی ھا ے ےن رجہ نشی کات دس دکایطر
زہن نین ہو ما ہے سے تضور انس گل نے اس بیہ کے دودھ بے ا ور ما نکی مھا یکو چو سن کی
وضاحت گل را لکہ اپ گی بر ککومنہمی نےکر جا سے 7ر و خات
کوخوب اکپھی ط رح سک میس آ جائۓ۔
ر ول الہ یلک کی احادیث کے ذ جج رہ ھ اس طر کی بہت سے مناییس ملق ہی ںکہ آپ نے ۱
می با تکوواش کر نے اور مان کے لئ ا سکا مکی مظاہ رہم کے جلایا۔
سای
لإِنَ اللَّه لا یُضیع أأجِرَالمُحسنین 4
ا شی الال تی وکاروں 2 ات آو ضا نہیں خرماے۔
صہ سوم
اعمائل صن کی
دنیادی رکا ت دثو اسر
کچ
ا مان اٹ وزواقیات
۸ے
ضس اور رۓ ۹|
چو ڈیواں قص ب۲۳
مو کا
ہیر
انا یظر تدے 1 جب وہ معب تکاشکار ہو اے نوہ رے اخلا کے سا تو الند کیا دک جاے جب چارول
طرف سے راتت مسددد ہو چائیں او رکوئی راونہ بھائی دے قو انل سے انل فی سکو بھی خدایاد آجاجاے۔
ان مین افرادکااحوال جو موت کے نار میں ٹس گگئۓ تھے اور دواند رانا ا نک قب کاگُڑھا حس وس ہہو نے گا
جب مودت اپنا بھ اک بج ڑاھو لے ال نکی طرف بڑھ ردی ضی کے ٹوا نم ہو ای ڑا - تکاسہار الیاجھ ےمموں
اورے سو ںکا ھک ٹھکانہ ہے اور کیا حمت نے ا کیل مال نہ ت ہکیاکہ کچ ا لکش انار ہی 6ے۔
لیت :
رو البخاري ومسلم پ صحیحییما مَْ با لق و تر عِن ول ال
أنه قال: رز بینما تلائة نو نفر یمن أَعَدَھُم الَمَطر و وا لی غار في حَبل.
لْحَطٗ عَلی فَم غَارِمم صَعَرَۃً مِّ الْحَلِ فانطبقت عَليْهمْ.
فقَال مْضهملیَعْض: انظرُوا أعْمَالا عَمِلْمُومَا صَالِحَة لِلهء فَادْعُوا الف تعَالی
بھَاء لَعَلَ اللل يَفرَحُھَا ھا عَنكُم .
فقال أَحَنْهُمُْ لم ! ان کان لي لان شَیْحان کہمرانء وامرأتی وی ی
صیفار 27 ھی عَلیهِمٍُ فاذا اج عَليْهم' خلَيُ کات بو اي ۔ِسَقیتهُما قبْل
نی 19 ُ نی بی ذّاتَ یو ُم الشجرء + فلمْ آت و ختی نت مت کنا کا اتا
سس زرل“ مب ہے
1 فِحَل کا 6ہ فجہ 0-00.: بالجلابی فَقَمْتُ عند رُمُوسِهمَا اکر ان
1چ
ََظهُمَا مِنْ نَوْمهمًا: ا ات و الصبیة قبلَهُما والصبية دی اپ
فی لم ذلك دابي وَداَُم تی سللع الخ فان کن تع آنی
2 اتَغاء وَحْهك فافرج لنا تھا ٗ فَرحَة نری مِنھا السّمَایَٔ ففرج روج فرح
ُا مِنھّا السّمَاءَ .
وَقال الاخو": اللهُم ! إنه کانت لی ابنة ضَ ×- و کا نو کو نو
الات ول ھا نَا قابت تی آیٹھا بیانة ویضارء تی خی جمعت
با ویارہ فَحتْهَا با فلت وَقَدْ ین ركيھَاء فَلسا: با عَبد لق اآٌی لاق ول
س رریۓے
تشم الام إلا بخقو فقے عَلھَاء فان کت تلم آنی فَعَلےٗ ذَلْك ایا
وَحْهك فَافرُج لنا مِنھّا فرّحَة فقرج لَهُمٍْ
وَقالَ الاحر: الم انی کن تحت جیا بفرق ارز فک قَضی عَمل
سے سے
۸۰
و اوہ وف ہے
قَالَ: أَعْني قد فَعَرَضّت عَليْه قرقدء فرغغب عنة فلم أرْل رر کی جمعت
من برا وَرِعَا دَمَاء فحَاءَي؛ فقَال: تق ال لا تََلسِي حَقَي: 027+" اذخَبٰ إلٰی
-- ک ران فحدْمًاء فَتَالَ: اتق ق ذذ ولا مور بي فقلت: ا لا
۱ بكء 0 ذلكُ لق ورعا: ھا 1 فذخب ؛ بے ان یک 27
لے يك ان زخبات ا آاھا و ےا کت
دا ر یث
کین میں حضرت عبرا الین خر سے ے روا ت ے وو ر صول ارد میٹ ے روابیت شرماتے سی
29 ت۳2 ٰ
بی اسر اہیل کے) تین افراد می ضف رشن مل ر سے ت کہ ا اتک ا کی بارش تے نہ ہک
اھ وکیا نے ایگ پھاڑ کے نار میں بناہ لے کی فا کے من برپھاڑکی ایک لا نگم مڑئی اور ا سکامنہ (دبانہ)
0277
اننام ےم ےے کر ای اپینے جیک اعما لکو د مھ وداعمال صاللہ جو تم کے الف ا کی
٤ (۸) - ٦١ ٔ ٔ ٰ,/, ,11 /
7 کل نا رکادمانہ بھول ورے۔
چنانجہ انا شی سے ایک ن ےکہا: اے الد ماشہ میہرے سا قح میہرے تحیف ال روالد بین تے
ویو ری ر .ھ7 ے ہے تھے مجن کے لئ میں یراس تچ اتا تھا جب شام ہپ ی
بیس دود* ددجتااوراہۓ والمد بن ے ابت| کر پر -+.2.-2 یں سے لے بلاج تھا۔
کا ا ا ای ا ام گیا اور شام گے والیس یوین نے
والد ک کو سوح ھوامایاآ میس نے صب مول رود ووہا' پگ دود ےکا 7ہ لایا اور والد یىی کے صر بجانے
ٹاہ وگیاکہ می اس با تکو پیند خی لک جا ھاکہ والد نکو نید سے پنگائ لاور. بھی بج ھک گوارانہ تا
کہ واللد بن سے بے اپینے پچ لکو پلا5ل عالا لہ ےھ وک سے ھیرے فلر موں میں بلک ر سے جے'
ین یس اسی ال بی در اور جے بھی اسی عال یں ( کوک سے پککتے رہے) “ یہا لیت ککہ تج رکاونت
گیا رر یں تن اس بپ کے رضا کے لے تھا ت2 (ا سکی بت سے ) ہمارے
واسٹے اس نما رکامن کول د ےک ؟ مان دک و
ضو ری ہے ضٔ٭سسسٰسسےتہ ہی ۸
اللہ تھا لی نے ات یکشمادگی پیر کرد یکہ دہ 1سا نکو دجن گے_ ۲ ٰ
دوسرے ن ےکھا:اے الد !می رکی ایک پپچازاد فی یں سے اتی شدید عحب تکرح تھا جچن یکہ مرد
مور فو ےک مت ہیں۔ یں نے اس سے اسے طل بکیال(اٹی خو اہ مود یکر نے کے لئ ) قوذ اس
نے اکا رگکر دیابیہال یک ککمہ می سدد ینار ا دو یل نے سود ینار مم مکمر نے میں عڑبی مشقت اقائی۔
رود ےکر اس کے پا لگیا۔ "
اض نشن ا نکی انھوں کے در میان بی کیا دہ لکن گی : اے الد کے بنرے !الد سے ڈو اور
مہرکونا شع ریقہ سے نہکھولی۔ بی یہ سک نک ہکٹرا بویا اگ یم نے آپ کے عم کے مطابقن ىہ مل
آ پگارضاکیل ھکیاتھاتذہمارے لے (ا کی مرکت سے کش دگی فرما۔ الد نے مب کشر دگی فرمادگی۔
ضر نت ےکااے اللہ ! 7 اکن مر دو رکو جن صارغ(اک مقدرار) چاول بر لا زم رکھا_
جب ال کاکام تت ہوگیا 23ھ بی ان وو جن نے ا سی مقررہ مقر ار اسے جنر ںکرد تے_
سے ا سے من صوڑ لیا (اور وہہ لۓ اور ایا ٹش 22726 ماولول کے ور زراعت
رو گمردی(اوراس مل رت ہو فی ) یہا یک ککہ یل نے اس سےگاکیں اور مولیٹی ہق عکر لئ پیر
وو میرے پا آیاادر نے لگاکہ الد سے ڈر اور ججھ بر تلم نکر مییرے من کے معاملہ جب ےکنا
جاڈددسارکیگا ہیں اور موی تم نےلو۔ وہ مکی لگا ال سے ڈر اور بھھ سے نراق عم تک می ن ےکرایس
تم سے ممراقی کی ںکردہا۔ جائ1دہ سا ٹیگاکیں اود موی لے او اس نے دوسب لے لیس اور جا گیا ۔ گر
آپ جاسنے جی کہ لرانے میکام تی ید ضاکے سے کیاہے ن2 ہمارے لے ج مھ اق ر کئی سے وہ بھی
21 رما نا یہ اللہ تتھالی نے بای رکاو کو بھی بھول وا“ :
نحر یج الحدیث:
جع انار کی کاب الو کاب ُعادیث لیا باب عدیثالغار(/۵۰۵)
کی سکم کاب ال کر والد عاعہ باب قصت اسحاب الفار ال مشلا شی ۴ر ۲۰۹۹
نت تترپالریت
حافظ زنر خسقلا نے اس واققعہ سے ملق دوایا ت کات کیاے او رکا ےکہ اس قصہ کے
وع سے متطق'اس کے مقام اور ان تین افراد سے مضتلقی ىہ با تکہ و ہکون تھے او رس قوم کے
تھے کوثی بات جا اعاد یٹ یں دانع نہیں ے_
اہنت الفاظے عد یث میں عو رکم نے سے بظاہر معلوم ہو جا ہے۔ واو اش مکہ ان تن افر ا وکا تلق
فیا اس ال سے تھا کی ھککیہ جوا نے اپنے تیگ اعما لکاواسطہ دیاال سے وا ہواکہ جو اش کا خوف
فص ص ار رۓ ۱ پئیے ۱ ۱ : ۸۳
ر کے وا لے تھے ای رس انی وم بھی اور ہی رم یہ
ڈر ن ےکا واسطہ دبااور ے حیالی کے ال ماب سے رو کی پیا دی سج کیم سب بای د لا لم تک بی
ںکیہ انس گ ری وم یں گی اور صا الب می اور گی اقوام ٹیل سے بہ صفت سب ے زیادہ
تی اصر اتل سباکی جال ی 0
من “ راس جات کےکہ یہ افرا کس توم کے تھے ؟ یا رہ واقتع کہا ٹیی آیا؟ ال بات
قصہ یس با نک دہ تیگ اعمال اورا نکی ناش رے۔
دریٹ کے الاطاورن کے تر جمہ سے قحت ری ط واج ہے اوراس می کسی یی تق جا
کی گناک نہیں ہے۔
ان نول افراوکوسفر یس ىہ واقعہ یل آیا اور اہر ےکہ ا رکامنہ بند ہو جانااس طورب کہ دوگ
ک یکرن بھی اندرنہ منج اور آسا نکی جھھلک تک رنہ آے نی طورب مو کی ایا
وو اس و رت“ اک یاتوااوراکر وہ زان جو نار کے دبانہ ب پگ ی شی نہ تی فو لا زودنا ان
کے :لئ قب ربمن جاتا۔ ٰ
ہے بھی اور ےکی کے اس عا یم یل انیس ای ذات ال یکاسہاراہواجھ ہر مصیعبت اور بر بای سے
اما نکو خیات د جئۓ والا سے یہ وووفت ہو تا ےکم جب انسا نکی نظ رسس اسباب دوسا نل سے ہٹ
کر صرف اور صصرف خالن اساب پ ن مکور ہو جالی ہیں اور تقد کاچ رای لو ری قونت کے سا تجھ انسان
ےن را اہو ہے۔ جم شاو ران رب رھ رد سک رج ا و تاہہ ہی متیقتہ اہ
س0 ا ماش ری کک ذات پر لین اور انل سے رجوم می وکا بک اضاثہ
9٭و۳8۳3ءك2,ھ, 0220 تھ نمائس نیس انسائی فطرت اور جبلت می ے۔
ان تیوں افراو نے بھی ہیں میس می مور ہیاک ہکیاکیاجائے۔ تمہ ہواکنہ جر یک اٹ مکی
ای عم لکاواسطہ د ےکر اللہ سے دعاکرے جس کے بارے میں اسے لین ہ ھک ا نے وو مکل
ٰ ال الب کی رضاکے ل ےکیاتھا۔
لے زراایک نظراکے اثال ۰1 ڈا لج ورا پر ور ا رط
کی نت برداش تکرر | سے لیکن شا مکوج بگھ اح سے ذ جھوک سے یگت ول کے گمٹرول پر اپیے مال
با بپکوتز نید یتاے اور انیس پیل سیر ا بک ما سے پچھر پچ کو پلاجاے اور مرج یکو اور اکر والد بن
سے تا نیس پلا ۓ اخ راپنے پچو لکوسیر ا بک نااس کے مزدریک والد بین کے تقوذقی کے مناٹی سے اور
انیس جانا بھی ان کے جم مس برا سجھتتاہے۔ پچ ںکورات گج مادنا سے مککن پیل ماس با پکو لا
سے پھر پچ لکو۔ د میا یکو سی طاقت تی جو اسے پچ کو پلانے سے روک دی تھی ؟ مین والد بی نکی
شھحصص ایر یٹ تتحححتتت-
عخقمت پچ کی بھ وک سے زیادہ تی اہر ہے ا کیل کے اخلاعصس می کیاکی تی ؟ اد بیہاں خول ۱
+ ااورا گار یت سے ظا رکادبانہذراسا 22 الہ رو ۲ 1 کرلناور آسا نکی جتحلک دکھایادے جائۓ_
دوسرے مخ کود یت ےک گناہ کے ادجاب کے لئے دن رات مشقت برداش تکرچاے اور
تباں وہ سےگناہکااختیار متاے نو کاایک می لہا اکنا سے روگ دیتاے اور ال دکایاکرہ
ناماس کے د لکی خو ای برا لب کجااے۔ ٰ ْ ٌ
ال !ایمالنادانے بنرے الےے بی ہہ" تے مہ ںیک
اذا ڈكر الله وجلّت قُلوبُھُم (الأنفال)
جب النا کے سامے الم ہکا کر کیاجائے ةذان کے لاس کے خوف سے بعک جائیں۔
وہ صاحبپ ابیمان تھا صاح کر دار تھا وہ اڈ کا بنلدہ خھاجب بی الف کا توف ا ےےمناہ سے روک قادر
یی نف کا ہندرونہ خھما ٹوک ول نہ اس کے اس لیم مع لکوبارگاوالہی مین مرائی تعیب ہو لی۔ وہ
جب ا عم لکاواسیلہ دؾتاہے فو ار کے منہ پر کی دہ لن یھ زی دکسک جائی ے اورز ندرگ یکی اس ْ
اور امیر پڑھار بے ٰ ٰ ٰ و
تیسرے تن لکودیکین ےک ہکیاصاحصہیکرداراو بن ون کاحاٹل تھاکہ دو کی اجر ت دبانے کے
بجاۓ جن بکہ وواز خود جچھو ڑگ ما تھا زی رکارویار ٹل لگا دی ا سکی خی تکی برک تکہ اس مال سے
خوب تار ت ہو لی 'زراعت ہو ڈاور مال صو بی خوب جم ہوئے ان سب کے لئ ا |١ 21 محنت
ٰ کین جب صاصبہ تق نے اپنا تی مانگاف دو سب بھھ جوا نت کے مل وت پش کیا اسب ہبہ
اس کے حوال ہگ دیا۔ ٴ
یواح ش لا سے دنیا ایپ ےئسی بلن دک داد انسا نکی آر عکوئی شال پٹ یک رق
سے ؟ دوصر وںکاخون وک راہۓ ہی محلات کھڑےکر نے والولں مل اش محاشر مہ کسلئ
وواقصتا ہے الیک نادر مثال ہے ہارگاوالی مس ینغ احمال قبول سے جانے ہی کے تائل ج ےکر
ا کیا مت سے نالن ہ ٹگنی اور ز ہ دک یکیادر داز مکھل ایا۔والله علۂ مکل شوءِ قصەیر۔
ے م
چنر رت ونصار
یہ باراواققدہ بے شار اہم وا تاور نصا رع کیے ور کیا جائے 2اس کے ایک ایک جز ویش
الو اان کے لے عبرت وصیحت کے نہ جانے کے پہل و شید ہیں تفعی لکی و عوکیش نہیں
اتا رآچنداہم ٹوا دکو فک کر نے پر التقا مکیاجااے۔
الہ اما تر اور صنات کے دٹیاٹس بھی مو نر ہونے اورانسا نکی ز بر گی پاٹرانداز ہونے پر واتد
ضس ا ریغ تے ۱ ۓ ۱
ری رح لال 8 کے اک اک سے یت چا ےکہ تک اما ل 6ال اب 7
رت دی می بل ےگالیکن دناکی ز ری میس بھی ال توالیٰا نکی ب رکا تکاملی ہنگھوں مشاہ مکرواتے -
یں تن ےنت بی و تن دانسا نکیاز گی ہے برک داے
مت “ آخرت سے غفلت “دای پر نالی' ولرت اور تھوست راک ی ے ج بکہ 0
کا موں مس برکرت خر کی لطعت میں سکون شی ہے''انسانوں کے در مین عززت اود اترام
ار رر سا یں میں ایم ید
ایک داع دییلٌے۔
٣ت دوس رااہم ذا مدوعد جیٹ سے ہہ حاصمل ہواکہ اق رب الع من سے اہپے تیگ اما لکاد سیل در
انا جاتزاوردرست ے' گے ”کہ نیک اناو ںکا بھی دسیلہد بناجانتڑے۔
مرکوردواقعہ یل توں افراد نے اللہ تعالیٰ سے اۓے یک اعما لکاواسطہ اور وسیلہ دججر دعا کی
ہوارے نیک اور الم اعمال کے ذد لہ ال معیب تکوہم سے دور فریا۔
بہت سے لوگ وسیلہ کے منگر ہی ںکہ وسیلہ ینا چائز نویں۔ یہ حد بیث داع ور سال نک وگوں کے
او بہت ے۔
7 تق یی اور اد رکا خوف و خثیت 'دواڑسی چ زس ہی سکہ مہ انمال کو ہر جلاء درب سے حیات دق
یں .ینیج خنص تی قق کی بر لکر ےکہ عحض ار کے خوف سےمناہ کے اسیاب ہیا ہو نے
کے باوجوداو رگنا ہکا ماحول ہو نے کے پاوچود او گناو می دنی کی سزاد چکڑکا خوف نہ ہو نے کے باوجود
گناو تہکرے اور الف کا خوف اس بر الب جاۓ جاک ہس دوسرے من کے سا تھ ہو اکہ حش
اٹ کے خوف سے برکاد یکاارادو ر کک دیااور دہ بی یکن اس وشت جب خو ا ہش کامنہ زو رگھوڑاے
گا ہون کو تما اور ا کی بے لگائی کے ل ےکوکی ماع اور رکاوٹ ٹیس تھی اش نے اس تک کی
مرکتں لعییب فرمالی الہ راس کھول دا اور نف یی کم می ارہ سے۔ر اد بار یتما یٰے:
ومن یتّق اللّة يَحِعَل لَه' مُخُرجاً۔(الطلاق۲۸)
اور ج کو گی اش سے ڈرے موواس کے لئ راو مک ےکی ہناد جتا ے۔
ز کے عحد یث سے ثابہت ہل تا ےکلہ بر بای تکرب وبلاء اور محیثبت کے وقت انسالنکوانشد سے ر جو
کنا ام اپ گنا ہو ںکی معائی اور استتغفا رک ی کشر تکرکی سای اور معمیبت می الک ھکویا دک نا اور
کے رجو کر ھی انسان کے لئ اس مصیدس کو نت بناد تاے_ ور نہ مین او قات۔ الد با '
انسالن بر بڑیی بڑی محیبت آئی سے اس کے ہباوجود دہاش کی طرف راخب کیل ہت اس 7 فْ
روخ اس کر یسل ا لئ کس راوخ ا زوا تا )مہ اورالنع کے ول
*× ۸۳۴
۸۵
تی ور
زنک آلود ہو گے ہں:
ختم الله علیٰ قُلوبھم (الیقرہ/۷)
ال نےان کے دولوں بر ری ٤ے" ٰ
۵- واللد ین کے سا تھ صن سلو کک یکوٹی انا نہیں اوران کے ساتھ تنگ یکر ان کے سا تح نین
لوک سے بی آنااللھ کے بیہلںڑئی فکردد تی تکاحائل شل ہے۔ والدی نکاجھ میم جن اور ا نکی
لمت وا تام الند نے ر رکھا سے وواسلامم کے سواد نا 229 2 ہیں یں ے۔ اور والر : نت
کات تع سلو کک “بین نیہ الد تا لی دنیا یش بھی دکھاتے ہیں۔ برالوالمد ین (واللد من سے
پت بین پر )اسم رای مستعل کے اور وجب حدیٹ خ کیا انس نکیل جنت می جان کا کل
نار اس دردے۔
آۓ اللہ نا یکا توف اور خقیت ان تیم عبادات یل سے سے ج گنا ہوں سے روک کاڈر لجہ اور
معائی سے ابقنا بکاراستہ ہے۔ مس دل میں تق کی اور خوف دا ہو اس کے ل گنا نیسای ماجول
کیو انہ ہوا رگناو کسی دنیدئی یدگ خرف بھی نہ ہوس بھی اس سے1 گناہ سے بنا بت
آ سان دے۔ یی تقویی اور خشیت لیے جو عین کیل شودت کے موق کے بز رھ
جچے۔اودمی شف فداہے جو عرب کے مکش اد خر یب تر وا ےکا زان ے ” فأین اللَه؟“(ٍ
ال کہا یگیا؟ وہ نود یھ راے )کھکوار اے اوری 9 -4. “,0
ا رن ایکون کک ترک یئ ات ےل تی ہے اور فاروئی امن کی
مو منانہ فراصت سے الد کے عم کے مطا لقع رخالی گا الا ئیٰے۔ ٰ
ے۔ عدیت سے ایک ابعم بات ہہ معلوم ہو ٹ یک ہگمناہکاار اد دکمر نے وال گنا ہار کیل ہو تاجنب م کک
ا اراد ہبہ عل: نکر نے اور کہ خوائ گناو مگزاہ نہیں گنا وکی خوابہشل سر عم لک انا سے جیںالہ
وف جو زا کے ارادود ےگا اور ین زا کے وقت خوف ال سے رک گی تذ ا کا نل اص فا
ہ ےکہ الد کے خوف سے ای مکل وقت میں ترک گناہ ہآمادہہوگیا۔
۸ حزیث ے تقو التمادگی امیت اور ا نکی “بین ریہ ے اوا - 2
ہا مقرب ہونا تھی خابت ہو جا ہے۔ جراکہ تاج (وہ تنس جس نے مدو رکواجرت برککام کے
لئ رکھا تھا )نے نہ صرف عردور کے اصمل تج کو فو ظا رکھابللہ ال لیکو مر دکارویار وزراعت ٹل
زگادیا کہ ا لی ابقرت مزب بڑھ جا ۓ عال اکلہ الیہاکر نا اس کے لے شر عضرودرکی ٹیس جوا اور پچھر
ا لکیاصل مرددریاوراجرت ےک یگتاہزیادہ ال اس نے مردو رکودیانوبہ اس کے بہترمن سوک
گی د بل ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ییہاں ال کا ىہ مل اتا مقبول ہو اکہ ایک ن مم نکیا اس عم لکی ہ رکرت
س ار برغ میس ےس ۹ے سے سے سے ے ےےے ے ے ےے سے مت
سے من ہ گیا لابا انا نکودوسرےانسانوں کے تقو کی ادا گ یکا میشہ اتا مکرن این اورا نیس
ضا قکرنے سے جن الا مکا نگرب کنا ام کہ بندوی کے جو مو کی معانی میں ہوگی جب کک
صاحب تن محاف :ہک دے با ا لکا تق ادان کر دیاجائے-_
وی کی حد بیث سے می بات جیا خاہت ولا ےک ہکاروہار ارت او اعت وروی اگردباقت
دا رک یکوانایاجاۓ و ای تھا ی اس ٹل برکمت عطافرماتے ہیں_
اک بن یی عو کے ای غر ور اس الگ
بیت می ںکوگی فور ٹیس تھابلہ ا کی حبیت بہت عحدداور انی نشی اس نے تھوڑ یی اجر تکو جب
ام می استعا لکیا فو اللہ تال نے اس مل مال میس اتی بت عطا ف مال یکہ خہایت تھوڑے عرصہ
وفیسل الہ صاحب 1 کوئیقین می ںآ سب مت یور یوار اکا مہ ے۔
۔ تقرو فاقہ اور افلانس انما نکو جن او تقات ای عزت و حصحت کک روخ تکرنے ےر آمادہ
ترچے سو ور۶٣ شسم فروشی ججی اخ یع لک ککرنے پر مجبور ہو جا اے۔
ال وی سے نقروفاقہ اور افاس و ختائی سے پنداگنی جاۓ وراس افلاسس سے بی کے حنت
گر کے رز عطال کے تعسو لکی بھی جدوچجد مکی جا مے۔
جو رگید نیا جہاں چہاں سم فرو گی ہورہی ہے ال کی یلگ دجہ خر بہت دافلاس ہے اور
ور لڑکیاں چند رووں اور گوں کے وت ابنا آب فروض تکرلی ہیں۔ یہ در تفحیقت معاثر یعدم
مز ار ےب
اسلا مکافظام مالیات و نظام معاش رت جو نظام یں عطا اکر تا ے اس سے متاشر ہیں عد م نازن
بیدا ٹیں ہوج اور اس طر کی فوبت بی نی آ یک کوک باحیا مانون ابی عصمت یجے پر ور
ہو جاۓ “مسلمانوں کے مالمدار اہی خر با کی عاججت روا یکرت ر ہیں گے زکوا قد قات' خطیات _
کے ذریعہ تق معاشرومیش عدم فواززن پیدا یل ہوگااور نی اسلام کے نظامح حیات و نظام مع یش تکی
دی جو ٰٛاے۔
تال عشرڈ کاحلۃ
ے ۸
ٹمس ار رۓ
یواں تص ۵(۷ ۲پ
رتت نی بہان می جو ید
ی4ب
یر
ال تما یج بی کونوازنا جات ہیں تو تس او تا کسی ممول عل پر بھی رحمت و مخفرت فرمادتے ہیں۔
اس کاکرم 10 بھی ہو سکما ہے۔ ایک ایم شف سکاواقہ جو مر سے جچیر کگنا ول میس ڈو ہوا تھا نان رحمت ٰ
نکی د شی رک سے ا سک عفایت دک ماش ہوکیا۔
لی ار بیث : ٰ ۱ 7
٠ : َ ظ حص مے۱۱۔ صس ٠ج .“ھ ث ار ہ۔ہح ت لا ۴
٤ں ة٤ و۔ ےھ ٠7ھ ه ہ۔ے“م ری" ۴ یھ ہے ے۔ ىبً و 7 لم
لو لم اَسْمَعْه إِلا مَرَة أو مَرین, ختی عَدٗ سَبْعٌ مَرات وَلکئی سَمعْتهُ اکثر بِنْ
کے ور و :- ٌ 7 گے خر کت 7 ٠ ۔ مج
ذلِكَ سمعت رسول اللہ : (یقول کان الكِنل من بی إسرائیل لا یتورغ من
ذنب عَعِلهَ فاتتهُ امْرَأةَ فأعطامًا سِتینَ دِینارًا عَلی ان يَطمَاء فلمًا قَعَذ مِنھا مَقعَد
لرحُل من امْرأنه أَرعَدّتٗ وَبکتۓ فَقَالَ: مَا بُیْکیلۓ؟ اَأَكرَمكۓ؟ قالت: ل۷ ولک
عَمل مااعیا فط وما عتا غل ال الَحَاحَة
فقال: تَفعَلنَ انت مَذا وَمَا نَعليوِء اذْخبی ھی لَكٍ. وَقَالَ: لا واللق لا
رھےے۔ کہ سض ١ ْ
امب اللغ بَمْتمًا انڈاء مات مِنْ لیو فَاَصِحٌ مَکُومًا عَلی باہو اق قد غفر
للكِنلِ ).
مدائر مث :۔
خخرت عبدالش بن عمرفرماتے ہی ںکہ بس نے نی اکر مل ھکوستاکہ عد یٹ میان فرماتے خے '
ادر اکر یل نے ایک مرحیہ یادد یا کن ما جا یغاچ یامات مرح ال لک وپ سے تد تا ہو ما(
صد بہٹ انان ہک ت )من شی نے اکس سے مجگازیادودفعہ یہ عد یٹ کیا ہے۔(اس لئ اس کے پا پیل
یا ہن ےکی ہشام یر ىہ عد میٹ با نکر باہول)۔
نے رسول الشد پل سے سنافرماتے ےک :
2-20 تک 22 اناد ک ےکر نے سے اجاب نک جا تھا ٴااس کے
پا کوک عورت آکی( اہ نک یکام سے ) تاس نے اس عو رت کو سا خھدد ینارد کے اور اسے اس بات مر
رائصی کر لا دہ اس سے بدکار ٹ کر ےگا۔ چنا یہ جب وو اس حددت سے برکارم یکر نے ئ2 لے
۸۸
بای مھا نذوہکائین اور رون گی اس ن ےکہاک ہکیوں روٹی سے ؟ کیا ٹیس تج ےکو
ا لپن دک جا ہوں؟ وہ کن ےکی نہیں( بات نیش لیکن مہ ایک اییاکامے جو می ن ےمبھی نمی ںکیااور
میرک گی نے مھ اس پر جو رک دیلادر نچ رگزی کا کر )
کان ےکہاکہ :ایک طرف تی .تی ے اور دوس بی طرف ووج کر چھی ے(لتنی سے نے بھی
ہے جا نی جادہ پیک بجی تیرے ہی ہیں۔او رسکی ےگا: فیس اد ہکی ما اج کے بعد س ا دک بھی بھی
اف رای کی لک ول گا۔اسی رات ا لکااقال ہوگیا۔ جب تس ہو کی فواس کے در وازوم رکا ہو اتھا:
ٰ : ”بے شک ال توالی نے کن لکی مفف رت فرمادبی ے “۔
۰.0-
م7 7 : ۱
ات جہ 'الترم کی نی سنفہ قال: براحدہسع۔ ۳ ۱ے
تر ار یش
تیر اتل کا ہشن ج س کان مکفل تھا خہایت ناس وفا جاور ب دکردار شس تھا اڈ کی مرمات
کو توڑ نے وال ٠ شمتائر ا کی نے حم یکر نے والا اور عمزت وآ بر وکووٹۓ والا تھا ماللد ار تھا اکٹ لوگ
اس سے اتی حاجت لور یی مر نے کے لئ یی لیت ے ان یس خ وا می نک یکرت بھی خوا می نکواس
شرط سر بی دبا تھاکہ الن کی عمزت پر عملہ اور ا نکی صصصت در یکرے ' حریت وافلال ..
این اس یر وو اکر نے بے ور ہو جال ی دی ۱
ای بی اک عورت نے اس سے اتی ضرورت کے لئے جج نے طلب کے فو اس نے صب
ٰ ول ونیخ رر اور اس شر ط راے 70“ص“-“ 7 ۰
کیبل ش ماک دنت آیااور دہ بدکار بی کے لئ اس عورت کے اس جیما دواد کے خوف اور یت
سےکائین اور رز ن گی 'اس گر مہ طادکی ہ وگیا۔ دحل می رالن ہواکہ درو کیو ے؟ اس نے و ھا
وک ےگ یک
ین ےک بھی تی ںکیا اور آرج بھی صرف ضرورت اور حاججت من کیاکی وجہ سے ال کپ
بب 4 )0 ٰ
رت گی مہ جات ااس کے دگل ۷ اثراندازہ گئی۔ انس نے ۰ 5 0082۰ تی ےاور
دوس ری طر وع رصم جا۔دہ یی گی ترے ہو ئے اس کے بعد سے لگا:
: ہیں ائلندکی 2 یس 1 سوہ بھی ال کی نا فررالی ا 7ئ
اب ال تال یکیارحمت د مت اج شی ا٣ نے نوم کی الد نے فور اس مموت دے دی مکی کہ گی
تمس ار یثش
وہہ کے لد بند مکنا ہل ےا اک صاف ہ جاماے' اورایا ۶ جاحڑدے یی ا نے ےب یناو دکراہو۔
اللہ تھالی ے1 ۱ روا لیکوگنا کے احول سے فوخ ریے کے لے ای راہ ت ا لک مو ت دے دی_
ضۓ کوا 0 لو کیا4 -- طور سر لھا ہوا تھا:
اش شب اللہ تاٹین ےک لکی مخفرت فرادی“۔
ال ار مت شل پہ ہو جائے وٹ یکم ہو تہ ےک ہکوئی لی چوڑی محنت سے پفی مخفر تکاپ وا
عطا ہو جا جاے_ وہ خغفور ال ریم سے اسے تک یکا عبادا تکی نائئان اعما ل کی 'ووااففل جس پر
عاے 22 و اے روک کیل سا ووصع اور بے نیازہے۔ جے چا ہے نوازرے۔
زان مین لاس وہ س ما
۸۹
نر رت ولصاب
ا۔ اہ تھا یکا شان ص یت ال عد یٹ ے طاہہر ےکلہ دوالییاے نان ےک کوٹ اس سے
یں سار مفذضرت و مدایت ال کے با تج ہس ہے جب جاے کے جاے ہدامت ۓ آاڑڑے'
شش سکی اے خی ہل کے مغخفرت فرمارے یہ ا کی کہ نواز یا ےکہ دل کے اخلائص ے گیا جانے
وا لو ہکو قبولیتکادہمقام عطاف مات ۓےکہ سباد بگحتےد و جاٌیں۔ ٰ
۲ اسان بج کی کے نظاہری عا لکو دس کر جس کے متتقبل کے متا قکوئی رام نہیں جوئم
کرک چاپے اسل کہ بڑے سے بوافاج و ذا سی بھ کسی بھی وقت رممتب ع نکی آخوش میں جاسلکناے_
اور بڑے سے بڑاعاید وزاب ھصسی پیا لحہ بارگاو تن سے ران 'درگاہ ہو سلکماے۔
وہ ماے قشم با عو رکو تام تر عبادات کے باوجود محروم د شف یکردے اور جا ے فضیل بن
ما یس بے ڈوو ا طرف بالے در مت مور مادے۔ حد یٹ ما
رووا بھی اک دا مال ے۔
کیج ظا سے میک شش کراپ ارد لے اک ے نل گی اگ چا کہ یا ری
نیہ انسال نک بڑے سے بڑے ا لمند ید ہل بر بھی مو کرد کے
۴ حدیت بیالنک/رنے یں حرات حابکرا مک طایت در چہ اض کاندازہ بی اس عدىیث سے ٰ
و ور بی ہورہا ےکہ این ۶ر رات ہی ںکہاگکرسے حد یر سول اللہ عک سے ایک دواد سک ہو لیا
یکن جار مرح ہ کیا ا ماما جھ مات دفہ کی ہو ٹیو مم سے بیالنان کی تاکمہ اس یل اس با تکااشال
تھاکہ ی کوک خلطابات آ پکی طرف مضنسو بک دولا۔یا جھ سے عد جیت ال نکر نے می ناواضتی میس
جھول ہو جائۓ۔ جو بڑا گناہ سے لق ااس کو جھ بیال نکر دہ ہو نو سمات سے زیادہباد ٹل نے آپ
ضس ایر ےۓ
سے بعد مث کا سے تب جا کراے اورےاعتاداور لقن کے سا تح با نکر ہاہوں۔
لاشہ حدی شور سو کات بی ےک ج بک نشی طور بر معلوم نہ ہواسے مضور علیہاسلا مکی
مرف مفسو بک نا بے ا یا یک بات ے۔
۹
ضز ال رر
شف
ول بھی یکم ال یکابابند
پیر
بی سمالد یکا خحیات اور اس کے اندر موجود ما کا ایشیا عم ای کے جائع ہیں سور ح “حا ند ستارے سار ات
لیک سب اس کے ا تگردششل کر رے سد نیاۓ رک دب ھکوس را کر نے اور خی ککھییتوں اوم ز١
دشخاداب لہا ہاتےگستانوں یل تبد بی کر نے والے باول بھی ا کے عم کے خلاف انی مر ضی سے کہیں میں
بر عتے۔ جب :ند اپنے مال کفکا بن جا سے نے مالک ابٹ یکا تا تک اشیاءکو اس کے مصاں کے ثعحت اتال
رت ہیں جن سکام یس ینلدہ کے لئے ری کی س ےکا مات کے نظ مکو بھی اس کے ماش چلایاجا نے ز ے
نظرواتمہ ایک اے تش سککا سے جوا کاب کیا اود ا سکاب گیا
لس ار یغ:
روی مسلم نی صحیحه عن أَبي ھریْرہ النبيٰ َال فَالَ: یسا رَخُلَ بفلا
بِنَ الأُر٘ضء فسَمِعٌ صوتا فی سحابَة: اسق 2ئ فلانء فتتحّی ذَلِك لاحات
اع حا فی خر کا شرة بن بلك الشراج قد تح ذيكع الما کہ
فتتبع 7 المَاء فإدا رحل قَايْم 7- حدیقتہ حول المَاءَ بیِسحَايه نات تا عبد
از مَا اسْمّك؟ فَالَ: فلاث لِلاسُم الَذِي سَيمٌ فِي السّحَابَو
فقالَ لهُ :یا عَبَْ ال لِم تَسأليي عَنِ اسمي بی؟ فقسال: : إنی سَوِطٗ صَوْنَا فی
السّحَابِ الٰذِي ھذا مَاوٌهُ یَقَول: اسْقٍ حَدِيقَة فُلان لاسْيِك فمَا َصْنمُ فِهَا؟
قال: : گا اذ قلت مَذاء قَإي انظر إِلی تا يَْرُجْ بنهَاء فانصا يہ رَآكَلْ
آنا وَعِیالی ثُثاء ورڈ فِیھا مُلئْہُ.
تزضرہۃالیر بث ٠
: کحجی سلم شرف یش حفرت الد رمیڑسے ردایت ہے ددرسول اہ سے روا تک تھ ہیں
21 و
”ایک شنح صککی بیابالن اور و مرالناز لن مٹش کہ اسی دورالنااس نے ایک باول میں آ آواز یا:
لال کے پا غحکو سر اب ان ورمپارل(دوم ے ہادأو لے ہٹ کر ایک طرف پ کو چلا٣ گیا اد ریا نی ایک
نس ار ریغ ۲۴
پھر کز ین برسادیا۔دہسار ای دہال نی نالوں میں تح ہو گیل( اور ایک جاب کو پت اگیا)وہ 32
(زجس نے ہواز سی تی ) بای کے یج تھے چلا(کہ دیکھے آخ رکیاماجراسے 1)۴ گے مت لک اس نے
د یاکہ ای کآ دی ای پا ٹس کناتیئے سےا لکوباغ کی طرف پچجرراے۔
ا شف نے اس ماخ وائے سے ھا اے الد کے بندرے !تی راکیا نام سے؟ ا ںآ دی نے دی نام
ایاج ال ئے بل کی مل سنا تھا- ۱
اب اس بارادالے نے ٹپ ماک اے ائلھ کے بندے !تو نے میب رانا مس لے کیو ھا ہے ؟ اس نے .
کہاکہ :یس نے اس بدکی یش جن سکامہپالٰی آد سے تھی آوانز یع یی نے وانے نے ہار انام لے
کہا تھاکہ فلا آدبی کے با کو سیر ا بکردے۔ سے آخ تم اس باغ مم لکیار تے ہو ؟( جو اس
مفرب ہو الد کے یہاں)۔
اکیان ےکماکہ جب م نے بات ت گی سے تو بے بتانا بی ڑکا یش الس با کی پی ادا رکود اہو ں'
الس یکل پیداواررجش سے اک تمائی صد کر دتاہوں' کیک تتبائی بیس اور میہرے ابل و عیا لکھالی لیت
ہیں اور ایک تھای دو ہار دای اخ یں استعا لکر اہو ں“ 5
ک7 ار یث :۔
کچ مسلم کاب الزحد والر تاکن مر باب الصزق: عی الاکن ۱۳ا
بش مر الد ہش
رسو لکر بم پچ نے اس عد یت می الد تعا یکی می قونتوں کے ذر لہ اہ ثرمال برداربترول
گ کیپ طزرتۓ دا دک ن کا ایک رت الکن داقعہ بیالن فرمایا ےکہ جب بندہ ان کی ر ضاجو لی
کی ےکا مک جاے نوکس ط راد کی ٢بی بددوضصرت اکے سا تحد ہوٹی ہے۔ ٰ
اش داقع ہ کال “باب ہہ ےکلہ ایک 2 اک بیابالنااور سحر ای تھا اعانک اس نے ایک آواز
کیک ہکوکی سے وا اکہہ رہاتھاکہ: :فلا ل آدٹی کے ار عکوس را ے ےر ۲ء یئ
کین والا سان نڑیں تھا البذ اس فو سکوتیرت ہو یکم کیا تیب بات ہے۔
ی-صفوم وط سے
ایک پھر بی سیاہ پچھروں دای زین میں اپناپالی بد سانے از شین پچ یی مع فو اس نے پای جذب
کی لکیابلکہ دوسا رایالی دہال ی نلف:الوں میس یح ہ وگمیااور ایک جاب کو ہے لگا
یش پا کے چچچ یچچ چار کہ د ھک برکیااتر ا ؟ مت لت دہایک با شس جم گیا۔
اس نے د اہ وہای اک با شش جار ہاے اور وہال ایک آد یکنا تج سے اس با یکو با کے اندر
الررۓ -7ت91-. ۱ ہے
لف جاہوں پر رر اے۔ ووزھن ضہری تھی نہیں' رش کے نی ہی ا کی یدارک دار تا
لپن اللہ تھالی نے ہاو لومحم داکہ ال ںآ دی کے با خکوسیرا ار
یہاں اک جیب کھکتہ بے ےکہ بادل ایک پچھر بی زشلن پہ بر سا ھالاککنہ دہ براو راست اس بارن جہ
بھی جرس سکنا لیکن ایا نیس ہوا بظاہر ا سکی وجہ می تشھی۔ واو اعم کہ گن او تجات بر اور ات
ا ا را و و ا پراوا رکو فصان پا ہے۔ اور وہال پا یکو جڑوں
لیوں کے ذر بی یچین ےکی ضرورت ہو لے
قررت نے ال کا ظظام لو فرااہ پچ ربا من پا ہر کہ زن پل جب کر لے
کیو اکر تی زمین ہو نی تسار یا دی نے اندر جز بک ری 'اور پھر وہای ملف نالیوں کے ذر لج
شس کے با تک پہچچاورائ نے اق شردرت کے مطابق اسے با ادا ىہ تفص جس
نے آواز کی تھی بڑاتیران تھا امہ ےکیاماتر اہے؟ آخ اس سے رپانہ گیااور ان با دالے سے و مچھا
کہ تہارانام وو ا سا گی آوانز یں سنا تھا۔ ماح دالے نے
و اہ آخ مم می رانا مکیول دریافت کرد ہے و ؟ اس نے سا رکا بات خلالی اورایں سے لو جاک تم
- او سا نام کاماور تیگ عص لکرتے ہو ج سی بدولت الد کے ات مقرب بن می کہ باد لیکو الہ
تائی تہارانام یکر تمہارے ا حکوسر ۱ کر ن کا عم فمارے ہیں؟
کین ےکہاکہ بعائی اب نے و بچھاے فو بتانابی پڑریا بات ہہ ےکم می اٹ یکل پیراوار کے
مین جی کر رتاہوں: - -
اک صہ فنقرا و مساکین اور ضرورت مندول ٹل خر کردا ول دو احصہ ای ایل و
عیال بر تی کم جابہول اور یم اص دوبار ہت باڑ ق یں (گاد اہول“
الد تی نے اس کے اس مل کی برک ت سے ا سکیل ٹبی مد دکاا ظا فر مایا کی ھککہ شب وروز
کی خون پین اب ککر کے حاصصل ہو نے وال یما یکا ایک بذاحصت نقرا و ماکان یں خر کرد ینا بہت
جو صل اور بت گیاہاتدے۔
جنر رت ولصاب0
027 نزاورنظامکا تا تکاہرحصت انڈر کے عم کاپابند ہے۔ باو لکو بس تہ جد سن ےکا حم
وو ہو کور رو سک ایک بادل کی مہ بر نظ رجا اکی
سے لم ریز ہو جا سے جس س ایال ہو تا ےکہ مہاب بر ےگا لن دہ بر سے اق گر جانا ہ ےکہ اس کے
عو کر ےون ا کپ تو نطاب بات ے۔ ٰ
- تال پے تلم نوک بنرں ور ما کی شروات لوق سکیا تام
۹"۳٣خ
مس ار رۓغ .تجہٍ.ے.٠.ت ہے ہے ۹۶
نے یں راس حدررث سے داحتا ملوم ہو جات ے۔ ال تال تک نول کے ای ح کہ
الع نیش فرماتے اوران کے اعما یی صا ہک برکت د نال ببھی اہر فرماتے ہیں اور اس کے خمرات
ا ہیں عطافر مات ہیں ٰ
5 صد کر ایت اففل عمل ہے۔ ایال جس کے تہ میں اللہ تال کی ر حم تکائزول ہو٣
ےا تتفن سک بھی صد کی برککت سے نقت حاصل ہو یکہ ال کانام ث ےکرالطہ تا یی طرف
ہے پاد لکو عم دیاگ کہ الس کے با غکوسیرا دا ۱
7ے ہر محابلہ یں تازن اور اعترال اویل ہکو محیوب ہے۔ ہر من دا ہکوال کا عق د نال کے نز ویک
ہت پپندیدہ ہے۔ اشن نے اپے مال می جو موازن ظام قا کیا ال٣ دکودہ بت پہند کہ ہر
صاحب جف کو ا کا عی دیا۔ ج گمردالوں اور اٹل و عیا لکا تن تھا ا نیش دیا مہ شی سک مر صد تر
موب ہے قذ اس می ائل وعیالی کے ع کو ضائ کر دیاجائے اس کے ہرس سب بھ ایل و عیال پ>
کی خر جک دا جاۓ اش گیا راہ ٹیش اس کے خر قیراور اع بندو لکی حاجات سے صرف نظ
کرلاجاے۔ای طحق در ماش کات ھااسے دی اہ ا ار زگ ار ہے اود دای ط رح
۱ اپنے اٹل و عیال اور فقرا روم اکی نک یکغال تک جارے۔
ختاع بے سے زیادہ ختاجو کی خدمت کے تال بطنزیادہ حیوب عمل اور خلکند یکاراسرے۔
الخ
تا تیسوالواقم چڑے ٢پ
۵
دہ پنار ٥ خر اکا روب سے جو و
ژإ(چث
مر
تس یر پر خلو مس اورے خمرض عبت 020 .09
ے ٥اس سے محبت در تقیاقت خالی سے معحب تکی علامت ے * ٹی زمانہکی جزہے بر خلوم لاب ناپیہ ہو جکا ے
خر دو تاور مطل بکی عبت فو رم ق رم بر نظ ر1 آکی سے لیکن خخرضسکی گرصب 27ھ
سب محبت کے دمموے بے تحیقت ہو جاتے ہس ۔ مو مکی شزان ” تب الف وافض ار اللہ کے لئے معحبت اور
ال گے ار تھا ہوک ہے۔ ہے ھی ایک فر کا ج جھ بے خر ضس محب تکا تا لو " ٰ
ار 7
آ وی مسلم لق صحیحہ عَْإي َء َن ابی لے : رات رَخُلا زار آھ ِ
في قریڈ اخری فََرْصَد للخ لهُ عَلی مدرجته مُلکا فَلَمًا أ تی عليه قال: أَینَ تَریڈ؟
قَالَ: :ريد اُسَا لی في ھَذو الْقرق َالَ: هَلْ لَك عَلَيہ ہر ئن تٹو؟ کان :لا
غْر أني أَحِته فی لن ۶ن قَالٌ: إِني رَسُولُ الله إِليْكَ بث الق قد اك کم
اح
ترما یر بث :۔ ٰ
رت ابد پ رر می اکم مکل سے روابیت فمرماتے ہی ںک ہآ اپ نے ار شاف میا:
”ایک فنص اپ ل(مسلمالنا) با کی زیارت اور ال ے ما ققات کے لئے لا وددوصر کی بی
یس تھا ال تھالی نے ال کے راستہ می ایک فرش ہکوا یکا ختظر ہک وٹھاداہ جب وو اس کک با
رشن نے (جذانسای شحل میس تھا اس سے پہ کس ماک ہار جان ےکاارادہ سے ؟ اس ن ےکہاکمہ :اس میتی
جس مب را چھالی سے اس سے لیے جانےکاارادوے۔ فرشہ ن کہا ”کی تمہارااسل ب کوٹی تح س ےک
نجار ےرا کنا گاکہ نی !ل(جان ےکا سیب سوائۓ اس کے ) پکٹھ نی ںکہ میس
اکس سے الد ع تو بل کے لئ عحم تکراہہوں رشن کالہ لا شبہ مل تھہارے لئ الیگ رکا فرسادہ
مول(اوری پیغام دینے کے لے بھیاگیا ہو کہ )بلاشیہ اللہ تعاٹی بھی تم سے اىی طرح محبت فرماتے
یں یس ماس سے عحب تکرتے ہو“ :۰
پا
تر ایر یت :۔
ْ ج6 ۶ -۔ کاب الج والصمّلے والآً داب / باب فضل ات اللہ _ ۳٣٣٣
تق مج الیربیےغ
ال واقعہ مل اللّر ع7 بل کے بنروں ے اور تصوص ]ال ا یمائن سے نال اش کی ر ضا کے لئے
عحب تک نل ےکی فضیلت اور ا سکا ہہت رن می ہا گیاے۔بلاشیہ کی ر ضا کے لے حب تک بہت
یی شثتل ہے
یج یئ مفاد کی مطلب بس او رکھو کی اس د امس ہے خرض ویر خلو محبت :بی
بب 7 کی اکلہ خون کےر جح بھی ب مطلب مو رانہ ہو نے بر بے آیمت ہو جاتے ہیں۔
ا ا تیھ دوستی و دش یکابرارذا لی ممادا تشگ زی اف راشن' اور
طبقاتی بذیاد سنہ رکھ کہ فلاں چ ھکلہ ہار ےگ ددیاجماع تکا سے لب اس سے محبت رھ و فلا سے جمارا
کام وابست سے تاس سے تلق رکھنا جا یا فلا ہمارے طبق ہکا نمامنددے لبنرااس سے محب تک کی
یئ اور ا لکی حای تکرکی چامیئے۔ نیہ سب چیانے اور فیادیی غلط ہیں۔ النا سے دتیاجیں منالققت ٰ
گے رو ہیں اور نس روراوٹ ھی اکر جاے۔
تا یی شب وروزکام ہرد کہ خر غ دو اور مطل بکی عبت اخجام کا تین دنا
رن ہوک ے اور وت تین تین کی عوت شنن کے نف آتےہیں اور وٹ جینل ک
ہار ی ہگاہوں می فرشنہ عمفت ہو جاے' جع روۓ ز شی نکا بدتربین انسان بن جاتا ہے“ کھ و لے
0ں ور ر2ج امریہیں۔
دوس یکا رار بھی ابنراور و نیکارا بھی ال ہو ناس یئ لال ا اشن سے فو ہار بھی رشن
ہے “فا ال ہکا محبو کا بی تاغل
7 ای زی خواہشات کے لئ ہیں مطلب موراہویاشہ ہو ہر عاللی مل محیت
کے ۶ بھی کی جیاد مہ نہیں ہوئی جاتے۔
ٰ واعہ ری ر ضا کے _لئے ا کے نول سے محبت تکمر نے کے تین ایا مکبان اکر جا ےک
نے ےا حب تکرنے والا ال قکی محب تکام رکز بین جاجا سے اور اس سے اافمد تال حبت ٰ
کر نے کت ہں۔ جب بند وا کا محیوب بن جات ےگا تق بر سال کیاد تا چیا اس سے حبت ,0.7
اکہ ایک دوس رید یت شی اس طرف اشاد وف مایاگیاے۔
ایماان کے ہت رن خص انل میں سے اک الد کے لے عحب تکر نا بھی سے۔ رسول اد جلگھ نے
1٦آ
ضس اارے_ 290007 ]0 ٰ ے۳
بی ایا ےکہ بابھی طور بر اد کی رضا کے لج اور بی انغرائش ومفادات کے محب تکمرنے وا لے
امت کے روزفور کے مرو پ ہو گے اوراغیاءدشہراء نکی شاندار یں اور اہ سے النا کے
شرب پر۴ کفک۷ریس گے۔ ٰ
باشالل کے لے ی کردا آخر تک سعاد کے
۱ نر رت وْصار
ا۔۔ ال کے لئے محب تک فضیل تکا حد یٹ سے وت ہو 7ا ہ کہ اییے بندہکوالڈر تل انا وب
بنا لیے ہیں جوا کے ٹرول ے محبت کر جاے۔
ْ ۲۔ یغفاان کی کا خائ ںآ ۶ ای کرک ا یں
احبا بکیاطا جات اورزیارت کے لئ سفر کنا گیا جاتڑے اور تمروب رک تکاباعشدے۔ -
٣۔ اللہ تھا لی اپنے تس بندول کے پا اہین فرش انسالی صورت میس بت ہیں دش ۱
ا تک لشیحت کے لئ اوہ او قا لی معامل ہکی وضاحت کے لے اور جح اوقا کسی بندو کے ٰ
تین اور اشفل تم لکوجلانے اور ا کا اش کے بیہالی عقام و مر < جوا کے ار کے
والا فرش د یہو نے نہ رسول۔ ْ ۱
نک رتو ںکااسالی صورت ای دوس ری صورت می منشکل ہو بھی اس عدری سے خابت
تہ ےک وکلہ وو فر شت ا نٹ کے پاس انسائی صورت میس آیا اک فرش شمتوں کی ےئور
٠ھ الام لک اللہ کے بیہا کیا بت ے؟ ا سکاائرازہ گیا اس واقتعہ سے ہو جا جا ےکہ اخلاح کی
مرکت سے اسان دہیگھ حا لک لا ہے جو بر سہابر کی ریہشت سے بھی ال خی کر ج ناں
نٹ کو حبوبیت ال یکاسقام الام لک وج سے ہی حاعل ہوں
ا تالی مو کے در مان غالص اور بے خرضی عبت پیرافرائے۔ ین
صص ار ہرۓ 7ی 98 98080 ۹۸
۹
ہے
اٹھایںوال تص ۲۸
کت نوانزکی مالک بے نیازکی
ا
یر
وہ| مالین ےار تممالر کین ے اس کی صفت صھد ے 'ددالیاے نیازے کہ سے ماے بھی دے' بک 7۶
جاے ےن کن گا مار" کرد ے کوٹ اس سے و گے والا یں فاحشکویالی بلانے بر نشی دے ا سک شان
1 ات سی اس شال نکر بی کے دو عق داقعات ذ خر بعد بیث سے بک کے د ہے حجار سے ہیں ۔
ص07 ْ
رری ابخاری ٹی صحیحه عن 72 رر نہ أُن رَسُولَ ال 3 قَالَ: (يیتا
رَحْلْيمشیي فاشْتدً عَلَيْه ٍ العَطش فنزّلَ بئرً فشرب ِنھُّا نم رج فإذا یف
بکلب يَلهَّثہ بَا کل الٹرٰی مِنْ الْعَطشء قَال: قد لم من بن لی ہنم ہی,
فملاً عَفهء تم انْسَكَه بفیوہ تم رَقيٰء سَقی الکلب فشکر لق لَهُ فغفر لهُ قَالوا:
یا رسُول الف ون لنا فی الام أَحْرا؟ قالَ: فی 3 کباٍ رَطبَةٍ أَحْر).
وروی مسلم ٹپ صحیحه عَن أَبي ھَریر عن النبي لڑ: ١ن اسراء با رات
کا في يوْم خار بُطِيفٔ بیئر قد أذْلملِسَانه َِ الْعَطشٍء فنزَعَتٗ لهُ بمُویَھاء فغیر
--0900
7 رواوہ وت اھر عن یی ھریرة: ) غر لام راو موس رت بکلب
عَلی راس رکي لوٹ قالَ: کاد يَقتله الْعَطَّش فتزَعَے سا او تہ بِمَارمًاء
فنزعت 1۲ من المَاء 2۲ بذْلِكٌ ).
ترعمتۃ انور بیث :
ضر تاب پ بر ٍ09 اکر م کن ارشاد ف اوہ
ا فیس یل جار بانھماکہ دور ان سفمراسے جشت پیا گی دوا کفکن وس شی اترااور اس سے با ی
یچ باہر للا تقو دیھاکہ ای کنل( با کی شدت سے )راب دباسے او کی می حا را ارے
یا کے۔ این ےکہاکہ ا کا بھی وی حال ہے جو ابی می راتھ۔ اس نے اپنا موزوبائی سے عم رااور
اسے ات مضہ سے چڑا۔ پچ راد یہ او رک کدیاٹی پلادیا اس کے بعد اللہ تھا یکا شک اداکیالکہ ای نے
ایک اورک ال ھانے 1 کی فی دی )ال تھالینے ا سک مففر ت فرمادگی“۔
ضر ار ۲
وت٣0 کیا پارسول ا اکیاہمارے لے چاوروں کےکام آ ان میں یم
جاندارمیش اج سے“۔(ہروو زس کے اندر تر کر ہو شی جاندار خواوانسالن ہویا جاور ال ںکی خدمت
کر نے اور ا ےکھا نے بلانے باج ے)۔ ۱ ٰ
ام سلمنے ایم حضرت ابد یٹ سے ردایت تر سے دہ ھرماتے ہی ںکہ یچچ
نے ارشاد شر میا:
”ایک فاحشہ عورت نے ایک جن تکم مدلن یش ایک کت کا ین کےگمرد منڈ لارہاے'
اور ایز پان پیا لک شمرت سے باہر الا ہو اے۔ اس نے ایناصوزواار ا( اور اس یں لی ھر 7
پلادیا)اا سک اسی عمل بر مقر تکرد یگئی۔
ار کیکی رر وایت میں ىہ الفاظا ہی ںکہ :
لا ا و ا کے پ گند می ج ھکنویں کےگرد پیانسی سے
انب دہا تھا خر یب خواکہ پیا سے ہلاگ ہو جاتا۔ اس عورت نے اپا مو زوا تار ا اسے اپٹی اوڑ ھن سے
باندھااور کے کے لل ےکنویں سے اس کے رجہ پالی کا لا اس کے اس تی گی ہنا برا کی مغظرت
کرو یگ“
گر اھر یث :۔
0+ کی الناری تاب السا 6م باب نل سقالماء ۵ / ۰م
دوسمی حدی :گی مسلم سناب السلام۔ اب ففل مت ایہائمىجرے ۶۳
کی ہار کی کراب بد ءا پوس ٰ
تق رتالررے
ا یر بپال نر دودونول واتعات رظاہر ایک جیے ہیں ۔ لے واقعہ ت یس 1یک معن جوکی سف میں جار
تھا 'شد یہ پیا کا شکار ہوا اس زمانہ یش جاہ اکن و یں ہو اکرۓے تے تھے ای فکنومی بر اس نے یالی دیکھا تو
نویس یل ات کر انی پیاس مھائی باہر للا اس سے پاخینا ای ککتا نظ رآیا۔ اے فور أخیال آیاکہ جس
رر مہ پیا سے ہانپ دہاسے می بھی ابھی ذداد مع ای رم پیا سے سے بے جن تھ۔ فور
اس نے موز وا تار ٴا سکومنہ سے پلٹڑااس میں یالی گج رااو رک کو پلادیا۔
سی طر دوسرے واقعہ مس وہ عورت فاحشہ شی سک کو پیا سے ز بالنا لککائۓ دمیکھا ذ بے
ین ہ گنی اور اینے موزہ یش پاٹی کا لکراسے پلایا سس مکی ہس 2
ٰ 20 ا تا تھا
ضس ار رۓ ت.ے..ہہہمےہے ے کہہے ےت _۳۰۱۰
سید تب یسیا سض ٰ
ْ ال تالی نے انسا نکوجھ خحصوصیات عطاف مائی ہیں دکسی دوس ری لو قکوعظا شی سکیں السا نع
انی ضرورت کے ل ےکنویی میں اکر ہنی حاص لکرنے پر تاور ہے لان جافو رکنویں میس اتک اپ
اس بچھانے سر تقادر نیس ہے۔ الد تعاٹی نے ک ےکا پیا بھانے کے لئے انسان کے دل می جذیہ ک
پر اکیاوراننا نکی مغفر تکیے می کل بہانہ نگیا۔ بلاشیہارۃ ٤ الله علیٰ کل شیء قدیر۔ ک
۱ ہاں ور طلب بات ہہ ےکہ دونول واقعات م لکنومیں سے پالی گال کے ل ۓےکوکی جچز موجود ٰ
۱ یں تھی کو ڈول تھا نہ رسی تھی ہکو یدوس ابر تن تھا اس شس نے ا اس قذخو دکنوی یس ۱
تزکر بچھالی تی ین عک سے بے ؟ہکوئی نز قذ شی نییس پناس نے موزداج را اے پائی سے گر
لیکن اب او رکسے چٹ ے؟ پا تھوں میں موزوکو پلڑ نہیں سک ناکم تھوں ےکوی کی منڑم کو پھڑ
ضروری ہے نہیں او 1-7 ۔ را نے اپنے مہ سے موز ہک و پلڑا۔ حا اکلہ عام عالات -----
اسان اپ موڈوادرجوتے دی کوچ کے قریب ا یکوارا یکچہ اہ منہ سے اسے ٰ ْ
پگڑے نیشن جب رکا جذ یہ ہو وس بکا مآسالناہو جاتے ہیں . ۱
اہی رحاس عورت کے پا بھی پالی ا کاکوکی ذر ریہ نہ ھا کی یں زی تک
آٹخر موزداجارااور اے لطور ڈول استعا لکیا اور اینادویٹہ اتاراٴاے لظور رىی استعا لکیا_ ووتوں -
داتعات مل ایک بے زبان جائو رکویایٰ پلانے کے لئ انی لی فک بروان کر نے سر الل تھالٹی نے
مفضرت سے سر فراز فرمیا۔ عالا کک ہکماایک جس اور ناک چانورے' انا نکوطمَاا ےکراہنت ہولی
سے اص طور یج بکہ وہ آواروپچرنے وا ہو۔ لیکن علوق مد ای نی فکودو کر اللھ کے تز درک
بات قای اع زازصمل مب رااورائ کی نالپ وومخفرت نل کے سخ ہوئے۔ :
ٰ چنر رت وضصار) - ٰ
ال وافعہ میک عم تو موعحفظت کے بہت سے کو ہں۔ ٰ
اش حلوق بر رم کر اللہ تھالی کے رعم کر کا تی با تاسے پ تصوصأ بے ز بالن جاورول
رق کر ا نک ینکلی فکودو رر ن ےکا ساما نکر نابہت ب گی بات اود انساضی تکا مچ بن در جہ سے اور اس
سے بہ بات نے گی غات بل الہ جب بے زباناجانوروں پر مک نادڈد کے رک کا 32 ھ-
زان اد پش راودا و یف پل کہ موک ںا ال کے عذاب اور
کی پلڑکا بھی سمعین بنا گا۔
۲۔ انا نکی مخقرت ضاوقا سی ظا چوئے نے وال ےل گا ول
اریر
سار یۓ
رٹ او رخر یع سی بھی اڈران سی بھی وت ہ وس ے۔ ع بج ابا لع رش مین
شال ہو سکما سے اور سوسما لکی عبات لع کی لخزش سے بے قبتہ و گے
بیط رکم یکاصرف ظاہری حعال دک کر اس کے متحل قکوئی تی راہ تا مکر جج نہیں
ٰ ج بت ککہ ہنی طور براس کے نات کی حال تکاعلم نہ ہو۔
7ج حعدیٹ سے ایک اہم بات یہ خابت ہوئ کہ تی ےس یکا مکو تیر تہ جن ای خواہ اہروہ
کنقی سی تق يکم در ج ہکی موس ہورہی ہو۔ اللہ تعالٰ کی بیہال عم لکی منقداد اور اہ کی شح لکااعتبار
ٹیں ہو اس کے اخلاح لکود میکھاجاتاے اور ای کے مطاىق ٹیچللے ہو تے ہیں۔
کے ایک دوس ری حدیث می می مشمول نار شادفربلاہ کہ
لا تحقرن من المعروف شیتًّا (الحدیث)
ْ یک یی با تکوہ رگمز تق رمت جانو۔
ہو سکتما سے وی یھو نی سی بی انا نکی مخفر تکابا عف مین جات ۓےکہ اال علجلالہ مہ نواز ہیں
بش ریہ ہمت لا تے ہیں گیا خ رک نگ وازاجاے۔-- ٰ
5- معاصی او رکرائر کے ا رحمکاب ےکوگی مصلرا نکافر کیں ہو ا نہ بی رحمت تق سے محر دم ہو تا ٰ
ے۔ اور بس اوقات پڑا خ گنا گار بی تو ہہ کے ا ےکی کیک عم لک ہناء پر جنمشا جات ہے جییے وہ
عورت نیٹ گی کی بھیگناہگار ےگا ملا نکوکاف رنہ ہنا مین نہ مبکھنا حا یں
۵ 00 و ری و 7 و
تخلّقوا باخلاق الله (للہ کے افلاق یے اپ الاق بنا ےک یکو شی لکرو) کے عم ہم لکر
ال دک بہت حوب ے۔ عبادات و فرائنش گی ابمیت ای مہ اور ان سے می حالی میں عفر نہیں لیکن
وش ند ا کے سا جو لوب رو ا سن سلو ککرح تیم اناشیت ہے۔
یکر پل نے کی انساضریت ابٹی حیات طیبہ ٹیس صا کو سای اور ای انساشیت نے اسسلا مک
نیل ریت مس جار دا تک عا لم ٹس پھیلادیا۔
ضس ایر ریغ
اںواں تھے (4۲۹
عم کو گنا ہو لکی دلدل یل د ضضے ہو ئ الک تنس کاواتد ل لا ا ہی با
ار خکا کیا ین رحمت تن 1 3 گیا ےکاضیاب ہہوا۔ال و کو ساس خطااز صمدصاب او یت است
می ںکہاچا “کت گن ہہ خوف خد ای ای تکو ضرور ایا رک نے
ٰ
اریت 7
۱
اروی مسلم ٹی صحیحه عَنْ أَبي ھریرہ آنں رسُول الف پل قسال: (قَال رح
لَميَنْمَلْ حَسَة قط لأْلو: اذا مات فَحَرَقَوهُ تم اذرُوا ِصلفہ فِي ار وَنصْفةُ و
ابر فوالله لن در از عَليْهِ ليْعدْبنَهُ ععَذاببا لا بُعَدَبَهُ اَحدا بِنّ الْعَالَيِنَ فَنَمَا
سے عصُی خی سے
ات الرَخُلْ لوا ما اْرَمْہٌ قَأئر ال الب َحَمَ تا سب وَآمَر البْحْر فَحَتَع تَا
فيه تم قَال: لِم فلت ہذا؟ قَال: يِنْ يك يَا رب تدسی ؛ ننفر ال
له).
ترش تا یر بث :
رت ابد ہر بر سے روایت ےکہ جنابر سول اش حکنل نے ار شاو فر ایا:
لا و ول ا 0 ا ا ا
مر جانۓ و اسے جار راک دکردیا جا اور ا کی راک ہکودو تصصول مل 27 ھی ھی میں
اڑادگی جاۓ اور آدئی سحندر میس بہادیی جائے۔ اد کی عم !ا اکر اللہ تعا ی ال (جان) بر در ہو ےت ٰ
اے ایاغز اپ( نے کہ قام چچہاں والول می سے ےک او الیاعر اب ت دبا ہ وگ“ ذ
چنانچہ جب دہ م مگیا نواس کے گھروالوں نے اس کے کی تل ی۔الل تھاکی نے صصھی و مر
فرما کہ ا لک رک ش کر دو وا نے ساد گی رھ جو یج رویۓ زیی نکی خی میں تی !کیک ریہ
اوارسمند روحم دیا نواس نے بھی سمندرو نکی گا اتوںی میں موچ دسار یراو کروی( راسے
وبا اورحمات دے کر ایند ای نے اس سے و جچاکہ تو نے الیہاکیو ںکیا؟
اکا ےکھا ان رر رب ا ور وجہ سے اور آپ تقحیقت خوب جات ہیں (کہ
یس گے آپ کے خوف سے می الیا مدیاقا اط اٹ نے ا کی منفر ت فرمادی“
ضس ار یۓغ 5
٣ تم اکر یت : لس ْ
جع مل ۴ ا۳۸ ۱
ُ -+, 0 7
۲ نش مر اھر یٹ
یہ واعہ امام فا اور امام مسلئمُدونوں نے ابی انی جع مم متعدد مقامات پر تن لکیا ہے ان
تمام روایا تکوسسائے رکھاجائے فا ںکاخلاصہ بے ےک :
شف بہت مال ودولت والا اورک راولادوال تھا ال تال نے اسے د نیاوی بای ودول کی بھی
فراوائی عطافرمائی شی اور جو الن ے بھی عطافمائے تھے ابد تھال یکی ان تیم تو ں کے او چودوو ڑا
٠ خرف ((پٹی جان ول1 اور نی سے دور بھا نے لماک عمرس نےےگناہول می ' محاصی
کےا کاب میس او رکپائر شی مبنلارتے ہو ئۓے زار یھی '٢بھی کوٹ یکاکام اس سے سر زدت ہواتھا_
جے جب ا کی مبلت حیات شحم ہو ن ےکوآئی اور رض الم وت می ملا ہو تاسے خیال آیاکہ مش
٣ نے قو اش کی میم نحستوں اور ات می و فراواٹی کے پاوجود ع جال کی نا ف مال یکی ہے۔ جب ز ن دی
۱ سے پا لوس گیا پڈاے نین ہ وگیالہ مدت کے بعد اللہ نتحا لی اسے ات اشمزر یلد عط اب دس مگ ےکلہ ممام
جہانوں میں ایوہ دا ہوگا۔کیوکہ دوا یز نکی ےل لع سے واقف تھا خیال سے ا رات ٰ
دہشت طاری ہوگ یکہ ىہ بھی عو لگمیاکہ اللہ تھا ی ہر جزر قادر ہیں حدم سے دجو د نے وا ی زاے'
انا تکی و سعول میس مھ رے ہو ے وجودکو اکر نے اوراے ند کر نے مہ قا در تہ وگ ؟
ارے خوف کے اک نے اپتی موت سے ہل ایے بیو کوبلایاادرالنا سے کی چاکہ :یس تملوگوں
کے لن ےکیسا باب تھا؟ یٹ کہا ھہت “مین باب ھے کنے لا :لیکن می نے ا کے در ہار کے
ل ۓےبھ یکو نک یکاذخیرو نیس بنا .اہن یچھے لقن ےک گر ای تعالی جھ سپ تقادر ہ گیالڑحا اکلہ ٥ ہر
ولت قادر ہے) و یھ الیباخت عذ اب د ےگاکہ قام چہانوں میس سے یکومہ دیاہ گا ۔اس لی می ری
مودوت کے بعد لوگ مب ری لاش کو جلاد ینا اور بر می ری راک ھکودو صول میں یا وی
7 ...2 گی بر اڑاکر تیر دنا اور آدٹی ند کی اتا وگ رائیو ںکی نذ رکرد ینا اکر تم اییانہ
کرو گے (اور ا سکا جھ سے وعدہ کی ںکرتے) و ٹیس تمہاربی مبراث خر وں شش از کال
ٹیک انے پا پکی صوت کے بعد ا سکی وعییت پ ع٠ ليکیااور ا سکی ماش سک اگ کا اکر اک وی
گی می او ہآزدی سمندرسں بہادی۔ --
تواٹی نے شعن یکو عم داکہ ا کی رھ پوری رد ز من می جہاں بھی سے مھ یکردے
ٰ 1 یساب 'سند ہکو عم دیاکہ دہ بھی اپ اندر بچی ہو ٹیر ھکوکٹھا
01172 7 ۶
کھزدے اس ن بھی ۶ 1 میں کی چس اک ھی کاو تال ے تع
اراس سے ال کیا جیب دخر جب دع تکا-بپ دریاق تکیال -
ا نے از اے ممیمرے رب! اک تگ یقت سے خوف وف یک ری
نے آ کے خوف اورڈرس ےکی کن
ال ای نے ا کےا خو فکاوجہ سے ا کی مفظر سرای۔ - ۲
فا ہز ےکن کی ننکوردوعیت سخ تمناووالی بات شی می وک جس مر ایک ز مد٤انا نکی
مت ہونی ہے اىی طرش بت نے مردہٹشوں کے سا تحد بھی اتا مکا موا ہکن ےکا عم دیاہے
"یہ فی سکوں جائز شی ںکلی مر د کی ماش کی بے ح یٹ یکرے مم کہ خودابنی لاشش کے یل ےکی
گنا کی وصی ت مرام ہے اور ا کی ہے دصیت ایک مین تری گناو کے راف تھی ؟علاد دای ہے
اس پر جنی ع یکہ ای اکر نے کے بعد (نحوذ ہاش )اللہ تھا اسے دوہاروز خ ءکرنے اور عذاب دی > ت0“
قادر نہ ہوگاجھ اہر ے ایک مین تین اؾادی شی سے گر تی رمع 7 کے چوک اکا :
توف اور عز اب | م6 کی بے ڈر اذا تھا نے یل 11 ىی نر بر 110+
چن گر ت وْصا
۱ آ الکاخوف بت تی اور بانج ے خشیت ای کامقام صلاء کے اع مقابات میس سے ہے '
یی دل می خوف و خشیت الھی راہ وگ ےا ےگناہ ناف می اور محاصی سے با کاڈ راج وں
ت اللہ تعاٹی ال خوف ا یکی جناء برگنانہو لیکو مواف فرماتے ہیں ایی اپ ہدائے بس اود ْ
خاہشات نفسالی سے چچعنکارالعھیب ہو تا ے۔الڈد تھا یکاار شمادے : :
فأَمّا من خافَ مُقامٌ ربّه وتّھّی النَّفسَ عَن الْھّویٰ فَإِنَ اَلْجَنَةٌ ھی المأوٰیٰ(النازعات
سوج کوک ا نے رب کے سانے کٹا ہونے سے ڈرا اوران نف سکوخواہشیات سے رکا ت2 بل شب جنت ا لکاھکانہ ہے۔
اور بی خوف سے جس کے متعلق سورءٗر تن میں ارشاد فرمیا:
ولِمَنٌ خاف مَقامْ ربّہ جُنْتان (الرحمن)
اورج کوٹ این رب کے ساس ےکھڑراہونے سے ڈدااسس کے واسٹ دو جنتیس ہں_
۲ اللہ تال بھ کی آندئی کے مج کی مناء برا سکاخذرقول فماتے ہیں۔ جیے اس کور ہشن سپ
عفر ت۲ لکی بناء پر قبول فر میا الاک ا سکی لی رایت عگمین تھی ۔ ا سکاجگمان تماکہ اللہ تا اس ۱
کی بھری ہو کی راب ےکوہ عکرنے سے دوبارەز ند ہکر نے اور اسے مزادہی ےکی فقدرت نی رکتا ك0
اس چاہلانہ و عید تک بناء” ٭تمل “تھااور سبب ال رکاخوف تا لبفراا بد نے اس کے عفر رکو قجول فرمایا۔
۱ سار یۓ ”سے سپیمسپپًَٗس_سسی پت جھ
تد قات عم ججت بن جا تاے انسالن کے اپنے اد پر اور مل ذریعہ ضجات کن جا ا ہے۔ لن
اکا یہ مطلب خی ںکہ یل ع مکوت فک دیاجائے اور جائگل ر ہے یا چائل جناکوی ا بھی بات ہے۔
بلللہ انان یہ مقصودہ کہ جس طر چہالت بہت خطر ناک یز ہے اسی طرح صرف دع جس پ مل
یہ ؟و وہ ھی 1 من جا تاے۔ 1 رم علم سے پنادما ایٰاے۔
الم نی اأعوذبك من علم لاینفع۔اےاللانأاندردپن والے عم سے آ کی چناداگناہوں۔
2 عدیث سے اللہ تال یق گی فدر تکامل ہکا اظہارنی ہو جا ےکس رح الد نے روئۓ زی نکی
تشکوں اور سمنررو ںکیگپرائوں می چھمری او بھائی ہو گی را کو ج کر کے اسے ز ندہ فا ای
رح اش قیامت کے روز سار ی مل تا تکودوباروز ند و فرمائیسں گے
7 عدبیث سے ایک ام نمیم ہہ حاصل ہو کی یک انسا نک وی حال ش ماس ہو ن ےکی ضرورت
نہیں_ جو الہ اتی سعگین لعل یکرنے وا تن سک اورایک ای ےھ سکوجس نے عم رگ رکوئی بجی نکی
ہو اور خود ا رارگی چرم ہو الکو محاف فر ماسکت ہیں فو پروہ ٹس جو صرق دل سے اس ے لے و
امتغفا رکرے 2ا ےکیوں متاف کی فرمائیسں گے _
یں ےپ رات بی موم ہو کہ ایک موم نکی حالت جم وقت یتو کے ای
ہوٹی حا یئ "شی خوف اورر جاء دا می اد کے خر ا بکا توف بھی ہو اور ا ںکیار حم تک امیر بھی
ہو ہیا ککیفی تگال مج فی خو کالہ ایی کیفیت کردا جوا حدیت می کور
و ۔اودرجاء دامی رکا خیہ تیگ اعمالل سے بے خیاز کی ید اگرد یا ہے۔ لہفرادونوں طر کی
کیخیات ہدک ایی
ٰ اضررد
میسواں فص ج٣۴
7ھ
کم وہہ ربا لی ائل ز مش۲ن پر 7-۰
چٛ"
موا فکرباو رک مکر ان کی صفات شی سے ہے ناس ج کو گی ا کی اس صف تکواے ا خدر پیر کر اللہ
تال آخرت یل اس کے سا جح اٹھی صفات سے معاللہ فربائیں گے. ضنات سے ممردم اس منص لکاا الب ور
وا جو امش مقر ضسول کے سا تھ لیف یکامتال ہکر ۳ تھا درد رگز رس ےکام یقت
ا7ے 00
٠ روي البخاري ل صحیحه عن حذیفة قال: مت رسول الله بقول:
رَحُلا کان فِيمَنْ کان قٍ كُمْ نہ الْحَلك لَقبض رُوحَد فقبل لَه: مَلْ عَیلتَ
ِنْ عیْر قال: اطم قیل لهٍ انظر. قَال: تا الم شيّاء غَيْرَ آني كت أَبَاِم
لاس فی الُنیا وَأحَاريهمٔ ہہیںں وَأََحَاوَرُ عَن المُطْير نأذُحلۂ ال
نَ الع خی
الحنة ).
ری روایة عن حذیفة أیضا: ( تلقتِ سر ررح جرب بلک
ار ا: أَعَمِلتٗ مِنَ حر شها؟ قال: کنت آمُر فِتیّانی ان روا لوسر ویَتَحَاوَرُوا
غَن الْمُعسیرء قال: قال فَحَارژرا 2 )د-
ورواہ ایض عن آبي ھریرق ونصه: (کان ناجحر این الساسء قََ 7
مُعْسيرًا قَال لِفتیانه: تَاوَزوا عَند مل ت0 ُنْ َتجَاوَز عُناء فتحاوَز نل عَنهُ ).
تس اع
رت ضز ینہ جن الیما لف مات ہی ںکہ می نے رسو لکر مم مو سے سنا ف مات تھے :
۲ے گی امتوں میں یک تنس جو یک کرو تال لکی روں فین کرت ےکیلئے آے للا موت
سے )اس شفنس ےک ۰اگیاک ہکیا تھے اب کی نک یکا عم ہے ؟ دوکینے ا :کے ان کسی بک یکا علم نہیں
کہ یں نے مھ یکوئی نی یک )اس س کہاگ یاکہ ذداخو رکرو کے لاک : ےا یکوئی لی معلوم
یں ہو لی سواۓ| ای ےی میں د نیا میں لو گول سے کاروبا رکا 2 تاور النعے د رگن رک جا تھا( گ
رقو مکی وصولی بی ) چناغیہ می الد رکو نے مبلت دا توااور تک دس تکو متا فکرد یت تھا(ااس کے
0٦ ہے لفن یں )اید تھالی نے ای ار ےت فا ل فرمادیا“۔
کے2
عرالررع
ایک ردایت بیل ےک :
تم سے لی امتوں میں سے اک یی ہے ۳َ..0.ت کہا تھے
اٹ کوٹ کی معلوم ہے؟ نے کا نہ : یں (د تا یس )اہن لکول( ملاز مو )ک کت تھ اک وہ الد ا رکو
لسر گل اور یل رت ے رر 0 ی۔ فرایاکہ ت 372 سوں ۓ| سی ےد رگ ز رگا“ 5
اک در یارواےت ہس سے کے
”ایک جج تھا جو لوگو ںکو قرتے وغیم رو دی اکر جا تاج ب می کو نگ دست د بت و اہ ملازم
لڑکوں ےکہزاکہ :ام ںکو موا فکردوشاید ال لکی وجہ ے اللہ تتعالی یں ھی معافحکردے۔ الله ٴ
نے ا کو محاف فرمادیا“_
گال ریے:
)۱( مج انفا تی تاب اعاد یٹ لأ نیا٦ ۳۹۳۔ ٣
)۲( کی الٰخاری ںکتاب الو ۸۳كء۴۰۔ ٴ ْ ْ ٘
کی مسلم کاب السا 3 باب ففل ار ال م_ ۴ر٣۳ ْ
تقر الریتے
۲ وت کے وقت چرانسااغ کے سا تھ ال کی مود یگمزری بہوئی مدکی کے عالات کے مطا بی
ٰ معاملہ یآ ہے مو مم کا ل کو نو جنت نشار ت دک جالی ہے۔ار شاد ہار تعائیٰے :
ان الذینَ قالو ا رَپُنا الله ثمْ استقامُوا تَتنرّلُ عليهِم الملائکة أنْ لا
تخافواولاتحژنوا وأبِشرُوابالجِنْةالّتی کُنتم تُوعَدُون(حم السجدہ۴۰۸)
”با شہ وولوگ جنہوں ان ےکہاہمار ارب اد ہے پُ راس بے ر سے لن سر فرش انل ہدوت ہیں
ٰ کہ نہتمکوئ خو فکرونہ ت کر اور خ وج یہ ہیں اس جن تکی ج کات سے وع وکیاگی تھا“
ہت مگویامدت کے وت ہ رای ککوا سکا میتی امام تلادیاجا+اے ' تی صاب اورال جو سز زا
وم تی ہوگی۔ .۰ئ
اس حدیے می رسو لکر یم یل نے بجئیں ایک الے بی شف کا واقعہ سنا سے بس کے سا
موت کے وت با موت کے بعد فرشتوں نے رکال ہکیااوراس سے لو چک ہکیا تھے ا کی ٹج یکا عم
ٰ ے؟ ان ےکپاکہ یھ تذاب کسی نک یکا عم نیس ہے۔ مس نےکوقی شک یکی ہی غہیس _ خرشمتوںن ےک
کہ ذراخو رکرواورا کی طرح سو جج ہکرجواب دو ا ن ےکہاکہ میرے عم مین فواتیکوئی کی
۱ یں سے 'سواۓ اس ک ےکہ مب راد نیائی شکاروہار تھا لوگو ںکو رتس وخ رود یکرت تھا میہرے حرش
دارول مُل الد ار بھی ہوتے جے اور ۶ ے ونادار بھی_ میکس بر ال ١ے ری ک بر جا کیا اکر جا تھا اور
سر رق - ۱ 97
.تس رش وصو لکرنےکاونت: ۱ ول را سور اپ لزم وک ےکپ الہ 87ت
3 کبلت درے وبا ار ووٹ دے اور 2 اور 22 لہ گیل دست ت اور 57 یب سے وا ای رر کر
جقنارے دے اتنانے لی“ اتی معاف رد ہتا۔ شاب الد تال ی بھی یں مواف 007۳ ھم سےدرگزر
7 اے۔الید تما ی نے ا 1 یل ءراے و ۰( مادیا- .ے
- :
نے نیع نۓخۓ ہے کہ قرض خواوکو اپ مقر و ضسول سے نری یکا بر جا کر
ٰ جاٹۓ 'اے ابنا طخ وصصو لکر ن ےکا تل اعتار ے لان اس کے لئ ؛فضل اور مناسب نی ےک
تر داروں سے تماح اور نرئیکا بر جا کے شاید اتال اس کے اسی مل رراضی ہو جائیں۔
٢ے کاروبار بیس عمو) آوئی گگ رآخرت سے نال بہو جانا سے اور ما لکی محبت اور ہو ل اسے ہرز
سے مے تیا کرد ا ےاوروہ صولال کے لئے اخلاقق مر وت رر ات اوران نیت سب سے عا رگا
ہو جانا ہے جلیما ہمارے دور میں آ کل مشابرہ سے خصوص]اس وفت ج بکہ دوصرے ب اپاکوگی
نی کا ہو اودومر ہے 1 بوری ناداری اور حر ہت والا لکا ھی خال کی رگتا۔ مین اکر کوک یا گ٦
کیا خیا لک جاے اور لوگوں کے سا تھ تو ]ہے رٹ دارو کے سا تج رب یکا 7 سر
الیکا 00007 تھ اینادس گر ہو نے کے پاوجود مب یا یکر ہے ال ال پہ
گنا گار ہے" ا مرمائن ہو نے ہا الاو راصانکا محاطہ رک تاے۔
سکرو ہریالی م اپکزیںش 4
ٰ خدا ہریال ہوگا عرش بریی>
۳۔ ۳۔ اللہ تعا کی وسحت رحم تکااندازہ بھی ال حد یٹ سے ہو تا ےکہ عم گج رک تا فرب کی معمولی "
شل بر محا فک دا۔اد شادبارى تا یک ' مم رر حمت ہر چ زکو مان ہوئیّے“ اور رمث ری
ضعب کیرحت عیرے غحفب سے آ1 کے سے سااندانزداس واقعہ سے نو لی ہو سلتماے_
بر اس واقعہ سے بھی وہ قاع ونابت ہوا س کاچ چم ذک رک رج ہی سکہ : اید ارک و تنا یکی جن ۱
صفا تکا پور بنرول سے ہو جا ہے و اللہ تعاٹی بنقروں کے سا تد ابی صفا تک بر ج کال وائم ظہور
رما ہی جیا الہ ال واقعہ ٹل ہوال وہ تحص اہج ٌّ گل داروںل ومعاف کرد اکر جا تھا اث تا ی
فربائیسں گ ےکہ : یس زیادہ ش دار ہو لاس با تکا متا فکر و (کہ محا فک نا یکی صفت ے )لزا
اے محاف کردو(رولیت سلم) اوہ 2 پھر ساۓ آیاکہ :تخلّقوا بأخلاق اللّه- اش کے اخلاتی
ضس اکور یے ٢١٢
سےا ۓآ ےکومتص فکرو_ ٥
۵- نت مع پادھا تر د ےجا گی در سے خابت ہوا ہے کہ اتی درم بی
7
ھا
اکتیسووں تے_ ۱ ٣
ہر
بح اممان کے سقمرزے زان ملف شسے ہیں ا نے لق لالہ فلا اش دکناے اور سب سے اوک در چہ راہ ٹل
نیف سال پچ کوراوسے ہناد یناے۔ یکر مم مدکی لیم یی سے کہ راویش ہڑی ہوکی عم اور لیف د
اشیاء ملا کا! ما پنراوغی رہ جناد ینا جال ےکیہ ا یما کاسب سے اد شعبہ اور انساضی تگی تا علاصت ہے۔ ایک
لے سادا جو صرف ای مل مر نآ6 تک تراریر
تس الیرہۓے:
روی البخاري حیلم ئِِ صحیحیھما عَن اي ھریرہ اد رسول آئلہ ہے قال:
( یما رَكُلْ يَنْمي بطریقء وَحَدَ غْصْنْ شَوْلٍ عَلی الطریق, ارہ فَشَکر لغ کہ
فغفر لَهُ ).
وحاء ٹل بعض الروایات عند مسلم عن أِ٘ي مُرْرَةَ قالَ: قال رو0 0ل 8
مر رَحُلَ فصن من ش شَجَرَو عَلی ظھٗرٍ طریق), فقال: ہی ہہ ہہ
لا َوذِيهِم کا الْحَنة).
وق روایة أخری عندہ عَنْ أبي هُريْرَةَ عَن ايک قَال: (لقد رآ رَحُلا
تقَلبْ فِي الْحََيِ في شَجَِرةٍ فَطعھا مِنْ ظھُر الطریق؛ کان توذِي الس ).
تار بث :
ام ہار ی ام ملم 7 خر فرائی کہ عرے
او ہر میٗنےردامی تکیاکہ ر حول اڈ دح نے ا شاد فرمیا:
ٰ ایک آدئی راس چلا جا ھاکہ ام مف را نے راستہ کان کی اک شی دی ھی
ران اے خیے بشادیااو را رکا شک اداکیا۔ اش نے ال لکی مخفرت فرمادکی“
سن مکی ددایت یش ےک : ٰ ٰ ۱
ناس تفص نے ص راوایک در ش کی شپنی ہی اد شھی تو کے کہ اش رکی تم ایس ضروراسے ْ
مسلمرانوں کے رر استنہ ے ہا لگا کہ ا کی ں نیف نردے۔ووای لی بر جنت میں دا ض ل کا“ ٰ
فصساریۓ : 7 اٹْٹ-
اک اورروایت ت میں الفاظ 1ر9 مس
نی مک نے رمیا :یس نے ایک تن سکو جنت لی ہرس سب
نے وا ایک ٹن کاٹ دن کے عو جولوکو ںکولیفد بی تھی نت میس داش لک راگ رات“ 5
کال یث:
جا لناریی کاب الاذان ر باب ضل رت ال اظبر ۔ ۱۴۹۸۲
جج لم ۔کتاب لبرٌوالصّلة والآداب' ۲۰۷۴۷
7 لیے
راد ےتکلیف دہ کو جانا ایما نکا سب سے تر درجہ سے۔ مج سکا مطلب ہہ ےک اگ رکوگی
نا یل کوئی یف رہاں 024 یر جھے اور ا سے تہ پا ئے ےَ لو پوکوباوہ 2. لن کے ادیادر جہ سے
بھی حروم ے۔
عد یٹ یا نکردوداتھ سے ہے بات معلوم ہوتی ےک ال تال ا ول در جہپہ عم لگی وج
سے بھی مخفرت قمادرپیت ہیں بی اس شی لکی مخفرت قرمای۔
اس وا ہس دور حاض می مسلما نکہلانے وانے اور د یندا ھکہلانے وانے النالگوں کے لئے
بڑ ٹیش سے جوا ر2 کو ہککااور موی کھت وت
آ ند نیاکی خر رق وم سو اتی خر تھی بائی ےک راوٹش
کوٹ نکلیف دہ نز پڑی ہواور ا لک وجہ سے دا گی رو اور نے والو لکواز یت و بر با یکا سام ناکرا
رر ےے اور فرباہے ىہ تعلیم اصلاسلا مکی ہے او راسلام نے اسے متیہ کے اتقہار سے اتناافل بن کہ ۱
اس بر مففرت فر ماد یگئی مان وا افسوس ال اسلام پر جنپول نے ضرررسال چچ کو راو سے بٹانا ة
ایک طرف: نیف دہ چتزز و ںکو رکستہ میں ڈا لن کی روش اینالی جع عالت ىہ ےک بمارے متا رہ
بس جہاں 8۹۹۸ نی صد مسلمان یت ہیں' ہمارے راس ' م نکی اور عا مگمز رگا ہیں طرح طر نکی
رکاوٹول اور نیف وہ چچزوں ا ے ا پک ہیں لے لے بی راستہ میں تھو کرت ا نکی تک علنیک
شف م پیک د بنا شک کاکوڑ گن گی سرک می ڈال د اشک کے سان پل بہاد ا گھروں اور مساجد
کے ددوانر وی کے ساس گگاڑیال یا ر ککرد ینا 'وغیردوغی ریہ سب پاقیں جوارے مس م ماج روں ٹیل
عام ہیں جو ص ریا اسلا مکی اع نایا تک خلاف ور زی ے' ران گر بر لو چیا با لے"
اورٹولیٰ 7 مک ارت ور و ھ٣ بین کا یکر تے می ںکہ تپ مکسنااسلام کی نعلعمات ہہ
آریا٢۔ 0 سب کسلئ ٥ گر >٦ کک
ذ راس" پچ کہا ال وی پڑے ہوئے ورشت کی تی کوجانے پ مفقرت ہار ایل'
۲٣۳ا
۲۳
حنت سے سر فراز رمارے ہیں وکیااسشل کے بس راستو لکو خر اب او رگنداکرنے اور ریاونٹش ٰ
کیک یکرنے پل(جس سے گمذرنے والو ںکواذیتہو می ہو) از یرس نی فرمائیں کے ؟ یق فر الس
گے ال ائیمان کو ای اس طر ت کو ب لزا ہوگا۔ اسلام صر ف نمازروزوجی میں کھج ؛ بلند اخلاتی
کر داراور ماش روک ایک مب ماش ونا ےکی ماشلیا را کے اپانےکا ھی مد اہ
ا۔ پہماد نیاوی فانندہ نو یچی حا مل و اکہ الا مکی علیمات صرف عبادا تکی عد کک محمد ود خیں ۱
ہیں الام عبادا ت کی چتر رسوم کا جھوے سے بجلللہ ز دک یگ_زار نے کے ان نال اور فطری
ر قد لکانام ہے جو انسان کے اند ریاکی گی بعد اخلاقی اش کردا ر سورد رید فعت اور بلند پروازی
اود تہ یب پید اکرۓے یل اور جن کے ذرچہ مواشر :ہب اور -- ا جاجاڑے۔ ٰ ۱
ہ۴ راست کا یہ ہ کہ اس می لکوٹی تی ایس اکام نکیا جا شس سے دوسر ےگزرنے والو ںکو
لان 5 الہ اگرراوییل اکٹل ے5 گر بات مر نے ےر استن رکا ہاور گے اون مک کے ٰ
یش عکل پیداہو جا ہو ذراوی لکھٹراہون بھی جج نہیں_ ۱ : 3 ٣ تس"
کے 6 اک لان کو لیف سے پان ک کو شت لک راودا سکی خی خوای یکر اتا عظیم عمل ےکر
تک کی بنا تا ہ راد ےتلیف دہچت کا بٹانا ا ہرے مسلران نیف سے بچان کی اکوشئلی
ح٢ ہے جس پر دو نف جنت کے بارن یس غوطہ پگ ہوا تضور علیہ اسلا مکو وکوائی یلان لان ۳
تج خواہ ہو تا سے اور دوسر ے مسلمال نکو نقصان سے بیان کی ورک یکو ششل مر ہے می اسلا مکی
یم ہے اودای کا:ام ساٹ جھ ےم رڈػوے۔
زم ادا وگگذداود عام رات پراگ ہکوکی در خت رکاوٹ بن ربا ہو یالحیف دہ ہر ہہ نوا ےکا ٹا جا ْ
ہے۔الہ ہاگ ہکوکیاساىہ دار در شت ہواور ال ےکول تارف ینہ ہو بی ہہ او رک وکیا جم یور بی تھی
نب نوا ےکاغنا یں جا ۓے_ ْ حٛ٘ ْ ۱ 0
لن
خصص ار رۓ
۲۵
اس ری
بی وال واقم ۳٣
می بھی انا نکون تی لف لکنا جم فلی ے' تن کے مطا ای ایک انسا نکا ف و ری انساعی تکا فی ے۔
تل جح نکاس رکب بدترمن جر مکام رکھب ہوج سے من سکی مزا جم ہے۔ ایک الیے فنھ سکاواقعد عہرت جس
نے سو اضسانی جانوی کے قنل نات کے تقلیم جم کااد یا بکیا تھا جب درحمتت ح نے د سیر یک نذ پھر
مففر کا باب ہوااور خر اج مل کے اج وخوا کا تن ترارید۔ ۱
٘ او وج ہے
روی البخاري ق صحیحہ عَْ اي سّویاٍ الْحذَرِيٗ زس و عَن انی
ِ
|٠ ےھ
نے قال: ( کا فی َجي اسراقیل رَُل قتلبَسعَة تسین 0)4 يَسْان
فأتی رَاعبّاء نَسَلهُ فقال لهُ: حَلْ مِنٗ توْبَة؟ قال: لا فقتله.
کر ما رظ و ا رَخز نع تَمة کن کن تانرکۂ نز قا:
بڈرو تَحْوَمَاء فَاعتَصَمّت فی مَلایِكةُ ارٗ حْمَة وَمَلابِکة الْعَذَابي؛ فَأَرّْحَی اللم إِلی ۱
ھذہ ا تقربيء وَأَرْحی ال إِلی هَنو ان تبَاعَدريء وَقال: فیسُوا مَا ا نا ةؤحد
لی هو أَقرَبَ بشیر فَغرَ لَهُ ).
ور پیم و رچر کی هي ال کل تالَ: رکا
کان فَبلكَمْ رَخْلُ قتل يَسْعَة وَبَسْعِینَ نَفَسّاء فَسَلَ عَیْ اعم أمْل الأَرْض
سے کک از یضنة وس ی تمہ تمل له لو
فقَال: لاہ فَقَتلَه مَکَمَل بو مائة,
مْ سال ء َنْ الم أمْلِ الأَر٘ض مَدُلَ عَلی رَخُل عَالِی نَقَال: إِنهُ قَلْ یائۃ
نفس فَهَلْلهُ مِنْ وبا َقَال: نَعمْ وَمَنْ يَحُول تَينه وََيْنَ الوَق انل إِلی اَرْض
کِذَاٴ وکذا اه بهَا اَْاسًا مرن اللف فاشد ال حَعهَم ولا ترحع إلی أَرْضِك
تھا أَرْضُ سَوْء . ٰ ٰ
انطلَقَ حتی اِذّا نصّف الطَرِیَ آناۂ َء فَاحتَصَمَت ؤیہ مَلایكة الرحْمَۃ
وَمَلایِکة الْعَذَابی عَمَالے مَلابکۂ ا مة: جا ایا مقبلا بقلے نی الف رَکَلَےٗ
۲
تھی اورے
ملاکة العذاب: کانو گا سی َاامُمْ مَلّكٌ فی صُورة اذبیِ فَحَعلو
َيْنهُمْ فقال: قَیسُوا ما بينَ الأَرْضيٍْ فالی اھتا کان اُدنی فَهُوَ لہ فقَاسُوهُ
فحدوَۃ دی لی الأززض اس راد یت ماک تع
َال فََادَة: فََالَ لحَسَن: ١ذ کر گنا أَنهُ لَمَّا آتاہ المَرتٗ نی بصذرہ ).
ترجا ور مث
حطر وس یں کہ نیا کر پت کل نے ارخار فیا
”تی !مر ائیل میس ایک تنس تقواجنس نے نزانے انسانو کول اکیاتھا پھر ود اۓ مت سوول
کر نے کے لئے لکل اد را یک راہب( سای ادد گیا کے یا 7 ایإاوراںل ے دلیا ھ0
نکیا مم ری وہ کن ے؟ اس نے جواب دیا: نیس (نونے سن تل سے جس تیر بی مفقرت
کہاں؟ )الس نے اسے بھی مع لکھردیا۔ ٰ
وو لو گوں سے لو تار سی نے اس ےکہاکہ فلاں فلال تی میں جات (جب وہال جانے لگا توراہ
میں)اے موت آ گنی اس نے ہے سیب کا رات یکی طر فک رما سً ظحرف جار ما )اب
رمت کے فرشمتوں اور عزاب کے فرش شمتوں کے ینس سے متعلق ہگ ڑاہوا الہ تھالاے(اس
پت یکی)ز می نکو عم دہاکہ ذد اقرجب ہو جاۓ اود اس لت یکی ز می نکو(چہاں سے لکل چک تھا ) عم دیاک
دور ہو جا ۓ اور فرشمخوںل سے فرمای الہ :دونوں بستقبوں کے ماٹین فاص لکی پان شقکرو(جب پائش کی
گئی) نواس تی سے( جچہاں جار ہا تھا )با لشت ت مجر ریب للا ا ںکی مففرت نمردی گی۔سیی:
سک مکی ردایت می میہالفاط ٹڈ کہ :
ار ھی متوں میں ایک ایا" فیس تواجنس نے نیانوے مل یئ جے اس نے( وگوں سے )
رو ۓ ز بین کے سب سے بپڑے عاکھم کے ملق لد جم و سے ایک راہب کے ملس ڑا ایا وواس
راہب کے ماس پچااو رکہاکہ :اس نے ننائے گی کے ہیں یا کی تق ہہ دحل ہے پا دا جب نے کہا
کن نے ا ے بھی تل یکر سے سوک لکر لئے
۱ مج راس نے دویار درو زشین کے سب سے بڑے مالم کے متعاق دریافتکیا ا کر جمائی
یک عا لم 1د یکی طر فکیگئی ۔ اس نے اس سے چ اکر )کہاکہ :اس نے سو فل سے ہیں کیا ا کی
قَ یہ ہوسلتی سے ؟ ما لم نے جو اب دیا:ہاں! نے بہ اود ال کے در میا نکو ئا ٹل ہو کا ے ؟ تم خاش فاں ٴ
صن یکی طرف جا/وہاں ٹہ لوگ ادڈ کی عبادت میں مشخول ہوں کے ' جاکر ان کے سا تھ تم بھی
عبات میں مشغخول ہو جاؤاوراپنی مر ز شی نکی طرف مت الو اکہ وہ برا یکیاصر زین ہے۔دہ چلا یہالں
تنا کہ جب آدس راتۓ کہ ایا لوااے مصدت نے آلیااب ر مت 2 فرشتول اور زاب کے
مرو
سارہ
فرشتتوں کے ور میان بھگڑاہو اھ کون اوم لیک جا یا )لا ہر حححت ن ےکہاکہ ٠یہ پر
کر کے آیاے اور اہ قل بکا رخ ا کی طرف مج رلیاہ(اہذرااسے جم یکر جا گے )ملا مہ عذاب
ن ےکھاائرن بھی بھ یکوئی یک شمل نمی ںکیلاہذمہ عذا بکا سخ سے گے جم لنکرج بے )۔ ۱
(د نکی مشکل ع لکرن غےکیلے الد تھا یکی طرف سے )ایک فرشتہ ایک وی یکی شحل میں ان
کے پا سآ ایا توف رشتوں نے اسے ائے در میالن: ھا لیا( بطور خااف کے )اس ن ےک امہ دونو زمیتوں
۰ئ ات کرو“ جس زین نے بر زیادہتریب جو فو ا یکا (گر جرائ کی سر زین ْ
چہاں ١ے آراے یھی بر و می او راگر صصلا گی نس میتی
یی یہ سور چا
شتوں ۓ چان کی نے صا کی یق جہاں جار تھا کے زیادہ تر جب پایا(کہ حم الئی سے ْ
چیوم قرب ہوگی اور دوس کی طر فک دو لاعت کے فرشتوں نے سے
ایج فبضہ میں نے لیا 75
ادن ےکہاکہ تن بص رک نے فرمیا ےذک رک۲ رر
اس نے اناسبنہ ا ہت یکی جا بک لیا تال ٰ
رواہ الفار کاب احادیث الاثیای ۵۳/٦
رواہ ۶ ۔ لاپ التب ٴ باب برل الا ب_ ۳ /۲۷۸۔
را ریش
ٰ عدیٹ می پیا نکردو ىہ وا اللہ تعا کی لیم الشان اور وس رحمت کے با نکیسا تد ساتھ
ای فدرت ب بھی د لالم تک تا سے جب ال تھال یم یکو انی در عمت سے نوازنا اج ہیں فو ا سکیل
اتا تک اشیاء سے بھی غیر صعمول یکام نے لیت ہیں۔ بظاہر مو ںکتا ےک سو انسانی جانیں تلف
کر نے والا تما تل کے اللہ تھا یکی رح تکا جن ہو سلتما سے؟ کین ےک ہمیاذ کن یس مہ بات پید اہو
کہ انسالی جافولکااتے بڑے پانے بر اتلاف نے توق العباد یس سے سے اور تقو العاد تو بندروں کے
ماف کے اقیر معاف نڑیں ہو سک فو اس مات لکو مقت ین کے معاف کے اخی سے محا فکر دیاگیا؟
جواب یہ ےکہ ال تا ی انصاف فرمانے والے ہیں دہ سی کے سا تہ زرہ کچھ یتلم نئیں فرماتے|
جس و سکی مغفرت فربانی ہو اس کے مگمناہو ںکوکسی ذد یہ سے ذعودتے سی اور ال کے اصحیاب
تقو قک کسی طر رای فرمادینے می سکہ مہ سب ا لک قد زت شمل ے۔
اہ ری ز نہیں ہوحکی. وہ نس چوک نز
ار رۓ ُ ذف
راہب تتراعا لم یں تھا لب ادہ کیل جات تماکمہ اڈ کیرحت و ہت و سن سے ا سکیا رت سے ال وس
ہو مکفرے۔ لبغراا نے فورافیصل کر دیاکہ مترىی فو ہہ من نڑیں. الس نے سوچاکہ ننانوے تو یی
ہیں جب تذبہ ی نیل فو پپدرے سوکیوں نکر وں؟ اس نے راہ بکو بھی ن٠ کردیا۔ پچھر جب عالم
آدبی کے پا پیا قواس نے با اکہ ھی فو کیوں ممکن نیس ؟کیارکاوٹ ح انل ہے تہارے اور یہ
کے در میان؟ ق ٹک راو سب معاف ہو جات ۓگاکہ ووذات اناو سک مففرت دالی ےا کا و ھرمان سی
ےل نے ضر روا ہو نے انی جافوں گنا ہک کے تع مکیاے اش ھکار عمت سے مال وس نہ
ہو ا شبہ ال تھا ی تام کنا ہو ںکو ہے وا(ا سے پلا شبہ ىہ بڑانغطورالر ہم ے“۔(ا زمر (
اہ تہ کے لئ شرطا مہ ےکہ تم ا لگا ہکو فو رآ سچھوڑدداور اہ علاقہ سے پل جا اور ایک
یئ سے فلال فلا نا مکی وہال ھہ خیک لوگ اوڈ کی عبات میں مشخول ہیں ؛خم ان کے پا س ےہ چا
اور اکر النٰ کے سیا مھ عمیادات ہیں مشنول ہو جا الند نے اسے راہ یل ہی صوت د مجر ای رحمت و
رر تکا جیب ان ہار شرمایا۔
چ رگم ت ولصار
ہے ار فواد اور لصا و عبرت سے ىہ واقعہ الد کے النا ند وی کے لے جو نفس و شیطائن کے
چتروں یک سک گنا ہو کی دلدرل یل سر تایاڈدٹۓے ہو ئے ہیں 'امیی کی ایک رو یکن اے۔
اایوائہ کے پر ہر جزع یل بہت سے فواد لو شید ہیں۔ ٗ ٰ
+ اپ اللہ تھاٹ یکی تیم الشا لن سن ر حم تکااظہار اس داتعہ سے ہو تا ےکہ صد قادل اوراخلاصس نیت
(/ لو ۱ر 0ن ٰ
۲۔ انا نکو جن تھائ یکر حمت سے میا حال میں مال اور امیر نہ ہونا حا می کہ اسگد مت سے
الو یکفرکک بیاد تق ہے ساد کی اضاغیت کے سار ےگناوم لک بھی ا سیر حمت کے ایک قطرہ کے
مق ایی ہ نل گۓ۔ان رتِك واسم المغفرة (النجم) وسعت رحمتی کل شییء۔(الاعرات)
ما م کو ماب بر فحضیلت حاصل سے اس تحیق تکا صلی اظہار اس حد بیخدٹش مو جو دے۔ ہے 2
عبادتگزار بر وہ عالم زبادہ فخشیلت رکتاے جو خوا ہکم عمل ہو میگ ن اہ عم سے جو اسے الد نے عطا
7 فماے اس تکی, مر جمال مر نے والا کہ ای کرات ےت می نز ند مگیاں سفور خائیں
ً کے ج بکہ ہے مم عباد گزا رکی عبات ا کا اتی ذات کے ے کے
چنا یہ اس واقعہ یس بے علم عباد تگزارر اہب نے اس تح کو موم ںکردیا۔ مان جب دہ عالم
کےا یا نذ اس نے تفیقی صور تال بتلائی اور اس سے فو کر والی۔ یچی ع مکافائتدہ سے اور ایل ع مکا
شید ءٗہ وو تھا لن ناس ہوتے ہیں_
شیا ٰ 2
٣ تال ع کی مزا رکز اس یہی تب عوسی یٹ
لوس زاے تفوظار ےگا_ ٰ
ایل عن تکا قیعڈ ظا کا ہف قال مففرت ے۔
ھ۰ بل ای شالن اد را نکا ھی فرمیضہ ىہ ےکہ ول کو کو صرف اکا مکی لیم بی نہ دس پگ ان
کر ن ےکا ریقہ بھی لاگیں۔ تی کہ اس الم نے نہ صرف مہ بلایاککہ تہادئی یہ ان ہے لہ
"> بھی جا کہ اس کے لے می ںک کر نا ہ گا و عم لابااوراں> تل کا ضر رتہ جار
رت بھی عالم الغیب ہیں ہوتے اوران کے اججتماد بھی ملف نو سکتے ہیں جیسے اس واقہ ٹیش
ہوا وت شقو ںی بات کے تی لن چوکہ مت تق نے د کیک ہو تیب
ْ رت کے فہرشتوں نے سے لے لیا۔ ٰ
2 'ائل علم اور علا ءکا سب گ شرق اور لوگو ںکو وہ ہرای تک راہ رگاس نکر بی یو
چدوچہ دکرناے کی مج رم بر عدود اک مکر یی اککان الم ن ےکیاکہ اکے سان ا نٹ نے سو کا
احترا فکیالیان انپول نے اس پر حد اد عکنے کے ہجاۓ اسے نوہ دہرامت یا راہمیلف رما 1
وی تاب ول ۳ سس ژمہ داری ے۔ ْ
۲۲۰
کرک
تس اررے ے
ٰ یں وںمدڈ ھا
مم شُرواو درد لو
ایب
ہیر
مع اکے سف می قھام زادو سامان سے کی ہو لی سوا کی او شی اگ ہکم ہو جا نذ ماف رکاکیاعالل ہو ا سے مہ
میاذی شو رفس پت نیں۔ رج کہ ددا وس ہکا ہوادر موت آگمول کے ساےن رآ ی گر
اڑاک ا کاو ش ہیں سے مل جائے وا کی خوش یککاعا : بھی دیدٹی ہوگا۔ بن ہکی تہ بر ایند تھائ یکا خی
ا لممائرے ۸ں زیاد ہد کی ے ہجوز نر وا ال ہو چا ہواورا ینک اے زندگی ل جاۓ۔
مس الد یث: صحرفی2م
روی مسلم لی صحیحه عَنْ مال قال: :ف3ستٹست0+۷
لله َشْد فَرَحًا بتوَة عبدِو مِنْ رَخُل حَمَل اه وَمَرَادَهُ عَلی بَمبر ُمْ سَار حَی
کان لاق می رض - َال ہ نل وسر کیا
لی خرن کش ا نز تہ نان کی کی تگال کان ہیی ات خر
ہس و مت و سی تار تب بد
ِنْ ھَذا چنْ وَحَ ره عَلی خا۵ع). ”
قال سمَال: عم نی | أهٌ النعْمَانَ رَفع ہٰذا الحدیث لی لی 7 اما
آُنا فلمْ أَسْمَعْهُ معه ۔
تیاور بث :
ا ین ھر ب کے ہی کہ ای مر < تہ تحقم ان جن بجی رنے خطا بکرتے ہو ۓےکھا:
”ال تھالی ایۓ بندہ قب سے ال فی سے زیادو خوش ہوتے ہیں جی نے ا از سطراورانی
کا متحین دوغیر کیا اونٹ کہ لادااورسخر کے لئ یل پپڑا۔ ہا ںات کفکہ یک و م ران بیابان مس جا بھچھا۔
اے گار یذ سواری سے اترااور ایک درخت کے نے شیلو کیا سی ]کھھیں نیرے پ و مل"
72 شیت می خفیہ لہ شش چلا” سی سور شقن ضرل تک دوڑ جا جال
ضس ال نر ۰ ۱ ْ ٰ ۲۲۳
کر جار مالین اسے پلھھ نظرنہ آیا۔ پچھر دوس کی ضزل کک دوڑ جحلا کرجا رامک رھ نظ رہ آیاں بچلر
تقبس ری ضز لکک دوڑ جاحلا شکر مار پاچ بھی ہہ نظرتہآیاچھرددوایں مرا یہا ںک ککہ ای مج آگیا
چہاں اس نے تیلول کیا تھا۔ اھی دہ ٹیا ہو ابی خھاکمہ ا یاکک ای اشناء یں ا سکااونٹ چا ہوا گیا اور
انی باراں کے پا تد می ڈال دی۔ نواس اوئٹ کے لے کے وقت اس بند دکوجوخو شی کی اللہ تی
کون وگی لو۔ہ سے انس سے زیادہھ شی ہوک ے“۔
تار یث:
کیج مل من ولغ بن بشی تاب ال قوات۔ باب اض می ات ور ۳۵۳
مج انار بی کاب الد عوات ' پاب التوبت_ااء ۱۰١ .
تق راف ریش
ریم زانہ یں سواربی کے لے جےگھوڑے اور اونٹ و خر وکا بی استعال ہو ج تھا تو صا بیابان اور
صجھر ال کے مفر کے لج اونٹ بہت زیادہ مناسب جانور تلبذ الوگ صعح را کے سفراونٹف سرب یکھرتے
ھے۔اپنا مام زادسفر مکھانا چیا اور د گر ضر وریات اونٹ > لادگی جال ٠ں گیا زدگیکاساراسامان
اونٹ پر ہو جا ھا حر امیا نسالی ز نگ یکا مراراسی اونٹ پر ہہو تا تھا۔ال یش دکی در تقیقت مو تکا
نام ہوٹی ی۔ ۱ ٰ :
7- شض 022 تھ می حادشہ می آمااور ا سںحکوسٹر کے دورالن ین کی نواس نے اک در خت
کے نے آرا مرن کااراد ہکیا۔ سوا ری سے اترااور تیند سے و مہصل آ گکھوں کے سا جح مگ رىی نین یل
ایا جب بیدرار ہوالوزر 0272801 او ما زرادسفمر اور سمانزوسمامانع کے جا بات ٹین اطراف
- 6 لا کی گر اونٹف زہ نظ رآیا۔ تجھک پا رکر ابی ز ن گی ے مالووس ہوک ای
درخت کے یی ے ٹیش ھگیا جہاں سویا تھا۔ ا اتک جو س مایا ف دکیاد یکھاکہ ان لکااونٹ اپنے سازو سامان
یت چلا آیااوراپٹی ہار اس کے پا تھوں میں ڈال دی ا سکی خوش یکاکوٹی رکانہ نہیں تھا۔ '
ہنس رولات کے مطابق خو می میں اتاد ہوشل وگیاکہ بے ضیال یں اکر اٹھا: اے ال داد می را
بنرواور یس متبر ارب (نتوذ پاوقد) ف ما کہ شی اس ند ہکواونف کے ماب سی کے حالم میس نل کی خو می
ہو کیا تھا یکواپنے بنلر ہی وب سے اس سے زیادہ خی ہو ی ے۔
ا۔ نیادی طور بر فو فضیلت تو کی لعلیم اس عبت میں د یئ ےکہ فو ہک یکیافضیلت سے۔اور
تہ ایا شل سے جوایشرر ٹ الھا لی نکور اش یکرد بتاے اور تو کر نے دائے بقدہ برا ہیر حمت ہوٹی
فسوریے ۲۳۲۳۴
ے 0- کے 270 ار نے کے 1ر2 گیا لو کرنے والابندہاپے رب کو رکا رہاے اور وہ
ا سی رف درے۔
5. سس یدع یر گی صف تکااشات بھی ہو جا ے' خوش ہو اکیاے؟
وس کے متحل قکوکی نمی جاتا۔ بہ رکیف اتتاضرور ےکہ ا سکا خوش ہو رو کے خوش ہو نے یی
ٰ رخ ہیں ے و کے خوش ہو ا ہے ؟ یے ا کی بلندشان کے عطق ے۔
ںاہ بات داش رس ےکہ اعادی ٹس جہاں بھی الہ تا یکیے لع مفصوص انسائی ات و ٰ
تحروصیا ت کات کروسے مخلا ا سکیل با تق ھک خبوت سال لکا خدت ین کا شموت وغیمر دو غمروالن صفنات
کے متاق ىہ عقی و ہکھناجا یٹ کہ ىہ قمام صفات ا کی بلندشمائن کے نمائس مناسب ہو گے -
7ے بن ہکو پر عال یس قاط اور اپٹی ضروریات کے سام نکی حفاظت پہ تیار د ہنا چا نے اور اس سے
ال نہ ہو نا جا ےک یہ اڈ دکی تی میس اور انسا نکی لاز ھی ضروریات می شال ہیں ۔ اس نحص نے
اون فکو پان سے اخیر تیاولہ شر و کر دبا اور اوٹ ادعھر اُدھر پھا گ میا جس سے اس سر نا ی ۷ ۶ .- ٰ
ہوی۔ انی اشیا کی طاظت بھی ضروری سے اور ىہ شر جا ہطلوب ے۔ ٰ
۲- اس فی نے ج فرطے جزبات میں الفاط ۓ اوٹٹف کے سض ے کے وقت تو ىہ الفاظ الیل اط اور
ٰ کفریہ ہیں لیکن اس نف نے بر ہو شی کے الم یں ایک الیل بے اختا رکی کیفیت یس ادا گۓ اور
ات بہاں ان کے ذک رکا مفقصمد صرف یہ ےکہ اا سکی خو کی شر تکااند ازہ ہو جا ۓےکمہ خ گی کی اس
کیفیت شی ا سک ذچنی تو بھی بجی کگئی شی لیکن مہ ا کے خت غلط لمات ہیں ممکن ےکہ بد یش
ا سے احاس ہو اہو اور ال نے استنغذا رک لیا ہو ۱ ٰ
۵ یہاں سے ہہ بھی معلوم ہو اک تق ليکف رکف رپاشر' ین یکفریہ الفاط ولا تکو کان یا نکر ہکفر
یں ہو جا۔ خود ق رآ نکمر یی می لکئی مامات پر اللہ تھی ن ےکغار کے سخ تکفر کرات نل فراۓے ْ
گإںٴشُلَا:قالوا إِن الله فقي رو نحن أغنیاء“ سىممتت کماکہ :اڈ تما لی
و وٹ ہے اور پ"ھم مال در ار ٦ں( او( الثر)و 7 ۵۔
ناس میں: رس نے کہ سے الفاظا و حکما تکی <کاہت اور ا" یں 12 رہ ٰ
جا اور انیل بیانكرنے کے ساتحد ہیا ان سے انکہار بد گت دیزرارکی کے لے فورأاستیاذہ کے
رات جج یکہدد جے جاسیں طلَانعوذ باللہٴ یا العیاذ باللہ و غرہ۔
۲۲٤
ق لم
سو ولرک : ۲۲
(وانائلیٹ علیھم آیا:زاژم ایمانً)
اور جب الع پر مار گیات حلادت کبيالی ہیں تر اگے ایمان کوبڑھاد یق یں۔
ائمان ون
اضافہ کرنے وا لے
وائیات عہرت
ىر ری
ے ۲۳۲
انان جس جچن کا عز مکر نے اور ا کس یس ج کچھ سے انکر نے تواد ای اس کے لے را وکھول دیے
ہں- بترول کے تقو یکی ادا نی بہت زیاد اہم سے۔ ایک ایے 72 وائعے بیس نے اپنا شر اد اکر نے
کے لئ اپناف رح لو راکیااور اہ کی وسا نہ ہد نے کے پاوچھ داتی بساط بج رک وشن لک رک توا دنہ تما یکی یی
نصرتکا مشاہرہ ہوا۔ ” نیت صاف مز لآسالن کا محادردایے دیاوفت بو لا جانا ے- ۱
تحص ایر یث:
روی البخحاري ٹی صحیحه عن أي حُرَبْرَةَ ظله عنْ زسول ال 8ڈ : (أَنُ
لج سی تی إنرآھیل ان يُلنۂ الف دشار نَقَالَ:
تی بِالشہَداء أَْهدمُمُ نقال: کئی بالله شُهیداء قَال : فاننی بالکفیل: قَال:
کی بل میڈ وی
عَلی أحَل مُسَمٔی, فخرج في البحرء فَقضی حاحتد نم تمس
کا جھٹ سی سو ید ا فاعد 20ت
وی کی
فقَال: للع رع تع آئی تک تس کا ال جساں نَسَاليی کیا
فقَل: کفی باللو کفیلاہ فَرَضیي بك, وَسالتي شھیڈاہ فقَلت: فی باللّه شَهیدًا
ری بكہ وی حَهّدت ان َحد مرکا ليَث إِلّہ اي لہ فَلَم اَفْيِرْ نی
اَسْتوْدِعُکھا.
"ری بَا فِي الْحرِ ختی وَلَحّت فیوء تم انصّرفٌ وَخْر فِي ذلِك يَتَیسٔ
مرکباء یَخرج لی یلو مرج الرَُل الْفٍي کان اَسلفه .نظ لَعَلَ مَر کا قڈ جاء
بمَالِيی فَإذَا بالحشبَة ةِ الٰجی فِیپا الْمَالُ فَأَحَنمًا لأَحْلِهِ حَطبْاء فلمًا نشَرھاء وَحد
الخاق فََحَد
ہے
ُ قدِم مَ الّذی کان أَسَلفهُ 5 بالألف دینارء فقال: ال ما زلتٗ جامدا
فی طلب م رکب يك بَالك فا رَحَدتُ تَرکيا قب از ایت فی قَالَ: ھٌل
کنت بَعنت إِلی بشّئٰء؟ قال: أَبرك آني لم سڈ مَرکبا قب اي حن فی
قال: فنَ اللہ قد أُدٌی عَنغ الذی ؛ بعشت خی لتق فانصرف بالألف الڈینار
رَاغِذا ).
ترجرائر بث :
ضرت ابو ہر م ہر سول اکرم پل سے روابی کمرتے نے ےی ا یی کے کت
سکا کر ف اک : ۱
تی ےک لیے ا وت 7ئ5 اس ن ےکھاک ہگ وا :لا
شا کیں رت کے اس معاملہ گواونالول' رش خواون ےکہاکہ :ا یکو ا ی)کائی ہے۔ اس ن ےکہا
اچھاکوئی نیل (ضامن )لے آ2 کے کہ انی میراضا ناو رنٔیل ہے۔ ای ن کہاتم نے چ کہا
اورایک مفمرر و بر ت کک گے لن ای لے سد ینار اسے تمرح دے دئے۔ ٰ
رن مین والا اپنے شس یککام سے سمندرس سفر ب رمیا اور اپناکام پور اکا فارغ ہو نے کے بعد
جب ائن ےس جو رآرنے کے لئے سواری شی وغی رہ حائ کی جاکہ اس بے صواد ہوک ای
عظرردت رجوائر نے معن نکی ھدوا ئی قرض سے لئے جا تا ےکوئی سوا ری تہ کی سال
نے ایک بڑ یککمڑیلی 'اسے اندر سے کھو دک رکھوکھ ا کیااور ہنرار دبینار اس میں رک د کے اور اک جیا
تر دنین دانے کے نا ملک ےکر رک دیک پچ راس ن ےکھ وی ہل ہکوا بھی ط رح سے بت دہکردیا۔ اور اے
ےکر سحفدر پر آمگیااورد عاک کہ :
”اے الد ! آپ جانے ہی ںکہ یں نے فلا آدئی سے ہنرارد ینار ٹر کے طور پر لج تھے اس
نے جٹھ سے ضا معن ماگ نو میس ن ےکہاکہ میہ اضا صن الش تی ہے۔ دہ آ پکی اعت پر اشحی مہ مگیا۔ پچھر
الین ےگواہکا مطال کیا نو میس ن ےکا میرے لئ اللددیگواہ کے طورپ کاٹ ہے۔ وہ آ پکیاگوای یر
کس ان ےا رکز تی کن یں جن و رس
تک گخ ول لان میں اس شی ںکاسیاب نہ ہوااور اس ق رح کی حفاظت آپ کے ہی سرد
کر جہوں“ ب کہ کر ال نے وونگڑئی سمندرہ ٹس پیک دی یہام ککہ دوپاٹی یش داخل ہ وگ ۔ گر
وووائیں لوٹ آبااور وہ ئل رسک یکی< لا یم رہاکہ این شہ رکی طرف نحل جا ئے۔
ٰ اھر وہ تن جس نے تقر درا تھا ئل (سحند ری طرف ناکہ وجھے )شاب دکوئ یکصت ٢ کک
الیل ےکر اچانک اس نے ود یککڑی جس میں مال تا بھی اسیا نے ا ے گیا عو گر کگحر
ویک
ضس ال ےۓغ
وو ںکوایند صن می ںکام کت ےکی ۔گھ رجا 0170 ان اس یس اپنامال اور خطبایا۔
رپ دنوں بعد قرض لے والا ضس ٢ گیا اور ہنرادد ینار ل ےکر اس کے پا آیااو رگن لاک
۲۵
ٰ ای مم میں ملس لکصت کی حلاش می ر اسم تاراما ل ےک تمہارےپاس آئوں نمگر بے اب
سے ق لکوت یکس نہی۔ ۱
کن ےکہاک ہکیاتم نے مھ یچانھا کے کہ :یس یں با اہو ںکہ می نے اس سے
پل ہکو کی سوار کین یا یکہ اس میس ٦۳٠۔ا ن ےکہاکہ : بلاشبہ الہ تالی نے تہاری طرف ے ادا گی
کردی سے چو تم نکی میس یھو ۔ ہف ااپنے زارد ینار لن ےک ککامیاب وائیں لوٹ چاو“ :.
تر ایر یٹ :۔
انار ی رکتاب١ تلخالہ- باب الکغال والش مر ل(۷۹۳۴م)
ار ار یۓ
بی وافعہ بت ہب سے “ایک طرف الل دیپ ثررت ر پر اور دوس ری رف دووں آریوں ے
خلا پردلا لم تکر جاے_
رج زرانہ یں لوگ عم ہے ےسب ری سز 7
تچارنی مقاصد کے لئ سفر بھ یکرت تھے۔ اس نیس نے ق رتس ماہگا تو احصوا اس نےےگواہ ما کے پا
01 وددافگار نکر ٹپٹھ 'اس ن ےکہاک کاو ھکوئی نکی ہے اللہ ہر عجکہ حاضر سے وو دک رباے اس گواہ
اہول وی یرہ لے لو کو وکا ہے ن اچاچ رکوی امن ی نے آ اور وس
ددددرے دک تہارک رف سے
ایت ےکباضامصن چھ یکوٹی نیس ے 'الشد ہی می راضاعن جھی٤ے۔ ووااس بر راصی ہوگمیااو ر کے
گا تم نے پ کہا دونوں کے دلوں میں اس فقرر اغلاص اور سھائی مع یکہ دوفو نے ایک دوس ر ےکی
با تکودر صت 772 ۔ چا یراس نے و میدےدیا۔
اس شف کوا پلک ایک کام سے اس شمرسے دوسرے شم جا ماود راستہی در اھ لیر
کم کے دوس رے شر چلاگیا۔ جب ھ ش رص لو با ن ےکا مفررووقت و ٹب پل
اکر قرس لوٹادے لان دریا رکوئی کصقی نہ ی۔ بڑکی کک ددوکی مین ناکام ر إ۔ قرتس وقت رلوٹاتا بھی
ری پت اس نے سج اکلہ ابتی کیا
کو شش شکر لین می ںکوئی حرج نیس 'اس نے تق رخ کی وا لپ یکی ان ھکھی راہ ڈکالی کک ڑ یکا الک تنال یا اے
اندر ےکھو دک ھک وکھ اکر دبا جب اس کے انر بیجہ لہ نگ ٹوہٹرارد ینار اس یش رکود تئے اور اس
کے من ہکو مضبو شی سے بن دک دیا۔ سا تجح بی ایک خطا بھی مایک کے نا ملک ہک اس میں رک دیاادر پچ الد
صصس٠ ےت 67820 ۹ں کاخ
نتالی ے دعاک یک :
نے الد ا حترا رکو مقرردوت رش وائی کر نے کے لئ میں جو پچ کر سا تھ کیا اس سے
کے میرے مس یں میں ہے یس اس امام تکو تیرے جو ال ےکر جابو لف جا نا کہ می کی حیت
می ںکھوٹں میں سے اے الین !ا کو نا مت مالک مک پچیارے “اور پھر و کب یکا ینہ ددیائمر دکردیا۔
دن وال ےکی وسعصت ظ رپ ی' لیے وا ےکااخلاص اور خی تکی 7ھ
اد تھالی نے ووکگڑی مال ککواس طرع ببا یکہ ددوققت مقررہ یر ددیا رس ےکارے پیا شا ھکوئ کسی
آے اور مظم روش ا کا رض وائیں لال رر رم رو ا نایا یو سن
نک تھا اتک ال نے د میکھاکنہ ایک مڑاساحن بای ٹل بہناہد ا آداے۔اس نے سوجاکہ چچلواسی ت کو
نے چتاہوں' گیٹ جلانے کے کا مآ تےگا۔ یہ سور مک اس نے انس“ ۳۷۳99۷۶ ؿ8 والوں
کے جو ا لےگھ دیا۔ جب اسے جلانے کے رماع ے2 707 لے 2رت ا ہے ون کے
سانے تھا۔ ایک ہنراد د ینار اود ایک خط جو ای کے نام مک اگ تھا اس یں موجور تھے وہ معلسشن اور
شمادا لف رحال اپنامال ل ےک فار رح ہوگیا۔
چھد روز کے بعد وو قرض لن والا فیس آیااورجراردینار رٹ ش کھی مرا تھ لایا ۔اسے خال ا
و نلڑی ا س کک نیس جپچی ہ کی لیفرا چو ا 27ے ارت رن اکن تن رکز
یی پر یکو مشش رب یک کی طر حکشحی ور سواری اص لکز کے“ ا و ٰ
پچیادوں لین میں سوارىی حاص٥ لکر نے کامیاب نہ ہواٴ اب ہہ تمہارا تر لایا ہو اسے
لواوراںل ے کلمڑ یک اکوٹی نکرہ ین
کہ صاحب مال لکی حیت بھی ھک بھی “ہاگ جانا لک یکا ملنا جم الیک وہ شوت کو کی تھا
ٹیس لان اس نے ۷و جاک ہکیانخم نے پھ مم ری طرف کھیجاتھا؟ تقر داد نے جو اب دیاکہ : یش نے
کہا کہ میں اس سے شی لکی سواری کے تصول می کا اب نہ ہو یکاکہ تمہاد بی طرف تا ۔دتھزییکی
بات ا ھی جیا فک نہک اور اسے پیا تاب اب صاہب مال ن ےکہاکہ میھے تمہار کی شببی ہ وٹ یککڑی تل
گئی تھی اور اس می سے ارد یناد بھی مل گئے تھے اہذائش ای وصو لک کا ہوم اپے راد
د ینار ل ےکم رکا ماب وائیں ہو چا
نر رت واصا0
یہ داتعہ اتی نو عحیت کے اعتبار سے جہال منضرد اور د لھپ سے وہیں ار جاب بصیجرت و دال کیل
شیحت ےکی بپبلو بھی ا ہاگ رک تا سے مہ داقعہ ہا کی اتا گی بے اور بے شی رب یکسلنۓے ای کک ینہ سے
سام اریت ٰ ٣۳
تم پا ا یراد رھ جوسئ رک صد تک کک
ا_ ال تھی نے انسا ن کو انسن کی دیادٹی ضروریات گی یل کارب جنااے' یہ اسان اتھاخرد ٰ
,2 ں :انت ہوا ےگ - و729 کین نی نا ن ال تنا یکا م
ے27 جب ون ضر رت مند تمہارے پا ںکی ضرور تکی بل کے کے ای مو رت
لوس ضرورٹف پر یکر ےک یکو مت کیاکرو کوئی قر خو اوت سے قر ضس ماگے تاس قرضس دے
دہا مرو اکر اگ تماستطاعت رت ہو
ن دن کے معاللات میس تر ےکرنا گا نا زادرضاسن یا کشر یت کجھی سے اور نیائجم ریش
رون ۰ی 7ٰ2 موائحع ام آجاتے سکہ جھاں ىہ سب میم ر بنا مکل ہو ما سے اورد بے
والے کے لج فیصل ہک نا بڈاد شوار ہو جا سے ج بکہ لین والے کے لے نین وہل یکراتا مل ہو
ے۔ ن مکور دو اق ہکام رک کی اور بذیادٹ یکگنہ دائکن اور حد ادن( شر دی وانے اور شر لے وانے)
رولوںاٹثر ای فی تاور شی اور سای سے جس ناس یب و ۶ سے ٤ٴا سو مم دیا۔ ٰ
بھی سھاکی اور حی تکی در گی ہےکہ دای ئل کی شبادت اور ا ںکی مان تک وکاٹی کے اور
کون کے جح میں اے مو لک گار ٰ ۱
سمل بجی سحاکی سے جو مرلو ن؟ وودت مرج یر قر خ لکی ادامی کے لئے بے یی نکمرو ہت ے اور وم
ظا با١ تعانہ من تخت ڑا رما ضر ار الہ فص کر کے
اور کی ضی تکی ماک ے جوم لو نکو راد ینار روانہکر نے کے پاوجود ممکن یں ہو نے تی
اوردوبار: ہر ارد ینار نے کر وا می کے سا مے اکھڑ ا اک رو جک
نی ت کا می اخلاکی 7 ہوتی کر ۶7ے ے کے پاو وہ دیون سے جح وصول ہو ن کا افرا رکراد تا سے
عالا تل وہچابنتانو مز یہ ارد ینار وصول پبسٰ 0
لیم ٹ کہ مواملات می ںاگر میت صاف ہواورولول لکھوٹ نہ ہو تق پھر داضت ارگی کے ا سے
بی عیاحبات ظہور میں آتے ہیں۔
7ن ضرورات من درکوصب استطاعت قد ینا ھی کی اور اج ے۔
ور 2 مقمرو کی زمہ داری ىہ ےکہ وقت مقررہ یر رکا دای ہد ا کر ے ارد یکو
- 090 ٰ
ا کے معاملات شی الد پر وک لک رناانسالنا کے بت سے معاملات کے لئے خی راف رجہ خا یت ؟٭ ا سے ْ
اورج تن اللہ بر گھرو ہک اے اللداس کے ل ےکا فی ہو جات ہیں پ1
۵ ابا تکو؟ تی نان اور ا سکاخو لین حاص لکریاکہ جتترا رکوا کان پیا نیس ضر ور ے۔
۲٣۲
عض بریع سے سے
رف اتاکائی کی ںکہ صاحب عف کو اس کا فی ار سما لکر دیاحجاے۔ ناو فا اوت نوز
تک تق میں پا ناس کے این حا کم رون کے ور ہے جیساکہ ال واقنہ مل
22 ن ےکی وانڈرائکم
٣۳۴
ضس الرےۓ
وت
موم نکی خبیت اس کے می سے بپنڑے
کر
رسول کر مم پش کی ایک عد یٹ سے کہ غض موی نکی نیت ااس کے مل ے بر ے“۔ہر مل کاایک 2
ہوا سے غیر عل می سے جانے وانے عم لک اہمیت نہیں ہہوئی۔ نماز کے وقت میں خدمت خن کر
عادت غیں بہو تا اللے ہی صد قہ اى یکو دیاجاسکساے جو صد ہکا مصرف ہو شر عأورنہ صدقہ معجر نہیں
لیکن اللہ تحالی کے یہاں ذاصل میں خی تکوویکھا جا تا ے لیت او ات قالط عم لکو بھی نیت کے اخلاع کی
وجہ سے قیولی تکاشرف حاصل ہو جا تا ہے ایک ای بی تن شکاواقعہ جو اط عجگہ بر صدقہ دے رہ تھاگگر
۱ بی تکیادر شی دج ےکہ 070
ایر وئ: ۱
روی البخاري عن اي هَریّرة ظلہ ات رسول اللن و : (قال: َال اك
أَصدَقن یصدقةٍ فخرج بصد یو فوَضَعَهَا فِي يد سَارقء پاٹ تجتشرة
و لے۔ ۳آ
ات علی سارق.
نقَالَ: اللّهُمَ لَكَ الْحَمْت لأَتَصَدَن بصدقة حرج بصدقیعِ فَوَضَعَیا في
یی زَايیة ام یس : تَصدّق الليلةَ عَلی زَايیَة فَقَال: للهْعٌ لكَ ا
علّی زوا لص 802-0 بصدقة.
"' افخرج فی سز با فَامبَخرا بَحَُون: تصَدّقَ عَلَی
غبٍى فقَال: اکٹ نت کی رق و وَعَلی غیی!!! مَاني)
فقیل هُ: ا صَدقحك عَلی سارق فَلعله ا وف عَن سرقدء وَأما الرَايية لعل
اذ تشَیف عَْ زناھاء وت اي لم َء هن کا عُط٥ الله ).
ترحرۃۃ ایر یش :
مضرت الد ہ رم سے روایت سے کہ رسول اش مگ نے ار شماد شرمیا:
”یک ننس ن ےکہا(دل میں عم رکیا کہ لآ رات یس ضرور بجھھ صدقہ دو لگا۔ پھر ودانا
صدتہ نل ےکر پا لان (او ھی میس )ایک چور کے اھ بر رک دیا۔ تع ہو کی نول وکوں می جج چا ہوااوردہ
افش بنانے لگ ےکہ رات ایک چو رکوصد قہ دیاگیاے۔
ا کے کر
اریت
ای ا ا2ی هی کے لے تام تریف سے( جکی رات )م ضرو رب صید تہ
درو اچ ددایناصد تہ لب ےکر پا یکن( ھی مس )ایک زامہ وفاحش عور تکودرے دیا۔ سر خکولورگ
یھر جا ٹس :نا نے گ ےکہ آرخ رات ز اش کو صد قہ دےد ایا
۲ اے الیم !لبیک تھا مآ پکی: یٰے(مآ رت رات ت) ں ضمرور گج صدرقہ دو گا 72ر
ووا ناد تہ نل ےکر یا اور 2اا ھی یس )ایک :الدار کے ات بر رھدا ۔ کولوگ چہ میلو یا ںکر نے
کک ےکہ : مالدا رکوصد قہ د گیا
ٹ۳2۳م700 رف ہو کر نے لگا:اے الا آپ ہی کے لے تمام ریف ہے۔ ایک چو ر یک زم
اور ایک الد اد بی مہرے جن می ںآ ئئے۔
(خواب میس )اس کے پا سکوکی(فر شت الا )آمااوراس س ےکہاگیا:
”ہا کک تھہارے چو رکود ہے یئ صد ق ہکا تلق ے ت2 (اس سے د لگر ف نہ ہو)شابیددوچور
الک ب رت سے جچو رک سے لو ۔کمر نے (کہ جب الد تا لی اس طر غ یب تج رز قفا اکا نکر جا
سے فیس چو ر یکیو ںکروں؟)
اور مال سک زا کو صرتہ در ےکا علق ے تو(اس سے بھی ںا لی مز ےکی شض وو تین )
یکن چم اوج سے زناے لو“ ارنے(کہ جب ال تھا لی اف کسی ناح _کار اب کئے رز یکا
سامان کر سک سے تی اپاگنا ام7 0
اسی رع الدا رک صدقہ دسینے سے تھی (د تید ہون ےکی ضرورت یں شای دکہ ووااس کے
درم اعقبار پی راکرد ےکہ (ىہ شف اتا جچس بکر اد کی راوٹس خرر کر ہے ) نوہ ھی الد کے عطا
گر دومال ںا سے خر نکر نے کاا تا مکمرے' 1
خرتالریٹ:-
کا ار یک کت ب ال کوا ۸ پاب اذا تیر تی نی وو لا تلم سر .اع
ٰ یئ مسک تباب الرکواؤر اب نمو ت اجرا ضرق ۹۳۰.۰ ےر وادالتماٹی ایض سند_ ۵۵/۵
نے لے
7 ایر ہث
انی دکی راو ٹیل صر 2 ' من اور ! اپ و 7رح کنا ال ہکو نے حع حبوب سے “ حدرحث پالا ٹس
آحفضرت چپ نے ایک اسلے تن س کا واتعہ بیان فرایاے ” ین کی ضر کر کک اون پر
ہوااوراسل نے عمز مک یاکمہ اش گی راہ یل ا سکی رر ضاجوٹی کے لۓ صد ت کر ےگیا۔ ملف ا نما نوس کے
: 7 ۔ہح۔ : ۱ ۔ 7 27 سو 7-0
ازفا تفع کی حین تے کات وت من لح کوفا او ال تاد مخف ہو جاے نکی
بی اس مج شس سی سید ا سی سک ا سے یس سے ےی سا یا کے لم ا جا ا ا ا اد ےکا ند کک کٹ وک سا راہ جا رر ےہ ہر ہہ ہں ںہ
٣۵٥۵
صص اور برۓ "
کوروزو ےگس یکوخ دس شقی سےاو ۶ ک یکو صید ھکر نے سے۔ اضسمان کے ول میس چککہ ما کی
حبت بہت زیادہ ہو لی سے کرای ۰ 2 پا کو یٹ ماد وت کن ہرس بات
بھی ےکہ عمو) جکی جشئی زیادہ خقیہ اور ۶ بک کی جاے ا" اتی الا والی ال کے خزد یک زیادہ
قابل قبول ہوکی ے بس نف نے مع م۴ اق گ٣ از میں نے مر ضز کا جا
ک۹ یکو ضیرم ین وا ےکو بھی بیع شہ جے۔ با شہہ ا گی عیت بہت جرداور | بھی تھی لیکن اوہ تی
کی مصلحت اور حکس تکہ جب اس نے را تکی جار کی می صد قہکیا تہ ایک چور کے ا تح بر رک دیا۔
ٰ کی می سو رو ار/فویسیمسظ
سے یا یس ؟ صدقہ دے دیا۔ بی ہو کی نول کون میس بجر جا ہوگیاکہ ایک چو رکو صد قہ دیاگیا ے اور لوگ
یں می با تج کر نے مگ ےک می نے چو رکوصد قہ دےدیا۔
یس تعننیس نے سنا ق بذاو لگر فی راہ می نے تو اخ کی خاطر جج کر صدقہ دیالیکن وہ
چور کے پا تحھ میں چلاگیا۔ ال نے انش دک تھ ای فکیا اور عز مکیاکہ تح رات پھر صدقہ دےگا۔ رات
کو پچ رص تہ نے .کر پا فو ایک بدکا عورت کے ا تھ می رکھ دیا۔ کو پچ را وکوں میں ہہ بات “وضو
منفنکو ب یک کہ رات اکک فاحش کر مم تہ دی ایا کت وو ار سام
گی اوراس جا تکا عز مکیاکہ آ خکد ات دوباردصد نکر ےگا۔ رام کو پر صد قہ نےکر پیا ون کے
لا ھی میس اک اداد اور خر سن فرد کے باتقھ پر رکھ دیا۔ سج ہو کی لوگ 7 فی خی ات
ت ایک الد ا رکوصد قہ دیاگیا۔ حالا لہ ماند ا رکو صد تہ د یناجائء ہیں۔
اس تشخ سکونیایت بی ری ہواکہ تو بار ا ںکاصزت کی معرف کے ہیا ےل کہ از
سجن فرد کے با تح میس چل گیا می ران نول ہار صد قہ ضا ہ کیا و0 و ا کا
سوگمیاخ اب ٹیش اس نے د بیکھاکہ 27 وو ا ےن
تہاراچورکوصدقہ دنا ھی ال کے نزک مکمت سے خالی ٹیس تاور حکست یہ ")+0
ان سی ب رک سے جو رکو چورکی سے لو کی ا .ضا ےک اسے لی ری سے
رزق تلر پاے نو شاب الد بک روس کر کے پور کی سے فو ب۔کھر لے۔
ای رازہ وفاحشہ عور کوصد تہ و می بھی ازفہ تال کی ملک وڈ رہ 020
مت ود ت ا لیا وجہ سے ای ب رکا کی سے وہ کر ےکہ جوالہ ای ش مکو فروشت کے
رزقیدے سکماسے فویچھراس سب فاش ی۲ مک یاضرورترہما لی ے؟
اور وا رت یز ححزرت تس" 7 ای گی راہ یش این مال کو تخربخ
ھن کاخیا لآ اور اسے ا کی قوش نے اذ اخ مر تید +وکبیر و خاطرنہ ہو تمہارے خننوں صد تے
اع أ۲
ول ہو گ٠ئ۔
واقعہ بجی ےک اللہ تعال کی عمتوں اور ممملھتو ںکوا زان نہیں مھ سکم عو
فلط اور غلا فی خُر لیعت ظرآر ہو تا سے لین اس کے اندر اللہ تال کی بہت سے حتیس و شیدہ ہو تی
ہیں۔ اس شف نے صدقی یت اود ول کے اخلاص کے سا تد دق دیا تو لن ا صلی مم ووصد ت
خی ر کل یل چلاگیا۔ ہا جان اوج ھکر نملطاور خی مل یں صد قد یناحائز شیں۔ مال اس بات کا مہو
کہ فلاں خیش تعن نہیں اورش ری مصرف نہیں سے و لد یناحائز یں
اس شر کا ایک داقعہ نب یکر مم کی مات طبیہ میس بھی شی آیا تھا جسےامام سو ا گٌ چُُ
شی لف لک ےک
رت زیڈ جن اخ نے ایک باد مسج ایک شش لکو بد ینارد ے اور سے دکیل اک
دوکسی ت کو نکی طرف سے دے دے۔ پھ دم بعدانکا ام نک یکام سے مسد می یت2 (اس
مت نے وودینار م۲ نکودے د بے )معن نے وو ینار نے لے ا نیس معلوم نہ واکہ ىہ وین اصل
الن کے وال کی رف ے صرت ےے ہیں۔وود ینار ےکر اپنے واللد کے ال آئے۔ یز یکو جب
تفیل معلوم بی تا سپا ازیار کیاکہ الناکا بنبادەد ینار نے او رکراکہ :ال دکی نمی نے سی در ت ےکا
اوہہ کاپ( ١ہ قد نےکر ول لخد مت می حا ہوے۔ رسول لہ
۱ پلک نے فک اور فیصلہ فرماتے ہو ئ ار شاد فرماا:
نے بزید ام نے جو خی تکی تھی ہیں ا سکا اج مل ےہ رین
سے“( ملم ۶9۱۶۳
ز سر2 ان راز یں ارادہ نی کیا اکہ ان کے
بٹ کول اور مم یکوچ ملا نوا ھی میس ملاذ ا نکسلے ات ہو گیا نہوں نے صدقہ کچ ھکر کی ںکرا۔
ند رت ونصارک
آے ل تال کے یہاں ا مالس الات ایر ہوم ہاگ ہم ل کی اہری صورت بھی
مجر ہولی ہے اور ا مال شر عیہ یش دوفو ںکوقیش نظ ررکھنا ضروریٰ ےکہ عمل صا نکی صورت اور
اہ ری شکل بھی نی شرمیت کے مطالق ہواور یت بھی درست ہو۔ دوپوں یش سے ام کک قران
بھی مل کے اج کو ضا کرد یتاے۔
اض مر حبہ ع لکیناہری صورت تش ری اکا کے طالق فیس ہل اور قرو خلاف
مر لت نظ رآتے ہیں مین نی القیقت ودای کی بہت سی و شید و تو کی بناء بر خلاف ش ریت مر
آتے ہیں اوران بیس اصلآاختبار نی تکا ہو جاہے۔اور می مطلب سے نی ملل کے ارشاد”ذوۃ المؤمت
تد سد دی سی سم سس رسس وچوجحسی در رز میں نئ ری ا چس ہہ تی ںےہ ہا ں رجہ میییں
ہے ٴ ۱ ہگ
91ء/ یوما یس ای اہ
اور زاس وی ہے لکن ملک شل می می قر وی دا ہو جال ہے۔الے تا یک میں
کی صفائی براجروٹذاب عطافر مات ہیں۔ ٰ
آی صدقہ وپ ماف کان افا ءا شا مرن ماب ہ کہ اس شی راگاریا وی کے
لیا ن اگ رکسی مصصکت ے علاب اور کو ںکو اکر دیاجاۓ فو جھی جانتزے۔
انان لاوقا ت ای کا مکر ا کسی خیت سے لین ال کے ارات پھ لیے سرب ہوتے
ہیں من نکا!نس ان نے ادرادو بھی کی ںکیا ہو ما بللہ ا نکا اور بھی اسے کی آیا ہو جا۔ اللہ تعالی بندہ کے
کہ ہی سس فاحشہ اور مالد ا رکو صر تے
ہے ہۓ وار ےج
"ا کے خواب مرا ت میں سے ہیں اور نبو تکا جج ا لیٹس وال حصہ جس اٹھی می سے ات سک ۱
ولب گے جس ک ذ ید کے مد کو در اد لکہ دو کا اود
ے۲۳۴
۲۳ً"
ا ات تھا ملس سے ھت نع ےج وا تد سرد ..ر ہی سار رد سرسر سد رس سس سا ا ود رد .ارسود حور یسل ۰سا سا اسر رش رسس تسا یں یر سورد نی ون ہد می تھی س سور سۓ ج یئوس :دو جودی .ہی چچ ہنیہم ما سے تونجاھ مسسور ہے وج یعبات پسسے ےبد ہے ہی
صوارزیع
نیس واں قصت رس ٣
و۲۰
سد ےکا مطکااد راس سے نے ر ھی
ہیر
رص دجو کے پپجار یں سے مھ رک اس دیاش لاچ ٥ہو ل کے مت لئ داقعات شب وروز مشظاحرہ شی
آتے ہیں۔ مال ہد نے کے لئ انسما نک اکر نے مین کرجا سے *کعئی دعوکہ دی 'فراڈ سےکام لیا سے سے سب
یھ جرایک پر دوز روش نکی طرع معیاں ہے۔ ہو تک یکی اس مسوم فضاشس مال ددوات سے بے رخ کان
واقع کیا ہمارے دلول پر مھا ی ما لکی عحبت ج لک یکا باعث بن ےگا؟ شابید...... یقن ہن ےگی...... مر اس و لکیلئے
اس ت جز بات سے اس اق ہکا مطالع ہک ےگا-
ری
ورس میس ظا مُریْرََ لہ نا لَ قال: انی
ےا را شتری رَخُلُ مِنْ رَُل عَقَارَالَهُ توجد لح ل الِْي اٹ شترّی الَقَار فِي
"۳ یی نتَال لالب ا شتری العتَار: عذ ذَعَيكَ بئی؛ | ِنمَا
ریت بِنك الأَرّض) وَلَمْ ابع مِنك الذْھب.
َال الَذِي لَهُ الأَرْض ٴ: نما بعتك الأَرْضَ وَمَا فِيھَّا فَِحَاکما لی رَحُل
َقَالَ الّذِي تَحَاکَما إِیْه: أَلگُمَا وَلَد؟ قَالَ أَحَدْمُمَا: لی غلامٌ وَقال الآحَرُ: لی
حاریّق قال: ندرا الْعْلامَ و خض ات ۹ ا ا
صومعةف می ا
تر ری ض
قال حمید: فوصف لنا ابو اقم صیفة أَبي هُرَيرَة ( لصبفة رسُول الا اك
ین دَعه کيْفَ حعلتٗ كَنيَا فَوٴقَ حَاحِھًا تم رن رَأَ َو لو شوہ
فقالے: پا ا خرَيْحٌ آ اُنا أُّكَ کلَِٔی, 1-2 ُصلَيء فقال*: الله ر۳ وَصَلاتي ۱
ال رھ" و
فاخحتار صلاتدُ فرجحعت؛ نم ہر عادت ِي الثاتّة فتَالے یا گر" أُنا اون0
فَكَلمْی قال: الیم سی وصلاتي فاختار سا فقالت: اللهُم ! ان ہذا حریج
وھو اینی انی کَلمْتهُ فی ان ا يْكلمی اللهُمٌ فلا تِته حتی تریە ماب
صس الر یے
ایت ظا ا اک ئا
قالَ: وكاكَ رای ضان اي لی ذَیْروِ قَال: فخرحت رآ من الْقِةَ
فٹ مم مھا ابی خلت فلت غَلامء نل لَهَا: مَا مُنا؟ قالتٰ بِن
صاحجب مَذا الدیر قَالَ: فَجاءُوا بفؤوسِھم وَمَساحِیھم فنادوہ کاو اتی
َال: فَأَذوا مو دَيْرَهُ فلمًا رای ذلِكَ نزّل ليْهمٍ ا سَلْ مو
قَالَ: تسم مَسح ری الصّبيٰء فَقَال: مَنْ ابو ے؟ قالَ: اي اي الضّانء کَلًا
سمُوا ذْلِكَ نہ قالوا: بی مَا مَدسًْا مِنْ بر باللحب وَالَفَضّقِ قَال: ا وَلَكِن
أُعِِدُوهُ تر ابا کَمَا کان علاہ ).
جار مث
حضرت الد ہر ٹف ماتے ہک خیچ پیش نے ار تاد شرمایا:
7220 ادگی ہے دوصرے آدئی سے ا سک یکو کی جائدراد خر دی خر یوانے وانے نے اس نر یینی
جا راد یل ایک ملکابد فون یایاجھس میں سونا کی رابہو اتھا_. خر بورار نے فروش تکننلدہ ےکم اکہ انا “۲ یج
سے نے لوم نے تم سے ز شن خریرک ہے ( من یں مف١ن) سوہ تی رید( جار گی عوض
کے بہ نےلوں)۔
رسک ور از :یس نے فو تھہارے ما تجھ ز مین بی بیس نیتی کیہ اس
یش جو پھ سے وہ بھی تمہارے پا تھ فروضش تکردیادونوں میں اخلاف ہوا وی ھی دہ سوا لیے کے
لئے تیارتہ تھا) لیک ادوٹوں اپنامقد مہ ایک دو مم ے تخس کے باس نے سے اور اسے خاا بنایا۔ ال نے
01 :ہیام س ےکس یکا اولادہے؟ ایک ن ےکہااں میراایک ڑکاہے۔ دوس رے ن ےکپ می ری
۰م۲]
ایک لڑکی ے۔ خالٹ ن ےک یاکہ ایل ک ےکا - گر دواور ال سونے بی سے ان دونوںل > :
مج اور دہ دو" :
چالٰخاربی ۔کتب احاد یت التیاء ٦ء ۵۱۲
ٰ 3 مل کراب الا قضی_ ۳م ۱۳٣۴۵
تق رت ا رش
ال ددوات“سونے جا ند کی اور دنر ا موال دیاکی عحبت انساٹی فطرت میس شائل سے خود شرن
ب+ىصىہيۃظ+ٌٌٔٗسی:۔ - ے ۲
ریم میس بھی من تعاٹی نے ار شاد مایا سےکہ : ”لوگوں کے لے خواہشا تکی محیت عورفوں ے *
ر کول سے 'سونے جاندی 2 بے ہے مر وی سے نان ژد ہگھوڑوں ے> مولیجییوں او رھیتوں
سے ھن ری کر دی ئی ہے“( عرن)
فطرت انال تد ہگی نو ہو نہیں تق پنزاىہ بھی من نی کہ انسان کے ول سے ان اشرا کی
عبت شخم ہو جا اور نہ تی ہہ مطلوب ہے بگمہ لن اشما کی حم کو الڈ دک عحبت پر تقر با کرد ینا
مطلوے ے۔ الد کے عم پان اشیا کو اور مال و دولت دن اکو ٹربال نکر دیتارہ مود ہے۔ چنا خی مال
کان کے مین ط رقوا سے الد نے م کر دیاالناسے رک جانا خواوالن عل رلیقو لس ےکتناہی ما لکیوںز
۱ لے ضمرودی ہے۔ لیکن بجی بای سے جن سک وجہ سے انمالئ الد ے اور ال کے اکا مات سے سب سے
زیادہ خلت کرجا ہے رز نز ین نے دنیائیش فماد برپاکیا ہو اہے 'با بھی ص دگر تقابت کین بروری'
نض د عناو یا بڑگیادجہ بجی ہے۔ا کی نخاط لوگوں نے حر امو علا لکی قیٹ رضم مکردی ا یک وج سے
ھکڑے ہوتے یں اور می مال ہے جوا سی خم مر نیا نل انان ١ے کر داد چاے_ ٰ
ال ودوات سے عحب تکاس فضای۲س لی انسا نکاخوف لی یا مناء بناج 7ز تر ام اور کس مال
سے ابا بکر ن ایک شی ر موی بات اورالھ کے خزددبک بلئی ف رو قبت رک والا عل سے۔ ۱
عدسث پالا بالنگردوداقعہ مال سے بے رش اورد اسے عد م عب تکا یب واقعہ ےزرو
ہزات سے لب سی اٹیب نال او ہکوکی یزاس کے لے مان بھی نہ ہوا سے للنے سے ' پچ ربھی
اکی شی گیا مغاء پ کہ یہ دوص ر ےکا سے کم ا رکم رات ہ رگم نویس اسے لیے کے لے تیر نہ ہیک خی ر
حول باتدے۔ ۱ ٰ ۱
بی گیا جیب ال کی شالن ا ے کیہ صرف نم یداد ھی کی دہال نز ین فروض کر نے والا تھی اتا
ای دیاضنقہ ارہے۔ خ دا رکٹتا ےک ہ ھے زر شا نک یکود اہی سے ہہ ڑکا جو زور جھاج رات سے مرا ہو اے ملا
ہے ہہ لیقبا ہار اہ ٹم اسے نے لو جواب مل بیچیے والا کنا ےکہ نیس مہ مہ انی یش نے زین
رو کرد کے اور جو ہلھ اس یل تما ود سب بج تمہاراہوگیا۔ دو نول اسکو لیے کے لے تار نہیں :
طاہرے امتمازروجھاہر کا و جا یں ما الا خر اک تیرے خی سک و عم اور مال زا اگمیا اس نے
سو جیاکنہ بیو نو 2 تم ینہ ہوگاا کک یدوم ُ تل کا لنا جا ۓ_ ۱
چنانچہ انس نے ان سے کو جاک تم لوگو ںک یکوکی او لاد سے؟ ایک ن ےکہاکسہ می راایک لڑکا سے
دو مرے ن ےکہا می ریااک کی ے۔ الف نے فص ہکا النادونو لک با م نا جعک دیاجاۓ اور پر
ماراالی تصف تصف النادونوں پر ر0 گر دیاجاے اور یھ مال ال راوس صرت شی ادیاجائے۔
نال کا یصلہ شی بہت عھدہ سے الس اختیار سے کہ اکی نے سوج اکہ جنب مہ دوٹوں اشنا می اج
2س٠ رسرغ 0180 ءے-.,-ٹ۔,,ص,ً 8ٹ8,84,8,4,48ە8ە9 ۳م۲۳۴
دباضر ار یں وش یتیاان اگ ااولاد ھی داضت اراورخوف خدار کے والی ہو 1 -۔اور جب ا کا ریا گا وان
گی اولاد بھی تخہاحیت شر یف اور صا پرا> گی ۔کویاا نز پ2 یف اور صا اولاد کے و جو وکاذر لج
یہ فیصلہ ہو جات ےگا۔
۱ 7
چنر رت ولصا0
ت لا شب اس واققہ می ھ ید ول کے مارے ہو ے جمارے معانشر واو رکیل بڑے نیت 7 موز
٠ دياضقرادگی ایک الیبامبارک وحف ےکہ انس کے ممت رین تار اوھ تھا لی دخیاٹس انسا نکوتحیب
فرماتے ہیں اور آخرت میں وخوب بی عطافرماخیں گے۔
٢۔ اس واتہ سے ما لک بے رق کا جذ بہ انسالنا کے پیداہو تا ے۔
٣۔ ام سے اجقناب اور مشتبہ سے بنا تق کہلا ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ دونوں جخرات ِ
تق کی صفت سے متصف ت جب ہی دوفول ایک دوصرے کے للع ض دک تے رے او رخوو لیت سی
راشی نہ ہو ۓ_ ٰ
٢۳ اس واققہ سے ہہ بھی معلوم ہواکہ انسالنکوالن معاملات ٹل جو بظاہر بڑے کیو لے اور روز مرسہ
یں آ نے والے مس 'اتلا فک صورت می کسی صاحہ راے اورڈی عم تح کو عالت بالینا ہے
”و 11 عحل وفراست اور 2 2 7 کو رو ت کال لاتے ہو" ئے دونول کے در میاان 821 رین
۵-_ یرون ورپ حاصمل ہونے والے مال بی سے صد کرد ینا مسب ہے اراس سے ما کی
بے ۔کقی تم ہو جاقی ے۔
تس ااررۓے
۲۴۶۷۴۳۴
یمیس ووں ےہ بے ٣ ٰ
جہن اس انل کا ایک نبایت عابد وزاد تن تھا ہمہ وقتت عبات میں مشخول ر ہے داٴا ٴلین صرف
سو فان کہ ہو :سشسشہشت
سی
ولشحت ے ری دراناتم الات جات کر
ح۱ الد بت :
روی البخاري لی صحیحه عن أبي عُربْر عن الب ول قال: زلم کلم فی _
المَهدِ إلا ثلاثة: عِیسی؛ وکان 0 نی اسرائیل پک يُقَالُ ل لم حرج کان يَصلي
ُ8ج
فَحَاَته اه فَدَعَتهُ فَقَال: أَحیبُھَا ا و َصَلیء فَقَالےِ: : اللهُمٌ ل ا بے
بی سی ریہ بی
ا کان خر فی صوتَتی ذ فتعرضت لہ امراق 7 فائی -
٣د
راعیا فامكتۂ بکد یں قوا فوَلدّتٔ عَلاما فقَالتً: بن جر 7 نچ فانوف فَکسروا
صوْمَعتد ھ00 سو فترَضا وَصلى ؛ُ 4 ثمٌ آئی لام فمَال: من ابو يَ
غلامُ؟ قَالٌ: الراععِی قَالا: ٠ى صومَعَك مِنْ ذََبي قالَ: لا إلا من طین).
اوداسی --
جحخرت الہ میا ف مات مہ ںکہ نی جکلگنے ار شاف :
غضلکپوارہ بیس سوائۓ تین افرار ےکی ن ڈو نہی کی صحخرت ھی بین ھ ریم نے اود بت
اص اتیل میں اک پٍ-ب7- کہا جات تھا۔ وہ ایک مر < تہ نماز پڑت رہاتراکہ ای دورالنا ا کی
الما آگفی ادر جم کو بلای۔ اس نے ول ش کہاکنہ : یل ما کو جواب دول یا نماز حجار کی رکھوں؟(اور
اب نہ دیا ما ن ےکہا:
"اےال لاسے ا وقت موتن دہج می ککہ یہ فاع دای ور قول کا نہ کہ نے“ ٰ
اگ بار 7 تاپ صوم(عاد کی ایک منوس بد جس پر ججر اہو اش تر
میم ار یٹ
مہا ہہ حورت آآگی اور اس سے (ہ رکا رب کی ) خوائش سک اس نے اکا رکھردیا(اس کے دل
سگرہ می )دہ نر ایک تچ واسے کے با سگئی اود ا لیکو اپے آپ پر ددرت دے دی(اور انل سے ۱
برکارب یکی )ننس کے منخحہ میں اس کے لڑکا پیر ہوا اس عورت نےکہہدیاکہ سے جمر کا ے لویل
(خصہ ہیں کچھ رے) جم کے ماس ے اور ا ںکاصومحہ ڑدیا اس یئ اجارااور بہت برا بل اکہا۔
اس نے وس کر کے نمانز می پچ راس و مولود لڑ کے کے اس او (اس ب ےکو اط بک کے )کیا:
اے لڑ ہے را با پکوان ہے ؟یچہ نے (جوابھ یوار ٹیل تما )تاب د الہ رو ]۔(لوگو ںکواٹی
لی بحعبیہ ہوااور)ا نہولان ےکہاکہ :ہم تمہاراحصومعہ سون ےکا بناد پیے ہیں .جج ن ےکہاکہ ہیں
ہم سار ےکا بی بنادو“_
رع ال یث:
2 انا رگی ۔ک اب اعاد یٹ انا نیا ء٦ /ء٤۔
2 اب پ الب روااصلۃ۔ یاب رم پر الوالر نی :2 امیا
تر ار ہے
۱ بر عدیٹ لف معظابات پر نف لک گنی سے اور امام بخاری و ایام ملم رت ما الہ دوثوں نے رر
مقامات برا انی 2 میس ا سکی آ حر کیے۔ ۱
جھوعور وایا تکوسائے رکھاجاے فو لو رے وا ہکا فی نز یھ اس طر بغما ےک :
”سو لکر یچ بن فا اکہ :فو مواودبوں یس سے صرف تین ای ھگزرے ہیں جنہوں نے
نو مولود ہو ن ےکی حالت میل .2 فشک کی ہے( جو ایک مستبعد بات سے )ایک لوخظر کی بت
مر علیہ اسلام تھے جنبوں نے ابی الد و ضرت می کے می ی گواہی دی تھی۔م یم۳۸
دوس اوہ پچہ اجس نے جر تچ عابد کے ح می ںگوای دیی تھی _۔ جم بتو اسر انل ٹس ایک ہڈا
عابد وزاعد شف تھا۔ آبادگی سے باہر اس نے اپنا ایک صومعہ بنا رکھا تھا (صو محہ ال ز مات ہکا ایک
تخصصوضص عمارت ہو لی تی جو خمائص عماد تگ و کے طور بر ہی استعال ہوپی حر وع زوا
تھی اوراوبرکی ا سکی تنک ہوتی تھی لی یج سے اوب ہکی طرف جاتے ہد بنکر رت مار تکی
چوڑا یل یک ہوتی گی حائی ھی)۔ ٰ
جن عابداس صومعہ میں ہمہ وقت عمادرت وبندگی می مشخول راتا 09۳۷7 تو0
اس کے یا آئیں نود یک کہ وہ نماز میں مشقول ے۔ رسول اللہ یل نے جرت کی ما کی ہعیت جم
اناو فرکہ ای نے اپاتھ ے ای گھول سر سا یکر لیالاک وکلہ ج ب گی اد شی چ کی
)۴ ۃ.
نس اارے _ ۱ ×5 ۱ ۲)۵
مرف دج نار و ڈگ سور نکی شاو سے جیے کے لے ہکھوں پر تو ںکو چا نا لیے ہیں 0
ا سک والدونے بھی ہ عکھوں پ ہا تق ھکا ھا ہ ناک )اسے س راکرد سے ریت ٰ
کھاکہ ج چٹ تج ری ماں ہوں ہج ے با تکر اج یج کے سساسئے ا لکی نماف می ( ال اسے نماز یل
وو علاوت عل ری و 01 الہ راد ومر کی رف موجہ ہونااے گمراں اگلزررباہوگا)ا نے دم کا:
اے الد اک رف می ری ماں ےدوس بی طرف نماز (کسے اخقیا رر وں؟) آخ اس نے نما کو بی
ایا کیا مال وائیں ہ وگئی۔
دوسرے دن پھر مان وائیل آی اور (صب ول اے زماز میس مشخول د یکھا) او رکہا: اے
ایس تج کی مال ہہول' یھ سے با تکاس نے پچ ر(وگل یں )کہا اے الد ایک جانب مب ری مال
ہے دوس مکی جانب مب ری راز سے (کیاکر وں؟) آخ ما کو ہی اخقیا کیا مال (ناکام) دای لو فگئی
تیسرے روز پھر وائیں آکی تو ج مع پچھر نماز یس مشغول تھا اس ن ےکہا: اے جج م!( یس تی ری ماں
ہوں) اس نے دل مم ںکمالہ :اے الد !ایک رف می لی ہے فو دوس ری رف مب ری نما ز سے
ایا رکروں؟ نم نما زکوبی اختا رکیا۔
مار مین رو زکک مال ےکی سا ات اودا سےگفشگو یش کائی سے مجن گور ارے فص
کے جم کو بددعادی او رکہا: اے الد امہ ج می رابنا ہے اور یل ال سے با تکرنا چا ہتی ہو ںگگر
اس نے ( جم ہجھ سے با تک نے سے انکا رکردیا سے ہی حم مدت ند نے ْ
22 7 'افزارگی عور فو لک من دہ لے“ 7
رسول اللہ یل نے فرمایاککہ (ماں نے صرف عور فو لکا مضہ د یکن کی بددعادیی شی ) گر کے پت
بڑجانے ۶ 0 بڈجاتالکہ ما کی بردعاا بیاہی تر مرف بل ے)۔
کاو ارس۷ سرت کہا جو ا انل کے لوکوں میں ج یج کی
عحیاات کے کرے اود جھ پے ہو نے گے وہال ایک فاحشہ اور باز کی عورت دک کی می جا
ٴ سن کے ذد یہ لوگو ںکواتی طرف ا ٦ لکرنی تیاور اس کے مس نکی منالیس دی جات تخمیں ۔اآںنے
لوگوں کہا :جم مکی عبادت کے تم بہت ت کر ےکرتے ب۔ حا لالہ ال کا حا یہ ےک اگ رخم ٰ
یا ہو ویش اسے ای فقنہ میں مار کے دکھائوی۔
چنا وہ زار کی عورت اس کے یا٠ ںگئی اور اس کے سساسئے اپنا آپ یی یکیانر اس نے ظراٹھا
ٰ آر سار شیتفت نک نس سے اس کے دل پ چو ٹگی۔ جم کی عباد تگاہ
کے قرجب ایک ج واہا ھی ر اکر جا تھاچھ بھی ر جراج اتا تھا۔
وہ گور ت تر پا سے لکرا وا ے کپ لک یادراے اپ آپ پ ئا رتچدے ت_۔
ضسر ہے آگڈ,)
دی ال نے اس سے بدکاد کیا جن سے دوحالمہ ہ وگئی۔ جب پیہ پیر ہو اف ال نے جم سے انققام
لین کے گے ہکہنار و غکرداکہ یہ یہ ج7 کے جو اس خانقاوییل رتا ے۔
ہے 17 گکلراڈیاں او رگممضتیاں :۳- یل کی خانقاد ٹوٹ ٹ بڑےاوراے زار او واے نماز
مس مشغخول ایا۔ اس نے الناے بات تکیالوگویں نے ا لکی خانقاہکوگراتااور نہد مک ناش رو عکردیااور
اداے پے اترنے پہ جو رکردیا۔ بج نے جب ہہ صور تال ھی فو یئ اتر آیا۔لوگول نے اے مار ا
جس نا این ےکھاکیا ہوا ؟ل وگوں ن کیا ڑٰاایوزق زی یراز لی ےاورایہمنان
سس ا 71ا ال نا ری و
یی “نمازیو ھکر واپیں لو توا وگ اس یی ہکو نے کآۓ جس کے مت قکہاجار اھاکہ ىہ تھ مگاے۔
ج تن گی سی مکراہٹ کے ساتحھ یہ کے سر ح با تد اسیبرھووب ا
ذداسا شھوکادیااور اس سے ۷و الہ ےل کا7 مر ابا پکولن ہے ؟ اس تن ےکہا می راباپ فلا تو
سے جھ ھی یں جج استاے۔ ۱
و مولودپ ہکواتاوا ع کا مکرتے دج ہکراور ا کی ز پان سے جم ت7 کی سرن
لوگو ںکو تخل آئی_
ہے خفل عوا مکا نی حال ہو تا ےککہ ججہا لگ یک کوک بات سن لی یی رشن اے تو یکر
خواووہٹاز ہویا کم کچ راس کے متقابلہ می دوس ری بات کی نو اے قبو لک لیا وہ مھوٹ کی شقن
کن تی بات جو جہہالت او رکم ض
مرح سلوگو ںکواصماس ہو اکمہ پھم نے ج7 کے سا تح ہت ذزیادک یکا ہے۔ چناغچہ وواسے لن اور
ال کا بپوسہ لیے گے فرط عقیرت سے۔ او کے گے کہ : ہم تیراصومعہ (خانقاواسونے ناندیی سے
دوہارہ نی رکر بی گے اس ن ےکہاکہ نمی ا کی ضرورت نیل اس تم اسے اس سک سابقہ حالت >
لوٹارواور کیا کادے جیا سے اسے رک ارووٴ چا لو گو ان ا سے دوبار بآم دگرویاں .
ند رت ولصا
بے شمار عی فو اور نشیحت 7 موز پلؤں پر مل یہ واقعہ ایک باشعودانسان کے لئے تجد
و رکا عائل ے۔
ا ای واتی 77 لیم اور میق قوما ںکی لمت اور اس کے نکی طرف اشار 1کر نا ےکہ مال
اتی تیم تی ےک ہ ا سکی موی ی بددعا انا نکو نا تقائل لین تو فور لے زوا
ردق ہے۔ چنا یہ حد یٹ یں رسول ارد مرکا ہار شا دکہ :اگوہ گور ول کے فینہ یں ما ہو جانے
7
0)0 چوس لیے سصرس ےا اسم ساپ ہی یی بیرمی ںویسد _سہوسوو اپمپوچس ونود بنہرے سے بد سہب ہے ر2
ض رن _ ۴۴2
کی بد عاکرکی تو وواس میں بھی با ہو جاتا ا سکی متفحیقت او ری یکوخوب اح اگ رک تاے۔ ٰ
اں وہ تی ےکہ در بکا تنات نے ععرف ا کو ىہ ون دیاکہ اا لک خاطر بندواے ر بک
ارت بھی فوڑ سا سے تم یہ ےک اں اکر ار اوررسے علمنہ ہوک بٹی مز میں مشخول ہے تو
کو نماز فو کر ماں کی بات مفنا جا یئ اور نماز بعد میس لوٹالی چا ہے _ تح ماما نے فرما کہ فرص نماز
وتہ اوڑے جب لہ کول کیوس چل ماد 1 مازہا ںی کارب ڑکاے۔
٣ ما لک ناف مان یکا تہ یہ ہو نا ےکہ انسالن انی قمام 7 عیادت و ریاضت - لو کی کے پاوود
رن یکاشکار ہو جاتاسے اور ما کی ناف مال اس کے لئ بہت سے مصائ بکا سیب بن ای ہے۔
حر ین سے بہ بھی معلوم ہواکہ اللہ تھائی اپنے کیک بندو کو ہ رع مک تبھت اور عیب سے پاک
رن کااہتمام فرماتے ہیں ججیہاکہ ج تیعابد کے سا تھ ہواکہ الد تال نے اپ در تکا خر معمولی
اظہار فر مایا اور یا لے میں بڑے نو مولود ب ہک وگویاکی عطا فرماٹی اور ا سکیا زان سے جم عابد یر کے
وانے دا اور ” ہت کو مٹایااور | نی اک وصاف کردیا۔
ا عور کا نہ دمما کے ختخول می سب سے شلرید خننہ سے اراس سے بچناال ای کے فل کے
بغیر بہت مشکل ے۔ رسول اود یچ نے عور فو ںکو شیطا نکی رسیاں ای لے قرار دیاکہ شبیطان ان
کے ذرییہ اپینے جال یس انسافو لکو اتا ہے اور تضور اکس ما نے چہالماد یر فتنوں ے ا کی
نہ ماگی سے عورتیں کے : زنر سے بھی تخصوصیت کے سا تھ بنا اگی ے۔ عور تکا تہ اجھے زا سے
ٰ نیک اور مھ را روگو ںکو بھی ما اگردچاے۔
۵ مصسائب اور بر نی"ائیول شی ج 2 بر واستتتقاعت اور رجح الی اش کا ا تما مک متا ہے اور ال
عبت یبال ک0 کی درخ و است پک جاور | یل ندم اکر جار چتاے نو لو و محورسٹنۓنو
پر الا کے واسلے اخ مکار راحت اور تی رکاذ یہ جن چالی ہے۔ جی کہ جھ س22 کر ہو
7 او تی کان آز مان یں وواش کی طرف رجورے اور امتنقاصت کے سا ت ھ انل پر یبای
کیاسا من اکیا نو نہ تا ہی نے اس محیس تکوان سان گی در جا تکااور اع ازواک رام کاذ راچ بتادیا..۔
٦ حدیٹ الا اولیاء ال کی کرابا تکاشھوت ہے بلاشبہ اولیاء اش رک یک امات بر تی ہیں اگ چہ
ٰ اانکی بزر ایروا ی ےکسلنے ش رط اور ض رود نہیں میں جج !کہ لوگ مہ باعل خیال رت یں-
۔- کب راہٹ اور معیبت کے وفقت ر جورم الی الد اور الد سے استتاح ت کا سب سے مب کن طررتہ
مازے اور می اتبیاء ہم السلام اور ال اد ہکا شمبدہ ہا ہے مج ہے الحابر نے بھی اس خبمت دالرام
تزاش یکی معیرت میں سب سے بط و ضوکر سے نماز یھی ق رآ نکر کا بھی بھی عمو یل
استعینوا بالصتبر والصتلواۃ (البقرہ)صب اور نماز کے ذر لہ الشد سے بدروحاص لکرو_
تص ار رۓغ ہب . ×ح×ہ٭<ى_ ×ًسو سس سے ,۲۴۸
الپ ایما نکو اس پر مل کرت پاہیے۔ آ کل محیبت او پر یلیم مادکی اسباب دو انل بجی
سار ی نظر ری ہاور نماز وا تما لکی طرف مطلق تجہ خی لکی جاتی۔ بلاشیہ وسائکل واساب ضرور
اقیا کرت چا ا اود ان کے استعا یکا عم بھی اللہ تال نے دیاہے لن وس انی واساب پر ایک لو
اعباداور شچھروسے کیل ہو نا چایے اور نظ پمیشہ اڈ رد انی جائے۔اسی رب نماز اور اعمال صا مہ نکی
برکت سے مصائب دور ہوتے اود رمتیں نازل ہوثی ہیں'الل رک فل متوج ہو جا ہے 'ان بر بھی تی"
درٹی چامیئ اور صا مءکامجی طریقہ ہو جاے_ ْ
۸۔- مم ود اور بے دن لوگ دیبدار اور اصحاب عبادت تق کومانے اور یں ےآ برہ
کہ ن ےگا ہردور می کو مل کرتے ہیں لہا تق کی داصحاب عباد تکوا سک گر خی سکرکی جات
لہ ا تال یکی طر ف رج ں کا ہام کرت ہنا اپ ددان تما الو کواورا نکی ساز شو ںکو تم
خرمانے وانے ہیں ْ
۹-۔- کاپ“ ای نقمدربق کے مت کی لا چا نکی پہ ہمت لانا بد تی گنا وک دے اوران چنر
یم ج رام یس سے جن کے متخاق ال تال نے اپ کاب مس حد شر مقرد فبائی ے. شی اس
کے لئے چو مر اہے ووالشہتھالی نے خود تین فرمادی اور ا سکو اک وت ص یک صوابرید بر نی مچھوڑ
چنانجہ بہت ھ2 دج ے عد رف ٢ ہے جو ای(۸۰)کوڑے ہے اور اللہ ای پخیر
تق کے بہت لان رخود گا مخت غاب دتے یں دای بھی اور آخرت میں بھی جی رہ متجم
نف کی برآت کے لئ غی ر صمولی اود خارقی وات امو ۷ بھی صدود فرماتے ہیں۔ جیا مرکورہ
یش ہوایاجیماکہ سیدہ عاتقہ صدینڈکے معالہ یی ق را نکریم کی تآیات :زل فررائں۔
١ ایل اید کے تلق ب رگمالی اور بد نی بن کناہ ہے۔ اور ائل الد کے بارے می ںکو کی خملط بات
سے وا لے و ےک یر تین تل سے بن کے متعل قکوئی بدگمانی نمی کر ےکک
حیطالن اکا یہ بہت اہم ت بہ ہو تا ہ ےکم ایل دبین اور اولیاء اش سے ا وگو کو ب گا نکیا جاے. انال
سے ہنارت زیادہ مور یاے۔ ْ
۷ سم ساسا اف موا د7 سو در و تی نی انح تو ساوت مکی و
سرے - یں
اڑ میں وال تھے ۳۸۵
نال رہ کے اورا یکو ٹیل تمہ تبرت ناگ بات سان آ لی ےکہ ابلپ ق یکوچردوراور ہر زمانہ یش نا وابل لقن
مشقتو ںکیاسا من اکر ناڑا مردجی گنیس خوا تین نے بھی ت نکی راہ ٹل استتقامت پر وہ مصرائب برداشت کی ےک
مر دو ںکو اب ہکردیا۔ فر عو نکی گی ضرت آسیہ بھی اڑسی بی بر عمزم خواتین یش سے گی انہوں نے الد
ع ہو بح لکی رضاکی اط ا نأ کو تقر با نکر دیاادر اہ شوج رکی طرف سے ایا نکی نماطر نے دانے عذ اب '
کوعبر و شر کے سا تھ برداش تکیا...... یئ د نیس اوہ تقعالی نے الن کے سا تج ھکیامحالمہ فربایا۔
ٰ صا یر ب٠
روی أبو یعلی لی مسندہ عن أبي ھریرة قال: رر زخرۃ ان لامرانه
أَربَعَة أوتاد ری یڈیھا وَرحُليْھاء فان إذا فا عّہا لھا الک فقالت:
تھ اوس خی بن عون رََ ا
را را
ضر ت الہپ رم مات ہی ںکہ :
نف عون نے اپتی کی سی کو اخ ز روں میس دی تھ-۔الن کے دوفو اتد اورد ٹول پائؤں
بیڑیال ڈال دیں۔ فرعون کے ( مر رکردہیدارو نے جب النا کے ال سے ہٹ جاتے تفر شتے ان
کر سا ہکرت و٥ رکار ا تی
ما میرے رب!مہرے لئے اہ ت رب میں نت میں ای کگھ یعاد جج اور بے فر عون اور
ٰ بل کے صمل سے خجاتد ہے اور بے الم قوم سے خجات عطاغرا ئئ “۔( ات ری ۱۸)
چنا الد تعاٹی نے بمنت می ا نک اھر ان کے سام -
ای
اخرم اویل صنرہ_ ۵۲۱۸۷ا_ ۱۵۲۲
اورروا 71 ان در الہنثور کیرک
نف یر نر رر چالے' ند
ٹیر . ممسسسسسسسہییے ے9
تر ری
المد کے احکامات سے تیاو زکر نے والے' ال سے بناو تگمر نے وانے ' اس ںکا 00ھ092
وانے نعاقبت نااند لی لوگ 'اشد کے عذ ا بکاشکار ہوتے ہیں ووالشہ سے جب مر ھی بر ات آت ہیں نو
ال تا ی ان کے و نیاوی تفثوں کے اندربی| یں ذبیل ور سوافر ات ہیں۔ مصر کے صر کس اور فرمان
اد شاف عولن نے جب رح دکونوڑدیا رکش یکی انان کو مگمیاادر ریو بیت دال لی تکاد عواۓ باطلہ
گرے ہوۓ انا ربَکم لعل یکالھرہ ایا وا تھاٹی نے ان ںگیادد از ری كد الک مم لیااور متحدد
ارہ سوافرمانے کے بد دا یع ا بکام ربخ بنادیااورر ہقید اتک کے للع نمو۔ نت عہرت منادیاادر دہ اتی
قرام تر عکومت واقتر ار مشمالعٰو ش کر کرو فر اور وسا ٠ نل کے پاوجو دق م قد م بر سوا یکا شکار ہو جارہا۔
بس پچ یی پیدرائشی کے اند بیشہ سے ل(کہ وبڈ اہ دک اس کے تراو ہو تن ےکا سیب ہہوگا ہن راد ما مو یکو
اس نے ح نکر دیا دہ یہ ابی کے تک میس اس کے خہ ہہ بامارہاادرودائشد کے نظام سے بے خجر اپ
ےبرح نے :2 یزور ار ان ٰ
327ئئ) کے د عوگیا بر خوداس کے ا تاس کے مر ہو گے “۔ چنا مہ ال نے فر وا نکی بھی
ٰ کا سگھا رک نے والی ناد م کو اما نکی نحمت سے مال ما لک دیا۔ کہ خودا کی کی نے ا سک خدالی
کو لی من ہکیااور الد و عد ہاش ری کک فذح دکو مان والی ہ ھگئی۔ ج کو روعد بیث میس فر ول نکی یب یی کے
ملق ىی جنلا گیا ےکہ ایمان بر ا نکی استنقامت کے تی بی اش تعالی تن ےکیامتقام عطافرمایا۔
اللہ تھی نے ق رہ نکر مم یس جن چند بلندما مہ اکیزو تین خوا ین کااوران کے بلند ظا مک کرو
فرماا سے ان می ف عو نکی بی کی نحضرت سے بھی ہیں الہ تھالی نے ا میں مقام بعد عطا ف ربا کہ
ایلایمان کے لئ ا میس مال منادیاادرالنکی مل نے یور الی۔
چناتہ فرمایا:
وَضَرْب الله مَثلاً لِلّذینَ امنُوا مرأۃً فِرعَون٭إِد قالتٴ رب ابُن لی
ِندَك تیتً فی الْجنَ ونچْتی من ِرعون وَعحلِه و جُنی مِ الّقّوم
الظالمسین ۔(التحریم۱۱۸) ٰ
"اورالل تھی نے ال جال ان دالوں کے لے پر عو نکی عو 1ئ:. یں
اے میرے درب !میرے داسنے ای کگھراہپنے پا جنت میس متا یج اور جج ھکو فر عون سے
اورال کےکام سے کپنٹراد جج اور ہیا کال سے بے الم ل وگوں سے “۔
حد یت می ر سو لکر مج نے النا ک ےکا ہو ن ےکا اعلال ف رمیا ے۔
7 ا نک اورانام طرت آسیہ بنت عاتم تھا۔ خبایت ائما نار ولی کاٹ اور ا" د گی رمالا بردار
پت نہ - دی رر پر چیا پسمسسریجی! ہر پلطازر جسسبرووےرہ یمر رج سج بے ان نج یڑ ای در
-
ٍَ سے ہے رم رف سس ٦ یہ دی ں0 ل کںگکک تحتتح جیب جیت رج نے
ہے ہچ ضر نے نے مہات یں اس اچ ء ا یرس ری +ہے سس جج جسرں کید || ھن
۲۵
ٹس ار ےۓغ
یں وہر خ اسب سے بڑاہاغی او ناف مان تھا نظرت موسی علیہ السلا مکی بہ ور ش ان کے پا تھوں
ہوگی اور یہ شائی کل یں ا نکی مددگار تھیں۔ فر عو نکوکائی عر ص گر نے کے بعد جب سارک بات
معلوم ہو او رحضرت آسیہ کے ایمان لانے اور ال ہکو ایک مان ےکاعلم ہوا تذ اس نے الن بر مختیاں
2 شر و ںحکرو 9 میں جار میتی ں گا ڑک ران اے باند دا حا تھا دولوں) کھ اور دولولپاوّل کو خوں ے
پان ھکر النا پر داد وہ مسل کر دبا جات تھا ٴا سکب ومشنقت کے عالم یل اللہ ای سے د اکر تی کہ :
اے امیر لے جنت مل اپے ال ای کگھررناےاور یھ ف رون اور اس کے مل سے
جات دجن اور الم لوگوں کے چیہ سے یج پچھٹر ہے “ 7
شابی ع کی ماک مھ رکی کہ اوت کے میم فربنرو کی بیو ی' بیخںص یی یز
رح طر کی اتی لود میں سب ری عو اود یس کے پا تھوں ؟ شوہ کے پا تھوں' ای
مرا کے اکھوں؟
ول سے من د شی جلڑی ہو کی جب دعا ان اث تا یی گوَدگا ٤ حال ہو لی اوران تما ٰ
الن کی دعا کے تفہ یں ا یں نت یل ا نکا ادس کرت بیس سے سار ی مشقتتیں اور خختیاں
یلا آسمان ہو جا تھا_ ْ
آن کر ف عون نے انییں ٠ل سے تب کی مال راس کے کل کی نار راو بی یس
جا کے تی الله کتہاوار ضانا_ ٰ
راو ت کی اس شہی کو ىہ اعزاز ملاکہ ابی آخرىی اب مس ال کا کر اللہ تال نے لور اعزاز
سے فرماااور اس کے ؤک کو قیامم تکک کے لئ حجادکیکردیااود ا لک شر مال یکو قیامتکک کے لے
۲ ایک مموتہ اور مال منادیاائل ایمالنا کے لے ۔رحمہا اللہ رحیند 02301
چند رت ولصاں ٰ
ا۔ ابی تم یک جاگی غخٹیں ےکہ ضا بعد نل لی رے ىہ تذالہ تھا یکی طرف سے عطاکردہ
ہولی سے بج ووماے دیرے وەجاے و 7 171 وی 01,۰ گے حر ت و اور مقر ت لوا
ھی مالسلا مکی بیو یو و کیا اود چاسے ٹوکافرو لکی یو یکود یکامل اور عقرب بیارے جس حطر ے ٦ اھ
ک وکیا تحت امان پر الش کا ہر وقت شر اد اکر چا ےکہ ابلد نے عحض اہ فضل سے اس فقعت سے
سر راز فر میا۔
٣ت ٠ جب کی دل می ابمالن اپ کی سچائی اور اخلائص کے سا تحد داضل ہہو نا ے فا کی کت یہ ہو لی
مہ چ ے٤ تم و تا ایا کے لے آسان ہد جا ہے۔ کردا ا وہ
ٹس ار ےغ ٠ ہہجيٍُہبمجصہىسمیصصہیتہب٤ہ وبرہتیے ۲
لے ہو ئے بھی ” احد اح “کی صدابلن دک رتا ےگر وا یک اکر بھی ”نع ادانہ ہو ا کا - 72 ہے۔ ۱
اما نکی بچی سھائی اور اغلاص تھاکہ رت آسیہ بھی ملا شائی ہو نے کے اوجو وہ علم وست مکو جھیلق
ر ہیں اور ہر مشنق تکو بر داش تک کیا ہیں بیہا یک کفکہ ابی جامنار او مد ایس ربا نکر دی۔
٣۔ ایھا نکی جار رنہ تائی ےکہ ام لِکفراسے بھی برداشت نی سکرتے اور اسے مٹانے کے لے ہر
رشتہکا تس اور ہر خو نکی ضر مت مثاد بت ہیں مس یکزرور بر ستم اورکسی مظلوم پر شلم سے باز نیل
آتے اور اک یکمرب و بلاءس مر نے کے بعد ابمان و مرا تگی ہوائیں لی میں اور اسلام ز دہ ہو
سے بی تخیقت اس ن مکوروہالاواتدرے بھی عمائدے۔ ٰ
ہ*اسلا مز ند ہپ تا سے ہپ کر بلا کے بعد
!س مج نک ناط رظ دم نے وانےاوراپی جالن قر با نکر نے وانے راوج کے ماف بھی ھا نہیں
ہوت جن سک ماطر وہ تم برداش کرت ہیں دداکجیں تھا کھیں چچھوڑ جاور فم دم بر ا کییں ہمت د
حوصلہ صر وا تنقامت اور دولت لن عط اکم جاے اور آ-,ن سے النا کے لے تھی مدونانزل فرماتا سے
یے حطر تآس پر ف رشن سا یکر تے تھے اور نت میں ا نکا ش٦ل ا یں دکھلایا جا تھا۔
۵-_ یمان ایک تیم طاقت اور تققت ہے جس دل کے اندر ہہ داشل ہو جاے ڈڑاے بھی ما شور
ناد جاے خواووہکتناب کرو رکیونہ ہو ور فرمایے اضف نازرک سے 'شای مع لکی عللہ سے ند رجا بھی
کزرور حواوج] گھ یکترو ران جب ایا نکی توت داخل ہو ٹی ے ےہ رکم کے سان مردانہ دا کی
ہو جای ہے بی اما کا خاصہ سےا یما نکی لد بی جار تی لی ے۔
٭چ پچجو :تج حرج تد دہ ںہ ہہ شر رج
م۲۵۳
ٹمس الریغ
انیس واں تھے ۳۹ہ
۱ -- اور یی سکبولا یمان لا٤ٗلں؟
علماء بی اس اتیل بیس سے ایک عال مکانقصتہ جے ا سکی قوم ک ےمم اہو نے اپٹی مر مر شد وکا بکو آسا کراب
کے ہیا مان پر مجبو کیا ال نے جالن بچان کین ایک عیل کیا حے شر لیصت یس ”نفور مہ کہاجا ہے یئ الک
با تکہناکہ جو ذوسشفیا ہو ایک ظاہرکی جا دوسرے بد معف یا سائنے والا انس سے نظاہرىی مضفیا جھے جکہ
کے وانے کی مرا بعر ھی ہوں جوا س کا متصورے_
ار ہے : ْ
روی البییقی 7 شعب الإیمان متا ۱ إِنَ بن إِسُرائیل لمًا طْالَ الأمَدُ
رت ٠ قلوبْھِمْ اخحترَغُوا کتابا ھ0 عندِ أَفنْھُم استھوَته فَلَوُهُم: 2
لْسِنتهُمُ کان اَی يَحُول يَينهُموََیْنَ کییر مِن شمَرََه ؛ تی تیڈوا کاب ال
وراء طْهُوَرهِمْ كَأَنهُم لا يَعْلمُون .
فقال: اغرضوا مذا الکتاب عَلی ً 7[-. إسسرائیل فإن تابث رکم عَلّےہ
فاتركوهُمْ اث الف کم َالومُمْ ۔ وَقَالَ: لاء ٌ ابعَٹوا إلی فلان ۔رحل بن
عُلمَايْهِمْ ۔ فإن تاب کم لن لف علیکم بمْنهُ ا حتے
سی لی فدَعُومُٔ فاعذ رت فکتب رفیھا کتاب 7 تم أَذْعَلمَا فی
و ت۳ لی عق تْْلسْ عَهَا لطاب تم انم شرع الاب
ع2
جھ بھّذاء اہ فی لا اون بھذا ؟ فعَلوا سّلة.
قال: سضیمد ہیں دی سے و یں 07
یت ۔ دختاء کت طاپ آزس رق الف 1 ]
إمرائیل عَلی بضع وَسَْعینَ وق عَيْرُ ہم أُصتحَابُ اي الْقَرِت )
ك۲
ترجر افر یٹ : ۱
بئی نے شحب الا مان یس حضرت عمبداوڈڈے لف کیا ےک :
ہی اص اتل بر جب (کماب نازل بر ارے رر رر و اور ان کے دل تحت ہو گے لو
انھولی نے ابی جانب سے ای کک بکھڑییا نی خواہشات اما لی کے مطاب اور ا نکی زباقول بر اڑے
ارگ یکمردیااور ن بات پھیشہ الن کے اور ان خواہشمات سای کے در میالن دائرر ہقی تھی یبا یک کک
اہول ے الد کی کراب گوس یشت ڈال دیاگواکہ وو جات ہی 01
پچ ران یں سے گی تن ےک ماک : :ا ںکتا بکو یو دی بی اس ا کی قوم کے سان پی یکر و کر وہ
اس یس تہہار یی اتا عکرں فو انیس ان کے حال بر بچھوڑدواو گر مخالضتتکرمیں تا نڑیں غ لکروو
کان ےةکہاکہ : خی بلمہ اکر کہ ا سکتا بکو فلال عا لم کے یس چتیچو کہ اس نے اسے مالن لیااور
تمہار بی اتا غکرٹی وچ راس کے بح کوک ہ رگم اختلاف نمی سکر ےگا تم سے“
چناغہ اننہوں نے اس ال مکو بلوایا(اس عا مکو ا لااندازہ بہ وگیا تھا )اس نے ای ککاغم میااور اس
م سکاب الل (ابٹی آسالٰی کاب )کو ککھا پھر اسے ایک سیگ می داش لکیااور اٹ یگمردلن یل اسے
لالم یا ا وب سےکیٹزے کن لئ پھر قوم کے یا آیا اض ول نے ابنی می نکش تکتیاب اس کے سان
ہے اک ہکییاغم اس پا یمالنالاتے ہو ؟ اس عالم نے اینے نکی طرف اشثار کر کےکیا تی اس
کنا بکی طرف جو سیگ میس بند مین یر لگی ہوقی تھی او رک ڈیاکہ یل اس برایران لا ا وں اور بے
کیا و اکیہ یل اس پر ایمالنانہ لال ؟ا نول نے اسے جو ڑدیا۔
اس کے پچھھ سا تھی (شاگرد ویر تھ جوا ےگیرے رس تھے ہبی لی وہ
اس کے ہا آاوراس کےکڑرے امارے وا" کی ایک سبیٹگ لگا ہو اما ملس کے ان راب ر کھی
وئی تھی ذء کے گے ارے تخمہاراال کے اس قول کے کے متفل قکیاضیال ے جوا تن کہا تھا : نیس
”اس بر ایمان لات ہو اور جک ےکیا ہو اک اکلہ یس اپ ایھالن نہ لال ؟ نو اس نے" ای“ سے آسمالی
تاب مرا ی تی جو سیک و 02
اس کے بعد ہن ا ایل متر سے اد فررقوں میں یٹ گئ لن تام فرقول میس سب سے بت
فرقہااس سبینگ دانے عالم کے سا عھی تھے“
تر افید یت :
رواوا تین شحب۷ بمان۔ ۹۸۲٣۳٣٣۔_
تر ار یش
الہ تھالی نے ہردور بی تفم کو ارٹی :انز لکرد وناب میں وضاح تح ]اور تفعیلا فرماااہے۔ج بکوئی
و و کے 2-1
- کے رر رد کت رر رک دک کہ رش
ٹمس ار ےۓغ ۱ .5 2 ۱ -
وم تی کے مل سے ددچل و ے تاپ اک اخراضماور ال خوابشارغ مالک یی
میں ایی سا کیا بکورکاوٹ پھے لتی سے اوراس کے وا احکاما ت اس کے او ےگ ا لگمز ر تے ہیں ْ
اوروەال اب کے اعکابات ٹیل وہل اور تر ای فکرنے سے بھ یگ ری کی ںکر تے۔ ٰ
یرایل و قوم ہے جس نے قدم قد مب تق تال کے اعامات سے دروگردا یی درس کے
تام ترانعامات کے پاوجودپمیشہ ج بکوئی عم ای مشاء کے خلاف پا اس مان سے اکا رکیا۔
سال ںی ککہ جب ال نکی نشمانیی خواہشات زورک گی اور سال کراب کے نانرل ہو ئۓ مدت
راگ رگئ اور الع کے دل حخت ہو مئ وا نہوں نے اک ن یراب ایی دک رک اور نکھت احکامات
عنی ان سکنا بکواپٹی سال خواہشات اور :اک اخ راخ کے استعال کر نا اپ تاب نوا یا دک ری گر
آسان یکنا بکی موجودگی می اس می نگ تکنا بک و کسے ناف کیا جائے ؟ ہہ ایک ام مل تھا مشورہ
وا کیاکیا جاۓ گ ین ےہاک ہکا بکوقوم کے سران ٹپی ںکردواگر وواسے لی مکرئیس فو فیک
ورنہ ا نک یگرد خیں ماددو۔ ایک ن ےکہاکہ اکے ہجیائے یو ںکر کہ فلا دی جو عالم سے او پلا اور
کے سان کاب یی سکرو دہج کہ عالم سے اور قوم بی اسے بدا تنلکی مکیاجا تا ے لہنراوواگر مان نے تو
سب اگ رو یکر جت ہو ١ے تی رک لیس گے اوروواگراگا کر دے وا تن لکردیاجائے۔
سومان یئاو راس عال مکوپوا گیا 'اس عا مکو چھ اندازو ہوگیاکہ اس ےکیول جلویا جارماے۔
نا اتی فراست !رای واصی رت علھی سے مہ اذہ ہو1ہ گا ۔ نے جانے سے مل انی سان یقاب
وا یناز اور اے اک سپنگ کے ائدربن دکر دیاورال سی ککواپنے لے یس الا کپ ے
۱ ہن لے جس سے ووسینک جج بگیا۔ جب وا لوگوں کے پا پیا قذانہوں نے انیم نکھٹرت
ما بکی طرف اشار کرت ہو ۓ اس سے لیے مھا اہ تھہہاراا ککتاب پر ایمالن لا نے کے پارے می کیا
خیال ہے؟ اس عالم نے اپے سنہ کی طرف اشار دک کےکہا کہ یس فقذاس پرابمالن رکتا ول( مر رای
چنال تج ات جو لے میں للکہ ہوۓ سیک میں بن ھی )اور جج کیا وگ یاککہ شل اس پہایمالنانہ
رکھولں؟ وم تھے ”کہ ہما د گیا کنا 7 ت کاب برا ا نکا اش را رکمر ہے لہةرااسے گچھوژریا_
اس عالکم کے پچھھ شاکرد پمیشہ اکے سا تد رت تھے اس کے اتال کے بعد جب شاگمردوں نے
اس سےکیڑے امارے مرو عفی نکیل نود تا اہ ےش سیگ لگا ہواہے اوراس می النکی 1 سای
کاب سے تب دہىیہ ےک اس الم نے جوا مو پرایمان لان ےکااترا رکیاتھا اس سے مر زی
کس ےت او رخ را بیادکرد کراب ین 80 ساٹ یکتماے 1
عبر ڈیڈ نے فمرمایاکہ :اس کے لیحع ہت اسر اتیل سے زامد فرقوں میں تیم ہو گے اوران شش
سب سے بر فرقہ اس عا لم کے شاک ر دول اور مات والو کا تھاج قب مسلے نم ل کا تھا۔
۲۲
اہ حد یت سے پہلا فاتتدہ ٹیہ حاعل مو اکہ آسال یکماہو ںکی جم بی فکر نا اور النا کے احکابات میں
نر ور ل کر تر ین ہرم او رگن کب رہ ہے بن انس انل اور یہو دکی یہ صرشت مگ کہ وو اضکابات
یہ یش تی فکرتے تے اوران کے علاء داضبار جھی الن کے اس مل میس ش رک ہوتے تھے
دور حاصر مین بھی بج مقرسے زوم مان جد بی اسلا می لگ اور اسسلائی ابا تکی تفکیل جریر
رہ اکر ق رآ نکر یم کے وا اور خی مبرل اکامات میں جا وی کر کے ق ئن بس ت نی فکرن ےکی
اکام و :ام راد جمار تک تے ہیں اکر چہ اللہ ارک و تالٰ کے وعدرۃ تقاط ق رآ کی وجہ سے ودای
ان ناک ج مار قول می لکامیاب کیل ہو کت اور اش تھی ہر ہر فتنہ کے لے عماء تقال یک ایک ججماعت
کوائ کی س کول کے مل جکھٹ ارد نے ہیں۔ مین جولوگ اہین ا پکوملران کت ہیں اور ق من کے
دای اد راب کی احکامات یل تر لیکن ےک یکو من لکرتے ہیں دددد تقیقت بد بین جم کے م رحب
ہواتے ہیں القھ سب مسلمانو لکو اس سے تقو ظط رما ےآ مین
٢ ایک ممسلمان کے لئ ایی سور تمال می کہ اسے جج راس کے دن دابمان کے خلا فکوٹ یکفر۔
بات کے پر ور کم دیاجاۓ اور نہ ماگنۓ کی تصورت می جال کا وا خطرہ ہو تو ”نر “مرج لین اڑسی
با ت گن کہ مس کا اہر کی مطلب مو رکر نے والوں کے صواٹی ہو ج بک نے وال ےکی مراوئی
احقیقت ٹہ اور ہو جات سے “بل پیر ےکی ھکلہ بلا ضر ورت جال نکو خطرہ بیل ڈالنا بھی پیند ید ہ نھیں
ہے۔ جلیہاکہ ال عالم ن ھکیاکہ جھ بات بی اکا اہی مطلب قو مخاضی نکی مفظاء سے مطابن تو
مین تفتقی مطلب دہ تھا جا کی عوت کے بعد اہر ہوا۔
الیماکی ایک واتعہ نا گی ا عظ کے سا تھ بھی شی کیا تھاکہ مسلرافو لکی ببہی رت عبشہ کے
سوب دورسول الع بایان لے آیاتھا بلر اس نے ایک تم ہکیھی جس مج ای اسلائی
مقر ات کے اور اسے اہی گے میس لنکالیا۔ ۱
ا لکی قوم کے لوگ جنیں اس کے دین بد ل ےکی خمرنے مت لکردیاٹھااس بہ عملہ ور ہو نے
وکا نے اس سے این مضنقرات کے مکی دریاج تک واسں نے بھی ات نکی طرف اشثارہ
کم کے مو گکہاکہ بی ال ککادبین ہے جس سے اس لی ہو گی تر مکی طر ف سارہ مقصود تاد
خر اس رح تقر ہکرنااورذومئیابا تک کے انی جالناہپالینانہ صرف چائز الہ سشمنے۔
2 تی تید دج یش مک یکر :۱نسلن کے لے فائکددس ےکی حال مس خالی نیس ہو جاور وہ گی ا ان
کے لئ مین ہیا انار سے فدہ مند رود ہوک ہے۔ جاک ال واق سے ابت ہو جا ےک ی
از یر تفر قوں می سب سے بہت بن فرقہ اس عالم کے شاک دول اور خی نک تھ۔ اور ے اڑ
١سر ارگ _
اس ناکم کے خودساختہ م نگ تکزا بکو لیم نکر نےکاجواکرچہ خقیہ رپالجان بر بھی ال کا
نتر الما کم کے شا ار دول اور پچ کر و ںکوعا گل ہوا۔ ْ
سے تلیم لتق ےک کی تی یکو کا بج ےکر ترک نی سکر اہ کسی وق تکی مع وی
81 12 او ات بڑے ٹواسی کا سب مین جا ڑے۔ ٰ
۳ ریت سے معلوم و اکہ اسر ان لکاسنر ے زاکدفر قوں می یٹ جانا ا دکابات اللہ ہا فو
کناب اد کے اجکابات میل تج ریف وجا وب لکر نے اور شن جا دی بات کو شر لت کے ا کامات ردپ
زیخ کی ناس تھا۔ اد تی نے ا 2 وج ے| ین گگڑوں یں تیم کر دیا تھا
معلوم ہو اکنا مت جم ہے کے لئے بھی کورہ پالا ہا بجرم او گناو ہیں اور ا سکی نحوس تک
وحہ سے آرخ امت میں نر واختار ے اور غر یہ واری تکا عفریت یلا چلا جار اے۔اورال ے
ےک وامر عا لو ر گی امم تکا تم کے وش اطکاما کو صن و عن ول و اع سے لی مکرنا
ے_ اتی مسلرانو ںکو تو عطافرمائے۔آ ین ٰ
ِِ ے۲
۲۸
کی روغ : 00 یٹ'ٹپٹ'ٹ-:كۃبپۃ-ف-++ں+-+-+ : .:-].غ ۲۰
جا 0پ
مش اط بت ف رون 7 مپررااور بہار ارب الٌدے
گکھٹاثڈب جا رک م سکریں :ہکہیں روشنیک یکن موجود ہو لی سے ”ف کی لمت کے ماحول می سکہیں :ہکہی سی ۱
دل میس ایما نکی جنگار کی بھی موجود ہو کی سے 'بڑے بڑڈے طا قرو ںکی موجودگی کے پاوجود نع او تجات اک
کزور سی بستی بھ یکفر کے ایوانوں می مر زہ پیر ارد بی ہے۔ ایک ای اکا اق نککادرد انی قصہ عرت ننس
نے ات آپ پادداپ کین وں کو آخرت ۶7 اگ سے بانے کے لے دنا کی نگ میں خر پال نکر دیا۔
خی الد ین
رری أ مد قی مسندہ عن عبداللم بن عباس رضی ال عنھما۔ قال قال
سول إنژن ی: (لگا کات الب اي أسٰري بي فَيهَا انت عَلی رَائِحَة طِيية
فقلت: یا حبریلء مَا هُذہ الرائحة َة الطبة؟ فقَال: هو رح ماش طأة ابْة ف فرعون
وَأَرْلادھَا. قالَ: قلۓ: ما شَآنوَا؟ قال: -- نمٌَط اب ِرَعَونَ ذاتَ یرم اذ
سقطتِ الیڈری مِنْ یَدَْهَا فقالت: سم الف 08-092 ِرَعَوْث: بی؟
قَالت: لا وَلَكِن رہي وَربٍ اك الف قَالت: ابر بتلك؟ قالت: کی
ذاھ ت فدَعَامَاء فقال: ا فلانةق وَإِكٌ لكِ رَبًّا غِي؟ قسالت: نْمَم 1 ان
اتل 72 بقر ِنْ تخل .:. ُم مر بھَا أُنْ تلقی می وَأَوْلاذمَا فِھَا
قائےٗ لُ ان لی ! يك اخ قَالَ: 7 حَاجغ؟ قالت: اُحِبُ أُن تحمع عِظامي
ٰ وَعِظام 17 فی ٹر واحد وتدفتا قال: ذلكَ لك عَلي مِنَ الحق.
قال: فأَمَر بأو لاِمَا فَألتو ا بین يَدَيَهَا وَاحِدًا وَاحِدا لی اُن انتھٰھی ذُلْكَ لی
صی لھا مرْض وکانا نات ء بِنْ أَخْلِب قال: : ىا اَم انَحي فَإنٌ عَذَاب
الدیّا أُمْوَنُ مِنْ عَذابِ الأَحِرَة فَاتَحَمَے ).
قَالَ: قَال ا: بن عبباس: تکلم أَرَیَعَة ضِغَارً: عیسنی ابسن مَرَیم الع وَصاحجبٗ
شر شڈ رت وا عادیلد وفرَة ) ْ
7تار ہش
0 000 ا 9ئ نارطول 2ئ ز٠
-017 ۱ ۱
مرا جک رات جب تھے نوہ لجا جار اتھا تق جھ ایک پکیز دخ خب و حوس ہوي' 29-2
کہاکہ اے جق رتیل !مہاک یز یز خو شب وکیھی ے؟ فرمانے گ ےکہ ىہ ای و خو ضبو خر عو نکی بی کی مخاط
(سکھارکر نے والی کور ت )اوراس کے بیو لکی خو شمدو سے میں ن ےکہاکمہ اک کا کیامحاملہ ہے ؟ فرمانے
لک کہ :ایک روز ووصب مممول ف رعو نکی بٹ یکا سا کرد جی تع یکہ ایاتک اس کے پا تھوں سے
الو ںکو سنوار نے والا بر ش لگ رگیا۔ انس نے (اسے اماتے و تے )کہا مم الد اف ر عول نکی لی ن ےکہاکمہ
اش سے مرلد مم اباپ ہے؟ اس نکیا یں 4 مبرااور تہارے پاپ دولو کارب الد لے
بی کمن ےگ یکہ می ىہ ا ت اسے(ف عو نکو) بائں؟ اس تن ےکہا مال !ال نے تادیا _۔ ف ر جو ان نے اسے
لااو رکہاکہ اے فلال عورت !کیا میہرے علادہ جیا تی را وی رب ہے؟ ای نے گھاہاں مرا ااور تمہار ا
وولو ل کارب الے۔ ۱
فر عون نے( یم نک۷ر) چنتل وی سس ںا بازیت آگ میں تیایاجاۓ “چناج
ا کو ما نااگمیااور اس کے ذر لج آنگ مبنڑکائی لی پچمراس عورت اور اس کے جیوں کواس میں ڈا لگ ےک
عم دیا۔ اس ن ےکہاکہ یجھے آپ سے ای ککام ہے ؟ اس ن کہا اکیاکام سے ؟ کن گی کہ شش حاہتی ہوں
کہ (عانے مرہنے کے بعد) مہ رک اور میہرے چو لک ہما ایک :ہی کپٹرے میں کر دی جئار
میں دشن ار دیاجاۓے۔ کت (گاکہ :مال ىہ تحار ابھم سفق رہا۔ ٰ
چنانیہ فر عون نے اکے بیو ںکو لہ ڈالۓ کا عم دیااور ایک ای فک کے ہیں تن
اس عحورت کے سائے ڈالا جا تال ہا یہا لت کگکہ بات جب اگ گود کے خی اور دودح جج بچیہ سر
یی واں گویاذرالچکیائیا کی متصو مین کی وج سے ووددودھ بقتا کیہ فور أرکار اٹ اہ ان مالی!اس ہگ
سو رت ڑا سلۓ کہ د میاکاعز ابآ رت کے عذر اب سے ببہت ملکاے چنا ےوہ آگ میں اود یڑ یی“
لن عبا نے فرااک:
ا( سولودہ پچ ےکا مکیاے۔ عی بن مر علیہ ملا نے“ ۲ انج تفر
نے (ا کا قصہ یچ گر کا ہے )یوسف علیہ السلام ک ےگواو نے (ج ایک دودھ پیا چہ تھااور ا نکی
پا یک یگواہی دینے کے لئے اڈ نے اسے قر رت یکلام عطاکر دئی می ا سکیا قصہ ھ رآ نکر مم میں
سور ؟لوسف میں ن کور سے )او رر و نکی کیب یک مفاط رع کے
کر نال ریث:
ند ایام امم : بن عبلٌ ین اب عا ۳ء ۳٣۰۹
تال نشین الروائر: روا دا ضر والیز اروالظیر ای والًوسا_ا/ ٦٦
(۲۰
ضس الر یٹ ۱ سے ہصصہہ ےت تج[ -
تر ار یش
بکرم مل علیہ دس مکواس ق ہام می اتی سو پر ہخرت ج ری علیہ
الام کے زریچہ ہواجب آپ نے ایک خوشبو حسو سکی اور اس کے بارے مل دریافت شرماا و
2 کیل علیہ السلام نے جلاک مخ شمبوفر عو نکی یٹ کی مخاطہ (بنت سکھا رک نے دای )اور ا کی او لاد
سے جسموںکی سے_ ورس کا مفصمل واقہ حفرت جج تی نے تضورعلی اللا مکوسایات
شابی ا چھ یتر یں ہوتے بللہ شابانہ اع زاز واگرام والے ہہدتے ہیں ' بج ر ایک
سی اون جونہ صرف شابی ملازمہ شی بلہ شتمرادکی کے بناؤ ھا ہکی ذمہ دای اور اس کے شس نکو
بڑھائے اوراسے سان سغوار لن ےکا خمام ری ھی اس ای شر بک وجہ سے ایک منفر دمقام تی
بھی فر عون جع خدراگی دحو ئگ یکر نے والا اور جر اروں امم 2 چو ں کا تقانتل ا س کا آ تا تھا۔جاروںل
حعان بکفروش رک کے جنڑ ےگڑے جے لان ادطہ تھال یف روش رک کے ه رکمزوں اور بت پر کا کے
تلروں مل صاحب ایما ننکو پیداکر کے ای فدر تکاعلہ اور عکمست بالق ہکا اظہاد فرماتے ہیں شا یی
ماطہ کے دلل مس اد نے ایما نکی روشنی راکرد اوروہکف روش رک کے لم کر دی ایت امن ٰ
کوسینہ سے لائۓ بچھیاتئے فو با رکھتی رمیاورشانیزمےداری ادا اکر پیری۔
لن ایما نکیا مہ جنگار ای ہو ی ےکہ بھائئے یں ھت بللہ بھی نہ بھی کرک ہیا شھتی
سے بی وہ میک ےک راد پردوںل شی چچھانے کے پاوجوداپٹی خو شمب و پچھ یا اکر ر جبئی ہے۔ مخاطہ شابی ٰ
کی ابماٹی مفک بھی انی خو شبد اہ رر کے رجیم سکا سب یہ اک ایگ باد ۲را دکی کے 2
دورانبالوں اکودر س کر نے والا یھ ض٢ یل کے وت سے کر راگ رگیا۔ ا سس کے مہ سے بے اختمار
ٰ ماش اکلہ شک لکیا۔ شت راد بی نے جوی کہ سنا قزترالنا رہگ اور لج راکہ الد سے ممراد می راباپ ے ؟
ایا نکا اش دو آتشہ ہہ کا نا اب انا کن نہ تافو ر کن بی الہ :
نہیں !الد نوددے جو مر اور تھہہارے با پ کال( سب کارب سے “ 2
نف فو یکین ٹا کر رپ ہے 000 ے پاپ کے علاوہ
07 ۓے کوایا الد اور رب لیم اکرکیٰے“ ۱ سی صاجبۂ ایمان ان ےکہا الہ صرور تا ۓ "چنا چنا کہ گے
فو عو نکو جتلادیاکہ مخاط ن ےکی او کوانار تل یمک ر ایا فرعو نکی | میں بنا قابل معائی بم
الہ کول یدوم نھیں ازم ا گی تمیک خوار اور اک کک و رکی گور تاےرلر باتہ لیم یں
اب ایالن والی بد کی آز مان کاو ہکڑادور ش رو ہواکہ جہال ایٹھے اکچھد لکا جک ریای ہو جانا سے
اور چہالیا بڈڑے سے بڑاخابت قد م بھی راو اتنقامت سے ڈگگا جا تا ے' آز ات شیکی جن بھٹی میں ارے
رہن ٰ
ڈالا جانا نتھااس بی پوراات نے والے کے لے خابت فدم کے الفاظ بے مم ہو جاتے ہی ں کت ہی ںکہ
انسا کا سب سے ذیادداپقی جالنا ارک ہہو ی ہے ۔ لان مای کے متحک ہہ مطروضمہ خلط خابت ہو اے۔
ال کا نیا تک دہ تی ہے جو خال کا کات کے بعد سب سے فیادہ مہ بالن ہو لی ہے۔ ماک جز ہہ انسانول
یش یں جانوروں یل بھی بد رجا مایا جاتاے۔
ہا لا ایک صاجب ایمان کو جا نکی بازی نے کی ہز مائش بی در بی نہیں تھی “انی خخلیق را
جک رگوٹو ںک وب کی آکٹی کے سپ ردکرن کاو ورای در نی تھ۔ او لاد کے خی ما کی ز ن دی مے مصتق
ہوئی سے لگن خوداہۓے اجھوں !بی اولا دکو پ کی آ آگ میس ڈالنا جان ج ھکھو ںکاکیام تو ۔ ٹر عون نے ال
کٹروروے سہار ا ور کو ”جم یمان سکاعرہ چکھانے کے لے عفر اب وت ےکا اراد ٥کیا او رگا ت ےکی
شک لکابک پڑاکڑھاؤ منلوایااو راس کے نے آگ گن رکا اور جب وت مت کر دہکتا ہو ا7 ہر ور 7
انل عور تکواس کے بل سصیت ال مس ڈال ےکا مم دے دیا۔
کم نک نے مہ اند و ھناک نظار وویکھا 'انساشی تکوشرم] آگ یگ بییت نگ ناج :اچ ری طاشت
واقتزار کے نشہ بی بد مص تکرور عورت کے جر مم ایما نکاامتقالن لے ر ہے۔ اس !یمان آز مان کاب
ْ دو مر رام ہے ےہ ووشمادت گگاوالفت سے مس میں نے والا ہر لمت ؟ ئی آزمانٹوں کے ورواکرج
ہے۔ ق رآ نکمم اس یق تکودوٹ وک اور واشگاف الفاظط یس بران روس
الہ اَحَسب النّاسٗ أن وُتَرَکُوا أنْ یُقولُوا امنًا وَھُم لا يْفتَنُون ه٥وَلفّد فَتنَا
. الَذینَ من قَبْلِهم فلَيعلَمنَ الله الّذین صَدثُوا ولَيعلمَنٌ الکاذہین۔(العنکبوت
وت یہ یھت ہی کہ لو گکہ اتا کر ہم ایال لاۓ ٹوٹ جاکیں کے اور انیل آزمایانہ جات ۓےگا؟ اور بلا ش
بھم نے ان سے پیہلو ںکو بھی آز مایا سے اسوالہ شر ود معلوم کر ےگالند کو کوجھ ہچ یں (ا ان کے د موک
جس )اورال بت ضرور معلوم ار ےگا مھو ےد عو یکر نے والو ںگ و“
زان سے ایا نکا قرارکر پھ کل نہیں 'ا یمان کے ۶وک کو آز ا کی بھٹی ١ ںگزارا سا ےم
اورپ رکھا جات ۓگاکون سا ے کون جو۴ حدبیٹ یل ہےکہ سب سے لت امتقان انی کا ہو سے و
الین پا ردرمہ بد چہالنا و کاج ان جے ہوں ۱
ایما ن کا امتخان انسا نکی د کی حقیت کے مال ہو ہے جو جقنازیادہدیندار ے اتابی 2
کے لئ تار رے دوک فو آ سان ے اس بر استمقامت کے سا کھ یر ااترناکارے داردرےے
یی کے خی سی کر کے
لاگ آان گتۓ یں ماں ہو
شر نال می ج بکوئی کہ پذحید لالہ الا اذہ کااقرا رک تا نوگویاخاطد ان براد ری قبیل ہے
سےد تی مول لے اتا تام میس یت ید تین رو مس تد یی ہو ای یں اور ار جانب سے
۲۳
نس ایر پغ ت- یت ِ ۲۰۳
مصماب اہلے ٹوس ےکہ زن دی مصائب و مشکلا تکاکو وگ ال بن اتی تھی رت ٰ ..
چو کی گمویم ملامم ارم
1 وائگم مخفلات ل اار۱ ٰ ٰ
گگ ہآ زم ئن ںکی بی پیا ں لص یکو یل اوہ بنا تی او ری کوز اش کامقام عطاکر خی ںکوکی روح
اور جال کے منصب سے سر فراز ہو ج نوکس یکو حم الر سول الڈ یگ اکر صاحب تاب تو مین کے
منصسب سےمشر فکرییں گوئی صدقیت سے سر فراز ہو ج کو گی نی کیاز ہالنا صداقت ماب ے جشت
گابثارت سمتا ابھمان 1 تار ای بی رے خوف وب اکپاز ستوں کےکارنا موں سے تھر یر ین
ال صاحب ایمان وکردار مخاطہ کی ىہ آزمائش بڑئ یککڑی تھی موم کی ال یگھائی شی جہاں
زیت زراسی معلحت..... ۴ علمت.....؟ کے ملا فول اور لبادول می ابی تھا مت رر عنائوں کے سا تح
جلو وگ تی لین وہاں کلدہ عق بلن دکرب؛ تی دکان) مستانہ پور بلند آچنگی کے سا تج لگا نا ضروربی تھا '
کف یکا بی ضرب گالی تھی بکدوں یل ایما نکاز من مہ بلن دکرن تھا فذح دکا نشہ الیمانہ تھاکہ بج کی
دکتی نگ اورادگارہ تقد و کو دک کر ہرلن ہو جاتا يہ قذوو نشہتھاجو راحت و آرا مکی بر آسسائش ز ن رگ یکو
ھکر ان کا وصلہ عطا کر ج تھا جھ ای ککنرود و بے آممراخماقو نکووفت کے سب سے بڑے جاب کو
للکار ن ےکی ہمت عط اکر جا تھوا۔
کے۔ اگ ہکوکی تا وی کر کے ایان الا جا وکوئی فرقی نیس پڑت لکن شاید اما نکی جا رجاگ
تناک ن ہوگی۔ ال پاکبازخافون کے یش نظظر تصرف بات شی کرت -
یی رہ سے انل نے لنرروں ک رن
چا دو رک اور راقواب تھا الہ مال گرااور یم الاب الشدے '۔ الہ الا ال گے
۶۰ 88 ہوکر بر ایگ اصءا سے
جس کک پا کی وناوں میں مم ہوں
سب سے رش وڑاایں سے رش توڑاب 1 سر ف ایک کا ابات وکیارب سے وی و
الگ ہے۔ اق ہے رازقی سے لا الہ الاالشد۔
نس ال ا سو سچپچجسسھًےًجٌجِٛس تی لاق
آزمائش ادوس رامر علہ ش رو ہو تاہے اور حم شی صادد ہو تابیکہ اسے بچوں سیت اس د کت
تل ور یل تجھونک دیا جا ئئے 1 آخ سیق میس ؟ جن ایمان ٹس اوہ پاکباز نخان نبقی ےک می رکا ایک
خ ابص ہے ہو چھاک ہکیا؟ہاکہ یس جا ہت ہو کہ ہمارے بل مر نے کے بحد ہعار کی بڈیاں ش کر کے
ایک کے می ابی روف نکردی جائیں( جا کل قیامت میں اٹھی بی ہو کی ڈیو ںکیسا تھ انٹھوں اور
اگوی ا پل قرال یک شہادت ٹیک سکوں)فرعوان کے کہ ان یہ ہار اتی ہے می
۱ آز مال شک میس رام رعلہ شر وم ہو تا ہے اود ایک ای فک کے سب ےد کے تر ور ٹیس ڈالل دے ۱
اکن ' بی بر استنقامت اہ کر گوشو ںکو علج اور پت اورا نکی ڈیاں ہچ کی ںای 2 ٰ
گداور ہنا لا للہا الہ
آز مان کانازک ترمن لے 1 ا ہے اسر ۓ کا مزا روز پیا متوم پچھول ماں سمیت ۳۲
ٰ گا ا ے۔اں کے ققدم ذ رارکت میں 28 رق موں یں آڑکی سے اور من ےکہ اس
و و یل م کو اہی ہو جائے اور مو مک دج سے ہل کے قد وی ای
ا اک فو مولو گی زبان ٹل ھت ہو لے اوردما لک ؤار رکڑاے :--
ناے ماں اگ م لکووک ہل چاکہ دنیاکاعذاب آخرت کے عذاب ے پیا ے'' -
اور یل 1ز کٹ کا لے 1 جانا ہے'اسخان پپوراہو جات ہے 'د عوکی سا ہد جات ہے امن اس یکا نام ے*
تحید ا یکو کے ہیں عزم دجمت “حوصلہ داستقامت بے خوثی اور یگوئی کے اس ا ہا رہکو ہی ارائن
گہاچا جاے اور انام ین نی مان اے ا کے خر ان اکے اح<کامات پر وہ ہے
مم 7ر ری ظگر؛> تضورات
ٴ چچتد رت 7227
1 حدی ث کال اد ادگ سیق تو یی سک ےکہ انان در یقت آزرائو ںک یکنا یکم ہے بر
آز مکش کے ابیما نعل نیس ہو جااو رآزما ٹس بہ تکڑی اور مخت ہو کرکی میں میں۔ ام سابقہ اور تہ 2
فیاء ”لم اللام کے عالاتال بخاہرعدلہیں۔--
دور جرید یں آزمائسٹو ل کاو مکڑاسلسلہ نے کی جھ سح دجاں پ آکی یں اوریہ ححض انث رٹ
العز تکااست گحیہ گا صاتباالف الف تھے و سلام پر خائ صکرم داحسائن ہے الہتہ آزمائنٹ ںکی
و عجیت اب ملف ہے۔ اس دو رکی سب سے بی آزمائ گناو و محصیت کے ماحول مس مار اطراف
سے آرے ہے کے باوجد انا اوداں کے اطکابات پ ثابت فی اوراولو الھز ھی کے سا تھ جمنا
سب سے بڑامھاہرواور سب سے بی آناتے۔
ضصص ار ےۓغ 7 _.۔ .-- ۔- ۲۵
ہبرحال آز مان ہر دور شی درتی اور رے 7 اوران 2 نوعیت ملف ہو جاے۔ اورنے
ور حقیقت ال :یما نکی گگرو نظ کو بن دکمر نے" میق لکرنے او رکنرن نان ےکلیے ہوقی سے جس سے
نیہ میں در جات بلنلد ہد ئے “مع صی دحل اور اندامات عطا ہو تے ٹییں۔ :
'آ دو رکم میں نر بی تتعز جب علو مو ںکا ایک ام تہ ہس صضصرت
ٹس بدتربین جر کا ممکا بک بااور انسانیت سوز عذ اب د ان الوگو سکسلع چننداں مشکل نہ تھا۔ ضیانے
ل7 مزاوا مان اس نم بسی تتز ی بکی جھینٹ جڑھے اور ا نگنت لوگ چائی لکنواٹیشے-دو رجدیڑ _
ہیں بھی جم ایمان بر تخزیب کا بیکفریت صلانوں کا ایقامی ض لکش ی کی صورتی را
سے آ رح عال م کردا کے متودوخلو ںکوص رف سلران ہوناوراعلام ککاد عوکر ن ےکا اد اٹ شیل
7 92 زاب ے دوچا رکررہاے' یک لوس باپچھر کسوواوراب چیا ۶ و 2 مت ۳- یں۔
۳ بزمائمنو کی ببصٹی ےکر کر لابا نکوج دار عو عقابات عالیہ تعیب ہبوت مل ' ہے
ا نکی طرف ایک اکا سااشار :ملا سے ' جعباکہ رسول اوہ مل نے ائس پاکپاز ان اور ا کی او لاد
کی خو شب و آسانوں میں محسوس فرمائی اتکی طرف سے اے اوو الم بندوں ارام سے
جنہوں نے اتی جانئیں ا سکیا اوٹیش تق با نکردبیی۔
جای عدریث سے ہہ بات بھی معلوم ہوئ یمک ہکفروش رک اور ھی ونافرماٹی دداعمال میں جو انساا نکو
اع اسان افکراروصفات سے بھی محرو مکردیے ہیں اود اس کے اندر سے رم بھد ر دی اوت د عحبت
کے جزمات شخ کر کے فو عوفیت گییت اور سای دب بریمت کے جذ مات پید اکر دیج میں جی الہ
ف عون کے اس عل سے ظاہرے_
نت جب اما نکو اہ کاو رکلدرہ تو حیدکا بر ملا قرارکرناخالیف کے عی رآ زمام رع ہکوز عوتد ہے
کے متراوف ہو اور بت بن مصداائپ کے ورواز ےکھو] ہو اکر چہ ایمالنکو ظاہر نکر نااور خی رکھنا
ج بک دل اما نکی خاشیت پر قائم ہو “جات سے نان مہ اصسحاب عز جی تکا ط ربیقہ نہیں اپ موا
ٰ یش پر ملا تذحی رکا ا قرا رکف کے الدانول یمر ز*طار یکر تاے اور ایما نکیا کرو ش نک جا ہے اور ہی
اکحاب 7۶ کی تک اک ردار ہو تاے_
۵ حدیے سے معلوم ہواکہ رو زین پ کل چار یں نے نو مولود ہو ن ےکی حالت میں کن کی
سس میں سے :- کیو ں کاقصہ وی ریب ×- رو اف واتعلت می سگنرر چکاے ایک ۲
حضرت یی 30 تھے 'ہنکاواقعہ ش رآل نکر یم کے اعد ر سو رم ریم بیل ت دکور سے
دوسرے جم عابد کے واقعہ یل دوہ پیر تھا ج٘ کی وجہ سے ج تی بر تبہست لگا گی اور انس بچہ
نے میق تکاامشا فکرتے ہو ےج کو گبمت سے یا ککیا۔د
ضس ار رۓ 7-ٹ بب+ۃة-ۃ-ب- ہف
تی رادہیچہ جن نے اپٹیما کیا دا کے بر خلاف دعاکی رت کور ٥اا ری
اچ ام پہ جم سکاذکر گور وتصہ می ے۔
ٰ ا کے علاوہ بھی دوبچوں کے متعلقی فو مولودہون ےکی حاات می عائل یشک وک ہآ ے۔
ایک نو پوسف علیہ السلا مکی پا زگکیا شہادت دپے والے ب ہکا جن ککاواقعہ سور بوسف مس ےکور
ے اوردو مر ےا خاب الأجّر ود کے واتعے میں لو مولو دک ے اور ا ل کے واقعہ 1 طر ہے 072 ان اکر 2 ۲
سورۃال روج ٹل من الفاظط یس اشھارردے او را گے صفات تا ملاک و ہے۔
زار خی ا/ ۱۹ے ب٠ ۰ سور ڈالہر ورج)
تصیل سے معلوم ہوا ہک چھ ون ےجو شی دانشن :ہی ے الہ تھا کی
ٰ در تکایک نموہ ے۔ واوڈ اعم
۲٢
ہی
اکا سوا واں تہ جا"
یے ع زی مب رکی نف ری ٤ے
کی اسر کل کے اک باد شا اعت یشے ا کی لوم نے کی اقترار بر ہٹھایاھا گر وو شر کی لک راو اڈ کے
توف ےکاختار بتا وا ساطعت کے مجھمیلوں نے اسے کر کی اقترار بر بھی سکون نہ نٹ اہ کون وا زان تو
فت ا کی یادیٹش سے۔اوردو سب یھ مچھوڑ چا کر عحنت من دو رب یکر نے لگا۔
مھ ایر بیث :
روی مد عَن عبداللہ بن مسعود عن عن البی ک قال: دہ إِك نی إِسرائیل
اسُتخلفوا علیفة ََيْهم بَبْد توسی ا فَقَامَ يُصلي للةَ فوٴقَ یّت القَدس فی
القمرء فذکر و صَنعھَا قتدلی ؛ بسبب؛ فاصبَحٌ السبب مُعلقاً فی النلاز
وق ذھب .
_۔ قال: فانطلق حتی آتی قَوما َلَی شط البَحْرء فَحَدَمُمْيَضربوت لَباء او
سو تنا فسَالهَم: کیٔف تاسذون عَلیٗ مَذا اللیْن؟ فَال: روہ فَلْنْ مَقَھیٔ
فکان اکن بن عتل یٹ فاذا کان حین الصلاۃ قام بصلی فرفعَ ذلكَ العسال
ہن :اڈ یا رخ نکد رکدہ تار ِب دائی آ ای ند
مرّاتو ء تُم إِنهُ جاء يَسیرُ عَلَى دَایو.
فَلمًا رآ فرّ فاتبعهُ فَسَبَقَه فقال: انظرني اَكلمَكَ 1ا فقامٌ حتی كَلمَہُ ٰ
اه خرور لیا ارہ آئ کاو وکا ان رض رف رب ال اِني لأظتِي
لاح بك'ٴ قَال: فاتبعه فَعبَدا لق ء حتی مَاتا برمَيلَةٍ بر ء قَالَ عَبدالل لو أي
کن تم لاْندیتٗ إل فبْرهماً بصیفة رسُول اللذ ئل الي رَصَفَ لنا ء.
وحاء ٹی روایة ٹی مسند الإمام أ مد : ( بَیْنمَا رََحْلٌ فِيمَنْ کان کل کان
تفکر فعَِم ان ذ ذِك مُقَطِع عَنه وَأَك مَا هُو فیہ قَذ شَعَلَهُ عَنْ عَِادَةِ رہّی
فتسرب فَانسَاب ذَات لَيلَةٍ مِنْ قَصرو فَأَصَيَمَ فی مَمْلَكَة غیْرہر نی ساحل
مس ار یرۓغ ٰ سے شڈ ےن ے ےت ۲۸
ییخرر کات ہو شرب الین بالأتر فک وََصد بلط لم مز کلت
حتی رقی کو لی مَلْكِهم وَعَادَتہ 7
فَأَرْسَل مَلْکهُمْ | یه أُنْ 27 فی أُنْ يد فا قاغاد م آغاد إَِيْه و فانی أَنَْ با ٰ
وقال: مَا آ وَمَالی؛ قال: ری ار اکا 10 لی هَارِا فلمًا رای
ذِلِكَ الملِكإُ رَكضٗ في أثرو هَلمْ یڈ رکە.
قَالَ: فَنَادَاه یا عَبْد الله إِنه لیس عَلَكَ منی بَاسْ فَأَقَامَ ختی أَذْرکهُ فقال
ل: مَْ ان رَحِمَكَ الله فَالَ: انا ملا بن فلان 2و"
سے ہے تق
" چیک بی میں جس فَإنةً قد شعلبی عَنْ عَبَادة رَبی:
و
سم قي سس
ا مَا انت بأَحُوّج لی مَا صتمّت بنيء قَالَ: ُم نل عَنْ داع فسیبهَاء نم
بعث فَکانَا حَميمًا یَدان الله عَرٌ وَحَلَ مَدعَوْا الله ا یمِيتهُمَا حَمِيعًا ).
قالَ: فماتاء قال: لو کن بل بر رکم ورمْما بالنعْتِ الٰفِي نَمَتَ
لنا انا رسُول الله ٌ :.
رتا یر بث :
حطرت عمب ارڈ بن مصسعوور صلی الد عنہ ف مات ہی ںکہ فی صیال مل یئ
مبنی ار ائیل نے حظضرت موی علیہ الام کے بعد ان کے نائب کے طور بر ایک مخ کو انا ٰ
غخلیفہ اور ھاکم بنیا۔ یک رات جا نی بیس وہ بیت ا مق در کی یت ظ نمازمڑھ رے تے ا ےم
معاملات جوا نہوںل نے یئ تھے اد کے مو ود ایک ری لڑکا اکر یچ ات یئ اور ری مس یس ہی کو
گئی اور خو دکہیں مل گے ۔
پر وہ لت حا ۔اعل سندر بر ایک ت وم ج٤ اکن یھ قایس دیھاکہ دودھ دوج ہیں فلا
کہ اشڑیں مناتے ہیں۔ اخ ہو نے الن سے سوا لکیاکہ خم یہ نشی ں سے ہناتے ہھ ؟ چنا چاو ںان انیس
تنلادیا۔ دہ ائپچی کے سا تھ ر وکمرائ یں بنان کاکا مکمر نے گے۔ ٰ
چنانمیہ ودای پت کی محن تک یکا یکھاتے تے اور جب نما زکاءقت 1اس بکام چو کر مز
بے کے ل ۓےکھٹڑے ہو جاتے۔
نع کے ا معمو لی ران مز دورول نے بے صردا رکودے وگ کہ ہمارے در میان ایک
آدبی ے جو اس اس طر کا ممعمول رتا ہے۔ اس نے الن کو بلوا جھی چا لان انہوں نے سر دار کے یا
لیج ۱
جانے سے انکا رکردیا۔ اك دے مین مار بلایا ار عو بارا نہوں نے اکا رکردیا۔
الا ور رار ور سوار کی سوار ہو ران کےا ماس آگیا۔ ٰ
جب انپوں نے سردا کو دیھا ق ھا ککیڑے ہو 'اس نے ان کا چھاکیااوران ے 1
ليگیااور ان ےکہاکہ بے مہلت دہ میں تم ے بام تک نا جا تا ہوکیا۔ دہ رک مگئ بہائ کت ککہ ان
سے باس تکم اور ایناسار اواقعہ اے تلادیا۔ جب اسے مہ تا یاکنہ وو بادشاہ تھے اور ای رپ کے وف
ے بادشا ہنی ۓ7م فراِز اتا رک ری وہ دار نے کا اہ مر اخال ے کہ میس می ھم سے آ مو ںگا۔
چنانجہ وو سم ردار بی 21 کے ہو لیاار .پچ ردونوں سا تھ بی عرادت مد او ند ی میں مشقول ہو گئ_
۱ ورعوادر کر ےکرتے مص کے ”رشیلہ “مع (جو ایک سا عی تی ھی )اتا لک رگئے۔
ْ حفرت عبدائڈ بن سحود ات ہی ںکہ اکر بی واں ہو تو رسول الل ہچ کی لاف ہوک
مواصفات کے مطابق الن دوفو لکی قرو ں کک رسائی اص لکرلوگ -
من اج ریاروایہت میں ىہ واوعہ ان الفاظ یل سے 77
قم سے لی متوں میں ایک تنس اتی مملکلت میس (بادشاء) تھا ای مر عیہ اس نے خور وگ کیا
اسے ادراک ہواکیہ ہہ سب بادشاہت واقترار نو ایک دنع تفع ہو جات گا (اور اسے ہہ سب کچھوڑنا
ہوگا)ج بکہ دوس کیا جانب اس بادشاہت کے میلو ں نے اسے این ر بک عبات سے چا ٹر
رکھاے۔ ایک رات دہ کے ۔ ما کے نا و تد کیدزن ضن اتا
یداو سراعل سمندرب سئاو راجہ ت پراشٹیں بنانے گے اور ای میں سےککھاتے * مور ترازصرورت
ہو جااسے صد ہکرد پنےا نکامجی مممول پمیشہ جار تار ہا ککہ شدوشدوا نکی عباد تد فقیلت
اورااع کے انل متمو لکی اطلا اس وم کے باد اہ 7 727
اس بادشماہ نے ال نکو ہلا نے کے لئے ابا آد ھی النا کے یا بی ین ا نہولی نے انگ رککر دیا اس نے
دوبارہ ہلا یا نپولانے پچ را کا رک دیااس کے یا جانے سے اور نے گ کہ مب راس سکیا اسطہ ؟ مہ کن
کر باد شاو سوا می سر سوار ہو ااور لن کے یا آنگیا۔ ا ضہولیانے جب اسے د بیکھا ھا کفکوٹڑے و ئے۔
اد شماہانے جب د بکھاک/ہ دہ بنا کے ہو فو مہ ھی ان کے تھا قب میس دوڑالجیان ا نامتک نہ جم
اچ راس نے انیس زور سے پکارا:اے اد کے بندرے !می اتمم ہکوگی زور نیس (نہ یں ہیں پکڑنے
آیا ہو )یہ ک نکر دد رک گے بیہا لت ککہ باد شاہان کے یا تم انا ےکہا: اڈ تم رر تم فرمائے !
کون ہو ؟ اضہوں ن کہ کہ میس فلال بین فلاں ہہودں۔ فلال فلال مل کا بادشاہ تھا۔ مل نے اپیے
بارے ہل حور وگ کیا فو یھ ادراک ہواکہ میں جس زج کی اور سلطنت و بادشاہت مل ہولںر سب
ھ سے ضططع ہو جا تےگا۔ اور ال نے بے نے ر بکی عبات سے مشخول وا ش لک رکھا ہے۔ یں
سے ےےےے ھا
ایب
شس الر ےغ صسحسید
کی نے بادہشماہت کور :5 گر دیاادر یہال آنگیانور اٹنے رب ۶ز مل 1 عماات 77 کر ا
اک بد شائ ےکہاکہ : تم نے میرے سا تھ جکیااا لکی کچھ زیادہ ضردرت نہ شیا ےک کر وہ
فیا سوادکی کے جانور ے ان رگیااود ا سکی مہار بچھو کر اٹھی کے بج ہک یک سے ہی ۔چنا تیر وودولوں اکٹ
الد عو“ لکی عبات یل لک گے اور اللہ سے بد عاک ہک ا نہیں کے موت رے۔
اگ کرد سس سس بی رب ےرا مل" مس ہوج تو
یه ہی سوم یر سے کے مطابشی جیا آ ےم
سے جیا نکیاتھا ی
۸ تال یو
من الز ار ”مر ے۴۹ مد اج بین ل۵۱۱ ستداو ی۳۱۹
ْ ۲۱۹ تاس ۱۴ جع الوم ۱۰م ۳۱٦ مر کی ملطبر اٹی ۱۰م ١
تر اور یش
ہے انم نکوجھ زی دای اہک باد سے اور اس کے اجشابات سے ا ٹل ار نے والی ہیں ان میں
سب سے زیادہ ما ش٠ لکرنے وانے جز اقتزار و عکوم تک اش سے جودولت ونروت کے ز لّرۓے نہیں ْ
زیادو یڑ ھکر ے۔ اور انسان اقترار کے : نش کی نماطر دول تکو بے در لٹا جا ہے اقترار و حاوەمت خو اہ
کتتابی موب یکیوں ا ہو 'انسالن کے دل می دوس ول پ ہلا سی و رد رایت ور دوس و یکو
نے تر مکھنے اورا یں لوم و بور کے یا سوب یبد راک جا سے اور الہ تھالیٰ کے احکامات اور ال
اجس ھت ٹل کر جاے۔
تی ام ائیل میں حضرے وجہوووجو ہہ کوٹی صاحب غلیفہ اور اکم
ود ئے۔حد بیت می الن اکا نام یی رک پاکیاے۔ خلاففت وامارت کے ز مانہ میں ا مھ ٹیش ایک روز سو جن
عو نے مہ ا صا واکہ جھے ال حکومت واققرا کی مصروفیت نے بنلدگی رب اور ال کے وکر سے
7 کر رکھا ہے اور ىہ سمارااقترار و سلطنت' بادشاہت و عکومت اور اس ک ےکر وف را کی شان و
شوکت “رت وحقت جادد جلال سب اک : نہ ایک روز مھ سے گپھوٹ جا ےکا خواہ مر کی وت
کے ذر بجہ خوا ہکوکی دوسرااس پر تقا لی ہو جا )لپن ااس اوج سے اپتارب کی بن کی اور عبادو کو
تر کک نااوراس سے خلت اخ کر 7 گے
وسسبی ابی شس ہی یت ربا نکما
ٰ جائۓ بلہ ا کی یادائل قائل ہ ےکہ ال لک وجہ سے اقترا و وص تک وبا لک دیاجاۓے۔
٢ ہے
ٹمس اور یۓغ ۱ : ۱ - کے۲
پلاشبہ ىہ وہ سب ےکہ جو باد شا ہو ل'ار اب اققرار ایل علومت اور صاضبان اختیار کے کے دلو
درا می اگر پیراہوجاے قذتمام لم شخم ہوجاۓ 'عدل وانصا ف کا بول بالا ہو جائے۔ اکر ہر صاحب
اقترار یہ سوج گے کہ مر یر عکومت واقترا ری صحیوقت ہجھھ سے کوٹ سے لو ےووہ ہر ای ےکام
س ےگ یکر ےگاجو بعد ال کے لے لی دی نال یکا سب ہنے۔
خر !ان کے دل یل ال عم کے خیالات آ ناخ روخ ہو ۓ اور اس مر ان کے دل ودماغ
حا ہدس ۓکہ ایگ روز ج بکہ چا نکی رات بیت المقدس ل(مسچد اض کی عچھت پ نماز جش أ
مشنرل ے اور ہہ ا اس حادی ہو او را تکی تھائی ٹس صجھت سے ایگ رک یئ للکائی اور اس کے
زرلجہ سی ات گے ور وہل سے کے سے کل گے اور رانول رات ت دای سے بھاگ کک یک ساعلی شر
جا نے اور کے ےلکن کا رر تاک ہکوٹیاد کچھ نہ نے اور دوک نہ نے۔ مرخ جب اس ساعلی ٰ
تی یس سی تد کے لوگو ںکود ھک اشیں نان ےکاکا مکرتے ہیں۔ چنا نچ یہ پان سےکام سیکھ
کراٹچی کے سا تح انشڑیں بیانےکاکا مکر نے گے اور عحنت ردور یکر کے اپناگز راو جات شر د]رریا۔
ان کا ایک مطمول یہ تھاکہ ا مات اس یں سے اپئی ضردریات (کھانے پینے ) کے لئ استعال
کم لیت اور بائی تنا اسب صد ہکردتن بواک رنہ رک جے۔
دوسا سممول یہ تا ہککام کے دورران بھی اکر نما کا وت نہ سس
اٹ ھکھٹرے ہوتے اور نماز بیس مشغول ہو ات تھے_
ہی دوول معمول ای جےکہ دوس ول کے لئ احث جب تبرت تھے ۔کی کہ اکک نوا سان جو
عن تک جاسے وہ ہی حکرنے کے لن کرجا ے۔ ای محن تک کال ی ال طررح ساارئیکی سار می
دوس رو کو نہیں دے دہیا۔ لین دہ قذاقترار و عکوص کوچھو کے تھا نکودولت شڈ مکرنے میس
یت ۔ یہ صمعمو لکہ سب لوگوں کے لے اعوت ت ف جب و تبرت تھا۔
ای رح دوس را ممول بھی لوگو ںکی عام عادت کے ب رس تو ۔کی کہ نماز اور عیادت وخ رہ
کے متعلق عمومآىہ ذ جن ہو تا ےکہ ج رکام سے فار ہوک کیا جائے۔کام کے دورالن ما طورے۔
مر دور یش اور نت ومر دوری ار نے والےلوگکوں ٹیں ماڑے بہت زیادہ تی ہودکی ہے۔ ججیلہ دەکام
کے دوران بھی نماز کے 2۵ کوٹ ے ہو جات او رکا مر وک د ہے ھھے۔
ان دونوں خی معمولی معمولا تک وجہ سے لوکوں می ا نکی شہرت ہ گنی اور ا سکاخوب جیا
بدنے اگ شدہ شدرویہ شہر تا قوم کے سردار اود ھا تک بھی کپ یکہ لن خی مممولی عادا کا
الک ایک تمحز دور یکر تا ہے حا مکوان سے ل ےکا ہنس واشتیاق ہوااور اس نے انیس بلانے
کے لئ وی بھا. یکن انیہوں نے ؟ آنے سے ایا کردا ای نے پل رآ دی کیا نہوں نے پر انار
طےں۔
سن ا رون
کروا_ یسر باد جب دی با قانہوں نکیا میا اگ ےکیاواسطہ ؟ٹل ایک عردور ہول اور
وضال _ یھ اس سے سن ےک یکوئی ضرورت غیں ہے حا نے جب ہہ سنا ذاا لکیاد ہی مریہ بڑ گئی ٰ
کہ ایکون بے نیازاور می نے ج باد بد بلانے 2 پاوجود ح اگ اور سر دار ے ملتا یں چاہتا۔
یارونا جار ال نے خود جان کااراد٥کیااور سوار گی بر سواد ہ ھکر النا کے پا مم گییا۔ اہول نے جب
د بتاک حا الناے لے کے لے خودبی گیا سے نو وہای سے بھا کفکھرے ہو ئے. حا لم نے ال کا
تماق بکیالیکن دداس کے پت نہ آے۔ مجبدر ہدک اس نے انیس زور سے پکارااو رکہاکہ میں میں
گر فیا رکر نے غن ںآیا ہول بللہ یج تم سے بج با تک رپی ہے وو رہ ک نکر رک گے شی کہ حا ال نک
تیاور بن ڈگاکہ خ مکون ہو ؟ اش پر رگم فرمائے۔اغ ہو نے امب ری سے مقر یک کک ساری -
روداد سناوگی_ حاگم کے اوبہ ا کا اث ہواکہ خود بھی سار یاصرداریذور اققر ار تر ککر دیااور وٹیں
سے اٹ ےکھوڑ ےکی ری چچھوڑدی اور اٹچی کے سا تھ رمک عبادت وریاىضت میں مشقول ہ وگیااور چھز
دونوں ل١ی قربت ہو یمکہ انہوں نے اکم مرن نکی دا ماگی جو قیول ہوکی اور دونو ںکوسماتھ بی
مد تآگی۔
ینغ مہو نے فرمااک : رسول اللہ نے ان دوفو ںکی قرو ںکی اڑی تفیل ہم سے بیان
فرماکی تتھ یک اگر میں اس ش ریس ہہو جا جہاں ا نکی تیر س میں فوا نکی قب رر صیہیں دکھاتا۔
بیہاں ایک ایم سوال پیرا ہو تا سے وہ ہہ ہے وولول خظرا- ت ابی ای قوم کے رنیم ردار اور
عاھم تھے شگو یا ان کے اس اغخقیارات تھے فدکیاائنا کے ے مہ بر شہ ٹھاکہ وہ اقترار سر کن رج
ہو ۓے اہج اقتترار و عکوم تکو اللہ کے دین کے فغفاذ اود اس کے اکابا تکو چا رت یکر نے بیں استعال
کمرتے اور ادڈ کی حلوق اور ایر حی تکی مر دکرتے اور تو خر یب اور بے سہار ال وگو لکی مشولات
دو کے پور زیادہ کہنت رنہ فوابہ لحیددت تا اذا تکی عبات کے ؟
ا ںکاجھ اب ہہ سےکہ جلا شبہ رہ بات بہت ٠ ت ہر 1 نے وا 0 کہ خلافت اور الد کے
ہٹرولء بر حکومس کی مہ داری صنچالنانہانیت نا زرک تی نکامے مج سکی مسولیت بہت زیاددے اود ہر
آدبی کے اندریہ صلاحیت نیس ہوٹ یک عدل وانصاف او رعمل خداتری کے سا تہ علو مت کر ے_
بد دبظاہر ڑا آ5 ي72 وہ ہے نع مکوارے زیادہ 7 گر زاورنا زلگ ےی پچھولوںکی بت نہیں
کیا شوں کا کچھو نا ے_| کی لح بہڈے سی اور عادل دب می زگادحقام دامر ا الد کے خوف ےکرزے اور
رک خرت کے گر مندروۃاس شف کے لئے ای بھی ذمہ دای اشنا بوامشکل ہو
ےھ بی وج گ7 ےہ ۴ت اکر ۓ ار گرم ار مزاصب جلی کو ھک رادیا_ ایام
مس ار رۓ ۱ ٰ ٣ے ٣
انلم ابو عاین “۱برا کی ناد مع اورد لن خی ات نکی یی ٰ
وج نس ابنےاند را کی صلاحیت نات ہو قراے اجتتاب کرنا این اورجواس عہد وک ذ مہ ٰ
دارئی نبا ےکا صلاحیت رکتا بویا صورت عال ہوک اگر وونہ نے کو اس سے زیادہ:ائل
ٹس ١سر ایی ہو جا کا قزدہاں پر عبر ود اقترا رکو یو شی یں جچھوڑن جا شئ اور برکورودونوں ٰ
اشناص ب 7 ٹ- علق رت مھ بفراا ہو نے ای صلاعوتوں کے مطا بی ہنمد کان
چنر رت ولصا
آ۔ الد کے چجھ ا ےے بنرے بھی ہوتے ہیں جو اش کی ہنی و عبات پر ہر حم کے دمیادی اقترار و
عہد کو تچھوڑ ےکی پر داہ فی سکرتے اور لے لوگ انسانیت کے لے نمونہ بین جات ہیں۔ -
٣۔ فلافتاورامار کی ذ مہ داریال ج9 ]انا نکو عبادات سے فا لکرد بی ہیں انسا کو حا ین کہ
اقنزار ٹیش رہکر می عمارا تاور ا ہک یاد سے ال نہ ہواور ا نکی مگ رک جار ے_
سم صلوع ٹیل ( وی از چپ ام کے اندر بی شردی ود حدیث سے ناب بو ہے
کی کہ وہ خلیضہ چھی رام تکو تچ دکی نماز مڑہت رے تے۔ ٰ
٢ یر سیت سے معلوم ہو اکہ انویاء ہم السلام کے علاوہ خی امیا بھی بی اسر انل مس خلیضہ ہو ہے
ہیں ججیراکہ ن کور وصاحب خخرت موی علیہ السلام کے بعد خلیفہ ہو جھے_
۵ نت مزدورب یکر کے اتی محاشی ضروریا تکی کی لک نانہ صرف باحث فحضیلت ے بگمہ ہر
شس کے لے ضروری بھی ے۔ ندکورہ صاحب یہ چھ یکر کے ےکلہ ۳ یھ و
تر کفکر سے اہ ل عکوگی تنعل وظیفہ مقر رکر لیے اور خود عبات میں مشخول رجے لیکن انہوں
نے ایب اکر نے کے بھائۓ تکو میں ے پالصئل فی اخقا کر اور اپٹی ضروریات محنت مرددریی
کر کے مورک یکر نے گے۔ ۱
اس سے ہہ نعلیم ع یکہ عباد ت٠ اور بر بی گار کی اخقیا کر ن ےکا مطلب مہ نیس ہو جاکہ انسان اہ
محاش لک جو جہد می ئیھوڑدے اور پگھ نہکھرے جیرالہ یح لوگ بے ہ کہ دینبداری اخار
کر ن ےکا مطلب دمیاکو پا یگل تر کفکرد یناور جلاش مواش شک یکول سے د سب ردار ہو جاناے جو پالینل
پل اور غاط باتدے۔
-٦ عدیت سے ایک بات یہ معلوم ہہ وٹ یکہ وہ غلیفہ اکٹرو بنشت زور وگگ رکرتے تے اور اسی غور گر
کے تمہ عو کی اد راک ہواکہ بے سار گی سلطنت اوراقۃر ار سب فا اور یھو نۓ وا لے میں
رین ۱
معلوم ہواکہ غور وگکر ال دانٔش و عق لکی تصوعیت ہے ق رآ نکر مم میں بھی تب مور نگر سر
ٰ بہت زیادو زور دیاگکیا ےک ائل ایمان الد تعا کی خِقا ت او رکا نات میں خور و نگ رک کیہ ان یل
ایل دالش و بفنش کے لے بڑبی داضح نشاحیاں میں اور ھکر و برک نا صاحب اما نکی علاصت ے اور
ا لکی وج ے انما نکو جا یکا ادراک ہو جاے اور ا: شا کی یقت اور معرفت تعیب ہوئی ہے ج ٰ
انی ار تک تار کی کے لے بہت من وید دگارے۔ ٰ
گہ۔ 00ء و سے یی ات ٰ
اتتزار اور شان و شوکت می کی ااشم کے ذکر میس پو شید و ہے ذکر ای خواو خر ی ببکرے بااھی “اکم
کہ مے اد عایا'س بکیلے رکال ور بر ذر یحم ا اہوورتاجرۓ الأبذکر الله تطمئن القلوب۔
را اسباب راحت و 1سا کشات ہہول لین اکمروسن وذکرالی سے نفلت ہو توؤژہ بر بھی راحت
کون نہیں مل سک او کیہ دلو ںکو سکون وا طمیان عیب ہوگا' تام دولي رئا اور
1 'س تنات:ا یر ہوں۔
٢ ”گے
۵ ے ۴
سس اور ےۓغ
0۴
اصحابالآخرود..... آن ککی خندہیں۔
ہتث-
اىاب الأ ىر ودکاواتعہ ہڑاا یمان اظروز*عی رت انکینزاور سج یآ موزے “اص اس واق ہکا کر ق مآ نکر ٹیش سے
گن خر نکرم کی سو زار وج ئی انی طرف محفق را شار ہکیاگمیاے 'لفسکی واتعہ حد یٹ یر سول ا مه
کےے بیالن فرمایاے۔ ۱
090۳
روی مسلم فی صحیحه عَنْ صهَیٍْ أُنَ رَسُول ال و قال: (كان مك
ِيمَنْ کان لم وُكانَ لَهُ سَاحِرٌء فَلَمًا كَبر َال للمَلِلْْ: ِني قد کیرٹ فابٹ
97 بت فقعَد إِيْهٍ وَسَيعٌ کلامَه دَأَعْحَهُ فکان
اذا آآتی السّاحر مَر بالراهِبیء وَقَعَد لیم فَإذا آے انکا تر نما سے إلی
01-32 ۱ ٰ
نما هُوَ كَذَلِك إِذْ آنی عَلی داب عَقِيمَةٍ َ فذح الَائ فقال: ليوُم
الم السَاحِر نل ام لاح أَفشَلُ ---٠
تَا ك6 فقال: لم إِأڈ کان أَهْر الرًاحیبِ اَحَب إِلْكَ: ِنْ أَسْر السٌاجر
قافتا ھذہ الذابق کی تھی انار اما فقَعلهَا ومضی الا فاتی ال هب
حرف فقالَ لد الرَاجِبُ: بُني انت اليَوْمْ اَفضَلْ بني؛ قَ بَلَع بِیْ أَىْرلا مَا
أُرّیء وَإِنك ستبتلَیء فان ابلیتَء فلا تڈلَ عَلَيٌ.
وَكَانَ الْعلامُ ری الأكَمَة وَالأْرص ويَْاوٍي الاسُ مِنْ سَائر الأَدْوَاءِ فَسعِمَ
خَِيسْ لِلَْلِكِ کان قد عَيي؛ فَأتاهُ , بھَدایا كَثيرة؛ فقالَ: اف اش چا
بچجھ,
ضس ال رۓغ
أُنےَ شَفیتيء فقَالَ: ا: نی لا أفِي أَحَدَا ِنمَا --۳۰- ۰ فإن آنے نے باللهِ
دعوت ان فشَمْاكَ 2 باللهِ فشفاہ کل
فاتی المَلِكَ فَجَ :لوہ کَما کان لہ فَقَان نا الملك: مَنْ رَدٌ عَلَيكَ
بصرَك؟ -
قال رَبي: قَال: وَلَكَ رب غَيْري؟ قَال: ری وَربِك الف فاعتۂُ فم يَرَلْ
0 کت سس الْحَلِكٌ: ب0200
و ںہ سر و کک کو 1 سے
َأََلَه فَلَمْ يََلْ بعَدبهُ حّی دَل عَلی الرَاجی فَجِيءَ بالراجب نیل لَْ
ارحع عن وییك فابی فدعَا بالَٰیثشَارِ وع الیتار بی رق راہب من
خی وَقمَ یق تم حىءَ بحَلیس الْمِلی فقیل لهُ ارجم عَنْ دِييِك فی فوَضَع
لونشاز في تلق راہ فثقة یو کی رع یق .
حيء بلقلا فَقسلَ لَ : ارح عَنْ یك فَأَبی: فدَفْمَۂ إلی نفر مِنْ
اصْحَابي فقَال: اذا بی بل کذا وکذا فَامْعَدُوا ب الْحبَلَ فَإها ہم
رد فِن ٹن رضم نج یه وَإلا فَاَرَحُوهُ فَنعبُوا ہو فَصَِدُوا بهِ الْحَبَلٍ فقَال:
اللهْم ١ ا غإنتء رف بھخ الْحَلٌ فسَفواء وَحاء دی إلی ايك
َال لهُ الْمَلك: ا فَعَلَ اصْحَايٰك؟ قَال: کنايیهم الف فذفیه لی نفر مِنْ
و
صحابه فقال: ذَبُوا یو نام فی فرقوں فَوَسَطُوا بو البْحْر فإن رَحَم عَنْ
ع کچ سم سے
یه ولا فَفَِقَوهُ ھ0 یہ فقَال: الله اھ ہما شعت فَانكَفَأت یم
ہی حر ال
الین فَقَرقُواء وَحَاءَ يَمْشیي إلَی الْعَلِك
قَالَ له الْمَلِك: مَا فَعَلَاَصْحَابِك؟ قَال: کَفَايِیهمْ اللق فَفَال لِلَْلكِ: ىك
لت بقاتلیي تی تَفَعَلَ مَا آمْركَ ہو.
قَالَ: وَمَا هُو؟ قال تَحْمَمٌ الناسَ في صّییدٍ وَا حا وَتصلبَي عَل جذع ئُمْ
عذ سَهْمًا من کتائتي: تم ضَم السْم فی کبدِ القوْس: ور عدیت
خرصے جلاسِ
الغلام نم ارنيء فانك 7 فعلت ذلكٰ قتلتبی .
ا
اس شر بر یی تک کیا اعد سَهْمًا مِنْ کتاتیی
مس اور ےۓغ ےا
تم وضع السہْمَ فی کبلد القوٰسء تم مث قَالَ: باسم ال رب الغلامٍ تم رَمَاہُ فوقع
السوْمٌ في صَدغو فوَضع يہ فی صہ في مَرضیم الس کات فقال الای:
آمَنا برب الغلام آمَنا ری الغلام آمَتا یرب الغلام . ۱"
اي الْعَيْك فقیل له: ریت ما کنت تَحْذَرُء قد واللق نزَلَ بك وب
ا 1 بالأحَدود و في فواء السکك ۂ فخدّتْ وَأَضَرمَ الا وقال: مَنْ
لم يَرْحع عَنْ دیو ذأَحْمُو يَاء او قیل لهُ: احمٔ ففعلوا حتی جاءتِ ارآ
وَمعَھَا صيٍ لھا فتقَاعَۓ ان تع َھاء نَعَالَ لھا اقلام:: 80و اصبري فَإانكِ ْ
عَلَي الحَیٌ ). ٰ
تحار مث
رت ص جیب رو یق ےرواہت سے کہ ر حول ازم پٹ نے ار اد ٍ7 ماا: ٰ
نتم سے لی اموں ھ یل ایک باد شاہ ھا اس کے و جب دہ لوڑھاہ ھگیا نواس
نے از مات ا :یں لوڑھاہ وگیاہوں' میرے پا سک لڑ ےک و مجر“ ناکم یل اسے عاد و
یسب یس و تی ہو یہ بے تی
لے جادوگر کے اس مم دیا دہ لڑکاجب چادوگر کے اس جات تو را: یل ایک راہب (بتی ار اتی ل کا
حادم گار بن ہٴ بس نے د میا ہک کردیی ہو اسے راہب کہا جاتا ہے پٹ ا تھا۔ ود ایک پار ا کی راہےی
کے پاس ہیل مگیااود ا کی باتیں سنیں نو اے بہت ا بھی لیں۔ چنا یہ اس نے مہ مصممول بزال کہ جب
بھی بادوگمر کے پا ںآ تا توداہب کے اس سے ہک رہ آ جاور ا٣ ں کے پاش پگحد سے جیا جا۔
پر جب وو جا دوگ کے پا جات وواے مار ت(د مہ سے ؟رنے )اس لڑ کے نے چادوگر کے تلم
اراس اض از
”جب میس جادوگ رکاڈر ہو فو ال سےکمہ دواگ ۴اک 7 0
سے ا نر ہوگی )اور ا ےگھرداللوں سے خطروہو کیہ دماکر ناک کے ےکن ا تن
بی معاممہ هار ہاکہ ایک روز اس لڑ کےکاسا منا ایک دلو جیئل جاور سے بہوااینس نے راصتہ شش
آکرلوگوںکار استہ دوگ دیاتھا۔ال لڑنے نے دل می لکہاکہ : آ جح مجھے یع چچل جات ۓےگکاکہ اد گر زیادہ
6ری ہے
ْ پناتجہ ال نے ایک پچ راٹھیااورد ھا یک : اےالل گر راہ بکامعللہ اپ کے خزو یک پہ شر بر٥
ور موا انت ی۶ 8 01-[ھ+0 کہ رو جی ھر
کاچ رکالکناتھاکہ جان رم رگیااورل وگو لکاراستہ صاف ہوگیااور دوگزر نے گے۔
تی سس سن سی ۲۸
بعرازال دہ لڑکار اہب کے یا لںآیااور اس سار گیا بات لا فی تر اہب نے ال سےکہاکہ :
نناے میرے یی ان سے تم ھ سے زیادو صاحب فضیلت ہو گے ہو ' ہا ل کک مب راخیال ے
یہی کرای حاصل ہوگیاسے اور با شر تم خنقریب 7 و ریا .لہ اگ تم آزمائش
یس بل ہو ئے می راس راغ نہک دی ا_۔ ْ
تک کو وا کی طرف سے کے صلاعت مطاہوگی ت کہ ددادرزادار ھا رکم /
ٰ ری کفکرد تا تھااور لوگو کا ہرم رخ میں علائ کیا ما تھا باد شماہکا ایک در ہار کی تھاجو اندھاہ گیا تھا
ا نے بھی لڑ ےکی اس صلاحیت کے ملق متاقووہ بھی اس کے با خوب ہدایااور تے ےکر کیا
اور ال ےکہاکہ :
ےمتنمیس باں تمہادے لے سب پھھ جح می ںکر سل ا الد خلت 02-0 گے
ور رز نک ٰ
ڑنے ک ےکہاکہ :یش نوکس یکوشفا نمی دبا شفاد ہے ولا اش ےگ ماس ال یر ایال لاتے
ہو و بی اید سے د اکر و لگگاوہ ہیں شغایا سکرو ےگا ود با گی یہ کن اکم ایھان نے آی الد نے
لے شفاعطالمادی۔ -.
روہ باد شاہ کے در ہار میں حاضر ہو ااور ال کے ریب یٹ ھگیا جع اکہ پیش یٹاک جا تھا مادشاہ
ْ 070 :تھہار ہی بدنا یتس نے لو ثادی؟ اس تن ےکہاکہ گے فی نے ما شاون کال کا
ہیر ے سوا بھی ج رر ارب ے؟ا کیانے جو اب دیاکہ مب ااور ہار ارب الد ے- ٰ
ناد شاو نے ا گر فی رک مااور اے سسمسل تد دک نتانہہنائۓ ر غء رکھا یبای ت کک اس نے لڑ کے
کا پت قلادیا چناج ال لڑ کےکوگر فا رکر کے لا یاگیا۔ بادشاونے ای ےکہاگ:--
7 7 تمہارے عادو کے تلق اطغ کچ بھی ےک 2 کے ذریہمادرزادانم ھے اور
کوڑ زی 7 یل گمردۓ ہو اور ہکرت ہو ودوکرتے ہو؟
وہ کین اا کہ یس نوکس یکوضےڈا نچ وح شفادۓ والانزاڈری ے۔
بادشاء نے اسے مھ یگر فا رک لیااور اے بھی مل تشددکا نان نا ماما یہا تک ہو
راہ کی نشاند بیکردی' چنانچہ راہ بکو لایاگیااور اس کہاگ یاکہ : اینے دن سے تر جائے “ ال
نے اکا کیا نے باد شاو نے ایک 1رامنلوایااور اس آڈر ےکوراہب کے صر کے ول پچ رکھااور در میان
سے اس ظ رج رڈالا )کہ اس کاو ھڑوا مسا بے تج تر گیا)اوردونوں گکڑےگر ڑے۔
بعد از ال بادشاہ کے در ہار ک یکو لایاگیااور ال ے کہاگ یاکیہ : اسینے درین سے مر جا ان نے بھی
اڈگا کیا نذا ںکی چیا س رک مانگ پ رک ھک آرے سے یر ڈالااوراس کے ببھی دوفو دع گر گئے_
٣ ے ۹
بی کو لایا/ ورای سے ہیا اپنے د یکن سے تار جا اس نے اما کین اے پارشاہ
نے اپے آومیو لک ایک جواعت کے ہوالے کیااو کہا :ا یکو فلا فلا پہاڑ پر نے جا اور پہاڑ
تڑھاؤجب تم پاڈکی جے ٹیر کچ جاؤنزاگر پٹ ادن سے پگرجاے فے کیک ددرت اسے وہل سے یچ
یک دو چنا کہ دواے لے 7ھ جن ئا
ا لڑ کے نے دع اک کہ :اے ال امب رگ مرف سے النا کے" جےکائی ہو جا ےۓ جھے ٦ أپ جائیں!
( ال دک اکرنا) پہاڑ ر ز الہ آ ایا اور وہ سب کے سب نچ لڑخ ککرگرگے۔ج بک ہلا چنا ار بش
کے ان 6 2
بادشماہ نے اس سےکہاکہ : تیرے سا تھ جانے والوی کے سا تجھ ایس گپاگہ :اشان-
سب کے سا ےکائی ہ وھگیا۔ ٰ
بادشاہاے اے لۓے آدمیو لکی ایک دوس ری سے ہی سز :اس لے چاواور
سے ای ک کش می سوا کرد جب سمندر کے بی میں جع حا گر یہ ایند ین سے بن آ جا فو کیک
و رنہ اسے سمندرر یل نکد ینا۔ چنا نیہ وداسے لن ےکر لے ت4۸0 :اے الد ! آبپ مک طرح
ا ںان کے لے کافی ہو جائیں۔ ناف ہشقن سب - مھ ا کک یاورووسب خرقی ہو جب
۱ کہ ہیر وایول چا ہو اباد شماہ کے پاس ج “۴ ما ٰ ٰ
بادشماہ نے اس ےک کہ تیرے ساتھیو کیا ہنا کن اکا :الد ا نکیل ےکی ہوسا من
بے پادشماد ےکماکہ : فو یھ نل خی ںکر سک یما ںیک کک ایس کول ویک ر' باد شاو ےکراکہ وہ
کیا؟ کن لاک :سب ل کو یکو ا یک بڑے مود الن میں ٴ اک راو چھے سوک چڑھادے گر میرے ت رح
سے ایک تیر نے اس مال نکیا جات پر چڑھائ ر”بسم الله رب الغلام اس الد کے نام سے جو
ال لڑ کے کارب سے )کہ دک تر مھ مار ۔ اگ ای اک/ر ےگا ویج کرنے یس کامیاب ہو جائے گا
(ا کے عداوو تق ےی می ںرریئ)ں
ھ7 کو ایک وسحح وع پیٹ ممیران شش سا لڑ ک ےکو سولی بر جچڑھادیا بجر
ای کے ترک سے( جج ہاکہ ال ن ےکہاتھا) تیاور تی رک وکا نکی انت میں رکھا ئگ کہا :
”بسم الله رب الغلام “اود ب کہ ہکر تر اے مار اد جاک سید ھالڑ ےکی پٹی یڑا وا
ےاپتاہا ۶1 تھ پیٹ ی حر ہاں 7 >2 7 تمارک دیااور جان جالن ٦آ ُ ثٰ - 2 کر درو ی۔
لو سی قابل ین اندوہناک منفمرد مھا نے بے ساختۃ پکار اش : چم اس لڑ کے کے رب کہ
ائمالنا لے تئے یم ا لٹ کے کے دب بر امالن ا لے ہے ہم لڑ کے کے مب پچ ائیمالنا لے آ ئئے “۔
مکیانے بادشادرے 1 ہا/ہ جس با تکاڈر اور رشح وادہ لو راو نز اسب لا : مان نے آے_
نس ارد
تج جح سو نے +۸۰ ۳
ادشاونے چوراہہوں ع خند تی ںکھودن ےکا عم دیا یکر ان ہی کی
۹" "تت7 جم ں اپ دن سے نک رے اسے اس میں جلادیا جا ےا
ےکہ وکہ الن خند تو ل می ںکود جا ۔ ٰ
چنا یہ سب اس می لکود گی (او ری نے امن سے پچ راگوارا نکیا ) یما مت کفکلہ اک گوربت
۹ ہے کمن ) پیر کے سا تھ کی ۔ وہ( کی آنگ دک ھکر ذداسا پچ چائی اس می لکود نے سے نو اں
کے نو مولود پیہ نے فور اکہا: ماں اص رک بلاشیہ آ جن بر ہے !2ال انے بی کی پان سے غیر صعمولی طور
رہہ جملہ سنا فذفو راک دگئی)۔ ْ ٰ
کالہ بث :
روام س لٹ تج کاب الترحد والر قا یر باب قصت اضصحاب الد ودو ہو 2-0
قرو 27 0 مرے ٣۳
نت مر الد یٹ
بی ایمالااشروزد چپ قصۃ اعاد بی فک یکابوں بیل متحدد سا سے ممروییڑدے۔ اور ال اما نکی
آز مان وابتلا اور الس شی خایت ف ئ یکی جیب مثال یکر جاے۔ ۱
دور ق میس حھر(جادو )کات اور اس کم کے علو مک اہ جا تھااو لوگ لم نجوم مہات اور
جادو و فیمرہ پر ببت لین رھت ھھے۔ جعیاکہ ار ج بھی جندو ہب میں جو نف اور اس طررع کے دنر ٰ
علو مک ڑا ا بک سم وی ےہ لاوش بھی ان چیزوں ہہ نیل تال نے لکل مم
ٹراردیاے لین دا خنقاد بڑ عتاچ(ا چار باے - ۱
فرص ز ماقم میس ایک باد شا کے لک شل ہہ واقعہ جا 0پ مل
مطا ای نع پر تھا۔ج بک با دشاواور ال کے در پار الہ 7 اومہت کے ق نی نے بللہ خو دبادخاودے
اے ان ا رب “فراردیاوااور سار گی قو مکوز پرد کیا سکا تق لکیا تھا ٰ
2ب 7۵اک ک خو نے کس کی ےکن
لوری قو مکو برابی تکانور عطا فر ماد نے یں چنا یہ راہب کے ذر یہ لٹ کے کے ول میں ابیمان آیااور
ا ںکو اد دی ای محرفت تعیبب ہو یکہ ا لکامرحبہ راہب سے بھی بڑم گیا اور فی تال یکی شٹسی رد
اسیا کے سا تھ ہو یکہ دواند ھھ ین کوڑے اور دس مر اعمراخ ش کاککا ضیاب علارحکھ نے لگا۔
اش ہک اکر کہ ا لکی شہرت بادشاہ کے ایک مصاحب کے کاموںل مک جپنی جو اندھا ہو جکا تھا۔
ٹڑ کے سے ملا قات بر وہ ھی ابیمالنا نے آیااور الیماصاحب نشین بناکہ باد شا ہکی 0990
سص- پہ”٭سو-”سمصص۱ے۔سم وس مچجھووٗدوہۃے۔سسجحدد٭۔۔ س۔ اسساظم ساد سسومود ًسوےجچے
ا ۰۰ ٣سسشت سد سے یلست سس شی شس سو ےہ ہہ سی یں ص[صُصُدط روحسم تس ےس کٗلالظگوٴھ ته۔۔ ۔ ے۔ ہےیں۔ مہ سے سے یس یسےسمہے مہتتجچجتداشتں: ات و سمسموہالے سے ہے ٭سجچتے ۱
۱ سے ےہ چچچچچ ہت شس ہچ دی جس ہہت ۲۸
مرن کو ھک راک ان اما نکی ماطر قرپا رر تن ہب نے مبھی تب نکی نار حالن د تۓ
ہے در ئن ہکیا اود جب پادشاہ رت 7 رت و ات 2 9ت
تایاور جب اسے اس طط رع تق نکی اط رح تم ت٠ لک ایا سمارا پر یسہہشٹ
ب گا اور سمار کی تو ایھھان نے ا آئی۔اورا ری محرفت تنا ہے 1 نو رکی قوم نے مض سی
زم کے اتی بھڑی ء7 لہ ہو سا اگوار اک لیا گر یمان سے پر وا از تر ۔ انا
بر وا امت کر رت دخخریب مال س ےکم د ماکاک ہے ہآ نے
ھی سس بت
چنر رت ھ2
ئن تازے ے۶ ورو رکا بڑاساان اور نے شارت قی ٹوا 7 0
۱۔ کل 7 کا و ل۷ ت۸ا وغل
ایا نکوای ہی صی رآ زماآزمائٹو سکاسما من 7 ےسب ٭
- لٹ تال ی جب کک یکو ہدرایت دیناحاتے ہیں نواس کے لئ وی پ۶ اباب چیا فمادیے ؟ کی
ٹڑ کےکوبراییت و ناج مار اہب کے ماس جایادیا۔
۳۔ ا انی صعی تھی بھی نرے+ا ض ےگ ای0000 یت شاراہ>
گامزلنکردقی ہے۔دہ لکار اہب کے پا یج دم کے لے ہہ بی یکم سا ااورای کھوری کی بہت نے
ری توم کے لے ہدایت کیا راوجھوارگر دی پل شر ابل ال 'گا' صحب تکاچی اش ہو جاے۔
×٣ حدریۓ ے معلوم ہوا راودا و قاصد کے تصو لکیےار مقصان ے پچ لے
بس او قجات خلاف مفیقت بات کن ے۳ یگنوانش ہے۔ جی ارہز ووئی نے ا کی نھ رج کی نے سے کیو مل
راہب نے نر ہے سے ہے کہا ت الہ ا وھ ار راومہ ے اگ تم سے جادوگر رو جڑھے تو
اس ےگھریس ر نت کاکہنااو رگھ ردان ہو تی و جاد وگ رکاکہنا امہ مسجم ںکوکی نتصالن نہ نج ۔
۵ حدیے سے ائل الف دک یکم اما تکا تل ہہونا بھی خابت ہو جا ہے جعہہاکہ لڑ کے کے پا تھوں اور اد
ٰ اند ھ او رکوڑ شی کا ترک ہو جانا یپوی جاعتکامر جادر خرق ہو جازادرل ےکا کو سا م
ہنا ال کی وا شح لیس ہیں۔
ایک مم حصد نے سے بی اکم ایل دبین خحوصاد بی راہخمائؤں کے لے ضرور یا ےکہ ج بکوکٹی
ہیں ہے ںہ تو اسے ایمان اود دی نکی دعوت دیں۔ و ادشاہ
کے مصاحب کے سا تد لڑکے نےکیادد اپ علاع کے لے ا کپ“ ں گیا تل کے نے ایا نکی
کر ×× ضقى ہت سس بے 2ء۵ءھ"
د وت دی اوراں نے قول مر ی۔ ْ
باردبن اودعلا ہام تکواس دورشی ا کاخصو می خال رن ای شیا تال ہت ہوں
کواسی ذراجہ سے رایت عطاف رما سں_
ے۔ ایل اللہ اور اصحخاب ایا نکی تیم خر بایال ھی حدیے سے خابت ہو لی ہیں جنہوں نے تح نکی
مال انی جا ہیں شرہالنکردیں۔
۸ ۸ اس واققہ سے ایمالن گی ایک جیب وخر ب6 شمراور خحاصیت مہ مایا ہو پیا کہ ایک ہار جب
دی شس ات جا تا ق ا یکوفی طاق کسی نال مکاشم اد جا کاچ را کول سے ما نہیں سار
ایما نکش راب ایا ےکہ ال لکانشہ کیل اترتا یہ دہ صیفۃ اللہ(الل کارنگ اے ج تڑھ جاۓ ل
نان تشم وو سکیا ہے رک ٹیں ساٹ سار جھ مس ایک با میا ا نکی لت ے آ شا
جا تاہے ےئل چاں دا کین رہل پک جا اہے۔ -
وو عم رج کر ے برگانہ دل کو
تب بر سے لات ال
ایک نج حد ین سے یہ لها ےک مار نے والے سے بچانے والازیادہ طا تر سے سے جے خرا
رم کون مکھے۔ مقصید یکہ ساد ید یا اک انسا نکو نقصان پیا سے اور ال تعالی نہ باے 7
کوئی ا لکابال بکا خی سک سکنا جس طرئ اد شاو اور ا ںکی ساد اسر کیا کی طاقت اور مشیر یلڑ کے
7":
میں رھ سے یکا عرایقہ خود بای ہہ بظاہر بڑکی جیب بات ہے اور سر س ری نظرے ریکھا
رہ اور ین عبت خو دی 2 یں بہ ور کی قوم کے ایمالنلانے
گیا ایک نب گی ال مل ےکہ دہ لڑکا یہ جات تھاکہ اس کے مظلومانہ نل کے منظ رکود ینہ کے بعد
اریی قوم خماموش نہیں نیٹھی رے کن ےکہ ىہ مظر ان کے قحلوب پر اتنااثر انار ہوکہ وہ
مان قبو لکریں۔ چنا تہ ابی ہوااور سمارکی قوم حلقہ تو شس ابمان ہ گئی۔
اور صرف می ننی بکلہ اس نے لو با شاواو راس کے در باریو کک کے منہ سے ال انام پگوویا
ااردہ پور ہو الام سے اورال کی ری بی تکا اتا رکرنے پراو یی ا سکامت تال
۷۔ اللہ تھای نے فآ نکر مم بیس اس واقع کی طرف اشارہ فرماتے ہہوۓ سوب البر ور کی ن مکورہ
بی -ثُتل أصحابُ الأخدود ے العزیز الحمید ک۔(٥ت)
ا۔ نت رات خن آت ےکہ سار قوم نے خند تقو ںکی آنگ مس جلاد یگئی صھی نین اس
ےکر ھردنکایاقد ےھ ودرا ے آرے الا جو
نی اور یۓ ۔۔-۔ تے ہے ٦ ۲,۰۳۴
بوخ 4ی
٣۔ ملیف اور مصاب بر سر بک ایانب واجب ے' ینس طرح اس راہب اور مصاحب نے
۳ جس ط رحاس لڑ کے ن ےکیااود تس طرع سادکی قوم ن ےکی 02
ارا فکرنااراو فرار اخقیاکرناشیثدہ بند ٤ مو صن یں بلاوجہ محیب تکود جوت نیش د بی جا ۓے۔
ْ ین جب اتی طور کوھت آجاے تا کا بر ا تقامت سے سام اکر چاہ۔
می وج ےکی علیہ السلام نے ف مایا ےکلہ :
0 0000 کر نے تی لکن جب بھی د خی نک
سامنا ہو جا فو لو کی خابت دی کے سا لا کلاس ما ارت گرو)
ئ2 نگ اور دجن سے مقابلہ کے وقت خلاف جقیقت با تک نا جائے ہے ججیہاکہ راہب نے
لڑ ک ےکو مھا اک رگھردانے بیو بی تو اد وک رکا کے اور اد وگ و جنھے ٹوک کا بات کر دے۔
۵۔ عرییے سے معلوم ہو جا ےک مجن او قات ش اکر دکار حر استاد سے بڈسھ جا تاسے مان مہ اتا دکی
ٹیس کہیں ہوک جکہ ا کاککال و ہے ماک دہ ڑکا راہب کے اپ قولی کے مطابقی مر جہ میں
ای سے ہڑ ھگیا۔
٦۔ ایمان سای سرک تار تر خر رو ظط
ہونے کے لج مہ ضمروری کی ںکہ و یل عر صہ اورزیاددوت درکار ہو۔ ینم او حا تعجر کےکافر
کو لک میں دو مترفت اور یقن وا یما نکادود رجہ حاصمل ہو جاجاے جو دوس و ںکو عم ربج ری ریاضوں
ٰ اور عاہرات کے بعد بھی حاصل نہیں ہوت۔ ال کی داع مثال اسحاب الخدودکا ہے واعہ ےک ۱
مصاحب سے بل ےکر سار کی قو مم کلک یکو بھی ایمالن لانے کے بععد عق تک رسای محر نت ت تاور
ایمانکاد جدالن ہونے میں کے * یا دقت نہ اگ اور دہ حول ٹل اس مقام کے آشنا ہو می کہ را ا نکو
دی کرت و شوکت وو نب جفکہ ای انتک پک گی ل تھل کی رض کے الخ ۔
معن مھت کان ددمقامے جہاں عق لکی ر سائی ممکن ین
۱ ہر تر
مقام معرفت عاصل کیل ہو ج۔
07 ۱ ۶ 9 یوو'فأٰھ
مس ار رۓغ
یت لیسواں قصہ ج ٣۳پ
۲,۵
نی طقیق کون پھولو
بر
ع شی کمسای سس وت اللہ گل سم ام شی ات
خی تی ہیں مھ گے ۳۲ دیرم
بھی فراموش نی کرت چایے۔ اپنے ماش یکو ة فرا مو کر کے ھرور یشل عینظلا ہو نے دانے اور اس سے می
حاص لک کے نعق تکا عن ادا اکرنے دانے افرادکی پر تا و گزشت..... مس میں : رہ کس یں۔
اض ت.- ۱
رری البحاري ومسلم ق صحیحیھما عن اي ردان أنهُ سَمِع رَسُولَ
ال لٹ يَقولَ: آرإڈ تلاکة فی آجی إریل: اص فرع ََعْمَی بدا لل ۴د
ان تیم ف فبَعَث إِلَيْهِمْ مُلکاء فأتی بر ص نقَال: أئ شی اح بُ اِلييك؟ َال
فو سر ابر ھ ٤ھ" ٔ۳“
ون وت وَحلة حَسَن قد قذِرتی النا, قَال: ا 2ھ
لا کا وَجِلدًا حَسََا. َعَالَ: اي المَال اَحَبُ إَِيْكَ؟ قَال: لاہن أؤ فان ٢َ
ُرَ شَك فی ذلِك: إِنَ لص وَال فرع قَالَ أَحَدمُْمَا: : الاب وَقال الآحرُ: الَْرُ
سے سے سے دتہ۴م
فأَعَطِی ناقة کا فقَال: َارَكُ لَكَ فیھّا۔
وأتی الأَقرَعَ فقال: آئ َء اَحَب إَيْك؟ قال: سس اور
مذا قد قذِرنی ناس قَال: فمصحة فذھب؛ 27 تع 22 قال: فا
الال ا إليكَء قَالَ: الَبْقَرٗ قَال: فَأَعطَاءُ بَقَرَةَ حاملاء وَقَالَ: بْیَارَلدُ لكَ ۶
سن
تی الأَعْمَیء فقال: یئ شيء تک لیك؟ قال 2 1 لی بصري؛ 2ھ
بە ئ0 قال: فمسحهُ فرد الله لی رھ قال: فی مال جت يك قال:
الْعَمُ ؛ فاَعْطہ شَاءَ وَالِداء ناتج حَذَان وَوَلَْدَ ہذاء فان لِھٰذا وادھ ِنْ بل نا
واج مِن بقر وَلِهَذا واج مِن غنم.
اید یے ۲۰۸۹
مه آتی لاس فی تو و فقال: می 02-111 ابی
لحِبَالُ فی بت فلا بلاغ او إلا باللہ نم بكَء أَسْألكَ بالَذِي أُعْطاكُ اللَوٰنَ
۱ للحَسَن الد الْحَسَن وَلْمَالَ ىر بل علیہ في سقري فَقَالَ له: الْحْقَوقَ
7 ھ* 9 : کأنی أَعرَفْكَ اَل 2.07 َقَذرك الناسے؟ فقَیرا فأُعْط ال إللز؟
فقال: َقّد وَرنتٗ لِکابر عَنْ کاہر. فقَال: اڈ کست کاؤٍبا فَصَيْرَك اللق لی مَا
تیاور بث :
خر ت ابو ہر یہ نفرمات ہی ںنکمہ اغہوں نے رسول اش لن سے ناف مات ےک :
اہ ۱ 0 ہیل 2 کا کوڑ گی دوصر اک اور قم انابینا۔ الد نتحالٹی نے ارادہ فرمایا
کہ انی آزہمائے۔ چنا یہ ان کے اس ایک رشن جیا دہ سب سے بل ہکوڑ بھی کے اس آیا اور اس
ےک الہ کیا پندکرتے ہو ؟ اس ن ےکہاکہ :خوبصورت رگ رر رخ
الںم ش کا دج سے دطکاردیاے۔ ٰ
فرشننے اس کے کم بات چیہ را فو ا سکاسمارام رح جامار مااور اسے خو اعصسورت رک اور
خوبصورت جلد عطا/رد یگئی_
پر ۱ ا ےکہا الہ جھے ےکون سامال زیادەپند ے؟ کن کا اک او ٹف گا“ سرن راو ی6 شک ے ان
سے ایک نے اون فکہااوردوسرے نےگائے لن ےک ب وکیا ہک ن کیا کہا ۹ب خ رخ سے
ود لگا ھن اوخطنیاں عط کرد ی کی اور فرشنہ نے اسے دعادگی کہ : تھے لان شی کن ہو
پھر وہ سکنجے کے پا آیاادر انس ےکہاکیہ ٹ مکیا اج ہو ؟ اس ن ےکہاکہ :خو اصورت بال چاہتا
ہوں “کہ جج سے مہ رخ زانل ہو جا ۓغےکہ ا لک وجہ سے لوگو ںکادہکاراہو اہول ؛ف رشن نے ا
کے سرب با تد پیم اذا سکاع رز انل ہوگیااوراے خ اصصورت پال عخطا ہو گے
راس ےکرک :ےم لکونساپیند ہے ؟ سے لاک گا ہیں اس نے اسے یک عا مل گائئے دے
۱ دیاو رکہاکہ تھہارے لئے اس میں برکمت ہو۔ '
پچھردواند ھے کے پا آیااور اس ےکہاکہ : تخ میا اہج ہو ؟ کے ڈاکہ میس چابتا ہو ںکہ اللہ
ْ 1۳۴ کیا لصارت لو ٹا دے اور میں لو کو ںکودکیہ سکول“ فر شعن نے ا سکی آ 1ہ کھموں پ ات چب رااور
اھ نے ال کی جیتا یلو مادہی۔ بی راس سے کو کیہ مال شی الہ :پھر ایا ناخ
ٰ اے!) . بہ لن وال یک یدن دک گئی۔
پسہ دونوں کے جانورول نے بھی ےد بے اوراس اندے یج ی کے پان یچ چداہاے
ے ۲۸
عو ریغ ۱
ْ اور ا کی ب رت ہو یک یک ھے کے اس اوخنںل سے کی ری 007 0 ےن
تک 2فز تیسرمہے کے پائس پیٹ رجھر میا کی ایک وادبی ہ گئی۔
پچ ر(ایک ع رض ہگزد جانے کے بعد) وو فرش ت ہکوج کے یا ا لک سابقہ شکل وصورت میں
(کوڑشی بک نک ر) آیااور انل ےک ماک : نی الک ملین زی مرن' سماراا ساب و ہمان سفر میں حم
ہ وی آ ئا کے سوااور پھر تہارے سواکوٹی ضز پر پچیانے والا ٹنیس سے ' جم اس ذا تکاواسط
83 یں خوبصورت رگ اور ین جلدعطاکی ہے اور یں(او و کی صورت مس )بل بھی
عطاکاہے یش مم سے صرف ایک اونٹ ماما ہوں جاکہ می راس ربوراہوجاے۔
7 :ھب بہت سے توق اور زمہ داریاں ہیں (میش تمارک مدد ۰ییں کر )فرش
ن ےکہاکہ : ذ شاب ٹس میں پان رہاہوں کیا مک وکوڑھی نہ جھ “ہیں کو نے دحییار دیا وا ؟ تم
- نہیں تھے کی زارد نے میں مال عطا خر مایا کے لگا : جس فا ما کا اپ داداسے وارث ہوں۔
رشن ن کالہ :ا کر مھوٹاے وا تی کے دیبا یمردے جال تد
ٰ وگ یکو تد ود او ےک دن
نے 1 تیاور ا نے ھی دی جو اب دی ال ےاے بھی( بردد عادی )او رکہا اہ : ْ
”گر نے کبھوٹاے توارڈہ تھی تھے تی سابقہ عالت پر لوٹارے“ 0
ای کے بعد دن بنا کے یا ا کی سابقہ صوررت میں آیااوراسل جےگہالہ :
”نی ایک ملین 1ندبی ون ماف ہو “شی کا سارااسباب و سامان سفرراستہ میس شتم وکیا
ہے آ نج ا کے سوااور آپ کے سواکوگی بے ضز زگ بے بچھانے ولا گن ے' ٹس مم سے اس ذا تکا
کت 7 جس نے تہارک بیفا ٹیل ٹاک ی سے ایک کرک یکاسوال کہ اہول ماکہ اناسفر پور اکر کوں
این ےکا: یا شی یل اد ھا تھا ان نے مب رگا لصارت و دی ہیں فقیر و مفلس بی ایند نے بے شی
کر دیالیہ ا لںکادیا ہوابال ے) تنا جا ہو" لےکو۔ ادن دکی 2 آرٗؤش مم سے کی مر کے کا ین
گی اور تن کرو گاج تم الیل کے لے اس میں سے لو گے رشن لن ےکماکہ :اپنامال اپنے بی یا ٰ
رکھو۔ بلا شبہ تم سس بکاامتخا نال گیا تھا۔ اللہ تعالی ٌ ھ سے رای وگیااور تیرے دونوں سا تھوںے -
ْ یکا ٰ
ٰ بیس چوک ۱
کی لم ۔کتتاب الزحد وال ئن .(۲ر ۰۸م)
ور کے 000 ك َ فص ك- وت پکب ہر ۲۵۰۸
معیب کو بھول جانا ماصضی اگر داد ار ے تا سے مضہ موڑ یناور اپٹی حیقت سے مظھرں جانا
انسا نکی عادات ے' ج ب نیف ہوتی ے نواس ے زیادہ می نکوگی نظ نمی ںآ جا اور جب وودور
ہو جا اور نت وکرم ہو نے گے نے بجھتا ےکہ اپچومادیجرے نمیست۔
زم نظرواقعہ ای تفیق تکوداح 0 ابی عبت اور او قات نہ گی و فی جامجئے۔
ور امک یہی تو لکی اسب بارش ہورجی ہ گرا سےا ٹی میق تکاا اسر ہنا جا جاکہ دل ٹیل
براگی اور فر عحونبیت نہ برا ہو اوردماخ میس دو لت وشرو تکا ضا یر ا ےی
دن کے ار ود لت دنا مین دنا اور خحربت دےد اہ صعرف امتقالن اور آز مال شیکسلئے سے۔
9 2 0 ۶ ۳
اع ار سے لت وگمنائی سب بس سست
کان رن ت وا تنا وشہرت سب ا فان ہیں کی آ' 2 کو
زمر نظرواقعہ می تو کو آز میا ۔کوڑ جح اور سنج نے اسان فرا مو گ یکی نقس کی نافع رک یک اور
ال کی اس لح تکو نے اور ال کا تح ادا کر اس ولا رکب رکی راواخقا رکی۔ج بک
ابیانے یقت شنا کی اور اسان شناسی س ےکا لیااو مت کی ندرو قبت جا ہو ئ انی حقیت اور
او قا تککوباد رکھا_
پاک عم تق یکین کو اہی نگ اور کے ہندول کےکام نیت ہے۔
ا۔ حر بیث ے ماد تھلیم ىہ حاصل ہوئ یکہ جب اللہ تھال یمک یک وکوکی نیف دے اہ 8و
تا اکرے نو اے ا ل مرف و میس تکو آزمائش بج ھکر برداتکرناچامہتے۔ ھجب وہ مصیببت دور
ہو جا ۓ فو اللہ کا شر اد اکر ن جایے۔ جم کا مت ربین عطر بیقہ ىہ ےک جب اس معییبت میں ای
ےی از قفورااناحال یا کرے اور تب استطاعت ال بتنلاۓ عیب تکی مد دکرے
کہم کودکارے تار مل کول جاک مہ دای اہ
ے کل الد تعال یکو جخت :ایند ے اللہ نتمالی نے جو مال عطا خر بے ا کا شر اد1کمہ ن کا پت رب
پوس ےا کی ضا اراس کے مععتزدوف روا ںکی علا و ہرک کے لے
خر جکمماجا ناوراک معیسدوہک نے کو شی جاۓے۔
فص ال ریغ پٹ سس ۶ پٹ کیںمں؟' ,)٠ 010 ۹ -.ْ
ا مال ودوات 1 71 ت اور می دنا کی فراوالی ابد تا ی کے یہاں کے یر و کے یر 2
یں ۔کوئی اس خوش ىبھی یں نہ ر ےکلہ اسے توب مال ودوات د ایا سے اور اس کے پاسس وس انل
یا تک یکرت و فراواٹیٰ ےکی لف كکوگی شم وگکر فی تو وواوف ہکا مقرب ہے۔ اگ مال ددولت اور ٰ
سس میا تکی فراوائی عحبوب خدا ہو ےکی ول ہوٹی نوف رعون مان اور تقارون و خیب رو سب محبوب
۱ خمراہوۓ اورر سول خرا مکی ابد علیہ و 7 بھی دوات مندمالمدار ہوتے-۔ لکن دونو ںا 04 21
ف عون وغیرہ محبوب شدراتھ نہر سول اد دوات مند تھے_ تو معلوم ہواکہ مال ودولت 'اد رکا بپند یرہ
"رر و ۱
۴۳ اللہ تال ہر بہلک اور لاعلاح عم شکودو رکھرن ےکی درم تکالہ در کھت ہیں اور اس کے بیہاں
۱ کوک م رح لاعلاع یں وہ سے جا تی جا سے شایاب ویتان
.۵ حدیث سے معلوم ہوا لہ طاہری ٦ن توابصورت ریگ و لصصورت چلر اور بال' ما ی
تو بصور بی اور و او ١ وال سب کے ایل کی تحت میں اور ا نکی ناکرا بھی جائمز ے کیان ان نہتوں
کر لک شک ار اکر 7 ور لے اوران دے 72 وم لو کوں کو تی کر خال کرنا پا / نکزاہ ے۔
0302
۲۰
جوالسوالں تے_ ط ۲۳پ
۲۹
ال مکی اصلا ایک نا اون ے
بی
لد حر تکس یکی می راث نئیں' ادن تزالی جا ہیں نو نا تھا ت ا منقل واررشن(خوا تین ) کے ذر یہ عاماء ام تکی
بھی اصلافرمادینئ میں۔ تی اسر ال کے ایک عال مکاداتعہ ج نکی ایک خاقون کے ذ ریہ اصلاع ہوگی۔
ضایر مث :۔ "م0 ْ
روی مَالك قی موطنه عَنْ یخی بن س سوب عَن الْقَّامم بن مُحَمَلٍ أََهُ قَالَ:
و هَلکتِ امْرَأءَ لی ناتاقی مُحَمَد ین کضہو رظ مَعریي بھّاء فقال: ِنهُ کان
ا ا مُْتھد وَكَانَت لَهُ ارآ کان بھا
نتکا اراتا فمانت؛ فَجَد عَليْھَ َ شَدِیدا وليَي عَليْهَا اوس کی
عَلا فی یٔتبء وَعَلَقَ عَلی نیو وَاحْتحَبَ مِنٌ الناسء فلم يَكنْ يَدحلُ عَلَيه أَحَدٌ
وَإِن اسَْأءَ سَمعتٗ جو فَحَاءَته فقالت: ثُ لي إ إليْه حَاحَة أَسَفيِيهِ فِیھَا لس
نے تھا ہے سے نت
اوررورْ۔
خر فا لا اي فَذّھَب الناُ وَْزمّت وقالت: ما لی مِنە بد.
فقَال لەُ لهُ قائل: ِنَ مَاا امْر 1 أ اذت ان تَْعفيِيكَ َقَالت: ِن أَرَد ذدذت الا
مُشَافهَتد وق ذڈھبی ٤ الا ڑہيی 1 تفارق الاب فقال: ائڈنوا آ تج 22
عَليْهء فقَالت: نی حتك اسَفييكَ فی اس قَال: : وَمَاھُو؟
عو
قالت: ِني استَكرت مِنْ حَارَةٍ لي تنا فک ات ور زماناء ُ نهُمْ
لوا إلي فید َأؤذيه هم۹ فقال: نمَمْ واللك فقالت: إِنهۂ قد مکث عندِي
مَاناء فقال: ذلك اَحَی لردك إَِاءُ إِ ین أعَارُ و کید زمانا فلت : ای يَرَحَمكَ
إلڈز؛ أَفتَأاسَفُ عَلَى مَا أَعَارَاً اللش 722.7 مك وھو أُحَيبه 20 فابِص ما
کان فی وَنفَعَةُ ال بقوْلھَا 4
تر ا یر بث :
پک وْفومو یں ہی ار یر ری
تی بیو یکا تال ہیا و میرےپاس ھی نکعب ا ری نر حکسلئ آئے اور (دور اع جزےت
کی یی سے کن ا
۲۲
ٹمس الرےۓ ۱
نی اس ائیل میں ایک کن بے فقیہ اھالمدعابد اود ند تھے۔ ا نکی اسیک خی کی تھی یھے وہ ۱
0 وو 9 220 اکا ایک اتقال ہ گیا ان عا مکو خقت تین صد مہ ہوااور
ات خمزدہ ہو گ کہ ا ےگھمییس اتا کرلداور دنا سای رکرساں اپ وپ کیل"
7ل یت کو شہ ین ہو ےک کوگی ا کبس داخل بھی نہیں ہو سک تھوا۔
ایک عحورت نے ال کا ہہ عال ستا نو ہ دددہال آئ اور (لوگوں سے )کپنکہ بے ان عالم سے ایک
ضر ورک یکام سے اور یں ان سے ایک ف بی معلو مکر ناحیاور بی ہو اور ان سے لے اخیر بے اس متلہ ٰ
۰- تو رہ ۔چنا نہ لوگ وہال سے لے گے اور وہ عورت الع کے در وازو ےی کر بث ھگئی
رک ےگ کہ لن سے لے کے علادہکوئی ارہ نہیں۔ ۱
یانےالن الم س ےکہہدیاکہ ہا الیک عورت ہے او رآپ سے متلہ چنا چا تی ہے او رکتی ۱
2 ص02 ری سر او ا
الن عالم نکیا اے آ اےدو 'دوالن کے یا گی او دک ےگ یکہ : :میس ایک مواللہ میس آپ آپ
فویٰی لن آئی ہوں ۔کننے گے ووکیا؟
آئ ے۸17 :شی نے انی ایک بڑ ون سے ایک زاور عار بی لیانیٹش اسے ہ مل رپی اور اک
زمانہ تک دہ میہرمے ما کل د باعار ین ھرالنلوگکوکں نے میرے سے لیے کے ل ےکس یکو مھ دا وکیا میس
ا یں وا یگرووں؟ ٰ
ان ہو نے فرمایاکیہ ہا لال دی تفر و کے گی دہز لور می رے ال بہت زمانہ سے سے اور اب
اسے وائ يک نا بڑاشماقی ہہو تا ے۔ فرمانے گے کہ :نر وزیادہ ضردر کی ےکہ تم اسے ا یں ۳ ۳
گردوکہ ات صہ تک انہوں نے ت یں دہئے رکھا۔ (اب ا ہے عرصہ بعد انگ رے ہیں و ٹور
اسےلوثادواور ال کا شم نکر وک وہک ےگ یکہ کم !الپ پت فرمائے۔ پچ رآ پاسی از رکیوں
اف و سکمرتے میس جو الد نے عار ہے آ پکودی میا ؟(یوز ا ۶۹9 و ٰ
زیادہ تفقرار خھاکہ وابیں نے لی مس ںہ سمنا خو کہ ان عا مکی |میں کل نکی اور ایند نے اس عورت
کیا جات سے ا کی نف فرمادا۔
ر ار بیغ
لہ حکس ت مک کی میرات نہیں ہوتی .تح اورقات اللہ تھا یی ان بڑھھ اور خی تعلیم یافد
شک زان پر ای گیا نہکام جار کر دی یں کہ اوھ یھ یع کو سے فدہ ہو
جو رع : ما
7 رر نظ واقعہ بیس می ایک خا نون نے .-۔ ند اوز نیم وس انداڑ بل بللہ میا قد
ای یق سے الن عال مکو تال کسام اک رلیااور ال گو انس صمد مکی یت سے ثیا لے یکامیاب
. 0-021
لا شیہ نف او قات انسالن بر صصد م ہک انی کیذیت طاد کی ہو یا ےکم دہ ہر جز سے بیکانہ ہو جانا
ے اور اس حالت میں اس س ےلوگ یکام اور مہ داد گی بھی یی نھائی ای جلہباکہ ان عالم کے سا تھ
ہواکہ باوج دیلہ ووعالم تھ 'فقیہ اور جچچر تھے گاع ے زیاد ہک سکوہہ علم ہو کت تھاکہ دم کیا حعالت
میں عبر گرااور الد گار ضا بر راشیر ہناپی ایمان اور اسلام ہے ' اہر سے وودات لو نے ہیں گمررے
تج ےک د نے پالصئل مضہ موڑلیاتھاددصد مک ا یکیغفیت می جس یی اسان ابے خود سا ہو جا ے۔ ْ
پر اللہ تنا از یکیفیت ےکی مم ولی کی بات کے ذد لج می ٹچھوئے سے واقبیہ کے زرلمہ
کال رت ہیں یی ابی عا مکوجب ان نے ” مہ “ کے ریہ اس تقیقت تک ر سا کی را یکہ وہ
7 ایی بات شی جے داپ لن اکم اختاراس کے مان ککوھ وا کیل ف لصا ہوااور ووصرمہ
گیا سکیفیت ےباہ رف لئے -
سی رح رسو لکرم پچ کے ساخۃ دفات پر جب ولیہ کرشم و صدمہ میس سح کی کی
گیفیت طار گی :و گی نوا موححع رصدن اکی رکا سور 1 آلي عرالناگی وما محمّد الأرسول الخ دا ی:
آیات یا طلاوت نے مھھا۔ اک گاروں مو یکر اوران کے ے و اررلوں کو کون لیا۔
بلاشبہ زن گی اللہ تال کی ابانت سے جے انسا نکو استعا لک نے اور اتال میں خیات نہیں
۱ کر اور جب دواتی انت وائی لیے وجب چاہے لے سک ہے اس م سکس کو چوں چراکی عوال
بے و ےت اور تر اک از خ ت ایا بن کم ار
سو مس ھور؛ ا ار اہم موم
:× جااے۔
ال وائمے شش ارب رووا شی سے لے ےم رہ دلو شیرہیں_
اہ بنیادکی فانحدہفویہ عاصل ہو الہ صد اور ٹم کو این اد پر طار یکر نااور اس رع مست طکر لیک
دوم ےکا مہوں مل 7 رع اور خلل وائح ہرے گے اوردور ے ر2 ۱ وت یل اوہ
دبٹی نو عی کی ہوں یاد نیاوی می ش مک یکی ہونے گے فذدہ صدمہ اور شم ش اعت کے خلاف ے اور ۱
ایر کے بیہال ”مود“ کھیں ”مہ موم “ہو جا تا سے سک ھککمہ اس سے مہ ٹایت ہو تا ےکہ بند ہلل تال کی
ضس ار رۓغ 0000 00 ۲۰
رضا را ۶ کی اور مخ گناہ ہےر ضاپالنقصنا کے بھی علاف ے۔
5 زی تکرباورشظم وصدمہ ے دوعار حعقرا تکو صلی دینااودالن کے ظم میس ش ریک ہونا نہ
صرف تلق نکا عق ے بللہ ش ری عم بھیاے اور عد یث سے بھی می بات طابت ہو تی ےج امہ
مجر ی نکعب ال رج نے اکم مین مھ سے مزب تکیا۔
×٣ تحزیت میں ایی با کر چایے جس سے صاصہ ٹ مکی کی ودلجوگی ہو اود اس کے ش مکی
شہدرتت مم سک یکا امکالن ہو سے مھ ی نکع بلق ھی نے مم ہکورہ بل واقجہ تام بن و کو ستایا ئک ٰ
وج تھی ا نکی ض٦ یکاساما نکر تھا۔
ئن جن مر ا سیا کر ا ا پا ان ارک نا
ہے اوروداہے عم سے پھ دہ کے لے تا لات و کن تی ےس کس و نے
ے پاکسی بھی معموب واقعہ ے انی ںحعبیہ ہو جائی سے اور وواس غفلت سے مکل آتے ہیں۔
- ج بی صاحب م 'عقترااودد بی رہن ما ےگسی ذ ول یا خفلتکاصد ور ہو وا عتل ووائْش
پر ازم ےکہ دہ یو رگی نیرت اور نر بر و عکست سے اس ذہول اور غحفل تکو دو کر ن ےک یکول
کر میں جس میں و تق ااور عا م نڑا ہے جیا الہ النٰعا عم سے ذہول ہوااور پچ راک صاحب مر اون
نے کرت ولتصیرت کے سا تج ال نکی غفحلت کے دو کر نے ےکامسامال نکیا۔
۲- اش واققہ سے ایک بات می طابت ہو کہ دہ نما نون بڑکی صاحب لشجرت اززد از اور
انی اس با تکاخوب انداز و تھاکہ الیک عای کی غفلت او ا کل عال مکی مفل تا سبب من جال ۱
سے اہن ا نییں ا سکیفیت سے ہا ےک یکو مشت کنا ان اور النا کے نزو بک ا لک اع انھیت تی
0.7 یراو رات سمارے و تما رکو پشتڈال دا۔ ٰ ٰ
ےگ۔ وش مم اورک ابا اد دو رد ےئد سام
نظرحابت ہو نی ہیں جس رنہ وافعہ شابدرے۔
۸۔ لوںاورزطائرسے با کی یقت سان آجاتی ہےاسی قصۃ سے معلوم ہو جاہ کہ با تکوکار
آیر موم اورزیادووا 2 اکم نے کے لئے ہشمال ول اور ات ےکا م دنا جم
ش مر نکر یم نے بھی متعدد مقامات 7 جیب نالوں کے ذو لہ با تکو داع فرمیا 'رسول اللہ پچ
نے بھی متعدد شالول سے اق با تکدوافرااے یجس سے معلوم ہو جا ےک ہکلام میس مثائیس ٹیل
کرنا مت راورا می بات ے۔
۹ ۹۔ بی سے شدی عبت نا جائز خہیں سے بللہ ا لکا جن بھی سے اور انساا نکیل عفذ تکا سبب سے '
عد جیٹ سے ہہ می تا بت ہو تا سے المت ىہ ضرور ےکلہ وک یکی حبت الد کے احکام بر ما نے
شس ار ےی 00011110000000 ۲۵ ۱
اراس عحب تکی وجہ سے شر لعت کے ضرو رک اور لازٹی اعکا مکوسص پشت نہ ڈالا جا 'اکر بیدئیکی -
حب تکی وجہ سے احکام ش رلبعت سے غفلت اکنا ہو لککاار کاب بہو نذا مکی معحبت نا چان ے۔
ما تتزی تکرنے بی ارسے داقعات با نکر ناج صاحب ٹم گید ٹیر ہمائ یکا بھی ذدویہ میں بجر
ے ےم وصدمہ کے وقت یل ارد یاورد ہوک یک وخیا لکیاجاجاے یکن1 ار صاب 2 مر یناد
محصیتکاار ما بکردپاے قو یہ سو کر ران زکردا جا تا ےکہ ئل بر تووہیے بی کا پراٹر و ٹا ہو
ٰ سے ایے وقت یل ا ےکیا لح تک ریل ' بی سوچ فلط ے ہرس تن ضص اس ے زیت
اور ! 2 ویج لج تک ےو ٦نا اکر د وکنا ہو ل کاراب پبکمرربابہوں نوا کی ےر وکنا نا بھی ا سماے.
:7- زی تکیاذمددارگی ے' چا کہ کل واقعہ میس ان عا لم سے م کی شدرت میں نادا نی یس اک کحصت
کاار ہاب ہو رہ تما اور وہ شی رضا عالی حرراضین ہون 7 ان نما تو نانے ا میں اس اند از سے تجح تکی
کہا لی سض 7 ہمی ران نود ال اھ
می ریف
۲
۲٤ے
ظإِن فی ذاِك لیبرڈْلأولی الأہْمتاں4 _
بلاشراس میس اص“حابیبصیر کیل داشی عبرت کا ساملنا ہے۔
۲۰۸
ریغ
۲ 58
فص اور ریغ
پیٹنالیسواں قصہ ط۵ ۲" پچ
پر رم سلطان بود
انا نکوز نرگی یش کوئ یکمال حا صل نہ ہو نو دواٹی عزت بنان ےکی اپ آ با اجداد پہ تر کہ جا سے 'اگر
آ با واجداد > ش فرضرع یع ے روز جیا خدمات کے اعضمار سے متاز اور مقر ا لو ناہ یل ' 5
ہے دمن اور خمراسے نا ٹل لوگوں پر اگ د نیاوی حقثیت کے اعقبار سے فخ رکرنانہ صرف خر سن سے بللہ ناجائ
او رگناد سے “مار لآ باحویش مجتلادواف اوک عہرت ا شی واقعہ نس سے اس عم لکی شناعح تکاھ انداز ہو جا ہے۔
فص الیریث :
روی مد ق مسندہ عَنْ اي ابْنِ كَضْبٍ قَال: اتب رَخُلان عَلَى عَھّْد
رسول ازژہ 6 فقال أَحَدُهْما: : آنا فلان بٰن فلانء, فَمَنْ أنتَ لا أُمْ لَكَ؟
فقَال رسول الو کش : ( اسب رَخُلان عَلَی عَھّدِ مُوسّی عَلَیْ السّلام فقَال
أَحَدْمُما: نا فلان بن لات ختی عَذ تَسعق فمَنْ نت لا ام لَك؟ فَال: انا نلاثڈ
این فلان بن الاسّلام, قَال: فأوٰحی ال لئ مُوسّی علیہ السّلام أن مَيْن "
المنتسیبین: أمًا انت ۳ التب أٍ المَتصیب ان َسْعَةٍ في النار پان ار
َأمَا انت يَا ھذا التب لی ائنْن ین فی الحَنة سد سیت
ترجم ار بث :
عنرت ای جن کحب ر صی الد تا ٹی عنہ فرماتے مہ ںسکہ رسول اللہ مل کے عبد میارک مل
ایک بارددافرادنے ایک دوسرے کے نس بکی صحی ش رو عکر دی چنا یہ الن ٹل سے ایک ن ےکہاکہ : ٦
یش فا لایع فلال جو لن کون ہے ' تی رکیامالی نہ در سے ؟ل(مہ ایک ا فائی کک مہ سے بلس سے بررما
وین قصورکہیں ہوج' جیسے اردو مم سکہاجاتاے تراستیاناس ہو رسول اود پل نے (مہ بات سی ت)
مایا :
سیر ہو دی ہو ہب 19
شر و حعکمردیی ان میں سے ایک نے سا ٹیس فڈال مین فلاض ہو کل( ہا ک کفکہ اہیے آباعواجداد مل
سے ون مگنواد بے اور ٹ ھکولنا ہے ' تی ری مال شہ رسے؟ دوصسرے ن ےکہاکہ : میں فااؤ| مین فزاںل مین
اسلام ہول( شی مب رانام ىہ سے اور مییرے والمد فلال جے اور وداسلام کے بے جے میتی مسلرمان ے )
ری ۳۰
ال تال نے رت موم علیہ اسلام پر گا زل فرال کہ یہ دوفوں نب با نکر نے ہے ان
سے ووممس نے پوتک اپنے آبامواجداد شا کراۓ دوفو کے فو چم یس ہیں اوران کادسوالی ىہ ے اور
اےوہ 2 یش نے دوگ اپنانسب بیا نکیا فوودونول جنے ت ٹیل گل اور لواڑکا " ٹم راہ نت 60
تر لیر بیث:
صیر اضر ۵/ ۱۲۸ر واوا مقر یی ا ار “را 023 ان“
تر ارم
تمامانسافو لکی اصل ایک ہے “سب کے سب ہد مکی اولاد ہیں۔ علاقہ ؛قیلہ ون قوم زبان
کی اکایاں فط ان اور شناخت کے لے ہیں نہک میار تخیلت ژٍل (کلکم لد و آدم من
تراب) دی ث ٹس تو علیہ الام نے بات دا فربادی کہم سب آ دم سے اود دم می سے
یں کو یت س بک ال می می ہے اور کی ہت بی ٹیہ می تار دہ ما نہپ ے
یآ تترور ٦ں 90-18 ا گر مدہ ہو ۓے ہیں اور سب کو ئا اکر سد ہہ ناے۔
انسا نکی ایک فلطعادت ىہ سےکہ ود اۓ آباء پش رک ہجےکہ میرے ہاپ دادالوں سے۴ اے ۱
تھے ویے تھے ظھ پل با کی ىہ عادتشنحی عربول بس دور چرالت می سکو ٹکو کر بج ری سی اوردہ
اتا حعدداسی مقدد کے لئ ملبیں منعق کرت تمے۔
تفاخ بلآباء در تفقیقت اینے آ پکودوسرروں ے انل وبلند قرار دب ےکا اعلالع ے جو سر اعم
اہلام کے نے ماوات سے تسادم سے پا فصو کافر باب دادوں پر ف مکرنا پؿ برتری نی گزاہ
ہے“ بادشاہ کے بٹٹ ےکوااس بزاءپ ہکوی اخنقاحش واقیازاور فضیلت نج سکہ دوباد شا وکا بے ' تققوکی ے
خالی ار کل سے عاری بادشاہک اود جنگ یکا ٹا برا ہیں ال کی نظ میں 'اور بج یکا بٹا کر صاحب
تق کی ہو جاۓ فو انی نیش بادشاہ کے یج ے اففل سے٠
انان میں وی ھی انن ے ؛ئض
معاد سے تر کگوئی عالم ہو کہ ؛شمل
ياأََھااللاس إِنٌاخلقناگٔم من ذگر و أُنٹی وجعلناکٔم شعوباً وٌ قبائل
لتعارقثُوا۔إِنٌ أكْرْمِکُم عنداللّهأُتقاكُم( الحجرات/۱۳)
اےلو زار یں ایک مرداور ایک عورت سے پیراکیاے اور ہیں ماد یا ملف ا یسا الہ
یں میں بان سو
ق ا نکر نے اس تفییق تکو دا سن اور دو ٹوک الفاطی بتلادیا ے' رن نی علا انت و
ونیف 'ذات اور فیل ہکی بذیاد ل جائلی تتصتبات مج اور انماثبیت تےکسلئ بد بودار صن بذیادمیں ہیں 'بار ا
ٹس اور یرۓ ُ
ان یر تھرومبابات ہابھی جگوں او رخف ریزو ںکاباعث بے
تی شی اور ی ہی زگا رکا بڑااس مناء بر قائل گر اور صاحب عظرے ہیں کہ ائ لک ہپ قد
یکا بنا اہن نی ہو ن کی جذاء یہ قابل اع زاز غنیس اس کاانا عُمل اسے معز وذلینل بنا ما سے فو یکا بنا
ْ نع انام ددداو رق لیے ٹا مک جا معز کر ہے
ور ازز نظ واقہ میں رسو لکر یم پا نے ددافرا دکو تھا ال باء جس مت دس ھکر ا نکی
اصلاع ف ما ی اور انیل عہد مو سوک کا ایک جیب واقق سنا اک صوسی علیہ الام کے دور میں بی اک
مر رد و آدمیوں کے در مان نفا تر پالآ با کاو اعد جن آیا_
ایک نے دوسرےکو تیر کھت ہوۓ اور اہ آ پ کو تر مور نٹ ہیں و
فان بین فلال بین فلال بین قڑالں ....... ہولج کہ فواجدااگ شا رکردئے )گر وکون ے ؟
تی رکیامالانہ ہو ال نے اینے آ پکو ببہت بڑے نماد النکا ظاہ رکیاادر این باپ دادول ےر خ رکا اظہار
رخ ہے این نو اداد شا رک راد بے جو سب کے س بکاففر تھے اور دوصرے سے ٹارت آیز
الد از دریاف تکیاکہ نوکونے ؟
ای ہے یی ےک کہ مش قرف عون رن خر عون بن ف رون بن ف عون ہوں او 2و ۲
ایت ے ؟ کون ہے ؟ تج کول اتا کہ مس داپکایاے اکس اک یم را ہوا ؟
خرن دوسرے نے چپ ہکاىہ عق رآھیززاندازد یکھااوگی سے جو اب دراکنہ ٹیش فلال جن فی بن
اعلام ہوں۔ جن ای شناخت تاد یک میبرے پا پکا نام ہہ سے اور داد اکا ہہ اور وہ الام کے ے
تۓے “متھیر ےک ٠ 'بیہرے آ باءواجد اٹل دادا سے لے س بکافر جے پ2 این سا تج کا فرنا مو ںکوکیوں
گاں ےکا فروںا پت مرن ےک یکیاضرورت ے ؟
ضرت سلمران ار کے متعلق آ تا کہ ایک با چند گول نے اپ آپاءواپرادکازکرکیں
جب حضرت سلمال نذا ر یکا م٦ نول نے فرمایاکہ :میس این اسلام ہوں(اسلا کا بیٹاہوں)
مفقصدب تھاکہ ممہرے باپ داداس بکافر تھے و اب اسلا مکی نلقت لئے کے بعد ایے آ پکوا نکی
طر فکیوں مسو بکروں؟ جب حعخرت ع رکوہ بات معلوم ہو فی درو پڑے اود فرمانے کہ :واتا
نال لام یں بھی اسلا مکابٹا ہو کہ رت حر کے والد بھ یکا فرتے_۔
و یں تس نے اپے مسل مان باپ داد اکا کر تو وکیا مین اس کے بعد چھکمہ اداد س بکافر ھ ت
ا ن کا کر کر نے کے ہجائے ایآ اب پکواسلام کی طر بت زین کگردیا۔
ال تالی نے حضرت موی علیہ السل مکو ہزرہ گی تلاد کہ پہلا شس جس نے فوا راک
شما رر کے الن پر رکیاباد جو دالنا ک ےکا فر ہو نے کے مسجم ور
۳٣۱
اس ال حرف رے
ںو ران 2 یم مس جائیا 20 ابا ۶ یہ 7ظ کااظہار سے ے لہ دوک ر1۱
شف جس نے تعل ے با تس اوردوسرے کے تق رکر نے کے پاوجوداہینےآباء بر فف رکااظظہار کجیں
کیااور صرف اہن مسلمالن باپ داداکا کرک نے بر اکتذ اکر کے اسلا مکی رف اہ ےکو سو بکیا نوہ
۱ دونوں لڑقی اس کے باپ داداجقی ہیں اور ہہ ان کا تس راسے جشت ٹل لکنہ اس نے اسلام بہ فھ رکیااور
خ'م ً
با وپ خرن ہکیا۔
چت رہرت ونضصار0
ا آ با ءواجراد یر ھ۶ /+- تصوصاجب 1ء,ت-1, من گناہکیردے اور ای اک نااسلام ای مات
ے رارف ے۔
1 جاڑگی محضیات رگ و لی اد ر72 'عا قاحییت و وطنیت کے خام بت اسلام نے توڑ
د بے اور ج مکی عصیبی تکو رم ثرار دیاجھ انس نکو ایے رک رر ات علاقہ دوش ٴ اۓے
بل برادری اور وم پیر رکاراستہ دکھائے۔
٣ تجح ىراج آ باحواجبدادکی اتا اوراسلام پان 0 489۹3
۱ 7 کی برائ یکو ش کر ن نکیل بہت ط ریہ ہہ ےک اس سے متفل قکوئی عہرت خی اور سبق آموز
وائے تت(ایا جاۓ الہ ر ول الند پچ نے نب پر ٹ رکرنے وانے دو افرا وی اصا حکسلئے نضرت
موی علیہ السلا مکان کور وواقحہ سنایا۔
۵ سی کے تق رکنے اور یھن سے انساان تقر یں ہو ساما اص عحقارت مااعزاز تقایل تما کی
رف سے ہو تا سے اوراس کے با عدار نار ت داع زا ز" نس بکا بن ویست :اور مان ان و ٹیل ےکا
شرف وارزل ہون غئیں وہاںل معار شرافت تنھوکی ے۔ جو اس معیار پہ اور ااڑے دوش یف 'ممزز'
کم اور ال اعزاز گر ہے اور جوااس معیاربرنراتڑے ووذ ئ ل رذ یل اود قابل اہایت و تق رے۔
صص ار ےغ
چ ایس واں صہ ۳۷پ
07 تنا خانہ
نس او ات انسا نکی ز پان سے الا صرف ای ک کہ ا سک د ماد آخرت جا کر ن ےکی ہکائی ہو جا ہے ادر عم رگجھر
کی عیادت وریاضت ضائع ہو جانی ےم یمناہگا رکو تق مبکھنایلاے :مال مغخفرت تنسو رکرنا جا خودایک
ا قامل معائی جرم ہے مفرت اور عم مخذرت کے لین کر لوم و چجو لکی شان نڑیں علم و تج کی شاان
ےک یکن ہجار کے متحل قکوکی راہۓ تا مکر نے اس پ ہکوگی تر وو فیصلہ صاد رر نے والے حعرات اس واقوہ
کاضرور مطالد راودا ہنیہم یسوم د؟ ھی جوز پان نہوت نے دکھائی سے
فی الد یث: :۰ '
وو چھھا ا ور نر کیٹا رجلا
قال: الله لا يََْر ال ِفلانء وَإنَ ال تَعَالی فَالَ: (مَنْ دا الٰذِي بای عَلَىٌ ان لإ
عف7 فلا فِني قد عَفَرّتُ لفلان وَاَحَبطت عَمَلكَ) او کما قال.
وروی أبو داود ٹی سننە: عن أَبي هُرَیْرَةَ قال: سَيمْت رَسُول اللہ يَول:
کان رُحُلان في بے بن إسرائیل وین فکان أَحَدُھُما / یئ ور مُجْتھد
فی العبَادَقٰ فکان لا ال المْمَْھد ری الآخر عَلی الڈنے و فیقَولُ: ا
ہے
مر سر برظز ہہ چ ثش
ٰ فو: کر اع کے س50 : اَقَص فقَال: لی ورئی ایت عليٌ ریا
َالَ: واللق لا يَعْْر اللز لَكَ ا لأَ يدْحِلك الم الحَتة .
فقبض روَا حَهمَاء فَا مم عجنڈ رب اعَالي ح ٤ َقَالَ لا الْمُحْہد: اعت
بيی عَالمًا ۸ بت عَلَي ما فی یدي َادِرا؟ َال للہٰذتب: اذْھٌے قادحل الحَة
بر حمیّي وَقَالَِلاحر: اهَبُوا بو إِلّی التار)۔.
سيس م3ق
رف
ہر َالَذِي نفسی بَدو لتَکلمَ بک بكلِمَة اوبقت ذُنْاهُ وآ خر 5ة:.
"ار بث :
رت ابد مرف فرماتے ہیں نے زس ل کڈ چا یں ٰ
بی اص ائیل میں دو آ آری سے دونوں یس بببت بھائی حارہ تھا ای فکناہگار خھا (کشزت سےگتاہ
صن الع 2-0 ] ۳٣
کرجا )( لہ دوس راعبادات از ×.- نت و مشیق تک ر ما تھا" عیارات 09. دو ہرے ری
بھ یگمزاہ بد بھا نوپبیشہ اے روکمااورا ےکا تاکہ ما ز1 ۱ جا۔اک روزصب ول٠ ان اسے کول گناہ
کرت د یکھا و کے کالہ : رک ما اوہ گنہگار کے رگا :ا کیو اسلے ببرار اس چھوڑرے مر امیا
چھوڑرے )کا مھ عیرگراں اکر با گے ؟بہ عبادت گزار کے ڈگاکلہ انرک عم !اللہ تھی
تج ری مقذر بھی ںکر رکا اماک الند جج جن یش داش نکر ےگ ٰ ٰ
ایند تعالی نے دوفو ں کی روح یح سک ری پور دونوں کی رو رب الین کے ورارمیس تح
: ہوگیس تواقر تعالی نے عبلد تگمزار سے قرملا:
کات میرے فیصل ہکو جا:ا جھایامییرے اخخقیار شی جو یھ سے اس پر تقادر تھا؟ل(کہ اسے اپٹی ع شی
کے مطا بن ڈحھال لیا )او رگمناہگار سے فرمایاکہ :
جااقج نت یں میر کر حمت ے داضل ہو جاور عباد تگزا رکیل فربایاکہ اسے چ نم یش چاو“
الوہر مر فرمات مج ںکہ کم ہے اسس ذ تک شس کے قضہ یں می ری جان ہے !ال نے ایک
ارسی با تگبھی شک نے ا لکد ناو آخرت تا کر دی۔
ضرت جند سے روایت ےکہ در سول الد لگ نے بیالن فرمایاکہ :
۲ آدئی نے بیو ںکہاکہ ال یش !ا تی فلا کی مخفرت نمی ںکر ےگا .اللہ تال نے
ارشاد فر مایا :کون ے جو بھ بر انی جات گستاخان کردا ےکہ می فلا کی مخفرت کی سکرو لگا۔
لا شیہ ٹیس نے فلا لکی مغف رت ۔کر دی اور تی اعمل ضا کر دیا“۔
تار یث : ْ
ا۔ ملین الوداؤد کاب الدب / بجاب ا دوی.-.
۲ 2 سلمم کاب الہ ر والصل وا[ راب / ۲/ ۳۲٣
کت ار یٹ
ٰ ر سو ل کر مم مکل نے اس حد بٴت میں کور وواقعہ اکر ارک خطر نک ع رم لک نشاند بی اور اس
کاغیام لاپ ہے اوردوخط اک مرن گنا گار اور دکرداراضسیان کےمتلق ہہ خی لک رنہ ای و مف رر
ہیں ہو کتیااے مخذرت نہ ہو نے باگنا ہار ہو ن ےکا طعنہ د بنایاا ےکمت راو رتقی رتو رک ناے_۔
اش گناہ سے نخر تکرنا فذ اما نکی علاعت سے میک ن گناو سے نغخ رت کا مطلب 1
گنا ہگار سے نفر کی جائۓ 'اس ل ۓےک ہما ہگا رکوادڈد تال می بھی وقت بدابیت عطا فرماسکت ہیں اور
صاحب اعمالی نہ سے کیک اععا لکی تپ قکسی بھی وقت سل بک اتی ہے اور مہ بھی ممکن ہ ےک
سو کو.)س[[ےھس سس سس ھکٹیسڈووٹیٹھھٹھڈہ ۵
نس حف سکوکن ہار : قائل مخفرت اور تقر مھا جار ہے نیا سک اکٹ یک تم
ک ےگناہو کی مففر ب کا سبب کن جائے۔
تک خرضمیک ہگ یکوگناہگار ہو ن نکی وج ےکھت رم تقیراورن ال مغفرت مبکھناالماخط اک مرخ
سے جوا نسا نکی عم رگج رکی کیا ں اعمال صا اہ ور نا تکا دن یس خمات کرد تاہے۔
بیسالیہہ ھی دا کی ےک ہراٹی کے مر تک بکو برای سے بھانااور ا سکیا 11. شع گرا ہر مسلران
اف ری ےک ساررن تغ۳ را0 از کان ین
اس جا تکاخیال ر کنا ضرور کے کہم جس مواصی کو سی ضرع تار تکااصاسل نہد لایاجاے۔
ژر روا قہ یس کیک اعوال وال تٹ اہ بقل دوس تک گنا سے درو کے او کیک اعم لکی
طرق راغ رن ےک یکو شش قوکرج تھا لکن شی اسلام سے کم عا کی اد اجب اسے مچھاتے
جات ا سکا پمانعبر لب ریہ وگیا انس نے ع مکھاکر بی د موک یرد اکن
او کی تم !اوہ تالی تی مخفرت نیس فرماکیں کے ما کہ فو جنت میس داخل نہ ہویم“
ْ بیہ بجملہ ہاایت خطر ناک تھا اس یل ایک جاب ٹوگزہگار اور بد ضل دوس تکی تقر “تر لنل اور
اسے ال کی ر حمت سے باہو لک ن ےکا ریا یا جاتاے اور دوس کی رف الد نتعا یکی قضاء و فیرر میں
انی ڈگ اڑ ان کی اتفا کو نل بھی ار فرما نظ رآ کی ےاوروولیول کچھ رماتھاکہ ججنت ودوزںخکاووخوو
گہیہرے
اش تھا لی نے ا کی سزابیہ دیکمہ ا کو فرمایاکہ : ہم نے تیرے سارے عه پر کے اعمال ضائحٌ
گرد ۓ اور 2 کیل نو نے قابل مغفر ت ہو نے کاد ۶وک صادر کیا تھا ا سکی مفظر ت مات میں
اتمم دور حاضر بش بھی ببت سے لوگو ںکو لاف سے یہ در تحیقت شبطا نکا کاو ے
اور شیطا ن کا بکاوا پا تو۶ النالوگوی کے سا تھ زیادہ ہو جا سے جو حد یٹ الد بنا عمال والد 7 7
04900 لوگوں ےت دیندادگی کے اتقبار سے دین کے احکام کے مطالبقی ز دک یگزر
تانیاش رد کیا ہو ت ہے دوجب مگ اور کل صا کی راوئٹل قم رت ہیں تا سواجر دوصر ےکو
گناہگار نے گت ہیں ج کہاگ کس یکوخلاف سن تکرتے بھی د کچھ لیا تو اسے بے مل اور بے قبت
کت کم شس انا نکو جنھم کےگھڑھے میں نے جا کر ڈالنے۔
ال تال ہر لما نکواس مر خی سے مھفوظ وم مولن فیا اور سب مسانو ںکاا رام و
تحت دلوں شیل پیی اف رماۓ۔آیین ھ
بک ولصا رج
ا۔د ممناہگار سے نفرر تکھرنا ان جات ان ؛ کےا قاط خفرت مککھنااور ال کی رک
قص ایر رۓ
ٰ کرنا حضم تکمزادے بخارسے تفر تکیجاے مک یگنابکارے نہیں۔
شقالے 7 کوک رکوگید ۶وگ کرد اکلہ دوضر ور ایاگ ےگا ایا ہر ےگا خ تمتاخاد اور
وذرادب ے اوز مل ہے اورال کی قضاوو در کے اندرداخلت کے متر ادژدے-٠ سکیا مز ۱ بھی ٰ
بہت ھت دے-
ابع پیر رو ببتومتیۂ کرت ہیں اور ا نکا
مقام ىہ ہو تا ےکہ وگ رس یکم کے ہو نے باشہ ہونے پ سم اٹھائیش قواللہ تال ان کی جار اورالۓ
در پار یش الن کے بلند مقا مکی وجہ سے الن کے قول او رش مکی مار رکھ سے ہیں اوران 007
کو را فرماد یئ ہیں ناخ یتب عدر یٹ میں انی ممیدد ای موجود ہیں ملا دانت ٹوٹ کا واقعہ
مشہورے اور سول الل یک نے فر مایا کنہ :القد کے یھ بنرے ایے ڈیا الہ اگ ر الد 7 مر رکھا لس توووان
کی شھکوپو راکرد ے“ --
کی یک اعما لکی نا بر اس کے ور تاغل می ہو ن ےکا ف ےکی صادر
کر نا حخت مھ او رگمناہ سے اما ا ا ا ا ناخ مدمفو
۲ سج می حا ےک مض جا کوئی ٹفش جنت کے اعوا یکرت ےکر تے کو ادا ع٣ لکردچا ےک وہ
سق جم و اتا لور کے برک سکوی مل جن مکر کرت ےکویایک مم کردا کہ
وو مت جنت بن جاجاے۔
۱ نے قڑکیا مک ےک فان ٹس ہت ہس ھا وائے الا کزر ہے پا وین فلس چم
واجےی کر نے وا ےکنا بہوںل میں جتلاے می اور ھی ہو ن کا فیصلہ صاد رکرنا حم ت گناہ اورے
اضیاع اک یباتدے۔
۳ وع انم سے مببت ڈر ناما جے وی یں حاضا اہ ا لکاخاممہ کس رح ہوگا؟ اس واقعہ یل بھی
عم رر میاہرے اور ریاضت ککرنے والا اور نے شیار اعمالي صا یکر نے والا تس اایک ایک جلہ ے
ٰ سیب عق جم وگ _ امہ تعپی الا ایمالن:اور نات پالم کے لے بہت دھاکرنا جا اوراش سے ڈر تے
ٰ رہنااور عافیت مائگتے ر ہناجاجۓ_
ھ- 000 0 ىَ0 بھی ےک ایند زتنای حامیں تو رس گنا ہیا رکو نر
نو کے معاف فرمادبسی ججیاکہ اس ع رکب معاص یکی اقیر نوہ کے مغفرت فرمادئی عالا لہ دہ
گزاہوں هر اور اہو انھا_ .
سو یئ
یٹنیس وال تص بڑے ٔ4
کل گورٹ گی سنا ۲
کھبیر
ححمت دک م ہعدر دک اود عربالیارحمالنا ور ح مکی صفات ہیں اور جس بندو پائی جاکیں دور جن ور تم کے
ٹجب ہو بے اکے بر تس منکمدک دخقاوت ''سفاکی و تسادت شیطانی خصوصیات یس سے ہیں اور جس بند و ٹیش
پا جاشیس اسے حیطا نکی اص لکیطر ف نی آ گکر ف لان ےکاباعث خی ہیں۔ ایک نلم وسکدرل عور ت کا
واتے ہم تت اِک بے لنٹ کو ہگکرنے کے جم میس 1 ں شش مم مکاایجھ یمن :نا گگیا۔
مھا مث
روی لیخاری من ان عُترَرَضي الو َْهَّا َ النِی و فَال: (دخلےِ
خر یو ۶
یں النار فی هِرَّ را مه وَلَمْ تَدَعھَا کل من حَطا اأَرض ).
وی روایۃ ععف ایخاری: ( عذبتِ اصرأا في حر سُجتھا می مات
فدَحلتٗ فَیھَا الْار ؛ لا هي أَطْعمتَھَا ولا سقتھا إِذ حیَستهاء ولا عي ترکھا تَأکل
مِن خشاش الأَرْض ). ٰ
وقد رای الرسول کک ھذہ المرأة اللي ربطت افرة ٹی النار عندما رأی النة
والنار ٹی صلاہ الکسوف؛ ففي سو میں سی یں ابی بکر أُن
الرسول کت قال: ودنٹ نی الَار خی قلح أْيٰ رب انام معَهُمُ فإذا ار
کو کت سگوار یی تڑے مَا شَأن َِو؟ فَالوا: ام جح تش7
جوعا لا اٌطعَمتَهَا ولا أَرْسَلتهَ کل . قَال ہس شس : من خثییش او
حشناش الأرُض). ٰ
ترجمر ار بث :
رت الین زوا تکرح مک یکن نے ارشادفی:
ٰ ای نوز تک اک لک ری مم میں دا٠ لک ایا سے انس نے بانلدھ رکھا تھا لہ لوارے
تو دکھا دق مان اسے تچموڈفی کہ از خودز مین ےکر ےککوڈے اور ہشرات ار کا شر
و رر سا ۱
یی شف مک یکو ق کردا ا 0 ]) ہے
٣۰٣
صا رۓ
رسرل رم پا نے اس عور کو نم یس خر اب یں جنلادیکعاجب نما ہکسو فک ادا کی کے
دورانر سول الد تہ کو جنت وروز خغ گلا 1 یی ھیں۔ ٰ ٦
بنانجہ کچ ہار کی میں رت اساء بزت الج رصی اود ہما سے روابیت سے ذہ فرمالی ہی کہ
ر سول اللہ عللل نے نما زنکسوف کے دو ران عم کے 1 کے بے سن کان ھکر کر تے و ئے مایا :
شاو ر جم کی ان یر رت قرب و وکئی تین ین نے خرن نکیا یئارب امش نان
(لوٗوں) میں موجور ہوںل( مب ری موجودگی 2 پاوتود آ پ کا عذاب آرہاے )اور .یل و یس
اک عور تکود ریکھا(ر اوئی فرماتج ہی ںکہ می راخیال یہ پا نے مہ بھی فر مایا کہ اسے ایک بگ یکھوئے مار
ری ےس نے گو جج داکہ ا سکاکیامحاللہ سے؟ فرش شون ےکرائمہ :اس نے اس ب یکو قی دکر رکھا نر
کک۔ دک سے مرگانداے خ لاق تی چو تی زخدزشنم پھر نے والے
- تار خ یکر ےموڑ ےکھانے “۔
ات کی کل ور ڈو ال ےد
کر الہ یت :
ا و کاب بر 1۶ ان اب او الہ اب ناناءاعد ”مر ۳۵۷۸۷۔
2 ٭َ ۔ کلاپ ال روالصلۃ ا1آ داب باب تم نر یب الہ رو چو ت0
ٹچولوت ہآ
ساکی وسککد لکیہ انا عھ یکہ ایک ہے ز پان افو ہکو پان کرک وکا پیا مار دیا “الم سے تلم اور
صلی التقتنب ایا خی ں کر کا ۔اسلام تو صرف اسانوں پر ہی یں جانوروں ىر گی رحم وک رم اور تن
سلولکارر ل×دجاے۔
ے زان جانور کے سا تجھ یہ نلم وسنکی اس بڑھیاکو جم یس لوان ےکا سبب ی نگ ' صد یث ہیل
ٰ تا کہ ر حول اللہ نے نما یکسو فک ادا گی کے دو ران جنت و جم مکانظار کر تے ہو ئئے اس عورت
کو وز اب ہو ن ےکا منظرد یکھاکہ اے ایک بی نو دی ےھ رد ۓے ماردرجی سے ور وہ جا مکی آنگ میں
یل ر ری ے_۔
رسول ار تچ کو اٹہ تقعالی نے نما زکسو فک ادا ہی کے دورالع جضت و شی مکانظار ٥ک ایا ھا چنا تہ
عریت میل آتا ےکہ رسول ابد مه نے مسو فک نماز یس طو مل قرّت فرماکی اور طومل رکو و
ےر ےا زان ى٣ ۱ ضف از رج یہ لے تھے نراز میں تو سکون سے
کڑے ہونےکوعم ہے جب کہ رسول لو ساب 21 یی ہو جا رکچ رہے ہیں۔ ا نک تی رالند
نب ہون فط بی اھر تھا۔ ان تن کا وی اد ا ناد این تکیاکہ آپ نماز کے دوران آ گے
۰۰۸
اص ار بیغ ۴ - 00 - 9 9ۃ<ۃ یق
تی کول ہور سے تے ؟
ر ول ازلد ھٹگ نے ار تاد خر مایاکہ ا ال می اوھ تھا لی نے نماز کے دوران بے نت و جم کانظارہ
گرولی' ا جب جفت ساس کی تو یں وق میں ؟ آکے بڑڈحتااور جب نلم ساس آکی اس سے کب اکر
یہ ڈمااور جم کے ب رس دک شعلو ںکو آ کے بد ھتا دح کر آپ نے فرمایا: ا مین زیت ا می
یدن میں موجود ہوں اور جو مکی آگ بڑھ دی ہے۔ عالاککہ کی موجودگی می کسی توم پہخطراب
یں اکر تا۔
نت دم کے اس فظار وم آپ نے جام مم دھاکہ ایک عور تک وگ می جلاا جم ہے
اورایک: بی اس ںکوایے جوں ےکھم وپ مار ھی ہ ےپ نے و مہ ال سکاکیامحالطہ سے؟ فر شتوں
نے جو اب دن اکلہ 2 ںکواسی کی وجہ سے ہللا مرا ایا یکو با ند ھکر رصتی ک2
تو دکتاناد تی تھی اورضہاسے آزادچھوڑ تی یکہ خوددی ز مین می لے بر ےکیٹ ےکوڑو ںکوابٹی زا
کا 072 زان و سے بے سفاگیل سے آورب 6
ٹس رح انسمافوں برقم اور ہعد ردئ یکنا فرش سے ٠ے ز پان عخلوق شدایرگحی رگ مکرن فرض
2000 گی اورسنکی ےکی بے ز پان کو یھ وکا پیاسا ر کر مار دیاجائے- ٰ
۰۔ حد یٹ سے ب بات ات ہو یکہ جو لوگ ہے زہپان جانورول' بر ندو ںکو قد کرت میں نو
ضروری ےکہ اک ےکھانے زیے اورا نکی ضر ور تکایال رکھاجاے ا ہکی لو یکو ستانا بج نہیں۔
۳۔ اس واتعہ سے بی بات معلوم ہو ئ یکریٹس طر پتت او ققا تہ لی مچھو نے کل کے زور دوش ناد -
ہو جاکیٰ ے اسیکر کوٹ کچھ ٹا سامزاہ بح ع اب اور نم بھی ین جا تا ے۔
٣ حدیٹ مس ا اگیاکہ گ یکواگر دہ آزاو سچھوڑد چتی تو حش رات الأار خ کا شک رکھر کے ای ےکھان کا
۳ 778ھ معلوم ہو 1کہ اللہ تا لی نے حشرات الا رخ کو بلاوجہ پیر ا کیں فرمیا۔ جی اک
او تجات انسان کے دل بی خیال تا ےکہ ا نکیٹز ےکوڑو ںکی لی قک یکیاضرورت شی ؟
7 و وا و و 7 ہے او ہہ دوسرے چالورول
گی خوراک نے ہیں۔ ٰ
ایک بات یہ معلوم ہو یکہ اللہ تی جم ٹس ولیباپی عذاب دسینے ہیں جیما بند ہکا مل ہو ج سے
کے ئل ان کت کے ذربجہ وی عذ اب دی اگیا اور حر ىہٹ یی رما الہ گی اسے اپیے بچوں اور
اخنوں سے زع یکرربی سے او رکرو ئے ماد دی ے۔گویا عفر اب آخرت' مل دنیاکی مت سض ریچ
بھ تاہے۔
ضس او غۓ بات ئک ف خض+ صصح ایح دی ےج بت کک تم تھ
اڑ - الاقصے ٗ4
727 یز ہو م عو یىی جات کے جو وی ور کے
کی ںکھرتے۔ ان کے اندر خصہ یلوا ید اہر اکر آخرت 'انامیت'ججد رد یو خیرم
سب پچ ال کنگ میں خامتر ہو جات ہے۔ ایک ابی تن سک واقعہ عہرت جم نے صرف اک مععوب میاری
٠ 22-9090000 بے تحار برائیوں کے علاد ویک خحط ماک پرائی غل
٤ 2 2و سس رت اکا نادان سے دعو نے کے لے جھوٹ ۱
ہو لاو الو کا عہمرت ناک اضجام۔
وو 0۸ت
ی البحاري ٹی صحیحه: عَن ابن ٍ عبًاس رَضي ال عَنهُمَا قال: إِكٌ أَوْل
سا انتا فی الْحَاِلةلَهنا تھی خاخی کان رَُ من بی هاشے استاحرہ
رحل ِنْ فرش مِنْ فعیر أخریء فَالطلق مَعهُ في ايلكہ فَمَر رَخُلَ, من بني هَاٹیمٍ
0۶89904088+ جو القه فقال: بی بیقال اد به غروہ 9ھ" ۷ھ
الابل: فََعْطاهُ عقالا فشَدٌ بے عُرُوَةَ خُوَالِي : ما زوا غیت الإسلٌ إلا میا
واحدا.
ٰ وا الٰذی استَأج,رَهُ: ما مَاكَار هھدا لٔمیر لم بعْمَلْ بن بین الابل؟ قالَ: موہ
١
وج
عِقَالٌ قال: ان نَا قال: حَقه بَا کا ھا اه فمر ہو رَحُلْ مِن مل
ال .5 ۷ھ ُهَدُ المَوْم؟ قَال:. نا اک وھ یه قَال: ھاٴ نت مغ
شی سا تر الڈفرۃ فل: نعَمٌ قال: ز فکتے: ِا ات شھڈت المَوْسمَ تَا
ا آل قریش اذا أَحَاْكَء اد بَا آلَ تیي خَاغیحٍ فَإن اَحَابْوك فسَلْ عَئْ أبي
طالب؛ َأَحبرْ ان فلانا تتلبيي فی عقال.
ومعات ما ٹم فلمًا قلمَ الْذی استا ره اه ا ا ابو طالب فقال: مَافَعَل
اسنا قَال کے ا لام عَلَيْه فولیتٌ تک قال: قذ کان أَهْل ذاك
فص ایر ےۓغ ٰ ۱ مسے ۳
منك. فمَکٹ حیناء ما ار اي أٴعنی ایآ ' عرش نت
َقَالَ: یا آل قَریُہ بش قَالوا: هو فرش فَالَ: ا آل بَي مائیے قَالوا: یھ
ٌ
حَاغیم قَالَ: أَْنَ یو طٔالِي؟ قَالوا: ہذا ابو طَالِبء قَال: ری فلان ان اَلكَ
گر ہے ےھ سے
ِسَالة فلانا َلهُ فی عقَالء فاتاہُ ابر طَالب فقالَ لهٌُ ات بنا إخْدی لاٹ
ك يِنْت ا تَوَدي بانة مِنْ الابل فَإِْكَ قَلےَ صَاحتناء وَإِن شِمْتَ ]+ھ0*
عون ِْ قَيك: ِىك لم تقتلٌ فن یت فلس تا انی نَم فسالوا:
س٣ ۴-
٭ کی
ویو سر یتآ سر سو سی با
ان را تگان باون ازیل بمیب کو رخ نیزان خثان بعیرانء یت
جو پڑت
ارہ یر مس و رت
خی سے حر ےج حخبٛ. تی
قالَ ابْنْ عَبّاس: وَالذِي : سے کو ماقال ات3 وین الثمَانة ۰ھ
َيْنْ تطرفُ ٠ ۔
ترجرۃۃا مر بث :
محضرت این عه پا خر ماتے ہی نک : دہ ایت مل سب سے پیل قنامت کا وا جم می نین
کی میس ٹیل آیا“۔( جن سکاواقہ یہ ہوک )
نی اشم کے ایک نف سکو ایک قر یی نس نے جو ریش ک کی دوسرے قلہ سے تھالتی
امس سے نس تھا)اججرت پر مردوریی کے لے مقر رکیا( اب اوخ لکوت انے اور ا نکی ِ۲ کچھ بھال
0 تج اس کے اونوں کے بلڑ کی طرف چلا۔ وہل راوس ایک اور اش ٰ 2
تر ہوا جن کی چا لکامنہ ند ٹوٹ گیا تھا۔ ال نے اس ایل( مز دو ےکراکہ ایک ری دے ے
مر یدد کرو الہ یش انی چا لککامنہ بن دک کے اس سے بانلد ھا وں۔ اور او نو لکو بھی ما ند یہ لوں
ناک وہ بھی اد ا اد مر مم مار ں۔
ناج (امائی درد اور کے تبایت ممولی ہو ےکی بنا ای مردور نے اے رکا
دے دگی جس سے ا نے انی بچھا لککامنہ بن دک دیا(اور وہل ے چلدیا)۔
5واوریٹ
تھے رانا کہ ڑاو کین اتڑے ایک اوف کے سواسمارے اونٹ پان ھے ً
ترنٹی( الک )نے لو اہ اس ری 9۶۷۶ھ "۰ءء
اسیا ری نیس سے کو جاک : کہا گنا ؟ اس نے بتادیالکراسل رح فلا لکودید کی فی ) تق رٹ( الک ) ٰ
32و29 ور ڑکی سے اس طرح رکز نکی وت اشن مق رت ا ن2
۳ و و تج شی تخس نے(جوا بھی نز شی حالت مس توااور مر ہیں
)اس نی سےک ماک ہکیائحمحع کے مو سم میس حکیلنے حاضر ہو گے ؟ اس ن ےکہا: ٹیس اس سال و حاضر
نہیں ہوں گا لیکن بھی ارجم کسلئے جاتارہتا ہوں اس نے کہا کیم می راالیک بغام بھی بھی وہاں
ہا سسکنے ہو ؟ اس تن ےکہاہاش !اس نکی کہ :جب تم م وحم یس حاضر ہو فو وہاں جاک رہ آواز لگانا: اے
آئل قرفیل!جب دوش ہو حایس نے آواز لگانا: اے بتی ماضم !پھر جب وہ مع ہو جایں تو ابو طالب کے
متعلق پر جح اور پچ را یس لا کہ فلال خر یی آ دی نے بے ایک ری کے عوض میں ن٠ لکردیڑے۔
اتا لے کر وو مز دور مملیا۔ جب وہ ری( آج اور مالک )دا یں آیا ناو طیالب اس کے ان کے
اوراسسل سے 8و ھاکہ .007 جح ھ گیا غھوا )کیا ہوا ؟اس ن ےکہاکہ دہ بعار ہ وگما ھا
نے ا سکیا بھی طرب تاردار کی (پچھر ددم گیا تق یئ نے ا کی میٹ و گکٹین اور نز فین کے
/ 70 / 07 و
کچھ عرص ہگزراتاکہ وہ نل صے مققول نے پغام پان ےکی وع تکی تھی کے لے حاضر
ہوااور وا ںآواز لگاگی : اے آلی تی !اض ہلان ےکہا ت ریش ىہ ر ے۔ انس ن ےکہا: ے کنل بی مامم !وہ
نے گے ہہ ر ہے بھا ام اس ن ےکہاابوطال بکہال ہیں بل وگول ن ےکہاکہ ابو طا اب ىہ ہیں۔ ال نے
کہاکہ مج فلاں آ دی نے عم دیا کہ آ آ پکواک ام دو ںکہ فالخ نے سے اک ر یک
ماط رع لیکو جے۔ ۱
بوطالب سے ک نکر اس قریٹی شنفس کے پا ؟ئے اور اس س ےکہاکہ ۳ +0
پا ول شیل سے ایک بات اخقیا رک رلو۔
2 ار اہو نو سواونٹ دبیت اداکر وک نہ تم نے جہمارے سا ھ یکو ت٠ ںکیاے۔
٢ اور اہو و تمہارئی قوم کے پپچاس افرا دم مکھائیں الس بات ب کہ تم نے اسے عل کی سکیا ے۔
کان اوراگ رخ ماس سے الک رکرتے ہو فو ماس کے بدلہ میں صن ہیں نف لکرمسں کے (قصاص ای دککہ خون
کابر لہ تن اے)۔ ٰ
بداپی وم کے پا گیا( اور ان سے مخور ہکان )ان بو لان کہا ہم علف اٹھانے کے لے تیار ہیں
( جو بی مکھانے پر تیاد ہو گے اور ت٠ یکر نے کے پاوجود خ٠ کا داغ ہے او بر نہ کے د ینا ابا نہ ھی
راس
2 .ایا مناعو میں تیگ ۷م الیک عو رت جج ٣ ری خر رت
اور ا لکا ایک بنا بھی تھا ابو طا لب کے اس آ کی +ورالن ےکا ۱
اے ابو طالب !میں جا جٹی ہو کہ آ اپ النا چیا لا ےآ کی ک7 بے
ےکواس حم سے معاٹی د یجن اور جس مقام بر یی ںکھعاکی جالی ہیں (جاہلیت میس مکھانے کے لئے
متقام ابر ایم اور مج راسود کے در مان متام ٹیے اک ہاں ا سے لم لیت پر مجبدر ن کیا جاۓ ابو طا لب
نے الاک نے کاوعرہ )کر لیا_
ایک اور اٹچی جس سے ابوطا لب کے پا آیااو رسکی لگا اے ابو طا لب !1 اس نے بچاں
فراد سے عم ی ےکاارادہکاہے سو اون کی مہ اس اظقبار سے ہ رخف سکی کا عو دواونف
یر 'ذ ىہ دواوٹ عاضر ہیں ای عب ری طرف ے تو لکر مج اور جن کہ شمممیی ںکھاکی حاپی
ہیں واں ےم سن بر جمبور ن ہکیا جاے۔ الوطااب نے اس سے بھی دو اونٹ قجو لکر لئ باقی
اڑ لیس خنو سر اورانہوں نے( مجوئی) مم رکھائی(کہ اس ٠رلیئی نے مقتو لکو خل نمی ںکیا)۔
بن عپا ئن فرماتے ہی کہ :اس ذا تکی عم جس کے تجضہ میں میبرکی جان ہے؟ سال جھر بھی نہ
گا تاکن اڑج لیس مم س ےکوکی پچ کی کھ اتی نہ کی( می مت کین ضا لف کے اور ٰ
27 یئ سے مچھوٹی شی مکھا نے اور قا لکو پان کاشاضسانہ ھا)۔
تر الحر یث :
من الاری کاب متا قب اار۸ باب القساستہ ثایبلیھ ۔ے۱۵۵۸۔
رواوالسائیٹی سن تا ب القسامۃ ۔ ۳۱۸_
تر ار یش
فل نان بد تری نگناءکھیر وہے۔ ق رآ نکر یم یس ا کی شناعت متحدد مقامات پ بیا نک گئی ے '
لہ ایک متقام سر تال عز سو لی نے اس لکی رت اود اا لک بد تین سز اکے پارے میں ف رمیا :
کو کسی موم نیکوعید اق سکرے وا کی مزا جم می جس می پمیشہ رس ےگااور ال کا فص
اور أحت| 0/1 گی اور و بڑاخطہ اب میا رک ررکھا سے “.(اقسماءر ۹۳)
ایک اور مقام پر خر میا: ْ
ای کی یگ نک ف٠ کیاشگویااس نے سار گیا ما ضی تک وت کیا ( موہ ۷۳٣
خر یک کسی انبا ن گاج شی خصو ]کل ہگو مسلدا نکا فل بد تی نگمناواو ریو رىی انساضیت کے
ض ےر اف سے چنا غیہ ش ریعت اسلامیہ نے ا لک شخدنت 'شفاعت اور اس کے دور رس اثزات
۱۳٣
کے ۱ 007صص 0 9ص2020 "۰
کے قش انظ را سکاسدبا بک نے اود ا کا ر اسنہ بن دک نے کے لے مخت رین قوانئین نامز کے ہیں
کہ ا کاو تو کم ےکم ہو۔
0 ل(تھائ رفا کے راشی ہد جان ےک ضورت اطا یکر گی
صورت می بعار یادییت اور مالی معاوضہ ( تےے شون بہاکہاجاجاے ) ثوائین مفمرر فرماۓ ىہ ود یادی -
سز اہے اور ات وی انار ے بھی مخت تر ین سز ری نا یراگ رکسی کے دل می ذر بھی خوف مد ااور
,0۷و راس تع کت اور ہہس ْ
رص اوقات یہ ہوماسے پگہ الکو بشٹرىہ ہوم سےکہ قانتل ن معلوم ہو جاے اور یی غئیل
چا راہ تقانت لکون ہے ؟ وش ریت اسلامیہ نے اس کے تقاتل بک کے کے لئے ضی اک مقدو رو شش
کی اوراس کے لئ ایک مخصوص ط ریہ منتین فرمایااور دو طر ویقہ سے ”ما قسامت کاجوز سر نظرواتمہ ٹل
النکیاگیاے۔ اور قمام تکا مطلب مخقمر يہ سےکہ اک سی علاقہ اور مہ می ںکوئی تنس مقول یں
جاۓ اور تقانتل نا معلوم ہو نو ا کک کے کے لئ ا علاقہ اور لہ کے پاس معز د مع افراد
سے علف لیا جا ےگا اوروہ مم اٹھائیں گے کہ انہوں نے اسے فل خی ںکیانہ دوس کے تن یکو
جات ہیں اب طاہر ےکلہ پچا س اشراد تصدراد کے اختمار سے ایک بی جمعیت من جالی ہے اور ا
اثرادکاعاو نا ینوٹ پر مض ہونامحال ے۔
زم رداق می امس و معلو مھ لین چک ٹھوت وکوٹی کیل تال ہبذا ابو طا اب اس تما تل
کیا کون تا" 3 یں نی کہ ان ٹس سس ےکو گی ایک با 9+ “872 ٰ
گید یت دو ۔کیوککمہ تم نے جہمارے سا .یم یٰ۶ ۲8۲
اتک تحار ہی قوم کے پیا افرادعلف اھکیس بات کہ نے اسے تی نی ںکیاہے اورکر تم
ا“ کا نیا دکرتے ہو فا کا نمطلب سے کہ تم خی اس کے مان ہو لہ انیس ری صد صورت می رہ کی
یی و و 0
وواکٹی وم کے اس مشورہ کن ےکسا خکیا یا وم نے این او بہ سے دا 0 ےےاورای ڑا یکی
وچہ ے کہدیاکہ ہم سب علف ایس گے سا ئمہ وہ جو نے تھے و ریا رس
ےو 7 کے میا یں می دواو طا اب کے پا آ نی اوران سے
کباکہ میرے لڑ کے سے کم سیت کے ہیا اسےا سس سے محافر می سک مل ووا ھی یی موی ٰ
سم دلوات یں جا ہتی نی ما نیت یک جو کم کاوبال ؛ د اور ارت دووں میں اڑا اتھانا یڑ یا
ابس زان می جب اہم موالہ میم یکو لف لیا وراٹ مور ہو ع وس کے لے ان
ٰ ضر الر یۓ مسس+ى+ىسسسسسستے -ہ.
مقام تین تھا او دہ ببیت الس اکر متقام ابر ١ یم اور رگن ( تچ راسود) کے در یا میا نک مکھاتے تھے تو
ارت ن ےکہاکہ جب علف اتھان ےکا موںح آئے فو جہاں حاف اٹم ایا اتا ہے دمال پر میہرے یکو
علف اٹھانے پہ بو رن ہکا جائے۔
ای رس ایک اور شس الناکے پا آیاادر کے گاکہ آپ نے پا افراد سے مم مل کاارادہ
کیا سواونوں کے پر نی ےگ رز اق وی ع وید پا : دواوٹ حا ٠ی ے
قو لک جاور علف لیے کے عقام: پر بے بھی حاف اٹھان ےیکسلئے ےجبور ن ہکات اٹ اڑج لیس افراد
نے تو ٹی کک مکعالی۔
ا لکا یہ ہے ہواکہ ا پا ف رات بی کہ :اس ذا کی عماج کے قبضہ میس می کی جان
سے ؟ سال ہمت بت نے ہی امام تھا
وین مکھانے
ہے
مَ
چنا رت ولصا
اد قہام تکا یق دو ایت شس را ھا شر مصتاسلا می نے ا کو اق کسی ط ریہ
کی اتی سے مطلوم ہو امہ دوى جا ایت کا پر ایق خاط یں تھا کہ اس دور کے بس ایام
اور طر لی لکوشرلیعت نے 7 راد رکھاے۔ ٰ
٢ے الد نما ی 0 ج کان ےکا تین ا و مر رر متا نا اک اشھام می ہیکت
سے جساہکہ زوس نے صيم-ءھ298 مکھاکی او بی ضر و سب مور کی ت تد سو نے اور ما
کل کو ات سے ”تن کا ار مرکا یکاخ موی ى وو چا اہر تا مل
ہیں کا ہے کاسے و 7ج آززردن۔ ۲
٣۔ حدریث سے نہ بھی معلوم ہواکر ور حاطمیت میں کیج یا کا خوف ر نے وا نے اور
راغ ہم اکہ ال عورت اور ۳ ْ7 مخ حر مر ربج ٹا بت تا نے ان
دونوں نے کس مکھانے سے عفر رم کر تھی اک وکلہ وہ امن تک عل کاب (ء ناعف)
کے تیییہ یں الد تو یکی خت پڑاور عذر ا بکاسا من ہ وگال ۱
کے دوب جا ہی کا ایک اما اور ا ں قرطرتے تل ون مات 222( کے
اما کر سا اور اے ایتاراز وار ہم ا ےت کا لٹا سکم تاور ج بکوکی وعد کر لیت 7ای نا جا
ھی جیاکہ مقتول نے آخرىی محات ز مدکی یس اک نی شس کور جاخم دیااورانئ نے تب وعدہ
اے تلم اثرار تک بٹھایا۔ ۱
رس
من ایی
انال وال وائم ط(۹ ۲ہ
: 7 .7
تی اصر ال گی شی
کئظ کے انعامات کے پاوجوداکے احکامات کے سا تھ استجزا کر نارذ یل طینت و بد فطرت لوگو ںکاککام ہے_ ٰ
ٰ تی اص انیل وہ قوم سے جس پ اللہ تما یکی طرف سے غیر معموی ممتوں ای بارش بھ کیااور ہرد برا نکی تام 2
ناف رمانیوں' بد عبد یل 'اعکامات الہ کی خلاف ور زوں اور اخبیاء م٦ ہم السلا مکیسا تھ دوہر ےر وو کے پاوجو:
انی ہزنہ یں ہویریں گر جس قو مکی صرشت بی بد عبی کیا اور بد مھتی ہو اے الن ا اما تکی وگ یھر
یں ہو گتی۔ حماقت ورذالت اور سح فطرت کے تشیہ جس پبیرا ہد نے دالے ل3 م ےکی ایک جھلک بی ام انل
رجش اڑے۔ ۱
ٰ روی الیخاری عن ابی هریرڈقال:قال سس ال هْك:(قیل لبینی
اسرائیلظإادخلواالباب سجداوقولواحطةۃ4(البقرۃ/۸٤)فبدلواٴ'فدخلوایزحفون
علیٰ استاھھم وقالوا:حتَدفی شعرۃ.
ورواہ مسلم بلفظ:(قیل لینی اسرائیل:ادخَلُواالْبابَ سُجّدأُوَقُولُواحِطۃٌ یففرلکم
خطایاکم'فبدلوافدخلواالیاب یزحفون علیٰ استاھھم وقالوا:حیّدفی شعرۃ)۔
نجار یش :
.امام بفاد نے اپنی جج یس حرت ابو ہرم سے نف لکیا کہ رسول ال پچ نے فمایا:
نباص رات لک وکھاگیاتھاکہ ”اُدخلواالباب سُجَدأ و قُولواحطّۃ* ابق ۸ہ)“قیٗدرواز,
ش حر وکرتے ہو نے داخل ہو اور ”لت“ کے الفا ط کے ہو ۓ داشل ہو گاہوں نے اس ع مکو بل
ڈالا اور اتی ربیل کے مل داشل ہو ئےی م وت فی شعرۃ “شی تھے بی چوکادانہ“_
27 کیاردایت شی مہ الفاظ می ںکہ : "
ندروازوی سح ,کرت ہو ئے داشل ہو اور اکا لف ۂکہو فو تہار کی خطایں معاففکردی جا گی ار
تر افر یث :
رواوا فارگ ٹی تیم کاب آعاد یت الا نیا باب عد یت الف مجح موسا_(۹م ٣۳٣م)
ردام سم ۔کابا سے (م۳ر ۲۳۴۱۳۲)
تی اصرائل وو جار نی قوم سے جس نے نا فیا یس شی دبضاوت ' ضد اور ہٹ دھ ری دناحت د
رزاات اور الع لشثانہ کے اعکامات کے سا تد سخ کر نے ور اس کے تقمہرو ںکواذ ینس بایان ےکا
ربیارڈ ا ئمکیا۔ ا نکی فطرت اس عدکک بغ ہوبچگی عص کہ دوج ب کک می اب اور معیب تکاشیار
نہ ہو جاے ال دکی طر نار ود کرت اور جب لب دم ہو جاتے تا سے رجور اکر او رکف و
زاب دور ہووت بی پھر بضادوت وناظر ال یکاار اب 7 کک اور ا<کامات الپ ےکا مراقی اڑا ا نکی
ات ای ای از ٰ
ایک موخ بر اللہ تھالی نے انیس عم فرمایاکہ عدائن ارم میں (جو ایک شر تھا) داخل ہوں تو
دروازہ یں داخل ہوتے وقت مد کرت ہو ۓ داشل ہو اور سککتے ہو ۓ واخل ہو ںک ”لت“
سں مخفرت کے ہیں )اکر ایی کرو کے تے ہم تار ےگناہو ںکی مخفر تکردریں گے اور
بل مچھامانکیاں عط امرس گے
اب جامیۓ نو ہہ تھاکہ سید سے سید سے اس عم پہ رت لیکن اٹیب درصھھتی اور وزالت کے
اتھوں مجبور تے جب در واز ویش داشل ہہو ئۓ تو بد ہر نے کے بہجائے انیم بین (کو اہول ) کے تیل
مھ ٹگھسٹ کر داخل ہو گگو با مہ الشر کے مع مکیاص رس استجزاء تھاادرجو لف کن ےکا عم دی تھا ے کمن
کے بہجائۓ اس سے مات جلاف اکم دیانہ :” حنطة فی شعرة “مشمی ہوکادانہ افیے مھیلکے میں اب ال نکا
ظز نز مل بد تین محصیبت اور اللہ کے ا<کابا کا راقاز 2غ اف تھا۔ ہہجاۓ اس ک ےک
مزا ہو ںکی شش شکاج سان راستہ الہ لی نے بتایاتھااس مو عکونحخیت جات ے می فرمای استبزاء
اورربے ہودوط رز کل سے ابی آ پکوعا بکا معن بنادیا۔
چناضیہ مرک نکر مم یں ار شا کے
ہل بدل ڈالا الم لوگوں نے اس قو لکوجھ ان س ےکھاگی تادوسرے قول سے وھ
کے اوب سال یآ قت او رکٹڑک :انز لکی ا نکی اس ناف مائی و عق و ٹور کے سب “۔(ابقر)
ا شبہ اکا مات ال ہکا نم اقی اڑانے الع سے در وگر دا یکم نے اور بغاو تک ن ےکاکچی اضیام سے اور
براانجام سے بدکاارول کے لج ہنی ا ایل نے اس ع ا بکاسا من اکمیااور تما ۓ عفر اب ہو ئے-
یہالں یہ وا مر ےکہ با اسر ان لکی خالب !ریت اس نا فرمالی میں مجتلا نی اور تو مکا زا لب
جصہ تل ماف مانیوں یں جتلار بتا نان ال سکا ىہ مطلب غنی ںکہ الن کے در مان ایج لوک نیں
رٹ
جھے۔ بللہ ہک ای لوک مبھی ان کے در مان موجود تج اور ان بیس سے نف کے ابیمان افروزواقوات -
تچ ےگزر گے ہیں اوران یکی اسچھائو لکی وجہ سے و کی قو مکو اھ تھا یکی طرف سے مبلت عتی ر ہی۔
ہاں ا نکی تعداد ا یں نک کے بر ابر تھی ۔ اکخزیت نا فرمای و شت و یور میس نا ھی۔
۶۰
مے
چت رہرت ونصار(
ا۔ ہلا ذا دہ نآ حد یٹ سے ہہ عاصل ۴ واکہ الد کے اکاما کو بد اناد تر بین جم سے اور ای اھر نے
وانے اائلہ کے عفر اب کے معن نے ہیں۔
دور حاصر مُل بھی پیج لوک رن کے وا جع اور ص رع اعکابا تکو بدلنا حا تے ہیں اور اتی
تاہشات نفسما نی اور اغخمر اش دیو یکی ار فہ رن کے اجکامات مل تھریف وجاو لک راہ اضیار
کرت ہیں ای ے لیکو کو بی اس رام لککا ایام یاو رکھنا حا یت ۔ ٰ
خلا ہمارے ہاں بر دہ کے متعلق “سور کے تلق و ای اھ ھا
رخ در معا لات یل جا وٹ لک شوقن رد رسس
تریف کے ذریعہ اہ نر موم متقاص کو لیو راک حی راہ جموار مرن ےکی ناک جمار تک جالی ہے لن
لوگوں کے لے مہ واقعہ ایگ درس عہرت سے اوراس ے ا غھیں سیق حا ص٥ لکنا سای
۳۔ اگ سے اتک مم کہ جب مما نیشم اور صتی می فان ب نکر رال ہوں تو
اکمانہ شائن و شوکت 'اور بڑاٹی و تف رکا اظما رکرتے ہو ۓ تہ داخل ہہوں بللہ اح اور عاجڑی اظار -
کے اور ای کا ےکی اوت نا کی گر ار اکر ہو ۓ داعل ہوںج کہ فحقت میں پ مک ہو_
بی اس رائیل(یہوریں) نے لوا کر 7 ین
۱ امو ضس رہ سای ری سو یوید
تبان ے داضل ہوتے نو عاجزیی اور مسکنت کے سا تمھد داشل ہو تے ال نکی ز با میں ار کی تر یف اور
7١05 م۲ اور چا ال١٢ نہ رم وو میں خوور سول کر مم پا کا رک کاواتہ
ا ںیرد گن مال ے۔ ْ
٣ ۔عد یت سے ایک انم فائمد یہ حا صل ہواکہ ال دی نا فرمالی ہا انس نک خمرت کے دای عفر ا کا
تتفن بای ہے و ہیں د دی قت کے مجن جانے اور سلب ہو جانیکا سبب بھی غقی سے گگوناناف ما یکا و بال
نا آخرت دوفو ںکی اتی بربادئ کی صورت می اتا ہے۔اللتعالی ہم سب کو اتی اطاعح تک یکائل
خیب ف رادرب رش کے شروفقہ ے قام لن ںکی طاعت ف ےآ
سحصکج ٹڈ ڈست صیو مب ید ے۔ رسب وھ سپٹ 2'<ہ مس رھت جات ا رھد تر ممبتںمچج مس .مم مت ہسج نچ جژخ رح سس ےت ہے زجج ہے
سس2 سا تھی ہے ند حصعس ےی یں تعفوس وس٢ دودوم ہے وی سےیے_دسیسیو-س- اسم پا یسید _چ ہد اس سی ات سد لس سا
ہ رر رہش وا سج نج ھی ہے ہہ ںہ گت گر
ت..-سسسف چس سس سس تق ساسسعتال زا سسسصسہ جسلڈا سای سس راس جوتداوو سس جی سے سے رس لاس نے ےپو الا
۳ٍ۰
۱ ار رۓ ْ ۳٣٢۱
ا ک گناو دوسر ےگمناوکو جم دا سے اور ای کگناوب رای ہو نے دالما اس بڑ ےمناہ یہ جھی ]سال راضی
ہوجاتاے' مان شر اب انہ جے امم القپائث خرار دیاگیا ایک سے اجئے عابد وزاہ دکو بھی انی بلاکہت خی کے
تہ میں ۶ا کرد سے “یس نے١ ملا فکوانقیا رک لیاگو اس نے د نیاکی ہر برای 0/7
کہ شرجعت مر نے ١ کے مض مناخ کے پاوجود اس جس قرار دیا ای ےکسی بجی یکام می ملوت ہو نے وانلے
کیاکی . ترار دیااور ال 7 کا ردان یا ارح یہ انس نکو 20.7+) گانہ
یں 7
روی انسائی عن بد الرحْمن بن لحَارث عَنْ ای قَال: سَِعُتٗ عُثمَانَ
رضی ال عَند بقولُ: (ا+ جُتنبُوا الحش ھا أُمْ لاٹ إنهُ کان رَُلُ مِمنْ خلا
ل
قُ ا حَئت 1 وق أرْسلت لی حَاریتھَاء نقالتٰ 8 انا ندمُوك
جا سے ظط حر حی و ھ َ
لاق فانطلقَ ت جاریتھاء فطیْقَتٰ کلم دحل بابا أَعَلقَتهُ دونڈ ج حتی أَفضی
لی مرو وَضیة عِندھَا غلامْ وَبَاطِیة خمر فقالت؛ إني والله ما دَعَكٍ ِلحَهادقِ
وَلَكِنْ دَعَوْتكَ إِعَمَ عَلیٌ ا ول ا کأَسًاء او تمَتلٌ ھذا الغلام
َال فَامقیني مِنْ ھذا الحئٰر کس فسقتهُ كأاسُا قال: يدُوئی؛ فلمْ بَرِم
حتی وَقَمَ عَلَيْھَا ول الس فَاحَیُوا الحسْر َإنھَا ول لا يَحَيِعُ الِمَان
5 جو الا ہے ان خر بت أَحَدُمُمَ سی
ری قَالَ: خی آنو بکر لی لد رح لی اآخارث ا آبه کال جتئے
مان يَقَولٌ: ( احیُوا لح َإنھا ام الحبایٹِ فَإنةُ کان رَحُلٌ مِمَنْ خلا
سی سن فذْکر يثلهُ فالَ: ( فَاكیُوا الحَمْر فَإِنهُ واللغ لا
سے ار از سے کج"ھ
َحَيع وَالِمَاث آ, بدا إلا يْوشِك أَحْدُھْمَا أُن یخرج صَاحبَهُ ).
سس یریۓ
رہم ایس :
ما ضا مظرت عحب ال تین بین الیارٹ سے لف لکرتے چ ود ,72
فرمیا: می نے حر ت علثالن گنی ذوالنو رگن ٢کوسنافر مات تھے :
۵“ شراب سے اتا بکر کہ دو تمام خبائت و ماس کی بجڑ ہے تم سے پیا متوں میس 1یک تس
بڑاعابد اہر تھا ایک برکار وب دکر داد عورت اس پر فر یقت وعاش ہ گنی اور ابٹی با ند یکوااس کے اس
جھہااور اس نے چ اکم راس ابد ےکپاکہ :ہم ا پکوایک محابلہ مم لگواہی کے لئے بلار سے ہیں ( می
دای د یناف ا بکیا بات سے “تیگ اور صا لوگ می کے ہ رکام کے لے تیاد رت ہیں ) ابفر اود اس ْ
پاندکی کے پمراہ یل ڑا دہ باندی کر یکہ جس دروازو یں ودداشخل ہوسا تو جچیے سے اے بند کر ری
ہا ںک کک ہکفیددوازوں سے ھک ووایک رشن چر والی عورت تک سا پیا ں کے بہبک و میں ایک
من ڑکا اورایک خر ا بکاام بڑاتھا۔
وو عورت سی ےگ یکہ :اف رکی تم می نے تی ںگواہی کے لے نی بلاا میس نے فو کے اس
لئے بلایا ےکہ ف جھ سے کر یا اس شر اب مل سے ایک پوالہ پیا کے یا اس یچ رر ت2
دوزاہ کے لگاکہ : کے ش را بک پیالہ بادے لہ تل اق بش سے سب سے پگ بات ظاہر ٰ
چیا ہے) چنا نچہ اس زامیہ نے اسے شرا بکا پمالہ بلادیا(حخر ا بکا چنا تھاکہ ا لکی مستی اور نشہ مز
یا اورک ادا خر خوب شراب اور زیددیر ہد کہا کے عامس
۱ سے زنا پھ یکر ٹیا اور اس بی ہک و بھی غ٠ سک رڈالا۔
!فا راب سے پچ اسل کیہ می ایی یز ےکہ اش دکی تم ا یمان اور ج- اب پنادونوں مگ
ْ یں ہے گرقرعب ہ کہ دوو می ے ایک دوسر ےک ال الا ھا شراب سے جات
دے دیاش ا کی مر اومت] پا نکو گی)۔ ْ
ٰ حفرت عبدالہ ین مبارک رحمۃاللہ علیہ بس ین ااڑھر گیا کے مع رگ سے رواحی تر تے
لہ الو یمر بین عبرالر تن بن ایرث ای والد سے ف٠ لکرتے ہ سکہ اغہوں نے قرما:
رت عثالنفرماتے ت کہ شر اب سے با چک وکہ وا الات ے“ :.
طرالنے سج ماوا یس ححضرت عبد ارڈ بن عمرو بین العائ کی حدمرۓ نفک کی ہ ےکہ ایک ہار
حض تالا بجر صیدىی* حر ت گر رین انختطاب اد رر سول الد ہلگ کے د انکر مھاے 207 ضو اك ٴالیر یمم
مین 'ر سول او کپچ کے وصال کے بعد با ہم ٹیشھے ہوئئے جے فو اس با تک ذکر ہو نے لاک کپائر ٹیش
سب سے ڑاکیب روگنا ہکیا ہے؟ ان سب کے پااس اس سے متحل قکوکی جخی عم نہیں نس سر فیصل ہکیا
جاکے) چناغیہ اننہوں نے بے حضرت عبدائڈ بین عمرو بن العائش کے ال کھیچاکہ النا سے اس کے
نس ال ریغ ۱ ۴۳
مکی رںات گرولٴٴ مہو نے بیچھے بچایاکہکیائر میں سب سے بڑ ارہ م اب بڑے۔
میں الع تحفض رات ھا۔ گی خد مت میں وائیل آیااور | 2 نایا فو اضہوں نے ا سکاانکا رکیااور ان
سب کے سب نے اٹ النا ہلت اول دیا ا ککہ سب النا ک ےگ پآ ُ ے۔ معارت کر الد نے
انیس لا )کہ ر سو ال نے ار شاد ف میا: أ
مہ ۱ 7 کے اک باد شا نے ایک 2 کو پیر یس ول میں سے ا ککااخار
٠ دیالاکہ الن یش ے ای فکوضر ور اخقیا کر ا ہوگاکیا مہ شر اب بے ای بی ہکو نت مکمرمے یاز ہر ےا
زم کاگوش تکھاے اوراگر وواہیا رککر ےگا نو اسے فل کردیی گے اسان شراب ٹکو( کا بج
کر ) قجو لک لیا چنا نہ جب ای نے شر اب پیاکی خوالن یل ےکوی بات بھی اس کے لئ“ موم نہ ز ہی
یی نکا ا ےک اکا تھا اور س بکام کر لج )'اوراس مو تح بر زسول الہ پچ نے پھر ےارشاد یا
”ج کوگی بھی شراب چتاے نذ لیس رات (دن )تک ا سک ہماز قیول نیس ہ وٹ او رک وو اس
عاات میں ع رگم کہ ال کے متانہ ٹس ذرای یر سیت مسر گر
ووحاٹیس دن کے اند راند رم مگیا تو چاہلیت یی کی موت مرا" 7
تر ا لی یث:
عرےث ار واوالمائ یٹ سد _۳۱۵۸/۸۔_ ٰ
وعد یث خبر الم عھمرو بن الجا صرواوالظر الیٴ9آوسایاو تاد جم ویاً۔
اٹ مار مث
دونول اعاد بیث مل بیا نکر د+واقعہ (ظاہر ایک کی سے اور ہہ اص را گی محاشرہ کے بگاڑ اور فماد کے
زمانہکا واقہ ہے اور بظاہر سس ے ان ممنو اور مل ککا موں کے ار اب سر مجبو ریا گیا ٥کوئی
مروف اور زی اشن تھائیاباد شاء کے تق سیل وکوں میں سے تھا ا مےلو ںی سے تھاجن کولول
تقایل تقطیر یکن اور ا نکی اتا عکمرتے ہیں۔ بادشا ہکو۔ : رش ہواگہ دواتی عیادرت رت ری
تق یکی برولت قوم یں بڈاپااث ہو جال ۓگااور ا لکی حیشیت باد شا ہی حیقی تک وک مرن کا با عث
7 ی اور ىہ بات شر دمّے ما مفد اور ام بادشاہوں اور حرانوں 1 شمت ری ے 7 وہال
نم کے لو گول کاوجوو برداشت یی کرت اوران ۲ مل حیقیت اورلوگوں میں الع کے ام رکورگاڑنے
گار من نا ماک رت ہیں۔
چنانجہ بظاہر ایا ہداکہ بادشاہ نے ایک ای ور کو جھ اوخ خطبق ہی آسے عورت شی اس
مد کے لے کیک اس ایرد ا و کو ی رح قہ مس بک سے بد شا تد متعرر او ر|
ضس ال رٹ ٰ 0 9 0ص "۳۶
ٰ ری 'اور طاہر ےآ مور کا تہ سب سے سخت اور مث نہ ہے۔ با لکامہ تم یہ ہرد ور اور زماتہ
جس بڑاکارکرخابہت ہو اہے۔ ٰ
ٰ وہ ثورت ؟ڑ کی ماللرار اور محاخشرہ کے او جج علبقہ ۳ یما رہ تھی جو مواشر می بڑامنزز مھا عام
ہے مین ای اور بے حیا لی ک ےکا موں سے ا ےکوکی عار کنیس ہو تا چنا خی اس عوزت نے باد شا کے
مق کو و راکرنے کے لئ اس عابد صا کے پا اپ با ند یکو کیجااور اس نے اکم ےکہانکہ فلال
عورت آ پگ وی معاملہ می سلگوای کے لے بما تی میں ' ظاہر سے عابد نے سوہ کہ ووابک محزز
طبق کی عورت ہے اور شہادت وگوااہی کے لے جانالیول بھی وا بکی بات سے لب اجانے می يکوٹی ھ ح
یں 'چناغہ وہاس کے سا تد چل دیا۔وہال مج کر دوعابد ج بگ مم داشل ہداتق چیہ سے با ند کی نے
در واز: بن دگرو' ا ای طر حعکئی درددازولی ےمذ رکرود ایک خو لصورت عورت کے پا س جا جیا اس
حورت کے پہلو میں ای کم سن یہ جیما ہو اتوادر تیب جیا اسیک ص رای ش ر١ یی ایل
ٰ فاحشہ نے اس عاید ےکماکہ ٹیس نے مکی ںکو ای ویر : کے لے نہیں بلایا یں بیہاں بات ےکا متصرر
بی ےکہ تم میرے سا تحھ فی اور پدکار یک رو 'اوراگر ماس پر راشی ننیں ہوتے قھ ہیں اس ب کو
ت١ کرت ہوگااوراکراسے بھی تم د کرت و تو یہ شراب فیپ ےگا مو میں سے ای ککام ضر رک نا
ون حکین یا تک اس ریقحت کے تی تن رک
وش تکا بھ یکہا تھا دہ عا بد چھککہ صرف عابد تھا عا لم اور علاء سے صحبت بات نہ تھا قذدہ ججاۓ اس کے
کہ ع زیت واحتققام تکا مظاہر وک اور اصیرت دی اور حیت مہ ب یکا اما رککرتے ہوئے ان تام
ہت هپ 00 رک جا اور اد کی ذات برکاعل کب روس کر ما فو اد تھالی یقاس کے لے
کوئی نکوکی رات پی راکرد یا ججی اک ححثرت پوس کے لئ بند اور مفقفل درواز ےکھل مہ گن ھے
کیوکلہ ا نول نے اسے اتی مجبور ینہ نے دیااور یلد تھا یکی ذات پر شی ن کا ل کرت ہو ئۓ ای سے
زعا ی7 انیس ای سے بیاتۓ :وراس کے ل کو کین توالی نے انیس راستہ عطا ربا یہ
ور و ۔ مان ىہ عابد صاحب خز یت و احتققاعمت نہ تھا نہ بی اصیرت د فراست
0ے سر رتا 'اس نے اس یکوانجا بت ہو سوچ اک اکر اس عور کی بات نیس ماس تخل
گمردیا او لکا ذاش راب پیا ہو کہ ووسب سے نے پہ بت زادگ کے چناتیہ اس
نے شراب پیا یش راب نے ابنارتک دکھایانشہ چٹ ۓ (گاادر مل من پزررگیسراڈرولرف'
ای مستی کے عالم میس نہ ایمانکا ہو شر بانہخوف مد او کر آفخخر تکا ا ال نہ ضابائار یانہ
٠رت تنشہ کے نالم یس بدکار یکا بھی م رملب ہوگیالور بی کو نل بھ یکر بیا۔ ۱
عریے سے ہہ خظاہر بجی معلوم ہو جا ےکہ اس س بکا مقصید اس عا دکی عبات اور گی کے اش رکو
ضس ال ےۓغ سے ے سے سے سے سے ے ۱ سس سے سے وا
رر لک نااوراسے مجاش وی بنا کرت دو یہ یر یس رابک ختوںا
پروی سای کا مک ت خیب دکا؛ ھ2 کاچ کی ضزاورا“ 5 ارات
گے لئے نہ رتھا۔
بہرحالل ر سول ارد مکل کے اس ا ران فیا ےکا متقصد لاک تن تم اب
خلت ے 'اور جرب ال یکی ڑ ہے اسے بے کے بعد تقل نز انل ہو جائی اور حواس شل و جات ہیں اور
اس نشی ید ہو شی کے عال میں انسان ای ای ےکا مکر ما ےک حیکاجنازہ نل جاتاے اوراضاعیت _
دو یی ش لی رہ ای ہے۔ ترآلننے ای لے اسے" رجسٗ من عمل الشیطان تنا اور
شیطالی عل قراردیاے۔
بی وج ےکہ نی لا نے شراب 99,7,مء2,,م0 بھی لات یک : :
”ا کی نماز لیس رات تک قبول خی کی جات اوراگر اس حالت میں اسے مو ہلا
اس کے شس می شرا بکا ایک قطرہ بھی صوجو: د ہو و جنت ال ۶ را مکردی چا ہے اوران امس
راو یش سےمسی می ا سپا تقال ہکات جا ای کی موت مرا" _ آھاو الہ وا لن مہ
نر رت 2س0
عد یت یل ان ىک رووواقد لف و توجر روا“ ند سے
ا۔ شراب خانہ خر ا بکی حر مت اور اس می ںکسی بھی طرح سے ملوث ہو نے کا شی گناہ ال
عدیث سے ظاہرے اور خ راب ب کے نے سے جو مفاسد اور برائیاں جم ملقی ہیں اور فردو ماش رہپ اس ۱
کے جو برے اور حلط ارات تقات ہو تے میں صد مث بالما شش بیالن اکر دوواعہ سے پر گر با ظاہر یئ
کیک شراب پٹ گا بد ائی ہتراد نڑی برا توں کے ار کا بکاباعث مل ے۔
کک ہے ےپ بھی معلوم ہک اہ و کلف آزنائوں اور عاوں کا سا ماکرپ ٰ
اور ایل شر ملف ظط ربقوںل سے اش کے کیک بد و کو مر رن اورا 929
کر رئی۔
بی رعلم کے عیادت انسا نکو نت او تجا تگمرای میس بتاک ذ ہچ سے لم ےق عاد تکاج' ۱
ادا نمی کی جاعتی جس طرح مل سے بقی عم ےکار ہے ای طرحع یفی عم کے مل بھی ری نکی تم
یس کزان تین ات ےا تھ سا تع عالم اور دی نکی چم ر کے والا ہو جا تو
ووان یر ا ا ا ای ا ا
سامناػکر او راگ الع برای سے دی کے لئے مو کا سام ناک رن ٹج تو ہفشتے
۱ ٹس ار ےۓغ ےھ
وت و لا محالہ کی سے اور ایک یا باد آلی ہے راز یت پر جالندیتااورگھراہی سے کفو و رہتا۔
بر حعال ہر ایک کے لئے ال انل شا ملعال ہو بہرحال ضروری ے۔ ۱
۳۔ اگ وائے ا ور ئن لیم علق ےکہ ہر صلمان صاحب خر و صلا کو ہمہ وت اڈ
تھی سے پناہما گے ر ہناجائگئے اور ال ے عافیت طل بک نے د ہناجایئے اور اکن با ول اور اہ
کرنے والول سے اجقناب کر ناحیاے انسالی و جنای شا کے بھی اور ہناجاگۓ_
۵. می اور بد کی و ٹس پمیشہ نجرد آذ مھا یں ظاہر بد یش ہشیت میس اور کی ہمیش اجس
میں در تی سے نیک لوگو ںکی حر ار رو کی بت پیش ہکم ہو کی ہے۔ لیکن شی اور دی کے مجر
ہو ٹ کا مرا لت کشر ت پر یں للع ل نان کے عم پہ ہے۔ جن کا مکوالدر مت الحزت نے بدی
اور شر ثراردیادہ بھیشہ شر ہی ر ےگا خواءکا ات کا ہر کی نف ا لککااد ما بکر نے اور سے اتا نے
۱ کے یا مر ھاددہے سے ال نے نکی اور سنہ“ قراردیا۔ خواوسار ید ناش یکا مھبوم برل ڈالے
ین الله کے خزدیک می صرف وی مم ہ وی جواس کے سکم کے عطابق ہو۔
اس قصت شی اصحاب تر وصلا اور اہل نا کور سے کل کہ انیل اصحاب عز یت بھی
+۰ جائکۓ اور بر ال کےماحول کے اثرات قجول نکر نے چا شس نہ ہی برالی کے ماحول سے ع رعوب و ۱
سار ہوناجائۓ بللہ دہ ہر با ول اور پ ر کیفیت ٹیل سی اکر نے وانے اور رای سے ہے وال “اس ٦
را یکوپورے ۶زم واتقامت سے ددکر نے وانے ہوگا۔ تاکہ ای ش بر ال نکی ع یت واست تا مت
حب چچھاجاۓ اور ودماحول سے ہتآئ ہو نے وانے نہ بہول ماحو لکو سآ ثکر نے والنے ہوںں
محمص ار مث ُ ٰ ۱ 8000
اکماون وال قصہ ۵۷ چ4
٠ ۰ 2
۱ یر تل کی فر عون سے مغ تکا جیب اطہار
حر
س عخقمر ماق ہیں بلا ما ےکہ جب یل علیہ السلا مکوا کے 0 رش ف عون ےکس قد
نفرت تشھ یک وواس با تکو بھی نیہن در تے کہ دوامیان نےآئے اور پرال کر مت بھ جاے۔
نصٗ الحدیث:
روی الترمذی فی سننه عن ابن عبَاس أن النبیٗتَلَِللقال :(لمّاأغرق اللەفرعون
قال:٭امنت أّٴلا إله إاالذی امنتٗ بە بنو إسر ائیلچ4(یو نس/۹۰)'فقال
“ك۳ وأنا آخذمن حال البحر'فأدستہ' فی فيه مخافۃان تدرکە'
الرحمة)۔ قال ابوعیسیٰ :ھذاحدیثٌ حسن۔
وفی روایۃأن النبیٴَلذکر(أن جبری لئ جعل یدس فی فی فرعون الطین
خشیۃة ان یقول:لاإله إلا اللَفرحمه' اللهەاُو خشیۃ أن یرحمه 'اللّه)۔
قال ابوعیسی الترمذی:ھذاحدیث حسنٌ صحیحٌ غریبٌ من ھذاالوجه۔
ترجرۃۃا ر بث :
رت این عحبا سے رودایت ہے نی گل نے ارغاد یا
”حب ال تعالی نے فرعو نکو خرق فربایاس نے ڈو ڈو کیہ :)یل ابمان لا جا ہول
کہ اس لا کے سواکوئی معبود ہیں جس سر ہنا ایل ایمالنالائے نید ۔.(ش) جج رل نے
وٹ سے فرما کہ اے مج !اگ ر آپ بے جھے کی کہ میں (اسوقت )سن رکی تمہ سے می اٹھار تھا
س ضٹ یکو میں فر عون کے منہ میں ٹوس دبا ڈد ےک یں ال کی ر تہ ا ںکوضہ گی جائے۔
دوس کیاروایت یل ہہ ےکہ نی مل نے فکر ف ماناک
رت جج تل علیہ السلام ف عون کے منہ نل لی مٹی وا لے گے تھے اس خدشہ کے بی
اظم رک وہ لا الہ الأالّد رک دے اور ا ایا رر عحت کرو لں۔
تر الیم یت :
سن الترزری۔ ابا کے رچل :طز احریرۓ _ لم- ۸۳ ۲۸۳۴
ار وابالاے انار داەا زی فی سن و تقال الو ھی طز اصدی صن خر :صرح براالوج_ ۸۳٦٦۔
۰۸ظَ۳
لیے
ا اْیع ۱
فر عون اور ا کی س ری د طفالی کے واقعات عبرت ایر اور اس کے عبرت نک اخوا مکو
ق رہ نکر یم میس بڑبی تفصیبل اور وضاحت ے بیالنکیاگیاہے۔اور بے شا منقامات راس کے عرت
7 مین چبلد مان کے گے ہیں۔ اھ تھالی نے سو رک یو اس ٹس صراتأ ف میا ےکہ جب ال
نے فمر عو نکو رق فرمیااور ود ڈو نۓ گا تق مو تکوسائے دک ھکر بے اخقتار پیا اٹاک :
امت أَنه'لاإِلَهَإاًالّذی امَنت بہ بنواسرائیل وأنا السُسلمین۔(یونس)
”یی نک لیا میس ن ےک کوکی معبود نہیں گر دہ جس پر ایمائن لائے بنو اسر انل اور ہوں
مان رداروکی ٹل ے “۔ -
اللہ تعاٹی نے فربایاکہ اب و فرمانبردارکی اہ ہک جا ہے لن اس سے لے تذ فساد بچھیلانے والا
ھا ۶ اے عم تا کا سام سے دوجار ہو ناڑا ۱ ٰ ٰ
پلاشبہ فمر عون د نیا کے چند بڑے منگبربین اور س رکش تین ل وگکوں یی سے تھا اس کے فماد سے
سای زشین گو رگئی می اور دہ خدائیکاد و یکر یھت گوا اللہ لان کے متابلہ گی تھا۔ چنا
جب ا کی مبلت تم +ودکی نوا کی دراز ری ا ایک کن یگئی۔ اللہ تی سے عحمت گر نے وا لے اور
ٰ ان کے ئیک بنلروں کے سا تھسا تھ الش کے فرش بھی ان قرام لوگوں سے نفرت اور لضف کااظہار
کرت ہیں جو ابد کے د من اورالشہ کے پا "ی ہیں۔ ۱
نمکودہوبالاعد یٹ میں جیا نکر ددواقعہ جحفرت بت تل علیہ السلام جو ال تال کے مقرب تزمن
رشن اور ملانک کے سردار ہیں گی اللہ کے دن ف عون سے نفرتکاظہارے۔ ٠
چنانچہ دہ شود فرماتے ہی ںکہ شس نے جب فر عون خرق بہورہاتھ فے ند رکی تہ سے می انال ی
تیاور اسے فر عون کے منہ مل ڈا لے ولا کیل دوارکی موت اور عبرت اک انام کے پیش نظ
اس موشح برک 'فوحی رکا قرا رکرڈانے اور الشدر ٹب الا مین جو ہا یت اد مم ال راگن ہیں اس کے اقرار
ٰ و حید پر اس پر رگ فرمادیل اوردداینے ک ےکی مزا نے سے ا جائے_ ٰ
ہا سوالی ہہ پیدا ہو ا ہ ےکہ اللہ تھالی خر عو نکی مففرت قرمادہے تا سکی مخفرت جی تل
علیہ السلام کے لے کیا نقتصالنادہ ھی جوا نب انے مہ بات ار شاد فرمائٔ؟
جواب اس سوا لکاىہ ے کہ ححضرت جج ر 2ت ثول اکموں مر کیشول اور ارد کے وشھنوں ے
اق بے پناہ خر تکااظہار ہے نہک الد تھاٹی کے فیصلہ پر عدم موافقن تکااظگہار۔ اللہ تاٹی کے فیمل
سے مال اور عدم موافقت ملاتک کے لے فو من ہی نیس اور وہ تج مل علیہ السلام تھے پر دہ
ٹس جو الل کا مانۓ دالاٴعرل پیند فطر تک حائل ہو دہ بھ یی قجبت پر ہ رگز ییگوارا خی ںکرچ کر
۳۲۰
ٹس الد رٹ
اکم وں اور سر پور بے می رٹ مکیاجاے یاا یں الع کے سر وواور
گھناتنے ج را مکی سزاد تے خی رگیھوڑ دیاجاے_ لبذر اج تل کاب ہکہنا ال نکی ف ر عون سے نظرت کا اک
بے انختیار اظہار خھان ہکہ اللر کے فیصلہ سے عدم مواققت وی رو اور لا شیہ ابی ایا کو اللہ کے
د ول سے نفربتکرنابی اہ۔
چ رم٠ ت وتصار)
ا۔ ال تل شاد کی تیم الشالن رم تکااظہار بھی اس واقعہ سے ہو تا ےکہ بج رح اشن شی الم
تی بھی فر عون جییے ررش کے متلق ابد یشہ ربھتی تشھ یک 0)
کر توحیدکی تیم فضیلت بھی اس واقہ سے پوری ط رح وا ہےکہ اتا لی مکافرد ںہ
ا رکا تن اور ای بھی اگ ااس وفن تک آھھ سے حل(جوکہ فز مخ کاوفت خحاجب فذ ہہ کے در واڑے بند
ہو جاتے ہیں ) صد ق دل ے اکلہ فو حی دکاا خر رکر لیا ابق کرحم تکا ”و ۱
۱۔۔ حدیث سے ہہ تھی خابت ہواکہ حضرت جج مل اصیاع اش کے دشمنوں ے نطرت فرماتے
ہیں ۔گوی جو نس اش کا وشن ہو اس کے اجکابات سے او ت'کرنے والا ہو اود ا کی نا قرما یکا
ار ما بک نے والا ہو ووانشد کے مقرب فرشتو لکا بھی مبخوت من جا جاے۔
"تی ایک اور با ت اس واقعہ سے ہے معلوم ہوئ کہ اللہ تع یکا عاب جب آٹاے نو اسے رو عل
لا وانے رت ہو تے ہیں اور تام عفر ب امتقوںل یر ا بھی کے ذ رجہ عفر اب ناز لک ایا
۳۲۳٣٣كك
شی الیر یغ
ٹس ار ےۓ
اون وال قصہ ج4۵۲
کڑ یکین نیس بزانے والی عورت
ہے مم
مال کے اندر فطری ورپ بنیشہ ال با تک خواہشل جیا ےکہ وداپے آ پکو نمیا نکھرے۔ عور فو کو
ا فصو یہ مرخ لاف ہ ےکہ دہز یب دز ہیقت اور ت نے انداز انار لوگو ںکواپٹی طرف توچ ہک میں۔ زس
نرواقعہ ایی بی ایک عور تکا ہے جس نے اہی ا پکولوگو ںکی نظ میں اوخ اکر نے اور ا کی اپکی جانب
اح ت کر نے کے لے جیب طریقہاچای۔
لس الد یٹ :
آروی مسلم ق صحیحہ عَئْ أپی وید لْمُّذریٌ عَ ال کل قال: ۱ کانت
امْرَأۃ من نی إسرائیل قصیرة نمشبی تٍ امْرأتَيْنِ طربلِن + فاتخذت رِحْلیْنِ بن
,شب وَعاتمًا من دخٌب مُغلََ مُطيْقَء تُمْ حَشَنة , اء وَهُو اَطیْسبْ الطیسبی
فمرت ْنَ المَرأَیْن فَلمْ يَعْرفومًاء فقالتٗ بيَدِحًا ھَکذا) ا و 1ت
ون روایة أآمد: ر فکانت إِذا مُرّتْ بالْمَحْلِس ح رکته فنفح ریُه).
ورواہ ابن خزیمة ٹ التوحید عن أبي سعید أو جابر أُن السی قُ حطب
خطبة فأطاٰاء وذ کر فی فیھا أمر الدنیا والآخرة فذکر ( اك أَوّْلَ مَا َلَكُ بو
ٴ اِسْرائیل ان امرَأةَ الفقیر کانتٗ تکلفْهُ مِنَ الثیاب او الصیغ أرْ قال: مِن الصّیضْةِ مَا
کلف ای فذ کر ئ2 ین إِسْرَاِل کانت تر انت رحُلین مِنْ
خیشب؛ وعاتما هُ علق وَطبق ن؛ وحشته مسکاہ وخحرجت بین امرآنیسن طویامین؛
أَ حسیمتینِء فبَعَٹوا انسانا کی وف ٠ الطویلتینء 47 یعرف صاحبة یة الرَحُلسین
مِنْ خشب ).
تر ایر بی :
منرت الو سعید الیل ریا دے روابی تکرتے ہی ںلہ بی نگ نے ارشاد خر مایا:
”ھا اتل میس ایک پستت حقامت عورت شی 'دودو بی اور دراز امت مور فل کے ران
چا اکر نی تھی اس ن ےکٹڑ یکی دو شی ناک اورایک سونے کی ان و شی بنوائی جوخول دار گی اوراو ےر
۶ھ"
)۰۳۴
ضس الریۓ سے _ےکلےجم<+مےے سس سے سس
سے بند فی بجر اس میں اس نے مک مج ری جو سب سے عمدہ خو شبو سے ' بر ودانچی عور یں کے
در میالن گی فولوگ اسے پان نیا فو اس نے ایج با تق ھہکو جھککادیا۔
اور ایک ردایت میں ےک : کو مو ذاگ وش یکو جک تد جج جس ے اس
کی خ ضمبھ یل ای تھی۔
مسنرامین مز یی ہکیاردایت میں ےک :
حضرت او سعی در کی یا ضضرت جا مر سے روایت ےک ہ نی ہلل نے ایک روز ایک طول خطبہ
دیاادراسل مس دنا و خر ت کے بہت سے امو رکا نکر وف مایااود فر لاک :
”بلاشیہ سب سے پیل ہو اص را لکو جس بات نے بلاکت میں ڈالا وہ خقیر و تا لوگو کی
حور نو یکا معاملہ الہ ووکیٹرول اور رگگولں مل ا کا وک پناک کی
تھی سک مالدارو نکی عو رت بی ا نکا تل فک رعکتی ہیں لگوا این قرو اتی کے باوجود مل کر کے
الدارو لکی عور فو لکی براب کیک نا جا ہتی تی )۔
چھ ر آپ نے ایک حور تکا کرو فرا۔اکہ نواس ا لکی دو عودر کو ؛ تر تی ا نے(اٹی
بس قامت یکو چانے کے لج ) ککڑ یکی گی ہو یں اور (لوگو کو ابی جائب متوج کھرنے کے
لے )او شی بنوائی جو خول والی تھی اوراو یہ ے بند می 'اور اس میک سے مجھردیا کچھ روود دی یا یم
تیم عورفقوں کے در میا لی این ےن آ ری یکوان کے یے با ووودراز قامت عور و ںکو نو
یجان نگمیالین لک یکی ٹا کوں وا نہ چان کا“
/ ال بی :
کل ایت 3 مل ۔کتاب الا لفاظ م٦ن الدب پاب استعمال الیل ٢۲ء ۲۳۹
دو رییروایت:۔ معداین تز یہ مر طسل تالآ حاد مث | کت ۴ر ٣٣
تق مر ار یش
اکر نے کو خلبمش مع دکراشگووع نیعت رات ہو ےا یس دیاورا کی
رگھینیوں اوراس کے فقتنوں سے تن فرایااور انیں آخرت کے تلق ر بت ولا کی ا ہیں اس مات
کی تحت فرمائ یکہ دواان مل ککا ول میں نہ بڑیں نشین میں م نکر ہن اسر احنل ہلاکمت و ب بادک یکا شکار
ٰ سی موفسٔب میسن
ا کی تی سے دوجا رکیا۔
ا نکی ات یکا نہ ٢آ از یہ تھاکہ الن کے ماللد ار اور مر ق الال کم کے گ اور امراء اہی ظاہ ری
فسایریغ ۱ و کے
مناخ مل مباں'زاورات کھانے بے اور انداز معاشر ت اود رگن من میں ملکفات سےکام لیت
جھے اور ان اشیاء کے او پر ے در رت ےار سے
ا خریب ولگ اناے مر عوب ہوتے تھ اورای عو رادقا او رفا
کے ۵ي عور تو ںیکی ۰۰ ۸-07 میں اور اہ شوہروںل سے ان تکلقات اور
راف کیل بڑے پھار کی اخراحا تکا مطالہ کر تی یں شورولن را تکام کر کے النا کے مطالبات
کولوراکر نے یس گار اتھاچ جیپ رے نہک ات تھا
یی ال ہم اپ اش و کا ریہ کہ اسر کی رر یکو شش مش خرباوی ال
سے بدرحال' مرو اور ینان ہوتے سے جات ہیں۔ ٹچھووئے تمکلخات رولت وڑروت ہے اظہار
کے متکلفانہ طور ط رت اور شائن و شوکت ک ےکھ کے مان کے اندر ھی انسلن گار ہت ہے اور ا کی
ٰ گر می انسا نکاہ نے والاو نںگمزرے ہو ۓ ولن کے متقایہ ٹس مترید یناور منزی کلف تکاسامان
ےک ٦ج سے وسائل حیا تک فراوالی' یش و عشرس کی سر مت اور آسا کات ز ن گاٹ یکی ادزالی
کے باوجودراحت وا عحھینان خو اب پر لان ہو کرو جا تا ہے۔
اسر ان لکا یج ہکورو واتتعہ بھی اس صور تما لکا ایک نمونہ ہے چہال ای ککوجاہ قد پسنت نقامت
عورت نے چو وگو کی ہے ت جب اور حدم السا کا شکار تی وگوں کو ای رف موچ کر نے ال نکی
ہو ںکام رکز نے اورا نی ابی طرف ماخ لک نے کے لئ ایک جیب طربیقہ اختیا رکیا۔
اس نے اق لگ ےککڑ یکی ؛ئسی یاگیں جا کر ووگیں جو رین میں لعل محس وس نہ ہوں اور لوگ -
سے بھی طویل امت نجھیں' ا تد سا ا رکروائی جو اندر
۱ سے خول والی شی لی اس کے و۔ لام سگلین کی تچکہ لی یگ راو بر سے اسے بن دکردیاگیاتھا ۔۔ اس خی
مہ یش اس نے میک ری اور ج بگسی میلس میں وہگزرکی فو ا ںکو پلکاسا جھنکا دق جس سے ہر
طمرف مکی ککی خو شب و یل جا ی اور لوک ا سکی طرف متوجہ ہو جاتے۔ ٰ
یک بر وودو طول اور ہی عورقوں کے ور میان لی ولوگوں نے النادونو کو پان لان
اس لکٹڑ یکی ٹانک وا یکونہ بنا
رسول الہ لگ کے اس قی کو ان کیا مقصی ر صیای مک را کے ان اہر یو تجھونے مکافا تکی
یقت لان اور ا غیں اس کم کے ا مور سے اتترازکر ن ےکی تر خیب د ینا تھا۔
لا شی !اسلام کا ری تکلفات در سومات 'شائنع و شوت کے مھ ونے ماخ سے مر ودکماسے ہی ہب
سے می انسال نعکوز م گی کے ان متصر ے ىا کر تایاور 27 تیارسی سے محرو مک نے
الی ہی کہ انی ا ککرانسانا مال خر سے بھی عخروم ہو جات ہے۔اسلام تومیاوی امو وسعاملات
فص ار ےۓ
اور طرزر من کن اور محاشر ت میں ساد یک مم دتاے اورا 31 اوپٹر 27 رب
بی وجہ ےکہ رسول الل یل نے نیشن بر ستی کے تقاضصو ںکو لو راکر نے والی عور توں بر انت
فرمائی ے۔ پالوں میں مصنوگی بال اکر ا کھیں مہار نے والی عور تی 'ابر و ںکو ن وکدار بناےے والی
و و یر نک وگود نے او رگرواےے والی عور میں (ْرمم زمانہ میل اسکا بہت 4 تھا بل ہآ رح بھی
لح مل توں میں ے) خ شب کہ باہر نر نے وی حور یں ےرت اور با رک لمباس بای کر نا حرموں
کے سا گے جائے وا ی ور میں الند گی اور ا کے ر سو لیکی تا ٹل اور الہ کے نز 2 و
ا شب !اسلام تاب اور بر دہ کا مم دا سے سا گی اور آسان رز محاخر ت کو پر متا سے نز ری
یس تنکلفا تکو نان دک تا ے ایک ملا نکی زج رک یکا تجیقی مقصد “رتا ا کے مو ے مناخ اور شالند
ش وک تکا حول نیس بل خرس تکی تار اور اش کید ضاے جوالن ری ممکلفا تکیا تھ نیس ہوسحتی ٰ
چنر تبرت 2
ات رسو لکری یچ کااینے خطبہ ہس ىہ قعت بیالن فربانادلنل ہے اس با تک کہ اک داعظ اور دای
ت یکواہۓ وعظہ بی جا یر پید اکر نے اور لوگوں کے زچنوں اور لو بکوزیادہ متوج کر ن ےکسلئ اعثال '
واقعات اور عہرت ۲بح ت آ موز دکایا تکو بیا نک نا جامیے جو با تک مچھانے میں مور ہوتے ہیں۔
٦ معور تو لکی فطرت ہر زور شی نمودو فمائت کی ری رس تام گر ارب ودای رریاڈر
۱ 1 ہر زمانہ میس اہ نسوالی حس نکو آ کا رک رن زیبوز زیم تکرن “مود و نم ات یکر فو میابات کے
لے عید٤ اور فاخرانہ مال پبننا زبوارات پہنزا اور رای الوت نیشن کے ط بیو ںکو ابنانا عور تو ںکا
یوب مشطلہ رماے اور الّد کے ند بک الن اس بکا موں میں ملواث ہنا ردور شی میقو پر نے
٣ عور نو ں کا مردو ںکواپنی طرف ام لک ن ےکی فطرت اوراوباش سردو کی عور خوں میس د خی
اورا نکی طرف میلا نکی فطرت ہردور یل بلسال ار بی ے۔ جیہا/ہ رکوروواتے رے اہر ےک اس
عورت نے مردو کو مان٠ لکرت ےکی یہ سار اع رییقہ اخقیارکیااور دای کے ممردولی نے ایک آدب یکو
ٰ ان کے تنا قب میں پیاکہ معلو مکھر کہ و ہکولناے ؟ ْ
۴" ہردور یل اہین زمانہ کے موجودوسائل کے اتاد سے انسا نکاتصضحت شی ماہ رہونا ہے
9 00 0) ابی انتک بنوالی کہ لاگ بچھالنانہ تین پیل رت فا بت پڑت
ےکہ ال لککابنانے دالا ما رکا ر یکر تھا۔
۵-۔ حر یٹ سے معلوم ہواکہ میک خرام تو شڈ یس سب سے ڈیاد اکیزداد ر۶ کر دجو سوے_
زی کو
ٹس ار ےۓ
من راں نت 4۵۳
۳٣۵
ثوم یا دکا رکردار تما تتدہ
مر
جب سی قو کی ادی لی سے فو ا ںکو الہ تی ایے ہی لوکوں کے حوالےکردچے ہیں جوا کی لشیاڈ ہو
دن ہیں ایک چ کو این لئ باحمشب ر مت جن میں ج بکہ وداسل کے لئے راب ہو ٹی سے اور ا سکی ععل
پہ پردے پڑجات ہیں۔حد شف یگ شش توم عادکی ہلک تکا سب ٹنے وانے ایک ایس تفھ کی عالت بیال نکی ٦
گئی سے جج سکو قوم نے شبات د ہد ہبتر یت سید سس ادا کی شحوست
۱ نے گور یلوم وع اب میل گر فزا رکردیا۔
ای ارم :
روی الإامام أ مد ٹی مسندہ: عَن الحَارث بن رید البكکري قال: وخرحت
کو العَلاءَبْنَ الحضربي لی رَسُول اللق قَل مَمرَرْت بالرَدَ فَإِذَا عَحُوژٌ بن
یی تیم مُنقَطِم اہ فقالتا رن ا َال ان لی لی رَسُول اللغ و حَاحَة
فهَل انت نت مبَلغي ! ِليه؟ قَال: مَحَمَاتھَاء فاَتّے المّدِینةق اد المسجد غاص ٣أ بأْلِهِ
اذا رَآیة سا عفد یلال مق السيْف تی بَدی رسولِ الف ول فقَلت: ما
ان لناس؟ فالوا ری أُڈ يَْعَث عَمْرُو بن العاصِ وَھا.
َالَ: فحَلَسْتُ قَالَ: فدخل مَنَزلهُ ا قَال رَحْلهُ فَاسَادنے عَليْيٍ مَأَذِن ٤ٴلِٰي؛
071 0 مو مہ (ھَل کا بَيكُم وَيْنَ تی قییم شئٰء) 7 0+
نعَمٍ قال کان آنا الڈَيَْۃ عَلَيْهَمْ ومررت بِمَحُوز مِنْ بی تیم مْقَطِعٌبهَا
ے٤ ج
فساتتی ان َِلهَا ليكَ وھا ہی ؛ بالات فأذْن لَھاء نوداخ
سے ےػ کے"
فقلے: نا رَسُول ال ان رآیت ان تَحْعلَ بنا وََْنَ بیي تییم حَاجزا فاحْعَل
لات تَحَيّےِ لَْتْرر واستوفرت قالۓ: کا موک اف َإلی أَيْنَ ضط
مو ا قال: قل: ہر الاو پربوس یس حَمَلَتُ َو
7 وما وافد 0 أَعَلمْ ؛ 1 ولک معلمنۂ -
۱ ك٣٣
قَلّتٌ: َاًا محَطُاِ ا ادا لم عَالْل یل فمَر بمَُاوِیَة بنِ بکرہ
۰7 عناه ٥ شھرا ب یه الحَسْرء وتفیب حَارِْتانِ يعَال لَهُمَا: الِْرَا٥مانء نَم
مضی المْھر خرج جبالِ کات فَادَٰ اللهم ِنك تعْلَم اي لم اُحئ انی مرض
فأَداویَم ولا لی بر اداد الله اسق ادا ما کنت تملقيه,
افمرت بو سَحَاباتٌ سوت ووِيٰ بِنھا: اخحت فأْمَاً 2 سو
فنودِيٗ مِنھا: عدھًا رَمَادَا رمْددًا لا تبٔقی مِنْ عَاحٍ أَحَدَا, قال: فمَا بَلَعغی أَنهُ بُوثٹ
َلَيْهمْ مِنَ الریح إِلا کر ا يَحْرِي في حانبی هذاء حتی ھَلکوا) .
قال و وَاْل: وٴصدقَ قال: فکانت ا 2 ارہ سار وَاهٰدا لهٌےمْ
َالوا: لات اود ا
س02
ترجمۃ ایر یت :
از بن بیز یہ اکر کت ہی ںکہ :”نمی حعرت علاء بین انحضر یلسن کے مگورن) کے
علق ہنس شبات نےکر رسول اللہ پچ کی خدمت میس حاضر یکسلنے روانہ ہو رت مس * رہ"
رواپیعمچیم سوہ
سے مپھٹری ہو لی ) تما تھی ا نے بھ سےکہااے ال کے بنارے! جھے ر سول اولہ سے ای ککام
ےکی لو یھ ان 2 بپیا سلکتا سے ۴ کت ہی ںکہ یش نے اسے اٹھالیاادر د ینہ مورہ آگمیا۔ وہالں پر
11 من کن ا جوم سے نگ پگئی ہے اور ایک سیاہ نٹ الہرار اے۔ ححضرت بلال ظگوار
لا ےر سول الد ماگ کے ساس ےکھمرے ہیں۔ بی نت ےکھا لوگکو ںکاکیامعاللہ سے ؟ اہول ن ےکہاکہ :
تفر عمرڈ بن العائ شک کسی طرف(جہاد کے لئے )شر سے ہیں۔
رات ہی ںکہ می بین ھگیا آپ کل اس ےگھممیس تریف نے سے یی ےتا یک
اجازت ماگی وی اجاز تل لگ ۔ یں اند رداتل ہو ااور لا مگیا۔ آ اپ نے فرمایا کیا تممارے اور بنو
یم کے در مین بکھ(لڑائی )ہے ؟ ٹس ن ےکہا: گی مال 007 این می کی
ایک بڑھیاب رگد ہواتھاجھ تھا گکوکی اسے اٹھانے والانہ تھا۔ ال نے بجھ سے در خو ات یی الہ اے
آپ کے اس اٹھاکر لے آل(چنانچہ شی اسے اٹھالایا)د+وہال دروازہ یر موجورے_ ٦ اپ نے اے
اجازت دے دی ق دواد ردائل ہ گئی۔ می نے ع رخ کیلیار سول ال١ آ پکاکیا شال کہاگ آپ
ہمارے اوربو 2 کے در میا ن ایک رکاوہ ٹاو رآ ڑکرر اور دود انا ی ا اءے_
یک نکر بوڑ ھی عور تکارنگ فی ہومگیااور میقرار ہوک رسکی گگی :پچ رقیلہ' مع کاکہاں کات
ضس ار ےۓغ ء۳۰۷٣٣
گا میس ن ےکہاکہ مم یلد ےب جھلاہ ہے تی آہاتھا: چھیٹر نے اہی بی وت
کو ایال“ مل ایک ضرب ال اور ماود ہے ج سکامطلب ہہ ےک ہکوئی شف انی واشت میں لو
یک کام رر وۃ اکے گے نقصان دہ خابت بواوراس کا ضر اور نتصان خو کو بی اھانا
ڑا جاۓ) یس اس بڑھیاکواٹھ اکر ہا لابااور مشھے ال لکاا سال میانہ ہاکمہ یہ می رکا ضیف ےیل
ال اراس کے رسول کی ناو ماما ہو ںکہ میس ”وافد عاد “(قوم عاد کے نما ند کی رادان
ے27 :اور دو وافد ھا د کا کیا قصتہ سے ؟ مالا گلہ آپ داقعہ زیادہ جا والے تے لجن پان
سے( کک نکر( ۷1) حاصل رجا تھے۔
نے عرخ کیاکہ :ایک باد قوم عاد تسا یکا شکار ہو گے 'انہوں نے انا نما مندرہ یتے ”تل“
کہا جات تھا جیا مم مر مہ کیچ اکہ دہال جاک قط سالی کے سم ہد نے کے لے دع اکمرے ) در اصتتہ میں وہ
معاویہ بن مر کے پاسل سےگزدا اس کے پا شپ گیا ود ایک ما کک اس کے یہاں قیا حمکیا۔ دہال
شراب پپتااوردو شہورگانے والی لکیاں جن نکو ”جرد جان کہا جاتا تھااس کے ساس گانامگالگی ر تی
٣ یں جب ایک اہگز رگیا تہ تام پپاڑو کی رف ردانہ ہوااوروبال ما اکر پکارا: ٰ
اے الا جانا ےکہ می لی میٹ کے انس میں اہ ا لکدواعلا ]گر ول وی
کے یا آیا ہو یکہ ال یکا ریہ دوں۔ اے الد یس ف9 پیل سیر ا بک جا ہا ہے اب بھی توم حا دکو
یا ےآ زڑریۓ“ 7
چھر دہا را سے یھ سیاہ(ا بر آدںاباو لگزرے قا سک مدآ واز) گا یگ :ان طیل ےت
اد لکو اق رکرنے ( کہ اسے قوم عاد ہب سای جائے ےکی نے الن بیس سے ایک سیاہباد لکی طرف
اشار ہکردیا_ا 7 می اسے پیا ر ایا الہ :اے پاڑے“ راک کرد ئکۓ والا“ راگ بیارے اور ل و عاد میں سے
یک بای نہ بچوڑے فرماتے می ںکہ : یھ نیس اطلاع لی گر کہ لن لقومعاد یر )ہوا مج یگ اور
ددم ریا اع شی کے بفظررہی ا نکیک ٦ تی 7 الہ دە سب ما اگ ہو گئ۔
ایودا گی یچے ہیں :اہول نے پ کہا: چنا خی ہکوگی مرداور عورت جب ال نکی طر فکو کیج جاتے
ان سے کت ےک : :داثر ماد( ماد کے تم دای طر مت بوت(جص طرح وہعاد کے لے عذاب
لاےوآلا ا نا گیاھا لالہ دعمت لئے 00
زج الد 7
_. ہم
مسند اج ۳م ۸۲ "سر واوالت رن یىی کاب اصمخی رر باب صن سور ہک ھ۳۹۱۸۵
سور
۴2'۰۸
تار
داع جن صحالکاسے وہ رت عار جن بی الگ کی ہیں۔ ایک قول یہ ہ ےکہ دوحار رٹ بن
مان میں جنکہییں ا نکی آ توم رجہ نے ر حول اعد جن کے ما س ات تما نر داور وڈدر کے طور پر جھییا تھا
اک وم نر علاء بن الھزی(جھ حضو دی طرف سے من ک ےگورنر جے پک یب شکابات بارگاد
رسمالت میں ع رخ ضکمریں۔ راستہ مم د بذہ کے مقام پہ انیس ایک تما ئوڑشی عورت جورسول ال ْ
کی خد مت میں جانا جا ہتی تھی اس نے حر ت عارث ےکہاکنہ ہا کیل ابی سوار کی سر سوا رکر کے
ین تضورکی خدمت شی نے چائیں۔ووازراو ہد رریاسے اک ھ ید نے آآئے۔داں 293])
کہ سح نیدی می لوگوں اور موا ری یکا یر ہے اور سد نگ پڑ فی ہے لوگوں کے چجوم کے سے
اداد ایک ساہ چنڑا ہرادپاے ج بکہ حخرت با ل ر ول اید لپن کے سا نے مکوار لڑکا ۓےکھڑرے
ہیں۔ یہ سب دی ھکر عارٹے نے پا چا کیا محاللہ ہے؟لوگوں نے جواب دک ححفرت عر؟ ڈ بن
العاض کی ایام کی مم بردداگ یک تار ٤ے ٰ
مضرت حارث نر سول او کی خعدمت ٹیل حاضر ہو ئے اور سلام ع رح کیا۔ ر سول اد
نے النا سے ال نکی قوم اور و ٹیم کے درمیان لڑاکئی کے متلق دریافت فر مایا نذا نہول نے جو اب د اک
جاللیت کے زمانہ مل اگے اور ہمارے در میالن جنگ جار کیا ہق می ننس میس رح اور غلہ رہ کو ہی
ماع٥ ہو جاہاں - "
پھر عارٹ نے رسول اللہ یچ ہکو اس عورت کے متلق جو یکن اور ہے ےکر اے
ھے 'اوروہ تی شیھم سے اعلن لیران کرت: ائیر' ع٦ نے ےی کے لج آپکی
اجازت گی مر ہے۔ چنا کہ رسول انہر گل نے اے اعازت دے دی" وہ ڑا اَرر دائل
7 عارثنے سلسلے کلام مار ر کے ہو ئے انی تو کا مطالبہ اوردرخواست جن لک یکہ ر ول
لن ان کی قوم اور ہن یم کے در میالنا ایک ایک راو ٹکیٹرئیکردسش جو لن دونوں اقوام 2
سی شی ند رس ے2
سس ھ2 جددور جا لیت شیل ا گی کے اس تھا۔ ٰ
اعارسانے جب ہہ مطالہ کیا تذوہبوڑھی عورت جو بن تقیم ہے نل ا و ری
اور اضطراب سے کن ےگ یک : رقیلہ مض رکا ٹوکان کہا ہوگا؟( ]نی جب آب د مناء ققبی ر یہ کے
تو ال ہر دیس گے نوہاں مین دانے قبیلہ شضر وا ےکہاں جائیں گے ؟) ۱
بڑھیانے جب بات کی فو ار کو ىہ اراس داد راک ہہ واکیہ انپولی نے اس بڑھیا کے سا تھ
تس ار ےۓغ 0 -.غ ےس سوب ٣٣۵
اصان کر کے اپنے اور اتی و مکی صا نکیا اوران ون ےکہاکمہ می ری مثال نوا باب جال ۔.
یلک ان ےکا ےک :
”معزی حملت حتفہا “یڑ بھیٹرنے انی ہی مو کو اٹھا لیا 07
ین بے معلوم یں خی مین نے رت کو انھارہا بہولی۔ پر حارم نے ال بات سے الیّہ اور ال
کے ر سو لک بنا ماگ کہ میرار سول ال چنا نکی خندممت شا ابی قو مکی نما حل دک یک ناالیمانہ ہو جاۓ ٰ
لالہ عاد کے تما تد رونے ای قو مکی کیا تھا۔
ود یقت اشار ایک دوس بی ضربالش کی طرف۔ ال حر بک عادت تک جے
سی و سک انی قوم کے لیے نر م دی ملا ت اور پ نا ٰٰکابا ٹ :ن جال ةا ےکہاجا اتا
کوافد ععاد “فلاں تو ھاد کے نما مدکی رح ہے “۔ صے کہا قوم نے تیم کے لے اھر وو نےکر
شر اور نقصان آیا-
ا عارڈانے حور علی اللام کے ساۓے بجی ضرب ال تقو کی مز یں ہت توم کے لے
وق عادگی ط رم نہ ہو جال۔ رسول ال نے ا کی حقیقت دریافت فرمائی تحار نے اس ک
قصت مال کیا۔
قوم عاد نر مم عرب کے اتل میں سے ایک مضبور فییلہ تھا لاٹ نے ان کے اندر عٹرے
ہود علیہ السلا مکو نی بناکر مبتوت فر مایا تھا۔ ان ول نے ال نکی جج بکی ٢نس کے نہ میس ودانشد کے
عخقزاب سے وحار ہو ۓ ج خذ اور نگ سال یکی صورت می تھا ا نرہ وی نے اہیے ایک مز ہت ساکو بل
ترا مم گرم ہکی طرف روا نکیا تاکمہ وہای جاکر بیت اللہ ٹ اور ارضل رس میں اللر کے تضور
بج اکر ےکہ ہاش اور ہار انار حمت نازل ہجو جائئ اور جعار کی ضنگ سال دور ہو جا
ا عادکاخیال تھاکہ اللہ کے سا تد بھیاسی رح معام ہکیاجاتاسے جلیراکہ د نیا کے باد شا ہوں
کے سا تح ھرکہ جب بادشاہکی جااب س ےکوئی کس وغیر و گے 1ج1 یک مت ز مم تنرووٹرال کے درپار
م گی کر وہ نس وخیرہ محا فکرالا جاے۔ ودای ز زعم ال می بلا ےک الل کے یہاں ذائی: ٰ
انشقا گی اغمال کے با وفد گی کر لہ ح لک رایا حا سکم تھا۔ خواد وہ اجۓ اعمال واقحال کر دار اور
ٰ اخلات وخ ر ہیل سک تی مل ےگنر ےکیولانہ ہو لی حالاکمہ اڈ کی معمرقت رسگئے دانے بندرے جا نے ٦"
ین ایس کے ان اید دی نما تح دگی ضروری یں اں نے صرف این انف راد واچت گی اخزا لکی
اسلاع ا سی با رگا میں ضتورع و خحضو اور تح رر کے سا تج دجا گم مہ وا اور اپنے ا عمالی بد بے یہ ٰ
وا نار بی کام آ نا ے بی کی یت ضا تی۶ ہے 'مصمائب دور ہو تے اور ٹفل وکرم کے
ْ دروابو تے جیں ضہ کہ کی اج دفاسق' فل گر و سوج ر نے والےعسی مخ کون دی ائے ا وروو ۔
0 ۳۳۴۰
اکر لٹھ ما رگتانانہانداز ورای یک اس لو مصراتب 27 آغزاب
00/7
چنا کے وہ معز نما رہ “بلاد ضرم جانے کے لے روانہ ہو اتہام ہک طرف جو ارح مقدس ےکا رانا
ام تاکرب وبلاء مناقوم کے لے خی اور رحمت کے حصو کی ماطر قو ما مر نہ بی نکر چارہا
ہے راستہ یں ا گار محاورے جن بر کے پاس ہو اجو ا لککادوست تھا۔ اس کے پاش شب رگیااور من
و قو مکی لیف اورکرب دبلاء سے بے یازییا بی کے مال داد نس دبتارہ شراب وکبا بکی
۳7 اوالی اور ججرادجا8ن(ای تواصورت دو ٹیڑ ا]ں) اىیصت تم اگی اورالنح کے گا نے 1 کی می رر
مین جلر وہال داے مج دیتار ہا جب خوب عیاگ یک لی فے خیال آیاکہ جھے نے قوم نے ایک انچائی اہم
متصرر ۓے لئے روات ہکیا سے۔ چنا بناتیہ دوبارددپال ے روائہ ہوااور تام 7 وادی ٹل اور وہال جا ار
رت الا می نکی با رگاوییس و عاکی ۔کیاد مکی جس اثراز 0+
نے الد افو جاتاے یں نام بیس کے ماس یں آیاکہ ا لکاعا مم وی کسی قید یکا
ردپ ےکآ یاہوی۔اےاللراعادکوس را بکردے جیباکہ میٹ مرا پک رتاراے“ 7
دا کے الغا کو حے اوران شی سکیل س مت یج جا مم ال ای نکی اگ والی مس ایک الی
مس ہے سس سے سجھ۔ عابلاتہ اور ے و دہ
انداز یش ؟اکمیادعااریے بہو لی ہے؟ نہ ال دکی تح ریف منہ ا لکی حم دشا نہ اس کے نیہ درودوسلام نہ
تقر رع نہ ھا جنزکی نگم می نہ زار ا نہ اارب رنہ اکسا مگویادعا یں انگ د باا صا نر اے انان
انف رہ ہے ۔کیاا لی دعاقول ہو نے کے لا کی ہے؟ یااس انداز سے د ہار نے والا عذ اب ک ےکوڑے
بر سائے جانے کے تائل سے۔ ایقینادداسی تقائل سے کہ او عیل “لالہ “کو کر اور گب ا: نرانداز مت
اپنر ہیں 7 قو مکو مج سکھان کا فیصلہ گیا ۔ مبلت حیات تم ہ وگئی۔ 91 ئے سقظی
طلل بکی تی بارش طط بک شی “سے سقراد یکئی رش دکیگئی اگ رت تر ات
ہے اور عذر ا بک جھیا۔ ال نے ر حم تکی بش شی ماگی تگیا۔ اس کے ساتئے آسمائن سہ پک ار آموو
سیاہباد لگن درے۔اسے ایک اد سنا لاد یکہ ابی قوم یس بارش کے لے ان باوکول میس سےکوکیاخار
کر نے۔ ا نے جو سیاہ تر بین باول تھا تق بک لیاککہ ىہ کہت بارش ب سا ث ےگا بے اد اس بات
ے اوائف کہ خوداپنے ادراپٹی قوم کے لئے عذا بکابادل جح کرد ہاہے۔ جب ال نے پاوگی مب
کم لیا نے بکار نے وا ےکی مراستائی دی اسے اسیے لئے راک ھکر نے والا اور پر چی کو ماد بر با دک نے الا
لے لواور |١ بادلی نے اور 6 توم عا دکوتاود بر پا دگردیا_
چنائجہ عارٹ کت ہی ںکہ جہاں کک جے معلوم ےکہ می ری اس اگو شی کے بقر بھی جہاں
ضس اور یۓ سسسسسم
ہا ں کک ا بی ہوا می دہ شٹیس لاک گیا ہا یم ککہ سب ہلاگ دتادہوگں -
اللھم إنا نعوذبك من عقابك وعذابك وسخطك۔
۱ سدقت سےول عرب رداق خرب الشل ہیک اں ش ای ق مکی وا عاد کی
اتردے۔
ڑھارٹ نے مج یکہاکہ می ال رک پناداگنا ہو اس بات سےکہ یلا پنی قوم کے لے ولف عادکی
رح ہو جا لکہ ان ہو نے سے نپ اشن کیا اپنے نا مد کے تصمول کے" لئ وا اور ٹیس الن
کے لے نتصالن اور خطردکا پغام نے 2 جایا۔
چنر رت 227
ا انان نع نس او فقات ام معاملات کے" نس کے سی ردکرد تا جو ا کا ائل یں ہوم دہ
اس کا مکی ذمہ داد اورابمی تک تا ے' اںک تی ىہ نما ےک وو سب کے لے وہال ہو جات ہے
اور ری و مگوا کول متا ے۔ جیاکہ اس وات مل وم عاد نے ایک ای سس سے تفی سکوقو مک
ما تندوپزاکرذمہ دار گی سو یج ا ںکاائل کی خاش تی اس مہ دا رب یکی ابعیت شس وی سک تا تھا لب زا
کی نما رکاپ دی قوم کے لئے ال وع اب نازل ہو ن ےکا با عث ہو گی۔
سیق مہ کہ انسا نکوایے اہم تی دع معاملات ت انی لوگوں کے سی ردکر نے جا ئل جو انس زمہ
داری کوانٹھانے کی اللیت وصاا ضیت رک ہول اور | یاذمددار 6 1 ہت سے وی آگاہیوںا۔
×٢ سابق اقوام او رکافر ویر مسلم اقوا مکی اچی اور شحت کموز ضرب الاستال اور حاورا ت کا
استعا لک رن اور النع ےکو لی ناد داٹھانا ات بللہ بر سے جع اکہ عاار مث نے لوم عاد کے اس ضرب
کنل اور تر مال عر بک ایک حہ مال کو ا کلام میں اتال کیا۔ بلکہ اس صن میں نو شروعت
اسلائیکی لے کہ :
کلمۃ الحکمۃ ضالَۃ المؤمن (الحدیث)
کیل کرت و مو مم نکیکگشدہ متا سے جہاں بھی اس با ما سے اسے اخفقیا رک لیا ے۔
۳-۔ اقوام اض کے عبت اگیزاور: ری سے لی واقات مزا فطرت انسالیٰ یں شائٹل ہے اور اسلام
چوک وحن فطرت ے لیفرا ق رن حعم کے ان یھی اود تا لیے فط رت انسالٰی کے اس بیبل ھک ر عات
فر مات ہو نۓحصص ووا تا تکو ق رآ نکر می کا ایک بڑاجز مایا ے۔
نے ظ رحر یث یں رسو ل کر می اکا حارث ے داد عاد کے خلق ورتے معلو مر تن ےکی
خوائش ازمالی فطرت کے اسی پہہل وکا ایک اظبارے اور مسلرمان ال وا قا تکونشمبحت حا صم لک نے اور
ار رۓ 2 ِ-
ائن سے ذائکد ٤ح ص٥ل کرنے سے لو ے۔ ۱
_٣ رڑوعں ہم یہر سر ہیں۶
ے بللہ بی انسالی فطر تکا بھی تقاضا ہے عار کا ہوڑ ھی عور کو ا کی خوائش پچ اٹاک مد ینہ لا
ای انس واسلائی ج ہکا اظھار ہے اور اسلام گی می یم ا ےکہ جیودو ےکس لوگو کی تی ٰ
لاح دی جاۓے۔وآخردعواناان الحمدلٗەرب العالمین ---
ال تھاٹی ال ںکما بکو مل فک برای تکاذد یہ ہیا 'ذ تج ر٤ آخرت بنائے 'اس کے کۓ_
کر نے اور تر حمیب دخ می جو خحلطراں وج ہیاں ہو میں کیل معاف فرمائے۔ یل الل دکی
نا اکنا ہوں مین بگ؛ عم سے بپھکیے اور سور کے کن سے۔اولہتائی اس و مقیراور
پا محمد بنا اور بھم سب کے لے ذ جج٤ خر ت موائے۔ ٰ
وما توفیقی إلاباللہ۔ عليه توکلت والیه اف زاوم الم والتراء ۱
ٰ مج زکریااقال
ری
۷۷۷۷۷۷۰] 51 با ۲١ا00 ٥٥.61
۱ 7 و "- چ|٦م“ 8< د<
انلاشاعت ای یت حون
یزور مد لل مکل --_حض تکانا یرف صلی جار ارام
فستاریشی ارار ۰ا می تو ود
2 دی یہ گر زی ٣ جے / 2 7
دی ای اڑا رل بط نان اونگ زتھَالگیر
عَاوی نیست ت مد کے ہار ملد سا امم یمنیکن صا
َو یىَارالحْلوددوبند اجلںکامل مس امیر ر۔۔
خلا مکالنت توٗمسسی پٹ و"
اما لقن ذ2 ںانک 7
ایت ری --.-.*٭
پلومڈزنٹف صضنۂ 0ت
7۸ ان کے لیت یا ایام ...اہ یبتظرلف اج ھا ھی دہ
(صسہزئر٣ ........۔ م۶ ا می ۱ش
رش یہر مر ےآ و و سے ج ر7
زضملاضی شادون نیع لوق رو انت 06 ث7 پ.
می می جسیم رانا اکر کنیا رم
راز لا ٹاک ِنکا!لهغانہوم
ما و ات مُرلانمھحی رضہ داع مات
اتی ماک ض ری حنیت حضرت کا مار یلیب شاحب
22 ریا خ ون شیع
وین اھر اعم ساب کی زبور __ ملنا نف ہل نتھاازی رء
ما سے عا تی سال ے-ے ے رو سے مر لے ےعاتلنے ناس
مارح فا سای مت حضی
محر ن ااش سکنزااقال ممولفا مو نیف ےے ری
اجا) اھصلر ۶ لی میں معولاما ضر تفع کی محفائ ا رم
حدناحزہ ینیع وزکو ںکا تیم ریلم ںہ ہمہ
سے ااوالا اراتحجا 2ر ىف > 1
راارا2اعتے یی وک اہ : می وین کی ضر
ہو ہے سے سو سے
71 اعلٰ ٦۔جلر یڑ یت اف رایت غقل دستترتصیف پا ار
سر کر پحمصر ر۳یژر ین ضرم برا ک تن سوظ دی م7 شزنرالنے ۱
می سک یڑ می یی کے ال تب سے ج
ناس یت سی ار اد وی '. خیہاوئےمنداملھوکا متا موب ے7
ر7 نول سای گی و رت لغ ے ای ضز کی ہی ے اسم ٹک رر 7
کشحا یڑ اود ےسب 7 سی تک" 2
و راگن 7 جو کب کعال تو رہرںصّل رر رںتھظمرم -
سالعار کے او انی پم ما او ا جج گی ا
کی ار : نو الاپ و[ئینی مینخ ا ضس نس خی .+٭ .٠۰ء ھم
ا سض نکر لی گی کیا زدا تن رھ ڑج ڑیا وع ت یا ں چا 2
(زوارج الاضشٰہحاہ نیا یرت ری ازڈ کے معتب ہنتف ہص ۰ی ہے
قارع سج ہ2 - گی ا زا سے عاللت کارنڈے۔ حال نت ےر 7
یم و ام یں ار بت مس ہف لا و 9
سو سسہےے ہزرہ لگا رز ہے ری 1 ٣ی۔ ن)ہیویڈی ٰ:
اون صصیا امرف رخ بب اصتیابسات صحامیات سےعحالات ادراسس یراک اع یا ت۔ ےواج و ٠ پا
ن اق معایواکیزک سےتنرعقت مال سے نے اتب مر کی ف ید“ ھ٭ سس
تاب وی ملع سے ر ہے سی رم ےڈ وُوتدج اہ رکا
رت نکرلی پور ےی پر ری نو دی
تبث ب کہ
ور * وس جووس 2 ہعیرذب مکش ہے کے
رسمت تھا کی ایال ےستنزیںے کے یضیمنیل سک پچ
ےن کے کی مض زن نہ یک ما کاب . ہہضنرگری 6 3 و
اف وق ورس ہج سر مود وضیین ۱ تہ 5
. ل۴ل سیطنا. ....-...,. سوولوطن
گر اق لن سط مخصردسان زان میں ححنت نود لاثر تب کی با ری ضاجنلتیاں کزازبيں
جا چھو نے پچو ں کے نے نظ کے اتھ سیر فیزازیری داستا نت ٣ی سم ما نف تصاحب
ہوا فقاو ئیتاکاب .نر یکین سے ا ہے
۲ رت حرکیکویت اد نیپ کاناموں پر ح لاس ٹک سد و مسمخاصسق |
وس زس کلام سس ربیل آازہہےآزونیننولگہسصع تدسیھعتا ۱
ظہرالاحی رر بندد ال ےٹابیصرفب؛ مت 2ڑ متسر
ال نین 7 لھا ان پوادیں نظ یتصیفک نیل اہ دا تن مات رو رزدڈہگری
مرل ای مین اعحمد مد ی/پ کی جو دفویشت سوا ۔ سر سین+ سر ر3ق*
کے وامراغحہ حایس وت اہول ےک ملع
اکااپبشسشششسشتسسلاہ
٢ج ار 3و ازارال لجا روڈ
ا وا شا عت : عو ںا را
دگایادں ےکا کے خر
سح ےسج سج سسشچھے ے ے۔ ڑے
سستسیتستتننکیں
6
ذ3
1